The Latest

breaking-news1

العالم نیوز ٹی وی کے مطابق اقوام متحدہ میں روس کے دائمی سفیر نے سیکوریٹی کونسل میں بحرین کے بحران پر بھی گفتگوکرنے کے لئے پیش کرنے پر غور غوص شروع کیا ہے 
روس کے اس بدلتے ہوئے موقف نے امریکہ برطانیہ اور فرانس کو سخت حیرت زدہ کردیا ہے کہ روس نے خطے کے مسائل کے بارے میں اپنے موقف میں اچانک بڑی تبدیلیاں کی ہیں 
واضح رہے کہ سیکوریٹی کونسل میں امریکہ برطانیہ اور فرانس نے شام کے بارے میں اب تک متعدد میٹینگز کی ہیں جبکہ بحرین کے بارے میں ایک بار بھی میٹنگ نہیں کی گئی 
اس سے قبل چین بھی کئی بار سیکوریٹی کونسل کی اس دوغلی پالیسی پر کڑی تنقید کرچکا ہے 
ادھر بحرین کے بارے میں ایم ڈبلیو ایم میڈیا مانیٹرنگ ڈسک کے مطابق اس وقت سعودی عربیہ اپنی افواج بھیجنے کے بعد سخت پریشان ہے کہ بحرین کا بحران کسی پہلو بیٹھتا نظر نہیں آرہا بلکہ اب یہ بحران خود سعودی عرب کے مشرقی علاقے کو متاثر کر گیا ہے 
مانیٹرینگ ڈسک کا کہنا ہے کہ بحرین کو سعودی عربیہ میں ضم کرنے کا پلان صرف ایک سیاسی اور تشہیراتی مہم ثابت ہوچکی ہے کیونکہ اس کے عملی ہونے کا مطلب تو یہ ہوا کہ بحرین اپنے بحران کے ساتھ مکمل طور پر سعودی عرب میں داخل ہو جہاں پہلے سے امتیازی سلوک کی وجہ سے مشرقی علاقہ میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے جو یقیناًاس اضطراب کو مزید تقویت دے گا

karachijulos

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن ضلع وسطی کی جانب سے امام بارگاہ چہاردہ معصومین ؑ انچولی میں سالانہ مجلس عزا و جلوس عزا کے پروگرام کا انعقاد کیا گیا، مجلس عزا سے خطاب معروف ذاکر اہلبیت ؑ علامہ ریاض جوہری ( فرزند علامہ طالب جوہری ) نے کیا۔ اس موقع پر اشرف عباس نے سلام پیش کئے۔ بعد ازاں جلوس عزا برآمد ہوا جس میں دستہ امامیہ سمیت دیگر ماتمی انجمنیں بھی موجود تھیں، جلوس کی قیادت بوتراب اسکاؤٹس نے کی۔ اس موقع پر مولانا مرزا یوسف حسین اور مولانا علی انور جعفری و دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ جلوس عزا مختلف راستوں سے ہوتا ہوا بارگاہ علی اصغر ( ع ) انچولی میں اختتام پذیر ہوا۔ جلوس عزا میں علم و تابوت کی شبیہہ بھی موجود تھیں۔ اس موقع پر مومنین کے لئے افطار کا بھی بندوبست کیا گیا تھا۔

mwm01

یوم علی علیہ السلام کے جلوس ہائے عزاء کے حوالے سے کئے جانے والے حکومتی اقدامات ناقص ہیں، کسی بھی ناخوشگوار سانحہ کی ذمہ داری پولیس اور رینجرز انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے مرکزی سیکریٹری سیاسیات علی اوسط، سیکریٹری جنرل مولانا مختار امامی، سیکریٹری جنرل کراچی محمد مہدی نے 21 رمضان المبارک یوم علی علیہ السلام کی مناسبت سے نکالے جانے والے مرکزی جلوس ہائے عزاء کی مناسبت سے حکومت کی جانب سے کئے گئے انتظامات کو ناقص قرار دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یوم علی علیہ السلام کے موقع پر جلوس عزاء سے چند گھنٹے قبل جلوس کے روٹ پر سی سی ٹی وی کیمروں کی از سر نو درستگی حکومتی ناقص انتظامات اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومتی ادارے پولیس اور رینجرز صرف اجلاس کرنے سے گریز کریں اور یوم علی علیہ السلام کی مناسبت سے عملی اقدامات کو ترجیح دیں، ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کالعدم دہشت گرد جماعت کے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کیا گیا ہے، اس موقع پر ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر اور خصوصاً کراچی میں یوم علی علیہ السلام کی مناسبت سے نکالے جانے والے جلوس ہائے عزاء کے انتظامات کو فول پروف شکل دی جائے لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ جلوس عزاء سے ایک دن قبل انتظامیہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مرمت کر رہی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت نے یوم علی علیہ السلام کے عنوان سے کیا انتظامات کئے ہیں؟

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کراچی میں یوم علی علیہ السلام کی مناسبت سے نکالے جانے والے مرکزی جلوس عزاء کے راستوں کی فول پروف سیکورٹی کو یقینی بنایا جائے، ان کا کہنا تھا کہ یوم علی علیہ السلام کے موقع پر کسی بھی ناخوشگوار سانحہ کی تمام تر ذمہ داری پولیس اور رینجرز انتظامیہ پر عائد ہوگی

sham

فرانس نے ایک ایسے وقت میں اپنی افواج کو شام کے باڈر کے پاس بھیج دیا ہے کہ شام میں شدت پسندوں کے لئے بین الاقوامی حمایت میں افزائش کی مسلسل خبریں آرہی ہیں تو دوسری جانب شام کے سب سے بڑے اور صنعتی شہر حلب میں شدت پسند صلاح الدین ضلعے سے بھاگ گھڑے ہوئے ہیں 
فرانس کا کہنا ہے کہ ان کی افواج شام اور اردن باڈر میں مہاجرین کی مدد کرنے کی غرض سے پہنچیں ہیں لیکن یوں لگتا ہے کہ سفارتکاری کی سطح پر شکست کے بعد اب شام مخالف قوتیں کی ترجیحات میں شدت پسندوں کی زیادہ سے زیادہ مدد اور دہشت گردانہ کاروائیوں میں تیزی لانا شامل ہوچکیں ہیں 
ادھر دوسری جانب بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم بلیک واٹر کے بارے میں یہ خبریں موصول ہورہیں ہیں کہ سعودی عرب اور ترکی میں قائم کئے گئے مخصوص ٹرینگ کیمپ میں دنیا بھر سے جمع ہونے والے شدت پسندوں کی عسکری تربیت کی جارہی ہے 
ایم ڈبلیو ایم میڈیا سیل کے ماہر امور مشرق وسطیٰ کا کہنا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ شام میں شدت پسندوں کو پے درپے شکست کے بعد خطے میں اسرائیل کی حامی طاقتیں کسی بڑے منصوبے کا پلان کر رہی ہیں 
ان کا کہنا ہے کہ اب تک شام میں شدت پسندوں کو مسلسل شکست سامنا رہا ہے کیونکہ شدت پسندوں میں اکثریت کا تعلق باہر کے افراد سے ہے جو شام کے شہروں اور گلیوں سے ناواقف ہیں جبکہ شدت پسندوں کو تمام تر حربوں کے باوجودنہ صرف مقامی عوامی حمایت حاصل نہیں ہورہی بلکہ عوام میں دن بہ دن نفرت بڑھ رہی ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے جہاد کے نام پر شدت پسندوں کو اکھٹاکیا جارہا ہے جو بذات خود ایک ایسا خطرناک عمل ہے کہ آنے والے چند مہینوں میں بہت سےممالک میں بدامنی کو مشاہدہ کیا جاسکتا ہے بالکل اس سیناریو کو دہرایا جارہا ہے جسے اس سے قبل دنیا نے افغانستان میں مشاہدہ کیا ہے 

nasirabbas

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سربراہ سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری لاہور پہنچ گئے مرکزی جلوس کے عزاداروں سے شام 5بجے کربلا گامے شاہ میں خطاب کریں گے۔

لاہور( ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے (سربراہ ) سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری لاہور پہنچ گئے۔ وہ 21رمضان المبارک شام 5بجے کربلا گامے شاہ میں مرکزی جلوس کے عزاداروں سے خطاب کریں گے۔ 24رمضان المبارک کو بھی اُن کا ایک اہم خطاب الحمراء ہال نمبر 2میں جشن نزول قرآن پروگرام میں ہوگا۔ جس میں ملی یکجہتی کونسل کے صدر قاضی حسین احمد، علامہ راغب نعیمی، علامہ حافظ ابتسام الہٰی ظہیر، ڈاکٹر علی اکبر الازہری بھی شریک ہو نگے۔ کربلا گامے شاہ میں چیرمین عزاداری سیل مجلس وحدت مسلمین پنجاب الحاج صدر علی مرزا بھی عزاداروں سے خطاب کریںگے

h.zafar

ملک بھر کی طرح اسلام آباد میں بھی شہادت جانشین مصطفی علی مرتضیٰ ع کی مناسبت سے عزاداری کے جلوس برآمد ہوئے

اسلام آباد میں عزاداری کا مرکزی جلوس سیکٹر جی سکس میں واقعہ امام بارگاہ باب الحوائج سے برآمد ہوا جو اپنی روائتی راستوں سے ہوتا ہوا مرکزی جامع مسجد و امام بارگاہ اثناعشری میں اختتام پذیر ہوا جہاں عزاداروں کی افطاری کا اہتمام کیا گیا تھا 
امام بارگاہ باب الحوائج میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان معروف عالم دین وخطیب علامہ سید حسن ظفر نقوی نے خطاب کیا 
علامہ حسن ظفر نقوی نے اپنے خطاب میں سیرت مولائے کائنات پر گفتگو کی اور فضائل و مناقب پڑھے 
جبکہ آج رات راوالپنڈی میں جلوس علم اور تعزیے برآمد ہونگے جو صبح فجر تک جاری رہینگے جلوس میں عزاداروں کی سحری کا بھی اہتمام کیا گیا ہے

Allama-Asghar-Askari

شہادت مولائے کائنات علی ع کی مناسبت سے اٹک میں مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولائے کائینات کی پوری زندگی عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے وقف تھی آپ کی شہادت کا سب سے اہم سبب آپ کی انصاف پسندی اور عدالت تھی 
دشمنان دین نے جب عدالت علوی کو اپنے مفادات کے راستے میں روکاوٹ کے طور پر دیکھا تو آپ کو شہید کردیا گیا 
انہوں نے عزاداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا آج حکمرانوں کو مولائے کائنات کی سیرت پر چلنا چاہیے اور علی ع کے دیے ہوئے کامل نظام حکومت کو اپنانا چاہیے ہمیں فخر ہے کہ ہم آل محمد ص جیسی عظیم نعمت الہیہ سے فیض یاب ہیں 
علی ع کے ماننے والوں کو قومیات سے لیکر بڑے بڑے مسائل کے حل کے لئے در علی ع کے حضور دوزانوہوکر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا 

salah

اسلامی معاشرے کے خدوخال اور قیام کے عملی تقاضے کے عنوان سے جامعہ الکوثر اسلام آباد میں ایک سمینار منعقد ہورہی ہے جس سے بزرگ عالم دین و محقق سربراہ شوری عالی مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ شیخ حسن صلاح الدین خطاب کرینگے 
اپنے خطاب میں علامہ صلاح الدین اپنے خطاب میں قرآن و سنت کی روشنی میں معاشرے کی تعریف اور اسلامی معاشرے کے خدوخال پر سیر حاصل گفتگو کرینگے 
اس سمینار کا اہتمام امامیہ آرگنائزیشن پاکستان راوالپنڈی ریجن کی جانب سے کیا گیا ہے

aliali

عراق کے شہر نجف اشرف اور کوفہ میں جانشین مصطفی علی مرتضیٰ کی شہادت کی مناسبت سے عراق سمیت مختلف ممالک کے عزادار سوگ منارہے ہیں جبکہ سینکڑوں ٹی وی چینلز اس عظیم عزاداری اور پرسہ داری کو براہ راست نشر کر رہے ہیں 
عزاداری کا سلسلہ پندرہ رمضان سے ہی شروع ہوا تھا اور روزانہ کی شکل میں عزاداری کے جلوس عراق کے مختلف شہروں سے برآمد ہوکر روضہ مبارک مولائی کائینات علی ع کی جانب بڑھتے رہے 
کوفہ شہر کی ہر گلی اور ہر سڑک شب وروز عزاداری کے جلوس اور علی علی کے نعروں سے گونج رہی ہے 
عراقی حکومت نے عزاداری کے جلوسوں کے لئے خصوصی انتظامات کیے ہیں سیکوریٹی انتہائی سخت کی گئی ہے جبکہ جگہ جگہ میڈیکل اور ریسکیو سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ افطار اور سحری کے بھی خاص انتظامات کئے گئے ہیں 

imamali
خانوادہء رسالت (ع) اور اسکے پیروان کے خلاف دہشت گردی کا جو سلسلہ کم و بیش چودہ صدیوں قبل شروع ہوا تھا، وہ آج تک جاری ہے۔ آج بھی اپنی مذموم کاروائیوں میں مصروف ہیں۔ ہم ان تمام دہشت گردانہ کاروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ان ایام غم میں وارث ِ خون ِ معصوم (عج) اور محبان ِ مولا علی کے حضور تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں اور خدا سے دعا گو ہیں کہ وہ پہلے سے لیکر آخری دہشت گرد تک سب کو اپنے دردناک عذاب سے دوچار فرمائے۔

آج سے ٹھیک 1393 سال قبل خدا کے گھر میں دہشت گردی کی وہ بنیاد رکھی گئی جسکا سب سے پہلا شکار سینہء زمین پر خدا کی سب سے برگزیدہ اور افصل ترین مخلوق تھی۔ عبدالرحمٰن ابن ملجم لعنۃ اللہ علیہ نے جانشین ِ رسول (ص)، امیرالمومنین، امام المتقین، یعسوب الدین، قائد غرالمحجلین، کرار، غیر فرار، صاحب الذوالفقار، مشکل کشا، شیرِ خدا حضرت علی ابن ابی طالب علیہ افضل السلام کو زہر آلود تلوار سے اس وقت شہید کیا جب آپ نماز فجر کے سجدے میں اپنے معبود کے حضور پیش تھے۔ وقتِ ضربت آپ نے وہ آفاقی جملہ ارشاد فرمایا جسکی نظیر تاقیامت کوئی پیش کرنے کی جرات نہیں کرسکتا۔ کوئی سورما موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ “رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا۔”
اجل پہ کون گرا دہر میں علی (ع) کی طرح ۔ ۔ ۔ ۔

یہ علی (ع) کا ہی جگر تھا کہ زہر آلود تلوار کے وار کو اپنے سر ِ اقدس پر برداشت کیا اور واویلہ مچانے یا جوابی کارروائی کرنے کی بجائے ایک طرف تو “فزت ورب الکعبہ” کی صدا بلند کرکے اپنی فتح و کامرانی کا اعلان کیا اور دوسری جانب اپنے قاتل کی گرفتاری عمل میں آنے کے بعد اسکی جانب متوجہ ہو کر اسکی دلجوئی فرمائی۔ اسکے چہرے پر خوف اور دہشت کے آثار دیکھ کر اپنے لئے لایا جانیوالا شربت اسکو پلانے کی تلقین فرمائی۔
ضرب کھا کے بھی جو قاتل کو پلائے شربت
زیب دیتا ہے اسے ساقئ کوثر ہونا

مسجد میں موجود اصحاب، محبان اور دیگر نمازی حضرات نے جب اپنے غم کا اظہار کرنا چاہا تو آپ نے لوگوں سے فرمایا،
“ھذا وعدنا اللہ و رسولہ” کہ یہ وہی کچھ ہے جس کا اللہ اور اسکے رسول (ص) نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا۔ شاید آپ کا اشارہ رسول للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے دی گئی شہادت کی بشارت کی جانب تھا یا اُس حدیث کی طرف جس میں آپ (ص) نے فرمایا تھا کہ امت علی سے غداری کرے گی۔

بعد ازاں آپ اپنے فرزند ذی وقار سید الاشراف امام حسن مجتبٰی علیہ الصلوۃ و افضل السلام کی جانب متوجہ ہوئے اور آپ سے نماز ِ فجر کی امامت کروانے کے لئے فرمایا اور ساتھ بیٹھ کر خود بھی اپنا واجب ادا فرمایا۔ نماز کے بعد آپکو شدید زخمی حالت میں گھر پہنچایا گیا۔ گھر کے باہر پہنچ کر آپ نے اپنے اصحاب کو اندر تشریف لیجانے سے منع فرمایا اور کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ آپکا نالہ و فغاں گھر کی مستورات کی سماعت کا حصہ بنے اور انکی آہ و فغاں آپکے کانوں سے ٹکرائے۔ اس دوران کافی خون بہہ چکا تھا اور زہر پورے جسم ِ مبارک میں حلول کر چکا تھا، جسکی وجہ سے آپ پر نقاہت طاری ہوگئی۔ کمال ِ پریشانی اور شدید تکلیف کے عالم میں بھی آپ اپنی شرعی ذمہ داریوں کی جانب متوجہ رہے۔ آپ نے اپنے فرزند ِ اکبر امام حسن ِ مجتبٰی علیہ السلام کو بطور جانشین ِ امامت اور باقی اولاد کو انکے متعلقہ امور پر وصییتیں فرمائیں۔ ان وصیتوں سے کچھ اقتباسات پیش ہیں۔

آپ نے فرمایا،
“اے میرے فرزندان حسن و حسین (ع)! میں آپ کو خدا سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں اور دنیا کی طلب سے منع کرتا ہوں۔”
پھر فرمایا،
“اے بیٹا حسن! میں تمہیں اس چیز کی وصیت کرتا ہوں جس کی مجھے رسول اللہ (ص) نے کی تھی اور وہ یہ کہ جب امت تم سے مخالفت پر آمادہ ہو جائے تو گوشہ نشینی اختیار کر لینا۔ آخرت کے واسطے گریہ و فغاں کرنا اور دنیا کو اپنا مقصود قرار نہ دینا اور نہ ہی اسکی تلاش میں دوڑ دھوپ کرنا۔ نماز کو اول وقت میں ادا کرنا اور زکوٰۃ کو بروقت اسکے مستحقین تک پہنچا دینا۔ مشتبہ امور پر چپ سادھ لینا اور غضب کے موقع پرعدل و میانہ روی سے کام لینا۔ اپنے ہمسایوں سے اچھا سلوک کرنا اور اور مہمان کی عزت کرنا۔

مصیبت کے ستائے ہوئے لوگوں پر رحم کرنا۔ صلہءرحمی کرنا اور غرباء و مساکین کی دلجوئی کرنا۔ ان کے ساتھ نشست کرنا اور تواضع و انکساری اختیار کرنا کہ یہ افضل عبادت ہے۔ اپنی آرزوؤں اور امیدوں کو کم کرنا اور موت کو یاد رکھنا۔ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ ظاہر اور ڈھکے چھپے دونوں طریقوں سے خدا سے ڈرتے رہنا۔ بغیر غور و فکر کے بات نہ کرنا اور کام میں جلدی نہ کرنا۔ البتہ کار ِ آخرت کی ابتداء میں عجلت اختیار کرنا اور دنیا کے معاملہ میں تاخیر اور صرف ِ نظر کرنا۔ مقامات ِ تہمت اور ایسی محافل سے بھی دور رہنا جن کے متعلق برا گمان کیا جاتا ہو کیونکہ برا ہمنشین اپنے ساتھی کو نقصان ضرور پہنچاتا ہے۔”

پھر فرمایا،
“اے میرے فرزند! خدا کے لئے کام کرنا اور فحش و بیہودہ گوئی سے پرہیز کرنا اور اپنی زبان سے صرف اچھی چیزوں کا حکم دینا اور بری چیزوں سے منع کرنا۔ برادران ِ دینی کے ساتھ خدا کی وجہ سے دوستی و برادری رکھنا اور اچھے شخص کے ساتھ اسکی اچھائی کی وجہ سے دوستی رکھنا اور فاسقوں کے ساتھ نرمی برتنا کہ وہ دین کو نقصان نہ پہنچائیں، تاہم انہیں دل میں دشمن سمجھنا اور اپنے کردار کو ان کے کردار سے الگ رکھنا، تاکہ تم ان جیسے نہ ہو جاؤ۔ گزر گاہ پر نہ بیٹھنا اور بیوقوفوں اور جہلا سے مت الجھنا۔ گزر اوقات میں میانہ روی اختیار کرنا اور اپنی عبادت میں بھی اعتدال رکھنا اور وہ عبادت چننا جس کو ہمیشہ قائم رکھ سکو۔”

مزید ارشاد فرمایا،
“کوئی غذا اس وقت تک نہ کھانا جب تک اس کھانے میں سے کچھ صدقہ نہ دے دو۔ تم پر روزہ رکھنا لازم ہے کہ یہ بدن کی زکوٰۃ ہے اور آتش ِ جہنم کے لئے سپر۔ اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا اور اس سے ڈرتے رہنا (کہ یاد خدا سے غافل نہ کر دے)۔ دشمن سے پہلو تہی کرنا جبکہ ان محفلوں میں جانا تمہارے لیئے ضروری ہے جہاں ذکر ِخدا ہوتا ہو اور دعا زیادہ کیا کرنا۔”

مذکورہ بالا وصیت نامہ، بلکہ فصاحت و بلاغت کا ایک سمندر بظاہر اپنی اولاد کو مخاطب فرما کر ہمارے آقا نے شاید ہم محبت کا دم بھرنے والوں کے لئے ارشاد فرمایا ہوگا کہ ہم اس ضابطہءحیات کے تحت اپنی اپنی زندگیاں گزاریں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس بلاغت کے سمندر مین غوطہ زنی کریں اور حکمت و دانش کے وہ موتی چنیں جو ہمارے مولا نے ہمارے لئے تحفتا” چھوڑے ہیں۔

مولا علی علیہ السلام انیس رمضان کی شب اپنی چھوٹی بیٹی بی بی ام کلثوم سلام اللہ علیھا کے یہاں مہمان تھے۔ افطار پر آپ کے سامنے دودھ، نمک اور پانی پیش کیا گیا تو آپ نے نمک یا پانی میں سے ایک چیز اٹھا کر باقی دو واپس کر دیں کہ آپ کے نزدیک دسترخوان پر ایک سے زیادہ غذا دیگر لوگوں کا حق پامال کرنے کے مترادف تھا۔ (اللہ اکبر)۔ یہاں ایک بات اور قابل غور ہے کہ آپ نے اپنے آخری ایام کو اپنی اس بیٹی کے گھر گزارنا پسند فرمایا جو سب میں چھوٹی ہونے کے ساتھ ساتھ بیوہ اور اولاد کی نعمت سے محروم بھی تھی۔ کیا انداز ِ دلجوئی اور اظہار ِ شفقت ِ پدری تھا میرے مولا کا! کیونکہ آپ جانتے تھے کہ اب وقت رخصت آن پہنچا ہے اور آج کی صبح گھر سے روانہ ہونا پھر کبھی نہ لوٹ آنے کے مترادف ہوگا۔ تمام رات آپ بیدار اور حالتِ عبادت میں رہے اور بارہا حجرے سے باہر تشریف لا کر آسمان کی جانب دیکھ کر فرماتے تھے،
“خدا کی قسم! میں جھوٹ نہیں کہتا اور نہ ہی مجھے جھوٹ بتلایا گيا ہے۔ یہی وہ شب ہے کہ جس میں مجھے شھادت کا وعدہ دیا گيا ہے۔”

رات تمام ہوئی اور آپ گھر سے مسجد کی جانب روانہ ہوئے تو صحن میں موجود بطخوں نے بھی آپ کا راستہ روکنے کی کوشش کی، مگر آپ وقار امامت کے ساتھ سورۃ انبیاء کی آیات 26 و 27
“عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ لَا يَسْبِقُونَہ بِالْقَوْلِ وَھم بامْرِہ يَعْمَلُونَ (اللہ کے مکرم بندے بات میں اس سے آگے نہیں بڑھتے اور اسی کے امر سے افعال بجا لاتے ہیں۔) کا مصداق بنے اپنے سامنے مصائب کا پہاڑ پا کر بھی مسجد کی جانب پیش قدم ہوتے رہے۔ جب وارد ِ مسجد ہوئے تو کچھ افراد کو سویا ہوا پایا۔ انہیں میں ابن ملجم ملعون بھی پیٹ کے بل تلوار سونتے ہوئے سو رہا تھا۔ آپ نے اپنے قاتل کو بھی بیدار فرمایا اور حکم نماز دیا۔

علی سے زندگی، قاتل علی کا کیا چھینے
کہ جام شیریں جسے دست حیدری سے ملے
علی نے نیند سے بیدار کر دیا ہو جسے
علی سے زندگی وہ چھینتا بھلا کیسے؟؟؟؟؟؟

انیس رمضان سن چالیس ہجری کا دن تاریخ بشریت کا وہ سیاہ ترین دن تھا جب خانہء خدا میں خدا کی برگزیدہ ترین ہستی کو شہید کرنے کی قبیح واردات کا ارتکاب کچھ اس طرح کیا گیا کہ بوقت سحر جامع مسجد کوفہ میں یہ بدبخت و شقی ترین انسان امیرالمومنین علی (ع) کی تشریف آوری کا منتظر تھا۔ دوسری طرف کوفہ کی ایک بدکردار عورت قطامہ نے وردان بن مجالد نامی شخص کو شادی کا لالچ دے کر اپنے دام میں گرفتار کیا اور دہشت گردی کے اس مکروہ منصوبے میں اپنے قبیلے کے دو مزید آدمی اسکے ساتھ روانہ کیے۔
اس شیطانی واردات کا سرغنہ اپنے دور کا چاپلوس اور منافق ترین شخص تھا، جس نے ان تمام افراد کی نہ صرف تربیت کی، بلکہ اس جرم کو کر گزرنے میں ہر لمحہ ان کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی بھی کی۔ جب آپ اپنے معبود کے حضور سجدہ ریز تھے تو ابن ملجم مرادی نامراد نے اپنی شمشیر سے آپ کے سر ِ مبارک پر حملہ کیا، جسکے نتیجے میں آپکا سر ِ اقدس مقام ِ سجدہ تک زخمی ہوگیا۔

اس وقت اہل ِ مسجد نے ایک ندائے ہاتف ِ غیبی سنی کہ
“تھدمت و اللہ اركان اللہ ھدٰي، و انطمست اعلام التّقٰي، و انفصمت العروۃ الوثقٰي، قُتل ابن عمّ المصطفٰي، قُتل الوصيّ المجتبٰي، قُتل عليّ المرتضٰي، قَتَلہ اشقي الْاشقياء” کہ “خدا کی قسم ارکان ِ ھدایت منہدم ہوگئے، علمِ نبوت کے چمکتے ستارے کو خاموش کر دیا گيا، نشانِ تقوٰی کو مٹا دیا گيا، عروۃ الوثقٰی کو کاٹ ڈالا گيا، کیونکہ رسول خدا (ص) کے چچازاد کو شھید کر دیا گيا۔ سید الاوصیاء علی المرتضی (ع) کو شھید کر دیا گيا۔ انہیں شقی ترین شخص نے شھید کیا۔” کتب میں درج ہے کہ وقت ِ ضربت زمین پر لرزہ طاری ہوگیا، دریا خاموش ہوگئے اور آسمان متزلزل ہوگیا۔ مسجد ِ کوفہ کے در آپس میں ٹکرانے لگے۔ ملک ہائے آسمانی کی صدائيں بلند ہوئيں۔ کالی گھٹا چھا گئی۔

تا وقت ِ شہادت آپ گھر میں اپنے بچوں اور اہل ِخاندان کے ساتھ انتہائی تکلیف کی حالت میں رہے اور اس عالم میں زبان پر مسلسل ذکر و تسبیح جاری رہی۔ داعیء اجل کو لبیک کہنے سے کچھ وقت قبل آپ کی زبان ِ مبارک پر سورۃء الزاریات کی یہ آٰیات تھیں کہ “فمن يعمل مثقال ذرۃ خيراً يرہ ومن يعمل مثقال ذرۃ شراً يرہ۔” (جو ذرہ بھر بھی نیکی کرے گا اس کو بھی دیکھ لے گا اور جو ذرہ بھر برائی کرے گا اس کو بھی سامنے پائے گا۔)

مولا علی علیہ السلام کا جو سفر 30 عام الفیل کو خدا کے گھر سے شروع ہوا تھا وہ 40 ہجری کو خدا ہی کے گھر میں انجام پذیر ہوا۔ جب امام علیہ السلام مجروح تھے تو آپ نے اپنے بچوں کو بتایا کہ پچھلی رات آپکو خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت ہوئی اور انہوں نے آپ (ص) سے امت کی بد عہدی کی شکایت کی۔ آپ (ص) نے فرمایا کہ “اے علی! اس امت کے لئے بد دعا کرو۔” تو میں نے کہا کہ “اے اللہ! ان لوگوں پر میرے بدلے برے لوگوں کو مسلط فرما۔” اس پر رسول اللہ (ص) نے فرمایا کہ “اے علی! اللہ نے تمہاری دعا قبول فرما لی ہے اور تم تین دن بعد مجھ سے آن ملو گے۔”

پھر فرمایا کہ “اے بیٹا حسن! آج رات میں تم سے جدا ہو جاؤں گا۔” جب آپ وصیت فرما رہے تھے تو امام حسین (ع) کی جانب نگاہ کر کے فرمایا کہ “اے میرے بیٹے! یہ امت تمہیں شہید کر دے گی۔ اس مصیبت پر صبر کرنا تم پر لازم ہے۔ “بعد ازاں کچھ دیر کے لئے آپ پر غشی طاری ہوگئی۔ جب ہوش آیا تو فرمایا کہ “ابھی رسول اللہ (ص)، چچا حمزہ (ع) اور بھائی جعفر طیار (ع) تشریف لائے تھے اور فرما رہے تھے کہ علی جلدی کرو۔ ہم تمہارے مشتاق ہیں۔” پھر آپ نے قبلہ رو ہو کر اپنے دست و پا دراز فرما لئے اور آنکھیں بند کرکے زبان مبارک پر کلمہء شہادت “اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمد عبدہ و رسولہ” جاری فرمایا۔ کائنات ِ خداوندی کا افضل ترین فرد آج کے دن پردہ فرما گیا۔ ان للہ و ان الیہ راجعون۔
کسے را میسر نہ شد ایں سعادت
بہ کعبہ ولادت، بہ مسجد شہادت

ویسے تو تاریخ اسلام کی پہلی مسلح دہشت گردی بھی خانوادہء اہلبیت رسول (ع) کے خلاف ہوئی تاہم خانہء خدا میں دہشت گردی کا جو پہلا منصوبہ ترتیب دیا گیا، اسکا شکار بھی اشرف الاشراف اور خدا کی افضل ترین مخلوق، بی بی سیدہ (س) کا سرتاج ہی تھا۔

خانوادہء رسالت (ع) اور اسکے پیروان کے خلاف دہشت گردی کا جو سلسلہ کم و بیش چودہ صدیوں قبل شروع ہوا تھا، وہ آج تک جاری ہے۔ آج بھی دھشت گرد اپنی مذموم کاروائیوں میں مصروف ہیں۔ ہم ان تمام دہشت گردانہ کاروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ان ایام غم میں وارث ِ خون ِ معصوم (عج) اور محبان ِ مولا علی کے حضور تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں اور خدا سے دعا گو ہیں کہ وہ پہلے سے لیکر آخری دہشت گرد تک سب کو اپنے دردناک عذاب سے دوچار فرمائے۔
مولا علی (ع) کی بددعا کے نتیجے میں آج تک امت پر بدترین لوگ مسلط ہیں۔ خدا کے حضور دعا ہے کہ کہ ہم سب کو توفیق دے کہ دھشت گردی سے امت مسلمہ کو نجات دلائیں اوراللہ کے حضور دعاہے کہ اپنی آخری حجت (عج) کو جلد اذن ِظہور عطا فرمائے اور آپکے پاکیزہ انقلاب کے ذریعے اس زمین کو دہشت گردوں اور ظالموں سے پاک فرمائے۔ اس زمین کو عدل و انصاف سے ایسے پر کر دے، جیسے اسکے چپے چپے پر ظلم کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ آمین یا رب العٰلمین بحق محمد وآلہ الطاہرین۔

(اللھم عجل لولیک الفرج۔تحریر (سید قمر زیدی شکریہ ہزارہ ٹرائب

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree