The Latest

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی نے سعودی عرب میں 37بے گناہ شیعہ شہریوں کے بہیمانہ قتل کے خلاف اپنے ٹوئیٹر پیغام میں کہاہے کہ حجاز مقدس میں اسلام دشمن سامراجی طاقتوں کے آلہ کار #آل_سعود کی ظالم بادشاہی حکومت کی طرف سے 37 بیگناہ شیعہ مسلمانوں کو جس میں علماء اور بچے بھی شامل ہیں تہہ تیغ کرنا ان کے مستبدانہ ظالم مزاجی اور اھل بیت ع سے دشمنی کی علامت ہے،جس کا انتقام خود خدا لے گا،آل سعود طاقت اور اختیار کے نشے میں بدمست ہوچکے ہیں، سعودی شاہی خاندان قہر خداوندی اور انتقام الہیٰ کو بھلا بیٹھے ہیں، وہ یہ نہیں جانتے کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے جب خدا کی لاٹھی چلے گی تو دنیا صدام ، قذافی اور حسنی مبارک جیسے سفاک حکمرانوں کا حشر بھول جائیں گے، انشاءاللہ۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور انکے وزراء کوکامیاب دورہ ایران پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات کی جڑیں بہت گہری اور تاریخی ہیں امید کرتے ہیں کہ دونوں حکومتیں خطے میں امن اور اقتصادی و معاشی ترقی کیلئے ملکر آگے بڑھیں گی، باہمی سطح پر مضبوط تعلقات دونوں ممالک کے عوام اور حکومتیں کے حق میں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے وزیر اعظم پاکستان کے دورہ ایران پر میڈیا سیل سے جاری بیاں میں کیا۔

 انھوں نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف مشترکہ ریپٹ ری ایکشن فورس کا قیام خوش آئند اقدام ہے۔بارڈر کی سیکورٹی دونوں ملکوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔اس کو مضبوط کرکے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا جا سکتا ہے۔ایران پاکستان کے مابین سیکورٹی خدشات دور کرنے اور تجارتی روابط کو بڑھانے کے اعلانات خوش آئند ہیں۔اپوزیشن جماعتوں کو اس حساس موقع پر انتہائی دانشمندانہ کردار ادا کرنا چاہئے۔

انہوں نے مزید کہاکہ دشمن ہمیں ہمسایہ ملک کے ساتھ اُلجھانے میں مصروف ہے۔ لہذا ہمیں ایک بیدار قوم بن کر دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو دہشتگردی کے سبب مخدوش صورت حال کا سامنہ ہے۔لہذا اس صورت حال پر کسی پارٹی کو سیاست نہیں کرنی چاہئے۔ان کا مزید کہناتھا کہ تمام جماعتوں کو چاہئے کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کروانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہدہشت گردی کے اس ناسور سے مملکت خدادادِ پاکستان کو نجات مل سکے۔

وحدت نیوز(ملتان) مجلس وحدت مسلمین ضلع ملتان کے زیراہتمام سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر چرچ اور ہوٹل میں ہونے والی دہشتگردی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے 300 سے زائد افراد کی یاد میں ملتان پریس کلب کے سامنے شمعیں روشن کی گئیں، اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سلیم عباس صدیقی، ضلعی سیکرٹری جنرل ملتان مرزا وجاہت علی، ڈویژنل صدر آئی ایس او ملتان عاطف حسین، اعظم حسین جعفری اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سلیم عباس صدیقی کا کہنا تھا کہ ظلم دُنیا کے کسی بھی حصے میں ہو، ہم اُس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ایسٹر کے تہوار کے موقع پر سری لنکا میں عالمی دہشتگرد گروہ داعش کی جانب سے کھیلی جانے والی خون کی ہولی اس بات کا ثبوت ہے کہ داعش نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی خطرہ بن چکی ہے، اُنہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے داعش کو بنانے میں چند مسلمان ممالک کا ہی ہاتھ ہے، اس نام نہاد اسلامی ٹولے نے پہلے عراق اور شام میں خون کی ہولی کھیلی، پوری دنیا تماشا دیکھتی رہی، آج یہ آگ ایشیا اور یورپ میں پہنچ چکی ہے، اُنہوں نے کہا کہ سری لنکا میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہیں اور زخمیوں کی صحتیابی کی دُعا کرتے ہیں۔

وحدت نیوز (انٹرویو)علامہ راجہ ناصر عباس جعفری مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چوتھی مرتبہ بھاری اکثریت سے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں۔ راولپنڈی سے تعلق ہے۔حوزہ علمیہ قم المقدس ایران سے دینی علوم حاصل کرنے کے بعد پاکستان تشریف لائے اورملک وملت  کی خدمت میں مصروف ہوگئے۔ اس دوران ملت جعفریہ میں لیڈرشپ کے بحران پرعلمائے کرام اور عمائدین ملت کے مطالبے پر مجلس وحدت مسلمین کی قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے وہ مسلسل نبھا رہے ہیں۔ ملت جعفریہ پاکستان کو سیاسی شعور دینے میں بھی علامہ ناصر عباس جعفری کا کردار نمایاں ہے۔ شیعہ سنی یونٹی کے حوالے سے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اتحاد امت کے داعی ہیں۔ تکفیریت اور دہشتگردی کیخلاف طویل جدوجہد کی ہے۔ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارےنے ان سے موجودہ ملکی حالات پر تفصیلی انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔

سوال: شاہ محمود قریشی کی وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران سے پہلے کی پریس کانفرنس اور الزامات کو کیسے دیکھ رہے ہیں۔؟
علامہ ناصرعباس جعفری: شاہ محمود کی وزیراعظم کے دورہ ایران سے دو دن پہلے کی پریس کانفرنس انتہائی نامناسب تھی، اگر پاکستان کے کچھ تحفظات تھے بھی تو عمران خان وہاں جا کر بات کرسکتے تھے اور گفتگو ہوسکتی تھی، یہ ایک قسم کی اپنے ہی وزیراعظم کی پشت میں خنجر گھوبنے والی بات ہے اور اسکا کچھ فائدہ بھی نہیں، پاکستان کے قومی مفاد کو سویلین نقصان پہنچا رہے ہیں، یہ وہ لائن ہے جسکا فائدہ پاکستان کی دشمن قوتوں کو ہوگا اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ ایسا کچھ ہو، تاکہ پاکستان کے اپنے ہمسائے ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہوں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شاہ محمود قریشی پاکستان کی لائن نہیں لے رہے بلکہ انکی لائن لے رہے ہیں، جو ہمیں آگاہانہ نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ ایک بہت بڑا سوال ہے کہ شاہ محمود قریشی صاحب کس کا وزیر خارجہ ہے؟ اور کس کی زبان بول رہا ہے، کس کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے اور جب عمران خان ایران جا رہے ہیں تو یہ جاپان چلا گیا، اس اہم دورے کے موقع پر کہیں جانا پاکستان کو نقصان پہنچانے والی بات ہے۔ آنے والا وقت ثابت کرے گا کہ ان لوگوں نے پاکستان کی خدمت نہیں کی۔

سوال: عمران خان کے دورہ ایران کو ان الزامات کے بعد  کیسا دیکھ رہے ہیں۔؟
علامہ ناصرعباس جعفری: عمران خان کا یہ دورہ ایران اسٹریٹیجک لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے، جب امریکا کی طرف سے جمہوری اسلامی کو الگ کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی اور اسے دہشتگرد قرار دیا جا رہا تھا، ان حالات میں عمران خان کا پاکستان سے ایران جانا بہت اہمیت کا حامل ہے، یقیناً آل سعود اور امریکا اس سے خوش نہیں ہیں، یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، پاکستان کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، عمران خان کے دورے کو نقصان پہنچانا درحقیقت پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے، پاکستان کو دہشتگرد قرار دینے کیلئے مشکلات کھڑی کی جا رہی ہیں۔

سوال:  کابینہ کی تبدیلی کو کیسے دیکھ رہے ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: پاکستان اقتصادی لحاظ سے مشکل صورتحال میں پھنسا ہوا ہے، 98 ارب ڈالر کا قرضہ چڑھا ہوا ہے، ادائیگیوں اور خسارے میں فرق بہت زیادہ ہے، ان مشکل حالات میں اسد عمر صاحب کو وزیر خزانہ لگایا گیا، جب بہت مشکل صورتحال تھی، وہ کوشش کرتا رہا تھا کہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سے ملک کو بچایا جا سکے، میرے خیال میں جو راستہ اپنایا گیا اور جس طرح سے پاکستان کو ایک خاص سمت میں دھکیلا گیا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بھی مشکلات حل کرانے کی کوشش کی گئی، جو اس ریجن میں امریکی کاز کو سپورٹ کرتے ہیں اور انکی طرف لے جایا گیا، اس کے نتیجے میں پاکستان کی مشکلات ناصرف بڑھیں بلکہ اہمیت بھی کم ہوئی اور پاکستان آئی ایم کے چنگل میں پھنستا چلا گیا۔

میرے خیال میں اسد عمر مزاحمت کر رہا تھا اور کوشش کر رہا تھا کہ ہم آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سے بچیں، لیکن وہ شائد مختلف قوتوں کو قابل قبول نہیں تھا، جس کے نتیجے میں اسے ہٹنا پڑا، آپ جانتے ہیں کہ عالمی بینک میں کام کرنے والے پاکستانی کو جب اسٹیٹ بینک یا وزرات خزانہ میں ذمہ داری دی جاتی ہے تو وہ پاکستان سے زیادہ ان (آئی ایم ایف) کے مقاصد کو اہمیت دیتا ہے، یہ لوگ پہلے بھی وزیر خزانہ رہ چکے ہیں اور کام کرتے رہے ہیں، یہ اقتصادی حالت گذشتہ پالیسیوں کا نتیجہ ہی تو ہے۔ میرے خیال میں پاکستان اقتصادی دباو میں آکر ایسے فیصلے کر رہا ہے اور ایسے فیصلے کئے جا رہے ہیں یا کرائے جا رہے ہیں، جن کا پاکستان کو فائدہ نہیں ہوگا۔

سوال:  بلوچستان میں پیش آنیوالے دہشتگردی کے حالیہ واقعات پر کیا کہتے ہیں۔ آپ خود بھی کوئٹہ گئے تھے۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: آپ جانتے ہیں کہ جب سے پارلیمنٹ میں وزیراعظم نے اعلان کیا کہ میں ایران جاوں گا تو اس کے بعد کوئٹہ شہر کے اندر دہشتگردی کی کارروائی کا ہو جانا اور وہ بھی اہل تشیع جو ہزارہ ہیں انکے خلاف ہوئی، یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے، ہزار گنجی میں اس وقت دھماکہ ہوا، جب اکثر لوگ بس میں ہی سوار تھے، اگر وہ اترے ہوتے تو بہت بڑا نقصان ہونا تھا۔ جو لوگ ہزارہ ٹاون سے سبزی منڈی جاتے ہیں، یہ کانوائے کی شکل میں جاتے ہیں۔ اس کارروائی کا مقصد بھی پاک ایران تعلقات کو خراب کرنا تھا، بعض قوتیں چاہتی تھیں کہ عمران خان کا دورہ ایران نہ ہو۔ امید ہے کہ دورہ ایران کے بعد عمران خان پر واضح ہوگیا ہوگا کہ ایرانی لیڈر شپ کتنا پاکستان سے پیار کرتی ہے۔ آقا خامنہ ای سے ملاقات میں ان کو شعور ملا ہوگا، کیوںکہ ہمارے رہبر شعور بانٹتے ہیں۔ عالمی طاقتیں اس خطے کو تباہ کرنا چاہتی ہیں۔

سوال:  لاپتہ افراد کا تاحال مسئلہ برقرار ہے، انکی رہائی  کیلئے کیا اقدامات ہو رہے ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: دیکھیں، ویسے بہت بڑی تعداد لوگوں کی چھوڑ دی گئی ہے اور کچھ ابھی رہ گئے ہیں، یہ جو کراچی میں حالیہ واقعہ ہوا اور اسی کو بہانہ بنا کر بہت سے لوگوں کو اٹھایا گیا ہے، یہ پاکستان میں ایک عجیب سا سلسلہ چل رہا ہے، راولپنڈی کا واقعہ ہوا تو اس فتنے کو بہانہ بناکر یہ ہمارے گھروں میں گھس کر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے رہے، دشمنی کی اور بے گناہ جوانوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، ان پر تشدد کیا گیا، اب جاکر ثابت ہوا کہ یہ مکمل طور پر پاکستان کے دشمنوں کی کارروائی تھی، جو لوگ استعمال ہوئے انہی کے اپنے تھے، مسجد میں آگ لگانے والے اور قتل کرنے والے بھی ان کے اپنے ہی تھے۔ پاکستان میں شیعہ سنی مسائل پیدا کرکے دوریاں پیدا کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، جس میں یہ لوگ ناکام ہوگئے ہیں، اسی طرح سے کراچی میں بھی ایسا ہو رہا ہے۔

ایک واقعہ ہوتا ہے، اسکے بعد یہ شیعوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں، نوجوانوں کو اٹھا لیتے ہیں، اغوا اور غائب کر دیتے ہیں۔ ان کے اقدامات کا واحد مقصد ہے کہ دنیا پر واضح کیا جائے کہ اہل تشیع بھی دہشتگرد ہیں۔ تکفیر کے فتوے انہوں نے دیئے، قتل و قتال انہوں نے کیا، لشکر انہوں نے بنائے۔ پھر انہی لشکروں کو خود ہی مارا۔ پھر خود سکیورٹی اداروں کو کافر کہا گیا اور تکفیر کی گئی۔ کراچی میں جاری کارروائیوں اور عزداری سید الشہداء کے خلاف سازشوں کو روکنا ہوگا، آنے والے دنوں میں ایک اہم پریس کانفرنس کرنے جا رہا ہوں۔ اس پر ہم آواز اٹھائیں گے، ہمارے علماء کو شیڈول فور میں ڈالا جا رہا ہے، بےجا پابندی لگائی جا رہی ہیں۔ یہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔؟ اس وقت مسنگ پرسنز میں بیس سے پچیس لوگ رہ گئے ہیں، ہم ان کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔ یہ ہمارا فریضہ ہے اور ذمہ داری بھی۔ قانون شکنی کسی صورت قبول نہیں، کسی نے کوئی ملکی قانون توڑا ہے تو اسے عدالت میں پیش کریں۔

سوال:  کیا آپ نہیں سمجھتے کہ ان مشکلات سے نمٹنے کیلئے اتحاد بین المومنین وقت کی اشدت ضرورت ہے، مزید کیا اقدامات ہوسکتے ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: دیکھیں، مجلس وحدت مسلمین جب سے وجود میں آئی ہے، اس نے الحمداللہ داخلی طور پر کوئی ایسا کام نہیں کیا کہ مومنین کے اختلافات کو ہوا ملی ہو یا تقسیم ہوئے ہوں، اپنے شیعوں کے تمام طبقات سے اچھے تعلقات ہیں، چاہیے علماء ہوں یا غیر علماء یا خود بانیان مجالس اور ذاکرین عظام سب سے بہترین تعلقات ہیں۔ ہماری اب تک یہی کوشش رہی ہے کہ ان سب کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں۔ اس کے علاوہ بزرگ علماء سے ملتے رہے ہیں، کم از کم پہلا مرحلہ یہ تھا کہ اختلافات میں شدت پیدا نہ ہو اور اس کو روکا جائے، الحمد اللہ تمام بزرگان سے ملتے رہے ہیں اور ملتے بھی رہیں گے۔ اتفاق و اتحاد کے حوالے سے باقاعدہ ان سے بات چیت کرتے رہے ہیں۔ اس نقطے پر بھی بات ہوتی ہے کہ ملی مشترکات جیسے، عزاداری، مسنگ پرنسز، تکفیر جیسے مسائل ہیں، ان سے ملکر نمٹا جائے۔ اسی طرح شہیدوں کے قاتلوں کو سزا دلوانا، دہشتگردی جیسے مسائل پر مشترکہ طور پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے دوسرے مرحلے میں ایم ڈبلیوایم کی مرکزی کابینہ کے4نئے اراکین کے ناموں کا اعلان کردیاہے، مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نےعلامہ مختاراحمدامامی کو مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل،علامہ محمد اقبال بہشتی کو مرکزی سیکریٹری مالیات، علامہ شیخ اعجاز بہشتی کو مرکزی سیکریٹری وحدت یوتھ اور نثار علی فیضی کو مرکزی سیکریٹری تعلیم کی ذمہ داریاں تفویض کی ہیں، انشاءاللہ باقی اراکین مرکزی کابینہ کےناموں کا اعلان بھی جلد متوقع ہے ۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) رمضان سے قبل اشیاءخورد ونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کوکنٹرول کیا جائے ،قدرتی آفات کے نقصانات کابراہ راست اثر عام طبقے پر پڑاہے حکومت تمام متاثرہ کسانوں کیلئے ریلیف دینے کا اعلان کرئے، ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید احمد اقبال رضوی نے میڈیا سیل سے جاری بیان میںکیا ۔

انہوں نے کہا کہ معاشی بدحالی ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ اور حالیہ دنوں تباہ کن بارشوں اور ژالہ باری کے نتیجے میں زرعی شعبے سے وابستہ افراد کو شدیدنقصان اٹھنا پڑاہے جس کا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑ رہا ہے رمضان المبارک کے بابرکت مہینے سے قبل ہی غریب عوام کے لئے اشیائے خوردونوش کی گرانی نے زندگی مشکل بنا دی ہے کسان طبقے کے نقصانات کا ازلہ کر کے منڈی میں اشیاءکی سستے داموں دستیابی ممکن بنائی جا سکتی ہیں پنجاب اور بلوچستان میں ہزاوں ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آچکی ہیں۔ متاثرہ کسانوں کیلئے ریلیف پیکج کے ساتھ ساتھ عام آدمی کے لئے بھی رمضان ریلیف میں اضافہ کیا جائے ۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے صوبائی سیکرٹری جنرل برکت علی مطھری نے اپنی صوبائی کابینہ کے اراکین کے ناموں کااعلان کردیا ہے، صوبائی سیکریٹریٹ سے جاری اعلامیہ کے مطابق ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ شیخ ولایت علی جعفری،صوبائی ترجمان رجب علی کربلائی، سیکریٹری تنظیم سازی مولانا سید اختر علی رضوی ،سیکریٹری فلاح وبھبود دولت علی گولہ ،سیکرٹری تبلیغات مولانا محمد سچل صادقی ، سیکرٹری عزاداری سیل سید عبدالقادر شاہ ،سیکرٹری مالیات علی رضا ،سیکرٹری میڈیا سیل مومن علی علوی،سیکرٹری شماریات قاضی جمیل کو نامزد کیا گیا ہے، علامہ برکت مطہری نے کہاہے کہ صوبائی کابینہ کے بقیہ اراکین کے ناموں کا اعلان آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔

وحدت نیوز(پشاور) مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے انٹرا پارٹی الیکشن کے سلسلے میں جانثاران امام عصر عج کنونشن 28 اپریل 2019ء بروز اتوار جامعہ شہید عارف حسین الحسینی پشاور میں منعقد ہوگا۔ جس میں تمام اضلاع سے تنظیمی مسئولین اور صوبائی کابینہ کے اراکین شرکت کریں گے اور آئندہ تین سال کیلئے نئے صوبائی میر کاررواں کا انتخاب کیا جائے گا۔

 کنونشن میں خصوصی شرکت مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی کریں گے۔ جبکہ مرکزی رہنماء علامہ اقبال بہشتی، سید مہدی عابدی اور آصف رضا ایڈووکیٹ بھی کنونشن میں شریک ہوں گے۔ اس سلسلے میں دعوتی عمل اور دیگر انتظامات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ہر تین سال بعد مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سطح سے لیکر صوبائی، ضلعی اور یونٹ سطح تک انٹر پارٹی الیکشن ہوتے ہیں۔

وحدت نیوز(کراچی) خیر العمل ویلفیئر اینڈ ڈیویلپمنٹ ٹرسٹ شعبہ فلاح وبہبود مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کی جانب سے شہر کے مضافات میں قائم مسجد وامام بارگاہ پنجتنی ع گہرام بگٹی گوٹھ بن قاسم ٹاؤن میں سولر انرجی سسٹم، پنکھوں اور لائٹوں کی تنصیب کا کام مکمل ، اس موقع پر خیر العمل ویلفیئر ٹرسٹ کراچی کے سیکریٹری زین رضوی، ایم ڈبلیوایم کے رہنما علامہ نشان حیدر، سیکریٹری جنرل ضلع ملیر عارف رضا ، فرحت عباس ،ایم ڈبلیوایم یونٹ بگٹی گوٹھ کے سیکریٹری جنرل محبت علی ودیگر موجود تھے،علاقہ مکینوں نے اس کار خیر پر ایم ڈبلیوایم کا دلی طور پر شکریہ ادا کیا اور نیک خواہشات کااظہار کیا۔

وحدت نیوز(کراچی)مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی ڈویژنل ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ مبشر حسن کی قیادت میں SSP ضلع وسطی راؤ عارف سے ڈسٹرکٹ پولیس ہیڈ کوارٹر میں ملاقات، اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے رہنماء علامہ سید علی انور جعفری، میر تقی ظفر اور ضلع وسطی کے ٍپٹی سیکریٹری جنرل علامہ ملک عباس بھی موجود تھے، ایم ڈبلیوایم کے وفد نے شہر کی موجودہ لاءاینڈ آرڈر صورتحال اور رمضان المبارک میں سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے ایس ایس پی سے تبادلہ خیال کیا۔

Page 1 of 930

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree