The Latest

فتنوں کے دور میں اتحاد کی درست نہج

وحدت نیوز (آرٹیکل) ہم فتنوں کے دور میں جی رہے ہیں اور اس دور میں دین و آخرت کی بھلائی کے ساتھ جینے کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے جینے کا طریقہ کار درست ہو۔رسول اللہ صلی الله عليه وآلہ وسلم سے روایت ہے :

"ليغشين من بعدي فتن كقطع الليل المظلم ، يصبح الرجل فيها مؤمناً ويمسي كافرا ، ويمسي مؤمناً ويصبح كافراً ، يبيع أقوام دينهم بعرض من الدنيا قليل " (كنز العمال ، ج11 ، ص 127)

ترجمه: " میرے بعد اندھیری رات کی طرح فتنے اٹھیں گے. صبح کے وقت ایک شخص مؤمن ہوگا تو رات کے وقت کافر اور اسی طرح  رات کے وقت مؤمن ہو گا تو صبح کے وقت کافر ہو گا. قومیں اپنے دین کو تھوڑے سے دنیاوی فائدے کے عوض بیچ دیں گی. "

*فتنے کے لغوی معنی:*  فتنہ عربی زبان کا لفظ ہے اور ابتلاء وامتحان کے معنی میں استعمال ہوتا ہے. اس کے علاوہ گناہ ، کفر ، قتال ،پریشانی ، لوگوں میں اختلاف رائے اور آگ میں جانے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے.

قران مجید میں سورۃ العنکبوت میں خدا وند ارشاد فرماتا ہے.

((الم * أ حسب الناس ان يتركوا ان يقولوا آمنا وهم لا يفتنون * ولقد قتنا الذين من قبلهم فليعلمن الله الذين صدقوا وليعلمن الكاذبين *))" کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب کہیں گے کہ ہم ایمان لائے کیا انکا امتحان نہیں لیا جائے گا * ہم نے جو قومیں ان سے پہلے آئیں انکی بھی آزمائش کی تاکہ معلوم ہو سکے کہ کون سچے اور کون جھوٹے  ہیں ."

*فتنوں کی اقسام*

*الہی فتنے*

امتحان : اللہ تعالیٰ نہیں چاھتا کہ ہم کفر اختیار کریں ، بلکہ وہ تو پسند کرتا ہے کہ ہم ایمان والے ہوں. لیکن ہمارا ایمان سچا ، برھان ودلیل اور یقین کے ساتھ ہو. اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور برگزیده بندوں کا بھی امتحان لیا. اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان کے دعویداروں  کا بھی امتحان لیتا ہے اور چھانٹی کرتا ہے اور چھاننی لگا کر سچے ایمانداروں کو جھوٹے ایمان کے دعویداروں سے علیحدہ علیحدہ اور جدا کرتا ہے.

*شیطانی فتنے*

انسان کا کھلا دشمن شیطان اور اسکی جماعت  ہے. لیکن انسان جب  ان  سے غافل ہو جاتا ہے تو وہ اسے دھوکہ دے کر گمراہی کے راستے پر لگا دیتے ہیں. اللہ تعالیٰ سورة الاعراف 27 نمبر آیت میں ارشاد فرماتا ہے  (( لا يفتننكم الشيطان كما اخرج ابويكم من الجنة )) " شيطان کو موقع نہ دو کہ تمہیں دھوکہ دیکر گمراہ کر دے جیسے اس نے تمھارے والدین ادم وحوا کو دھوکہ دے کر جنت سے نکالا تھا."

سب سے خطرناک فتنہ

. مقتدر قوتیں اور جابر حکمران لوگوں پر ظالمانہ اور جابرانہ تسلط قائم کرنے کے لئے ایسے آرڈر جاری کرتے ہیں اور ایسی قانون سازی کرتے ہیں جو لوگوں کے عقیدے اور ایمان سے مطابقت نہیں رکھتی. ایسی صورتحال میں اگر تو وہ ان قوانین اور احکام کا انکار کرتے ہیں تو انہیں اذیت پہنچائی جاتی ہے. لوگوں کے عقیدے و ایمان اور افکار ونظریات کو طاقت اور قدرت کے استعمال سے تبدیل کرنے کا فتنہ سب سے خطرناک فتنہ ہے. اور اسی فتنے کو قران مجید میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے .

((والفتنة اشد من القتل )) کہ فتنہ قتل سے بھی زیادہ اور شدید نقصان دہ ہے. کیونکہ آزادی انسان کی انسانیت کا جوھر اور اسکا بنیادی حق ہے. جب انسان سے ایمان واعتقاد اور افکار ونظریات کی آزادی کا حق چھینا جاتا ہے گویا اس سے اسکی انسانیت چھین لی جاتی ہے.

 آزادی کے بغیر تو کوئی انسانیت نہیں بچتی. انسانوں کو جبری طور پر انکے عقیدے وایمان وافکار ونظریات تبدیل کروانا انہیں قتل کرنے سے زیادہ سخت ہے اور جس قوم وملت کی آزادی افکار ونظریات اور آزادی عقیدہ وایمان سلب ہو جاتی ہے وہ قوم زندہ نہیں مردہ ہو جاتی ہے. اور مردہ اقوام کبھی آزاد وخود مختار اور فلاحی  مملکت نہیں بنا سکتیں.

آج امریکا اور اسکے اتحادیوں کی سیاست ہمارے سامنے اس قسم کے فتنے کو سمجھنے کی بہترین مثال ہے. پاکستان میں جب سے امریکی اور اسکے اتحادی سعودیہ کی مداخلت شروع ہوئی اسی وقت سے پاکستان کے شہریوں پر  درہم و دینار وڈالرو  ریال اور طاقت  کے بل بوتے پر لوگوں پر متشدد عقائد زبردستی  مسلط کئے جا نے لگے.

چنانچہ گزشتہ چند سالوں میں  حکومتی سرپرستی اور امریکی وسعودی مدد سے وھابیت اور تکفیریت کی ترویج کی گئی اور جس نے اختلاف رائے کا حق استعمال کیا اس پر پہلے فتوے جاری ہوئے اور پھر کسی ٹارگٹ کلنگ یا بم دھماکے سے اسے اڑا دیا گیا  اور حکومتیں ایسے مجرمین کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں اور نام نہاد لیڈر انکی پشت پناہی کرتے رہے.

ملک پہلے ہی مشکلات میں گھرا ہوا ہے. اب ٹی وی چینلز کے ذریعے نت نئے فتنے ایجاد کرنے پر کام جاری ہے.یاد رہے کہ کہیں پر بھی  دشمن حملہ آور ہونے سے پہلے فتنوں کو ھوا دیتا ہے اور اس ملک کے عوام کے  اجتماعی روابط توڑ کر اجتماعی وجود کے ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے.

پاکستان میں سنی و  شیعہ مذھب اور نئے فتنے

صدر اسلام سے مسلمانوں میں دو بڑے مکتب فکر اور مذھب پائے جاتے ہیں. ایک شیعہ مذھب اور ایک اھل سنت اور پورے جہاں پر نگاہ ڈالی جائے تو  آپکو یہ مذاھب ملیں گے.  لیکن انکے مابین فتنے ایجاد کرنے کی جو ہوا پاکستان میں چالیس سال سے چل رہی ہے آپ کو کہیں اور نہیں ملے گی. حالانکہ ان مذاہب کی تاریخ 1400 سال پرانی ہے ۔شیعہ مذھب کے اپنے عقائد ونظریات ہیں اور سنی مذھب کے اپنے. ان دونوں کے اکثر عقائد ونظریات مشترک ہیں اور بعض جگہوں پر  آپس میں فرعی  اختلاف  پایا جاتاہے.

تاریخی طور پر بھی دونوں فرقوں کے درمیان ٹھوس اختلافات پائے جاتے ہیں، جیسے جنگ جمل و صفین   وغیرہ کی جزئیات میں دونوں فرقوں  کے نکتہ نظر میں آج تک  بھرپوراختلاف ہے۔البتہ محقیقین ان اختلافات کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔

ختمِ نبوت پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے اور اس کے بعد  امامت کے مسئلے پر اختلاف شروع ہو جاتا ہے، دونوں مسالک کے درمیان امامت کے مسئلے پر تھوڑا بہت اختلاف ہے ، جیسا کہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کے بعد بارہ خلیفہ یا بارہ امام ہونے پر شیعہ و سنی دونوں مسالک کا اتفاق ہے ،  البتہ وہ بارہ امام کونسے ہیں اس میں  اختلاف ہے۔شیعہ  بارہ اماموں کو معصوم مانتے ہیں  اور امامت کو ایک  الہی منصب سمجھتے ہیں جبکہ اہل سنت کے ہاں امامت کے لئے عصمت کی قید نہیں ہے۔

اسی  طرح شیعہ و سنی علما  حضرت امام علیؑ کے مناقب، فضائل اور تفضیل کے قائل ہیں اور اس ضمن میں طرفین نے بہت کچھ لکھا ہے البتہ  اہل سنت امام علیؑ کو چوتھا خلیفہ راشد مانتے ہیں جبکہ شیعہ رسول اسلامﷺ کے بعد خلیفہ بلا فصل مانتے ہیں۔

اب پاکستان میں شیعہ و سنی کے درمیان اختلاف ڈالنے کا کام منبروں کے بعد ٹیلی ویژن چینلوں سے لیاجانے لگا ہے، بظاہر کہا تو یہ جاتا ہے کہ دینی پروگراموں سے اتحاد اور وحدت کے فروغ کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ عملا  اختلاف و انتشار کو ہوا دی جاتی ہے۔ ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ اتحاد اور ادغام میں فرق کیا ہے!؟

۔اتحاد ووحدت کا حقیقی مفہوم

اتحاد اور وحدت ہی فقط وہ راستہ ہے جس سے ملک بھی محفوظ رہ سکتا ہے  اور شہریوں کے جان ومال اور ناموس کی حفاظت بھی ہو سکتی ہے. شیعہ اور سنی دونوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو کہ  اتحاد کے اعتباد سےافراط وتفریط کے شکار ہیں. کچھ لوگ  سرے سے ہی اتحاد کے مخالف ہیں اور پرانے فتنوں کو ہوا دینا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں   اور کچھ  ان سے بھی خطرناک ہیں جو اتحا ووحدت کے نام پر اتحاد ووحدت کو سبوتاژ کرتے ہیں۔

 یہ گروہ اتحاد کے یا تو مفہوم سے واقف نہیں یا کسی لالچ ، خوف یا ڈر یا  پھر کسی سیاسی مصلحت کے تحت اپنے ہی  مذھب کے اصولوں اور مسلمہ عقائد سے دستبرداری کا اظہار کرتا ہے، ایسی دستبرداری  جسے نہ تو اسکے مد مقابل مذھب کے لوگ قبول کرتے ہیں اور نہ ہی اسکے اپنے مذھب کے پیروکار اس موقف کو مانتے ہیں. اور پھر ایک ھیجان اور بےچینی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہےجیسا کہ  آجکل ہو رہاہے.

ہم یہاں پر اتحاد اور ادغام میں فرق کو واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں:

*اتحاد اور ادغام میں فرق*

اتحاد کا مطلب  یہ ہے کہ اپنے عقائد کو چھوڑو نہیں اور دوسرے کے عقیدے کو چھیڑو نہیں۔ یعنی  شیعہ کا جو بھی عقیدہ ہے وہ اپنے عقیدے اور نظریات پر باقی رہتے ہوئے اور دوسری  جانب سنی بھی اپنے عقیدے اور نظریات پر باقی رہتے ہوئے مل کر  اپنے مشترکہ دشمن کے مقابلے میں متحد ہو جائیں ۔

ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ اگر ہمارے حکمران اپنے سیاسی مفادات کے لئے اسرائیلیوں اور یہودیوں کے ساتھ مشترکات ڈھونڈ کر اتحاد کر سکتے ہیں تو کیا اسلام کے دفاع اور حفاظت کی خاطر  شیعہ اور سنی علمائے کرام مل بیٹھ کر متحد نہیں ہو سکتے۔

اب رہا ادغام تو  ادغام یہ ہے کہ شیعہ اور سنی  ایک دوسرے کے ڈر سے یا  کسی سیاسی و دنیاوی مفاد کی وجہ سے اپنے ہی مسلمہ  عقائد کو چھوڑ کر یہ تاثر دیں کہ وہ دوسرے فرقے میں ضم ہو گئے ہیں جبکہ  ایسا ادغام چاپلوسی  جھوٹ اور منافقت  پر تو منتہج ہو سکتا ہے لیکن  اتحادِ اسلامی کا ترجمان نہیں ہو سکتا۔اس سے کوئی تیسرا فرقہ تو جنم لے سکتا ہے لیکن وحدتِ اسلامی کی بنیاد نہیں پڑ سکتی۔اتحاد اسلامی کی درست نہج یہی ہے کہ تمام مسلمان  اپنے اپنے عقائد پر آزادانہ عمل کریں اور ایک دوسرے کے عقائد کا دل سے احترام کریں۔


تحریر:ڈاکٹر شفقت شیرازی

وحدت نیوز (سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکریٹری جنرل آغا علی رضوی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بلتستان ریجن کے فرض شناس پولیس آفیسر ڈی آئی جی فرمان کا تبادلہ قابل مذمت ہے۔ علاقائی میں خلوص نیت کے ساتھ اور ایمانداری کے ساتھ کام کرنے والے آفیسران کو تختہ مشق بنایا جاتا ہے اور انہیں دلجمعی کے ساتھ کبھی خطے کی خدمت کرنے نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ ریاستی اداروں پر اثر انداز ہو اور اپنا الو سیدھا کرے ۔ ریاستی اداروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کسی صورت ریاست کے مفاد میں نہیں ہے ۔ فرض شناس اور ایماندار افراد اگر حکمرانوں سے ڈیکٹیشن لینا چھوڑ دے تو انہیں دربدر کیا جاتا ہے۔ ڈی آئی جی فرمان نے بلتستان میں نہایت محنت لگن اور ایمانداری کے ساتھ ہر طرح کی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر پولیس جیسے اہم محکمے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش ہے لیکن انہیں کام کرنے نہیں دیا جا رہا جو کہ افسوسناک ہے۔ انہیں فوری طور پر واپس لایا جائے۔

آغا علی رضوی نے کہا خطے میں عوام کی توہین کرنے والے چیف سیکرٹری کو تاحال رکھنا شرمناک ہے۔ ایف سی این اے جنرل اور جی بی کی عدالتیں نوٹس لیتے ہوئے اس چیف سیکرٹری کو فوری طور پر علاقہ بدر کرے ۔ ویڈیو ایڈیٹنگ کا الزام درست نہیں پوری ویڈیو دیکھنے کے بعد بھی چیف سیکرٹری کا رویہ شہنشاہوں والا اور عوام دشمن تھا۔ انہیں برداشت کرنے کا مطلب ہی عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے کی کوشش ہوگی۔

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے کہا ہے کہ الیکشن 2018کو شفاف بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ان عناصر کو انتخابی عمل سے دور رکھا جائے جن کا فرقہ واریت کے فروغ اور تکفیریت کے پرچار میں مرکزی کردار رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وحدت ہاوس انچولی میں صوبائی کابینہ کے اجلاس کے سربراہی خطاب میں کیا اس موقع پر مرکزی سیکرٹری سیاسیات اسد عباس نقوی ،محسن شہریار ،مرکزی سیکرٹری تنظیم سازی مہدی عابدی ،صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی سمیت دیگر رہنما موجود تھے۔

 انہوں نے کہا کہ کالعدم مذہبی جماعتوں کے رہنماوں کا الیکشن میں حصہ لینا قومی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے۔ کچھ کالعدم مذہبی جماعتوں نے اپنے کارکنوں کے نام پر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جماعتیں رجسٹر کروا رکھی ہیں تاکہ الیکشن میں حصہ لیا جا سکے۔ایسے عناصر جو ملک میں دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث ہیں الیکشن میں حصہ لینے کے کسی طور بھی اہل نہیں۔انہیں انتخابی عمل میں شمولیت کی اجازت دینا الیکشن کمیشن آف پاکستان کے بنیادی قواعد کی ہی خلاف ورزی نہیں بلکہ نیشنل ایکشن پلان کی بھی بدترین پامالی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے اداروں اور ارض پاک کے خلاف سب سے زیادہ دہشت گردانہ کاروائیاں کالعدم مذہبی جماعتوں نے کی ہیں۔نواز شریف کی سابق حکومت کے متعدد وزراء اپنے سیاسی مفادات کے لیے ان دہشت گرد قوتوں کے سہولت کار بنے رہے جس کا خمیازہ ساٹھ ہزارسے زائد لاشوں کی صورت میں قوم کو بھگتنا پڑا۔یہی سیاسی قوتیں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نام پر تکفیری قوتوں کی حمایت کر کے انہیں ایوان تک لانا چاہتی ہیں جس سے ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نام بدل کر الیکشن میں حصہ لینے والی جماعتوں پر کڑی نظر رکھیں اور ان لوگوں کو الیکشن میں حصہ لینے کی قطعا اجازت نہ دی جائے جو ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔وطن عزیز کو قائد و اقبال کا حقیقی پاکستان بنانے کے لیے انتہا پسندی کا خاتمہ ضروری ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے جو نظریاتی و فکری اختلاف رکھنے والوں کو کافر اور واجب القتل سمجھتے ہیں۔جو جماعتیں عبادت گاہوں اور پاک فوج پر حملوں میں ملوث رہی ہیں ان کے رہنماؤں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کی بجائے قانون کے شکنجے میں کسنے کی ضرورت ہے۔

الحدیدہ۔۔۔اب میڈیا خاموش کیوں ہے!؟

وحدت نیوز (آرٹیکل)  انسان کی دو فطری کمزوریاں ہیں، کچھ جاننے کی تمنا اور کچھ کرنے کی امنگ۔ ہر حال میں  انسان اپنی معلومات میں افزائش اور  کچھ کرنے کی اپنی استعداد میں اضافے کا متمنی ہے۔ایک عاقل ، ہوشیار اور بیدار انسان کبھی بھی اپنی ان دو خواہشوں سے دستبردار نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم چاہے کسی بھی دین و مذہب اور نظریے سے تعلق رکھتے ہوں باقی دنیا کے بارے میں جاننا اور اس دنیا میں کچھ کر گزرنے کی خواہش رکھنا ہی ہماری سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے۔ یہی خواہش ہے جو انسان کو خلاوں میں لے کر گھوم رہی ہے ، فضاوں میں اڑا رہی ہے اور سمندروں کی تہوں میں اتار رہی ہے۔ اگر انسان سے یہ دو خواہشیں چھین لی جائیں تو انسان کا انسان ہونا خطرے میں پر جائے گا۔

یہی وجہ ہے کہ ذمہ دار اور سرکردہ افراد ہمیشہ کچھ جاننے اور کچھ کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔انسانی معاشرے میں انسان جدید معلومات اور نئے حالات سے لاتعلق ہو کر نہیں رہ سکتا۔اس وقت ہمارے ارد گرد کی دنیا میں  بڑی تیزی سے سائنسی، سیاسی اور جغرافیائی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ بڑی طاقتیں نت نئی تھیوریز اور ایجادات کے ساتھ کمزور اقوام پر جدید تجربات کر رہی ہیں۔  یعنی ہماری دنیا میں طاقتور اقوام ، کمزور اقوام کو اپنے تجربات کی بھینٹ چڑھا رہی ہیں۔

ایک نئے مشرق وسطیٰ کا تجربہ امریکہ کو مہنگا تو پڑا لیکن اس کے نتیجے میں چاندہ چہرہ ممالک کھنڈر بن گئے، ممالک کو کھنڈرات بنانے کا یہ سلسلہ ابھی جاری ہے اور اس وقت   امریکی ایما پر سعودی عرب کی سربراہی میں قائم ’عرب اتحاد‘  نے یمن کی مرکزی بندرگاہ الحدیدہ  پر دھاوا بول رکھا ہے۔ یہ اتنی مصروف اور اہم بندرگاہ ہے کہ یمن کی ستر فی صد در آمدات اسی کے ذریعے ہوتی ہیں۔ ۲۰۱۵ سے جاری اس جنگ میں یہ اب تک کا سب سے بڑا حملہ ہے۔اس حملے کو سنہری فتح کا نام دیا گیا ہے اور اس کی ابتدا میں ہی   انصار اللہ نے امارات کے  فرسٹ نیول سارجنٹ خلیفہ سیف سعید الخاطری، علی محمد راشد الحسانی، سارجنٹ خمیس عبداللہ خمیس الزیودی اور العریف حمدان سعید العبدولی جیسے متعدد افراد  کو موت کے گھاٹ اتار کر حملہ آوروں کے دانت کھٹے  کر دیے ہیں۔

اس سنہری فتح  نامی حملے کے بارے میں یہ بتانا ضروری ہے کہ  کچھ دن پہلے  اقوام متحدہ نے برملا اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ اگر الحدیدہ پر دھاوا بولا گیا توانسانی جانوں کی  خوفناک تباہی ہوگی۔بہر حال ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی اقوامِ متحدہ  کے واویلے پر کسی نے کان نہیں دھرے اور حملہ کرنے والوں نے حملہ کر کے ایک مرتبہ پھر اقوامِ عالم کو یہ پیغام دیا ہے کہ  طاقتور اقوام کے سامنے انسانی حقوق، اقوامِ متحدہ اور انسانی زندگیوں کی کوئی اہمیت و وقعت نہیں ہے۔

یہاں پر لمحہ فکریہ ہے ہمارے لئے کہ وہ میڈیا جو  شام کے کسی علاقے میں داعش کے درندوں کے محصور ہونے پر تو انسانی ہلاکتوں کا واویلا کرتا ہے لیکن  اس وقت الحدیدہ میں ہونے والے انسانی المیے پر چپ سادھے ہوئے ہے۔

یعنی  میڈیا کے نزدیک یمن میں مارے جانے والے انسان گویا انسان ہی نہیں ہیں۔

  عالمی برادری کو اس حقیقت سے نظریں نہیں چرانی چاہیے کہ الحدیدہ اس جنگ کا آخری مرحلہ نہیں ہے، امریکہ اور سعودی عرب ایک طولانی ایجنڈے کے تحت پوری دنیا میں سرگرمِ عمل ہیں اور دنیا بھر میں ہونے والی انسانی ہلاکتوں کے پیچھے ان دونوں ممالک کا ہی ہاتھ ہے۔  

انسانی ہمدردی کے ناتے ہی یہ ہماری اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم الحدیدہ میں ہونے والی انسانی ہلاکتوں پر غم کا اظہار کریں اور  جارحین کی مذمت کریں۔

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ کے دیگر مناطق کی طرح الحدیدہ سے بھی جارحین زلیل و رسوا ہو کر نکلیں گے لیکن اس جارحیت کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر انسانی و مالی نقصان کا احتمال ہے جس کے تدارک کے لئے عالمی برادری کو سامنے آنا چاہیے۔

انسان کی دو فطری کمزوریاں ہیں، کچھ جاننے کی تمنا اور کچھ کرنے کی امنگ۔الحدیدہ کے حوالے سے ہمیں زیادہ سے زیادہ  حقائق کو جاننے کی کوشش کرنی چاہیے اور الحدیدہ پر ہونے والی جارحیت کی مذمت  کرنے کی جرات کرنی چاہیے۔

 اگر ہم الحدیدہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور کچھ نہیں کرتے تو ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ حق و باطل کے معرکے میں غیر جانبدار ہوجانا یا خاموش ہوجانا در اصل باطل کی ہی مدد ہے۔


تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.



وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ آل سعود کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے، ان کا زوال شروع ہوچکا ہے، آئین کی دفعہ 62 اور 63 پر عملدرآمد کے بغیر عام انتخابات کا مقصد ایک کرپٹ اور غیر صالح اسمبلی کو قوم پر مسلط کرنا ہے، جو فقط چہروں کی تبدیلی ہوگی، قومی حقوق فقط دھرنوں اور مظاہروں سے حاصل نہیں ہوں گے اس کیلئے پارلیمانی قوت بننا انتہائی ضروری ہے۔ اپنے ایک بیان میں علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ انبیاء کی سرزمین فلسطین، قبلہ اول اور حرمین شریفین کے ساتھ خیانت، اسلام دشمن قوتوں سامراجی قوتوں امریکہ اور اسرائیل سے دوستی، دنیا بھر میں دہشتگرد تنظیموں کی پشت پناہی اور مظلوم مسلم ملک یمن پر حملہ آل سعود کے ناقابل معافی جرائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بحرین میں مظلوم عوام کے قتل عام میں آل خلیفہ کو مکمل طور پر آل سعود کی پشت پناہی حاصل ہے، آل سعود کے زوال اور انحطاط کا آغاز ہوچکا اور وہ جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچیں گے، ولی خدا فقیہ مجاہد حضرت آیت اللہ باقر النمرؒ کا مقدس لہو عنقریب آل سعود کے تخت کو لے ڈوبے گا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ آئین کی دفعہ 62 اور 63 پر عملدرآمد کے بغیر عام انتخابات کا مقصد ایک کرپٹ اور غیر صالح اسمبلی کو قوم پر مسلط کرنا ہے، جو فقط چہروں کی تبدیلی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بھوک، افلاس، دہشتگردی، کرپشن جیسے ناسور کے خاتمے کیلئے آئین کی دفعات پر عملدرآمد بہت ضروری ہے، جنہوں نے گذشتہ کئی سالوں سے قومی دولت کو لوٹا، ان کے کاغذات نامزدگی بحال ہوگئے، یہ تعجب کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملت جعفریہ عام انتخابات میں اپنے قومی حقوق اور اجتماعی مفادات کو ترجیح دے، پاکستان میں ملت جعفریہ کو دہشتگردی سمیت جن مشکلات کا سامنا ہے، اس سے نکلنے کیلئے پارلیمنٹ میں مناسب نمائندگی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں متناسب نمائندگی کے نظام کی بحالی بھی ہمارا اہم ہدف ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی حقوق فقط دھرنوں اور مظاہروں سے حاصل نہیں ہوں گے اس کیلئے پارلیمانی قوت بننا انتہائی ضروری ہے، قوم اپنے نمائندوں کو ووٹ، نوٹ اور سپورٹ کے ذریعے کامیاب کرے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے عید سعید الفطر کے پرمسرت موقع پر امت مسلمہ خصوصاًاہل وطن کو اپنی اور ایم ڈبلیوایم کی جانب سے دلی مبارکباد پیش کی ہے، مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری ایک تہنیتی پیغام میں انہوں نے کہاکہ عید الفطر ماہ مبارک رمضان میں قرب الہٰی حاصل کرنے والے پر انکے پروردگار کی جانب سے عظیم نعمت اور بہترین تحفہ ہے ، جس طرح مسلمان ماہ صیام میں اپنی عبادات اورہر انفرادی عمل میں خوشنودی خداوندی کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے بلکل اسی طرح روز عید بھی رضائے الہٰی کو مطمع نظر رکھنا چاہئے، ہمیں چاہئے کے اپنے ارد گرد معاشرے میں موجود محروموں اور مظلوموں کو بھی عید کی خوشیوں میں شریک کرنے کی بھرپور کوشش کریں، انہوں نے کہاکہ مملکت خدادادپاکستان کا وجود بھی ماہ مبارک رمضان اور عید سعید الفطر کی مانند امت مسلمہ کیلئے کسی نعمت الہیٰ سے کم نہیں ، ہمیں اس نعمت عظمیٰ کی قدر دانی کرنی چاہئے ، افسوس کے ہمارے بعض نا عاقبت اندیش حکمرانوں نے اس مادر وطن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اس وقت پاکستان کو درپیش چیلنجز کا تقاضہ ہے کہ تمام پاکستانی امن واخوت وبھائی چارے کے ساتھ اپنی دھرتی کی ترقی وخوشحالی کیلئے آمدہ انتخابات میں اپنا موثر کردار ادا کریںاور اہل، قابل اور وطن دوست قیادت کا انتخاب عمل میں لائیں  ۔

 انہو ں نے عید الفطر کے بابرکت موقع پر وطن عزیز کی سلامتی واستحکام کی خصوصی دعا کی،انہوں نے کہاکہ خدا وند متعالی کی بارگاہ میں دعاہے کہ وہ ہمارے شھداء کے درجات بلند فرمائے اور ہمارے مرحومین کی مغفرت فرمائے۔ہم سب کو چاہئےکہ اپنی دعاؤں میں لاپتہ افراداور ان کے اہل خانہ کو ضرور یاد رکھیں ،اس دعا کے ساتھ کہ اے رب کریم ہمارے امام عصر عج کے ظہور میں تعجیل فرما ،ہمارے رھبر روحی لہ الفدا اور ان کے ساتھیوں کو دشمن کے شر سے محفوظ رکھ،ہمارے مراجع کرام کی حفاظت فرما ،نائجیریا،یمن سرزمین حجاز،بحرین،مقبوضہ فلسطین سے لیکر کشمیر تک مظلوموں کی نصرت فرما ،امریکہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو ذلت آمیز شکست سے دو چار فرما۔


واضح رہے کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری عید الفطر اسلام آباد میں منائیں گے وہ اپنے آبائی گھر شکریال کی جامع مسجد میں نماز عید ادا کریں گے اور پارٹی ورکرز سے عید ملیں گے، جبکہ ایم ڈبلیوایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی عید الفطر کی نماز کراچی میں ادا کریں گے،مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ناصر شیرازی سرگودھا،مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی فیصل آباد جبکہ صوبائی سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ مبارک موسوی لاہور میں نماز عید الفطر ادا کریں گے۔

تحریف سے محفوظ کتاب آسمانی

وحدت نیوز(آرٹیکل)  قرآن تمام مذاہب اسلامی کا مشترکہ منبع ہے جو سب کے نزدیک قابل قبول اور قابل احترام ہے ۔شیعہ امامیہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی پیروی کرتے ہوئے قرآن کریم کو پہلا اور اہم ترین منبع سمجھتا ہے جو عقائد ،معارف اور احکام کا سر چشمہ ہے ۔امام جعفر صادق علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:{ان الله تبارک و تعالی انزل فی القرآن تبیان کل شی حتی والله ، ماترک الله شیاءً یحتاج الیہ العباد حتی لا یستطیع عبد یقول لو کان هذا انزل فی القرآن ، الا و قد انزلہ الله فیہ}1۔اللہ تعالی نے ہر شےٴ کو قرآن کریم میں بیان کیاہے اور جس چیز کے بندے محتاج تھے ان میں سے ایک کو بھی نہیں چھوڑا ۔کوئی یہ  کہنے کی طاقت نہیں رکھتا کہ یہ چیز بھی قرآن کریم میں نازل کی جاتی ، آگاہ ہو کہ خدا نے قرآن کریم میں اس کو ضرور نازل کیا ہے۔ایک اور حدیث میں آپ ؑفرماتے ہیں:{ما من امر یختلف فیہ اثنان الا و لہ اصل فی کتاب الله عزوجل ، و لکن لا تبلغہ عقول الرجال}2 ۔ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس میں دو آدمی اختلاف کریں اور اس کےبارےمیں قرآن میں حکم نہ ہو لیکن لوگوں کی عقلیں ان تک نہیں پہنچتیں ۔لہذا قرآن کریم کی تفسیر کے لئے ایک توانمند مفسر کی ضرورت ہے جو حقائق قرآن کو جانتا ہو ۔

آئمہ اہلبیت علیہم السلام کی نظر میں قرآن کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ احادیث کے صحیح ہونے کے لئے شرط ہے کہ وہ قرآن کریم کے مطابق ہو اور اگر کوئی حدیث قرآن سے مطابقت نہ رکھتی ہو تو وہ مردود ہے ۔جیسا کہ امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں: {ما وافق کتاب الله فخذوہ و ما خالف کتاب الله فدعوہ}3۔جو حدیث کتاب خدا کے موافق ہو اسے لے لو اور جو مخالف ہو اسے چھوڑ دو۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں آپ ؑفرماتے ہیں :{ما لم یوافق من الحدیث القرآن فہو زخرف}4۔جو حدیث قرآن کریم کے موافق نہ ہو وہ باطل ہے ۔
کتب آسمانی میں دو طرح کی تحریف ممکن ہے ایک تحریف لفظی اور دوسرا تحریف معنوی ۔تحریف لفظی سے مراد آسمانی کتابوں کی آیتوں اور عبارتوں میں کمی و بیشی کرنا ہے جبکہ تحریف معنوی سے مراد آسمانی کتابوں کی آیتوں اور عبارتوں کی غلط تفسیر و تاویل کرنا جسے اصطلاح میں تفسیر بالرائے کہتے ہیں۔ قرآن مجید کی آیتوں میں اضافہ نہ ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے ۔شیعوں کی اکثریت کا نظریہ ہے کہ قرآن کریم میں تحریف لفظی کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا اور مسلمانوں کے درمیان موجودہ قرآن وہی قرآن ہے جو خدا وندمتعال نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کیا تھا۔

شیعہ امامیہ کے بزرگ علماء، متکلمین،مفسرین اور فقہاء ۵نے اہل بیت اطہار علیہم السلام کی پیروی کرتے ہوئے قدیم زمانے سے آج تک قرآن مجید کے تحریف سے محفوظ ہونے کی وضاحت کی ہے ان میں سے مندرجہ ذیل شخصیتوں کانام لیا جاسکتا ہے ۔  جیسے شیخ صدوق، شیخ مفید، سید مرتضی ،شیخ طوسی ، امین الاسلام طبرسی ، علامہ حلی،محقق کرکی، شیخ بہائی ، ملا محسن فیض کاشانی ،شیخ جعفر کاشف الغطا،شیخ محمدحسین کاشف الغطا،علامہ سید محسن امین ، شرف الدین عاملی ،علامہ امینی ، علامہ طباطبائی،امام خمینی اور آیت اللہ خوئی وغیرہ نے قرآن کریم کے تحریف سے محفوط ہونے{ اعم از کمی وبیشی}کی تصریح کی ہے ۔

شیخ صدوق اپنی کتاب اعتقادات میں تحریر فرماتے ہیں :ہمارا عقیدہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل شدہ قرآن وہی ہے جو مسلمانوں کے درمیان موجود ہے اور اس سے زیادہ نہیں ہے اور جو ہماری طرف یہ منسوب کرتا ہے کہ ہم اس سے زیادہ والےقرآن کو مانتے ہیں وہ جھوٹا ہے ۔6۔امام خمینی ؒاس بارے میں لکھتے ہیں : جو بھی قرآن کریم کی حفظ ،قرائت ،کتابت اور نگہداری کے بارے میں مسلمانوں کی خصوصی توجہ اور اہتمام سے آشنا ہو وہ تحریف کے غلط خیال سے آگاہ ہو سکتا ہےکیونکہ جن روایتوں سے قرآن کریم کے تحریف ہونے کو ثابت کیا جاتاہے یا سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں جس کی وجہ سے ان سے استد لال نہیں کیا جا سکتا یا  یہ جعلی اور گھڑی ہوئی ہیں۔ اگر اس بارے میں کوئی صحیح حدیث مل بھی جائے تو وہ قرآن کریم کی تاویل اور تفسیر میں تحریف ہونے کو بیان کرتی ہے نہ کہ تحریف لفظی کو ۔7۔ امام خمینی کی عبارت میں دو چیزوں پر خصوصی توجہ ہوئی ہے ،ایک یہ کہ قرآن کریم تحریف سے محفوظ ہے اوردوسرا  تحریف قرآن کے قائلین کے لئےجواب یہ ہے کہ مسلمان قرآن کریم کی حفاظت میں خصوصی اہتمام کرتے تھےیہاں تک کہ عصر خلفاء میں جمع و تدوین قرآن کے وقت جب عمر بن خطاب نے کسی آیت کو آیت رجم کے نام سے پیش کیا تو مسلمانوں نے اسے قبول نہیں کیا کیونکہ کسی نے بھی اس کی تائید نہیں کی 8۔ تحریف قرآن  کے منکرین ہمیشہ اسی بات پر توجہ دلاتے رہے  جیسا کہ سید مرتضی  تحریرفرماتے ہیں :{ان العنایۃ اشتدت والدواعی توفرت علی نقلہ وحراستہ ..فکیف یجوز ان یکون مغیرا او منقوصا مع العنایۃ الصادقۃو الضبط الشدید}9۔مسلمان قرآن کریم کو نقل کرنے اور اس کی حفاظت میں خاص توجہ رکھتےتھے پس یہ کیسے ممکن ہے کہ اس قدر شدیدمحبت اورسخت حفاظت کے ساتھ قرآن میں کمی وبیشی ہو ۔

 یہاں عدم تحریف قرآن کے بارے میں کچھ دلائل کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
1۔یہ کس طرح ممکن ہے کہ قرآن مجید میں تحریف واقع ہو جائے جبکہ خداوند متعال نے خود اس کی حفاظت کی ضمانت لی ہے جیسا کہ ارشاد ہو تا ہے :{ إِنَّانحَنُ نَزَّلْنَاالذِّکْرَوَإِنَّا لہُ لحَافِظُون}10۔ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔
2 ۔خداوند متعال نے قرآن کریم میں ہر قسم کے باطل کے داخل ہونے کی تردید کی ہے جیساکہ ارشاد ہوتا ہے :{لَّایاْتِيہِ الْبَاطِلُ مِن بَين يَدَيْہِ وَ لَا مِنْ خَلْفہ تَنزِيلٌ مِّنْ حَکِيمٍ حَمِيد}11۔اس کے قریب ،سامنے یا پیچھے کسی طرف سے باطل آبھی نہیں سکتا ہے کہ یہ خدائے حکیم وحمید کی نازل کی ہوئی کتاب ہے ۔ خداوند متعال نےقرآن مجید میں جس باطل کے داخل ہونے کی تردیدکی ہے اس کا مطلب اس قسم کا باطل ہے جو قرآن کی توہین کا باعث بنے چونکہ قرآن کے الفاظ میں کمی و بیشی کرنا اس کی بے احترامی و توہین ہے لہذا اس مقدس کتاب میں ہر گز کسی قسم کی کمی یازیادتی واقع نہیں ہوتی ہے ۔
3۔تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان قرآن کی تعلیم اوراس کو حفظ کرنے میں انتہائی دلچسپی دکھاتے تھے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں عربوں کے درمیان ایسے قوی حافظ موجود تھے جو صرف ایک بار طولانی خطبہ سننے کے بعد اسے یاد کر لیتے تھے ،اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنے قاریوں کے ہوتے ہوئے قرآن مجید  میں کسی قسم کی تحریف ہوئی ہو ۔
4۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت علی علیہ السلام چند مسائل میں خلفاء سے اختلاف نظر رکھتے تھے اور اپنی مخالفت کو مختلف مواقع پر منطقی طور سے ظاہر بھی کرتے تھے جس کا ایک نمونہ خطبہ شقشقیہ اور ان کے دفاعیات ہیں ۔اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ آپ علیہ اسلام نے
اپنی پوری زندگی میں ایک حرف بھی تحریف قرآن کے بارے میں نہیں فرمایا ہے اگر نعوذاباللہ قرآن مجید میں تحریف ہوتی تو آپ علیہ السلام کسی بھی صورت خاموش نہ رہتے اس کے بر عکس آپ علیہ السلام ہر وقت قرآن میں تدبر کرنے کی تلقین کرتے تھے ۔12۔
تحریف قرآن کے قائلین کچھ حدیثوں سے استدلال کرتےہیں جو ظاہراً ان کے نظریہ پر دلالت کرتی ہے لیکن ان کا جواب یہ ہے کہ
 اولا:یہ حدیثیں سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں جس کی وجہ سے ان سے استدلال کرنا صحیح نہیں ہے۔
ثانیا:یہ احادیث جعلی یا گھڑی ہوئی ہیں ۔
ثالثا :اگر کوئی صحیح حدیث بھی ہوتو وہ قابل توجیہ و تاویل ہے کیونکہ یہ تحریف معنوی کو بیان کرتی ہیں ۔اس حقیقت کوجو شیعوں کی اکثریت کا نظریہ ہے اہل سنت محققین نے بھی بیان کیا ہے ۔اور وہ مذہب شیعہ کو تحریف قرآن جیسے اتہامات سے مبراء اور منزاء سمجھتے ہیں ۔ شیخ رحمت اللہ ہندی اپنی اہم کتاب اظہار الحق میں تحریر کرتے ہیں :علماء شیعہ کی اکثریت کا نظریہ ہے کہ قرآن کریم ہر قسم کی تحریفات سے محفوظ ہے اور جو لوگ قرآن کریم میں کمی کا نظریہ رکھتے ہیں اس کو وہ غلط سمجھتے ہیں۔13۔
شیخ محمد مدنی لکھتےہیں :شیعہ قرآن کریم کی آیات یا کسی سورے میں کمی ہونے کے قائل نہیں ہیں اگرچہ اس طرح کی روایتیں ان کی احادیث کی کتابوں میں اسی طرح ہیں جس طرح ہماری کتابوں میں ہیں لیکن شیعہ و سنی محققین ان حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھتے اور جو بھی سیوطی کی اتقان کا مطالعہ کرے اسے اس طرح کی روایات ملیں گے جن کی ہماری نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے ۔شیعوں  کے نامور علماء قرآن مجید کے تحریف سے مربوط روایات کو باطل اورغلط سمجھتے ہیں ۔14۔
بنابرین اگر کوئی ان روایتوں کے مطابق تحریف قرآن کے قائل ہوں تو ان کی باتوں کو ان کے  مذہب کے عقیدے کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے ۔وہابی  اورتکفیری گروہ ہمیشہ شیعوں کی طرف تحریف قرآن کی نسبت دیتے ہیں اور ہمیشہ انہیں باتوں کے ذریعےعام لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔یہ لوگ قرآن کریم کے عدم تحریف پر موجودشیعہ علماء کے صریح اقوال سے چشم پوشی کرتے ہوئے انصاف کے راستے سےخارج ہو کر دشمنی کے راستے کو طے کرتے ہیں۔15۔

 

 

تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

 

 

حوالہ جات:
1۔صول کافی ،ج1، باب ،الرد الی الکتاب السنۃ ،حدیث 1۔
2۔اصول کافی ،ج1 ،باب ،الرد الی الکتاب السنۃ ،حدیث 6 ،ص60۔
3۔اصول کافی ،ج1 ،باب ،الاخذ  بالسنۃ و شواہد الکتاب،ج1 ۔
4۔صول کافی ،ج1، باب ،الاخذ  بالسنۃ و شواہد الکتاب،ج1 ،حدیث 4۔
5۔عقائد امامیہ ،آیۃاللہ جعفر سبحانی، ص204۔
6۔الاعتقادات فی دین الامامیہ،ص 59۔
7۔تہذیب الاصول ،ج2،ص 165۔
8۔سیوطی ،الاتقان فی علوم القرآن ،ج1 ،ص 244۔
9۔جمع البیان،ص15۔
10۔حجر۔ 9
11۔فصلت :42
12۔عقائد امامیہ ،آیۃاللہ جعفر سبحانی ،ص 207 – 208۔
13۔الفصول المہمۃ،ص 175۔
14۔صیانۃ القرآن من التحریف ،ص84۔مجلہ رسالۃ الاسلام کے نقل کے مطابق ،چاپ قاہرۃ ،شمارہ 44۔ ص 382۔
15۔ مراجعہ کریں: المیزان فی تفسیر القرآن ،ج12 ،ص 114۔ البیان فی تفسیر القرآن، ص 197 – 235۔آلاء الرحمن فی تفسیر القرآن ،ص 17 – 29۔

ایٹمی اثاثے، خطرات اور منصوبہ جات

وحدت نیوز(آرٹیکل) رات کا وقت تھا، محل میں مکمل سنّاٹا تھا، بادشاہ کے کمرے میں ایک وزیر بادشاہ کے ساتھ محو گفتگو تھا، اتنے میں محل کی چھت سے دھڑام کے ساتھ کوئی چیز زور سے نیچے گری اور پورے محل میں شور شرابا مچ گیا، لوگ ڈر کے مارے ادھر ادھر بھاگنے اور چھپنے لگے، بادشاہ بھی سراسیما ہوگیا، کچھ دیر بعد شور ختم ہوگیا تو پتہ چلا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں تھی بلکہ چھت سے کسی نے ایک بہت بڑا برتن نیچے پھینکا تھا۔

بادشاہ نے وزیر سے پوچھا کہ سب لوگ ڈرے اور بھاگے لیکن تم کیوں نہیں ڈرے!؟ وزیر نے کہا جناب عالی میں نے ہی  آج رات کے اس وقت پر یہ برتن گرانےکا حکم دیا تھا، اور میرا مقصد آپ کو یہ سمجھانا تھا کہ اگر انسان کو پہلے سے ہی واقعے کا پتہ ہو تو انسان وقت آنے پر گھبراتا نہیں ہے، اگرچہ برتن گرنے کی یہ آواز میرے لئے بھی خوفناک تھی لیکن چونکہ میں اس کی منصوبہ بندی سے پہلے ہی آگاہ تھا سو میں اس  کی آواز سے نہیں ڈرا۔

اس وقت پاکستان کے عوام انتخابات پر نظریں لگائے ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان کے مسائل  پاکستانی انتخابات سے  ہٹ کر بھی بہت زیادہ ہیں،خصوصا جب سے عراق میں امریکہ و سعودی عرب کی پالیسیوں کا جنازہ نکلا ہے اور شام میں داعش اور اس کے سرپرستوں  کو دندان شکن شکست ہوئی ہے تو اب امریکہ و سعودی عرب کے لئے اپنے وجود کی بقا کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔

اگرچہ سعودی عرب اپنا غصہ یمن پر بمباری کر کے نکال رہا ہے لیکن اسوقت امریکہ اور سعودی عرب پر واضح ہو چکا ہے کہ وہ ممالک کوآپس میں  لڑوا کر اور دہشت گرد گروپوں کے ساتھ الجھا کر اپنا تسلط قائم رکھنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

شام میں حزب اللہ کے ہاتھوں اسرائیل نواز داعشیوں کی شکست نے  امریکہ و سعودی عرب کی بوکھلاہٹ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ظاہر ہے اگر شام میں داعش کا مکمل صفایا ہوجاتا ہے تو امریکی و سعودی پالیسیوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔ چنانچہ امریکہ و سعودی عرب کے لئے اب داعش کو بچانا اور محفوظ بنانا ضروری ہے لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ طالبان اور القاعدہ کی طرح داعش پر بھی شکست کی مہر ثبت ہو چکی ہے لہذا اب داعش کی جگہ دہشت گردوں کا کوئی نیا نام رکھ کر  پرانے دہشت گرد ٹولوں کو  نئے سرے سے منظم کیا جانے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل اور ہندوستان کی ایما پر نئے دہشت گردوں کو افغانستان کے شمال میں منظم کیا جا رہا ہے۔چونکہ اسرائیل اور ہندوستان کو دنیا میں سب سے زیادہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام کھٹکتا ہے لہذا وہ چاہتے ہیں کہ افغانستان سے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے۔

چنانچہ وہی لوگ جو اسلام آباد کی لال مسجد میں جمع ہو کر پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرہ بنے تھے اب انہیں افغانستان کے شمال میں جمع کیا جارہا ہے۔ اس مقصد کے لئے سعودی عرب نے پہلی فرصت میں  80 ملین ڈالرز کی رقم فراہم کی ہے۔

ہندوستان اور اسرائیل کے لئے اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ عنقریب افغانستان سے نئے نام اور نئی توانائی کے ساتھ دہشت گرد گروپ پاکستان پر حملہ آور ہو جائیں گے۔ان نئے دہشت گردوں کے فعال ہونے سے سعودی عرب اور امریکہ کو بھی  یہ فائدہ ہوگا کہ افغانستان سے ایران کو بھی کنٹرول کیا جا سکے گا اور روس اور چین کو بھی نکیل ڈالی جا سکے گی۔

ایسے میں ہماری ساری توجہ انتخابات پر مرکوز ہے جبکہ ہمارے ہمسائے میں پاکستان کے لئے  نئی منصوبہ بندی کے ساتھ نئے دشمن  ٹولےتراشے جا رہے ہیں،  یعنی اگلے چند ماہ میں عراق اور شام کے بعد دہشت گرد ٹولے پاکستان کو اپنی وحشت و بربریت کا نشانہ بنائیں گے۔

افغانستان کو مزید جنگوں میں جھونکنے کے لئے جان بوجھ کر پسماندہ رکھا گیا ہے اور اس کی پسماندگی میں طالبان اور القائدہ و داعش کی مدد سےمزید اضافہ کیا جا رہاہے۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف اور یو ایس ایڈ کی طرف سے جاری شدہ حالیہ اعدادو شمار کے مطابق افغانستان میں سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں  2002 کے بعد پہلی مرتبہ  تیزی  سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سات سے 17 سال عمر کے 37 لاکھ یعنی تقریباً 44 فیصد بچے سکول نہیں جاتے۔وزیرِ تعلیم میر واعظ بالغی نے بتایا کہ سکول نہ جانے والے 37 لاکھ میں سے 27 لاکھ لڑکیاں ہیں۔

اس وقت ایک طرف تو ہم سی پیک کے خواب دیکھ رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ایک ناخواندہ اور پسماندہ افغانستان کو پاکستان کے خلاف  بھرپور طریقے سے منظم کیا جارہا ہے۔

پاکستان کے دفاع اور سلامتی کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے ادارے آنکھیں بند کر کے انتخابات ، انتخابات کی رٹ لگانے کے بجائے بدلتے ہوئے حالات اور شمالی افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں پر بھی گہری نگاہ رکھیں۔اگر انسان مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے پہلے سے تیار ہو تو وہ بڑی سے بڑی مشکل کا آسانی کے ساتھ مقابلہ کر سکتا ہے۔اگر ہم اپنے دشمنوں کی پلاننگ سے پہلے ہی باخبر ہونگے تو وقت آنے پر گھبرانے کے بجائے انہیں بہترین جواب دے پائیں گے۔

پاکستان کے خلاف امریکہ، سعودی عرب، افغانستان ، اسرائیل اور ہندوستان کیا نئی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ، اس کو جاننے کے لئے بین الاقوامی میڈیا سے مربوط رہیے خصوصاً اس لنک پر بھی بہت کچھ پڑھنے کو مل سکتا ہے۔

تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز(گلگت) چیف سیکرٹری کا رویہ ہتک آمیز اور عوام کو بغاوت پر اکسانے کے مترادف ہے۔گلگت بلتستان کے عوام کے ریاست کے ساتھ وفاداری اور خلوص کو روپے پیسوں میں تولا نہیں جاسکتا۔سی پیک کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بھول جاتے ہیں کہ خنجراب بارڈر سے کوہستان تک سی پیک گلگت بلتستان سے گزرتا ہے پھر بھی ہم سے پوچھتے ہوکہ ہم نے تمہیں کیا دیا ہے؟

مجلس وحدت مسلمین کی رکن قانون ساز اسمبلی بی بی سلیمہ نے چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کے رویے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کے محسن ہیں جنہوں نے  28 ہزار مربع میل کا علاقہ آزاد کرکے پاکستان کی جھولی میں ڈال دیا ہے۔یہ لوگ کیوں بھول جاتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی وجہ سے ہی پاکستان چین کا ہمسایہ بنا ہے۔گلگت بلتستان کو پاکستان پر بوجھ سمجھنے والے کیوں بھول جاتے ہیں کہ کشمیر سے سیاچن اور وانا وزیرستان تک اس خطے کے نوجوانوں نے اپنا خون دے ریاست کی حفاظت کی ہے اور پاکستان کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کیلئے بیش بہا قربانیاں دیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاق 100 ارب دیکر ہم پر احسان نہ کرے پاکستان جی بی کے عوام کے احسانات کے بوجھ تلے ڈوبا ہوا ہے۔اگر جی بی کے عوام وفاق پر بوجھ ہیں تو پھر صا ف صاف بتائیںستر سالوں میں جتنی خیرات دی ہے سود سمیت لوٹادیا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ یاد رکھیں جی بی کے عوام وفادار ہیں اور کسی ناعاقبت اندیش ملازم کی تضحیک سے ریاست سے اپنی وفاداری کا سودا نہیں کرینگے،حکومت جی بی کے عوام کو انصاف نہیں دے سکتی تو تضحیک بھی نہ کرے ۔صوبائی حکومت سے مطالبہ ہے کہ چیف سیکرٹری کو فوراً علاقہ بدر کرکے اس عہدے پر کسی معقول آفیسر کی تعیناتی کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

وحدت نیوز (سکردو)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکریٹری جنرل آغا علی رضوی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نے سائل کے ساتھ جو سلوک کیا وہ انتہائی شرمناک عمل اور فرائض منصبی کے برخلاف ہے۔ غریب عوام کے مسائل سن کر حل کرنے کی بجائے انہوں نے گلگت بلتستان کے غیور عوام کی توہین کی جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے انہیں عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔ ان کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ یا تو وہ خطے کے عوام کی پاکستان کے لیے دی گئی قربانیوں سے نابلد ہے یا وہ جان بوجھ کر خطے کا ماحو ل خراب کرنا چاہتا ہے۔ اگر وزیراعلی ٰ انہیں فوری طور علاقہ بدر نہیں کرتا ہے تو سمجھا جائے گا کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کو پاکستان کے خلاف اکسانا چاہتا ہے ۔

آغا علی رضوی نے کہا کہ پورا ملک گلگت بلتستان کا مقروض ہے یہا ں کے عوام نے ڈوگروں سے مار بھگاکر جی بی کو پاکستان کی جھولی میں ڈال دیا، آدھا پاکستان یہاں کے آبی وسائل سے سیراب ہوتا ہے اور ہر مشکل وقت میں یہاں کے جری جوانوں نے سینہ سپر ہو کر پاکستان کی حفاظت کی معرکہ کرگل ہو یا دہشتگردوں کے خلاف آپریشن جی بی کے جوانوں کے خون پاکستان کے تحفظ میں صرف ہوا ہے۔ یہاں کے عوام جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں اربوں روپے دیتے ہیں، یہاں کی سیاحت سے ملک کو اربوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے، سست ڈرائی پورٹ سے اربوں روپے حاصل ہوتے ہیں، اس خطے کا سینہ چیر کر سی پیک جیسے منصوبہ یہاں سے گزرتا ہے اور پاکستان میں مستقبل میں بننے والے ڈیموں کے پانی بھی اسی خطے کی دین ہے لیکن یہاں کے عوام نے کبھی ان وسائل کی رائیلٹی نہیں مانگی ۔ ایسے میں چیف سیکرٹری کا رویہ نہ صرف عوام کی توہین ہے بلکہ پاکستان کے استحکام پر حملہ ہے ریاستی ادارے نوٹس لیں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ گائنی ڈاکٹر کے مطالبے کو ریاست کے خلاف ہرزہ سرائی قرارد دینے والا ریاست کا دشمن ہے۔ گلگت  بلتستان میں ایک عرصے سے عوام کو بہکانے اور پاکستان سے دور کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں چیف سیکرٹری کا یہ عمل بھی اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتی ہے۔ سابقہ چیف سیکرٹری کو وزیراعلی کے ایماء پر علاقہ بدر کر کے حالیہ چیف سیکرٹری کو لانا اور آتے ہی عوام کے ساتھ بدسلوکی کرنا اور عوام کو ورغلانا ممبئی حملے سے متعلق دئیے گئے شرمناک بیان سے میل کھاتا ہے۔ وزیراعلی گلگت بلتستان اپنا موقوف واضح کرے کہ چیف سیکرٹری کے بیان کو کس نگاہ دیکھتے اگر خاموش رہے تو اس بیان کا ذمہ دار وزیراعلی ہوگا۔ہم ریاستی ادروں بلخصوص ایف سی این سے جنرل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کے حساس ترین علاقے کے محب وطن شہریوں کی توہین کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر چیف سیکرٹری اور ان جیسے دیگر عوام دشمن،خطہ دشمن افسران کو علاقہ بدر کیا جائے۔

Page 1 of 859

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree