The Latest

go-makkahمیدانِ عرفات خطبہ حج:تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اے لوگو اللہ سے ڈرتے رہو، تقویٰ اور ہدایت کی راہ اپناوٴ، اے لوگو، قیامت کے دن سے ڈرتے رہو، اللہ سے ڈرتے رہو اور ہدایت اختیار کرتے رہو، اسلام کاپیغام توحیدکاپیغام ہے، توحیدکاپیغام ہے کہ اللہ کی عبادت کریں اورکسی کی نہیں، اللہ ایک ہے اوراس کاکوئی شریک نہیں، اللہ اپنی ذات اورصفات میں واحدہے، ہماری زندگی اورہماری موت اللہ کے لیے ہے، اسلام کا پیغام سب سے افضل ہے، مسلمان کاحق ہے کہ وہ توحید پر کاربند رہے۔ خطیب جج نے کہا کہ خودکشی حرام ہے، خودکشی کرنے والے کی مغفرت نہیں ہوگی، مسلمان اللہ کے ساتھ کسی کوہرگزشریک نہ ٹھہرائیں، مومن کی نشانی ہے کہ اس کی ذات سے کسی مسلمان کوکوئی نقصان نہیں پہنچتا، اپنے درمیان اختلافات کم کرو، اللہ کی توحید اپنا کر ہی ہم اس دنیا میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ خطبہ حج میں انہوں نے فریا کہ اسلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہیں کیاجائے گا، دین وہی ہے جونبی کریم نے دیا، اس دین میں نہ قبیلہ ہے نہ خاندان، ہمیں ہرطرح کے تشدد کو روکنا ہوگا، ہمیں اپنے اخلاق کو سنوارنے کے لیے محمدص کی سنتوں کو اپنانا ہوگا، امت مسلمہ میں اخلاقی برائیاں پیداہوگئی ہیں، تمام وسائل کو اگر جمع کرلیا جائے تو مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے، معاشی اور اقتصادی مسائل بھی مسلمان مل کر ہی حل کرسکتے ہیں، سیاسی مشکلات کا حل بھی مسلمان مل کرنکال سکتے ہیں۔ عالم اسلام کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے مفتی اعظم نے کہا کہ آج عالم اسلام مسائل اورمشکلات سے گھرا ہوا ہے، تمام مسائل سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کے احکامات پر عمل کیا جائے، حکمران شریعت پر عمل کرنے کے لیے حالات سازگار بنائیں، مسلمان اپنے تجربات اور وسائل ایک دوسرے کے ساتھ بانٹیں،مسلمان عقیدہ توحید پرچلتے ہوئے اپنی اولادکی پرورش کریں، جادو امت مسلمہ کااہم مسئلہ ہے، اس نے لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کردیا ہے اللہ سے ڈریں اورتقویٰ اختیارکریں، اسلام سب سے بہترین ضابطہ اخلاق ہے، مسلمانوں کوچاہیے کہ اگر وہ ترقی کرناچاہتے ہیں تو ٹیکنالوجی کی طرف جائیں، مسلمانوں بقاکے لیے ایسا کرنا بہت ضروری ہے، امت مسلمہ غربت کا شکار ہے، اس میں ترقی کے لیے باہمی یکجہتی اوراخوت کوفروغ دینا ہوگا، وسائل کومسلمانوں کی ترقی اور بہبود پر خرچ کرنا چاہیے، مسلمانوں کو پورے وسائل سے استفادہ اوران میں اضافہ بھی کرناچاہیے، مال حلال ذریعے سے کمایا جائے اور ایسے خرچ کیاجائے جیسے ہمیں حکم دیاگیاہے۔

کراچی میں کھالوں پر تصادم کا خطرہ خفیہ ادارے

کراچی میں قربانی کے جانوروں کی کھالیں جمع کرنے پر بڑی خونریزی کا خطرہ ہے۔ خفیہ اداروں نے وزارت داخلہ اور صوبائی حکومت کو رپورٹ ارسال کردی ہے۔ عید کے موقع پر سیکورٹی ہائی الرٹ رکھنے کیلئے آج (بدھ) اہم اجلاس ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق تفصیلتا کے مطابق خفیہ اداروں نے حکومت کو رپورٹ دی ہے کہ کراچی میں عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے معاملے پر بڑی خونریزی کا خطرہ ہے۔ سیاسی ومذہبی جماعتیں اور کالعدم تنظیمیں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے اور زیادہ سے زیادہ کھالیں جمع کرنے کیلئے سرگرم ہوگئی ہیں اور اس سلسلے میں 20 سے زائد علاقوں کو ایک دوسرے کیلئے نوگو ایریا بنادیا گیا ہے اور ان علاقوں میں داخلی وخارجی راستوں پر رکاوٹیں بھی کھڑی کردی گئی ہیں۔ جن علاقوں کو حساس قرار دیا گیا ہے ان میں اورنگی ٹاؤن، میٹروول، قائدآباد، ابوالحسن اصفہانی روڈ، سہراب گوٹھ، گلستان جوہر، کھارادر، لیاری، چاکیواڑہ، نیو کراچی، گلشن اقبال، گلبرگ، لانڈھی، کورنگی، ملیر کے علاقے شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان علاقوں میں کالعدم تنظٰمیں اور سیاسی ومذہبی گروپس اپنے کارندوں کو مسلح کررہے ہیں تاکہ طاقت کے زور پر قربانی کے جانوروں کی زیادہ سے زیادہ کھالیں جمع کی کاسکیں۔ اس مقصد کیلئے شہر کے حساس علاقوں میں عید پر امن قائم رکھنے کیلئے سیکورٹی پلان ترتیب دینے کی غرض سے پولیس کا اہم اجلاس آج ہوگا جس مین حساس علاقوں میں پولیس کا گشت موثر بنانے کیلئے حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی تھانوں کی حدود میں مختلف جماعتوں کے کارکنان نے اپنے اپنے علاقوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر رکاوٹیں لگا کر پورے پورے علاقوں کیلئے صرف ایک ہی داخلی اور خارجی راستہ بنادیا ہے جس کے سبب ایسے علاقوں میں صرف ایسی تنظیم کے کارکنان کا قبضہ ہوگا جنہوں نے راستے میں رکاوٹیں لگائی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر کے 26 پولیس اسٹیشن کی حدود میں میٹھادر، کھارادر، عیدگاہ، نیپیئر، گارڈن، نبی بخش، بریگیڈ، فیروز آباد، محمود آباد، پی آئی بی، شارع فیصل، شاہ فیصل کالونی، ماڈل کالونی، سعود آباد، الفلاح، قائد آباد، لانڈھی، عوامی کالونی، کورنگی صنعتی ایریا، نارتھ ناظم آباد، پاپوش، ناظم آباد، حیدری، تیموریہ، نیو کراچی، بلال کالونی پولیس اسٹیشن شامل ہیں۔ ان علاقوں میں سیاسی، مذہبی، لسانی اور کالعدم تنظیم کے کارکنان کے درمیان خونریز تصادم کا خطرہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ علاقوں میں کسی حد تک پولیس کی مداخلت ضرور ہوگی تاہم جن علاقوں میں رکاوٹیں لگائی گئی ہیں ان علاقوں میں پولیس عید کے تینوں دن کسی قسم کی مداخلت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی۔ ذرائع کے مطابق دھمکیوں کی وجہ سے عوام شدید خوف وہراس میں مبتلا ہیں اور قربانی کی کھالوں پر عید کے دنوں میں بڑے تصادم اور خون خرابے کا خدشہ ہے۔ عیدالاضحیٰ پر اس حوالے سے سندھ پولیس نے ضابطہ اخلاق جاری کردیا ہے۔ ضابطہ اخلاق پر دستخط کرنے والی سیاسی، مذہبی، سماجی تنظیموں اور مدارس کو کھالیں جمع کرنے کی اجازت ہوگی اور اس کیلئے وہ کمشنر کراچی سے پیشگی اور تحریری اجازت حاصل کریں گے جو ان کی گاڑیوں پر آویزاں ہوگی جبکہ کارکن اپنے پاس رکھیں گے۔ کسی سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیم سمیت مدارس کی انتظامیہ کو کھلے مقامات پر کیمپ لگا کر اور اعلانات کرکے کھالیں جمع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکار کھالیں جمع کرنے والے کارکنان اور ان کی گاڑیوں کو سیکورٹی فراہم کریں گے۔ عید کے ایام میں دفعہ 144 کے دوران اسلحہ لے کر چلنے کیلئے خصوصی طور پر جاری ہونے والے اجازت نامے منسوخ کردیئے جائیں گے اور ہر قسم کا اسلحہ، لاٹھی، ڈنڈے اور سلاخیں لے کر چلنے پر بھی پابندی ہوگی۔

hajj01اے میرے رب، میں حاضر ہوں۔ لاکھوں فرزندان اسلام آج حج ادا کریں گے، عازمین حج کے رکن اعظم وقوف عرفات کے لئے فجر کے بعد روانہ ہوں گے۔ پچیس لاکھ عازمین کی آمد کے ساتھ ہی منٰی میں دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی آباد ہوگئی۔ تاحد نگاہ انسانوں کا سمندر ہے۔ بدن پر فقط سفید چادر اور لبوں پر اپنے خالق کا ذکر ہے۔ فضا خدائے واحد کی صداؤں سے گونج رہی ہے۔ اس سال ایک لاکھ اسی ہزار پاکستانی حج کریں گے۔ منٰی میں پاکستانی خیموں کے باہر پاکستانی پرچم لہرا رہے ہیں۔ عازمین عبادات میں مصروف ہیں اور پاکستانی کی سلامتی کیلئے بھی دعا گو ہیں۔ عازمین منٰی میں نماز فجر کی ادائیگی کے بعد حج کے رکن اعظم وقوف عرفات کیلئے میدان عرفات روانہ ہوگئے۔

عازمین مسجد نمرہ میں خطبہ حج سنیں گے، نماز ظہر اور عصر ایک ساتھ ادا کریں گے، سورج غروب ہونے کے بعد حجاج مزدلفہ روانہ ہوں گے جہاں مغرب اور عشا کی نماز ادا کریں گے اور کھلے آسمان تلے شب بسری اور نوافل ادا کریں گے۔ فجر کی نماز کے بعد حجاج واپس منٰی روانہ ہوں گے جہاں وہ بڑے شیطان کو کنکریاں ماریں گے اور جانور کی قربانی کے بعد سرمنڈوا کر احرام کھول دیں گے، جس کے بعد حجاج طواف زیارت کیلئے مکہ روانہ ہوں گے۔ طواف زیارت کے بعد عازمین دوبارہ منٰی آئیں گے اور اگلے دو دن تینوں شیطانوں کو کنکریاں ماریں گے۔

عوامی نیشنل پارٹی سندھ صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی تشدد سے نفرت کرنے والی جماعت ہے، سر قربان کردیں گے مگر یزیدی سوچ کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائیں گے، ہمارے مسائل کا حل عدم تشدد میں پنہاں ہے، شہیدوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا، باچا خان بابا اور خان عبدالولی خان کی سوچ و فکر کو کبھی شکست نہیں دی جاسکتی، وجود تو ختم ہوجاتا ہے مگر سوچ، فکر و نظریہ ہمیشہ باقی رہتا ہے، ملالہ یوسف زئی کی تاریخ ساز قربانی نے قوم کو یکجا کردیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار اے این پی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے مردان ہاؤس میں کارکنان کے مختلف وفود سے ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسفند یار ولی خان کی قیادت میں اسلاف کی جدوجہد جاری کھیں گے قومی حقوق کے تحفظ اور بقاء کے لیے اپنی پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کارکنان اپنی صف بندی کریں تمام خطرات کا ڈت کر مقابلہ کریں گے، عوامی نیشنل پارٹی نے عیدالاضحیٰ کے بعد تنظیمی سرگرمیوں کے حوالے سے لائحہ عمل ترتیب دیدیا ہے۔ باچا خان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ اے این پی پٹیل پاڑہ وارڈ کے سینئر نائب صدر عبدالرحمٰن عرف عبدل کو تنظیمی امور کی مسلسل خلاف ورزی اور انتہائی ناپسندیدہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بناء پر ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور وارڈ کی کابینہ و مجلس عاملہ کی سفارشات کی روشنی میں صوبائی صدر سے ان کی بنیادی ممبر شپ معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

jhanzeebمجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع ایبٹ آباد کے سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام مولانا جہانزیب علی جعفری نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت بننے کی سزا دی جارہی ہے اور ایران پر بھی نئی پابندیاں لگائی جا رہی ہیں تاکہ یورینیم افزودگی بند کر دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل و امریکہ کے پاس ایٹم بم ہیں، تو یہ ایران و پاکستان کے پاس کیوں نہ ہوں۔ امریکہ و اسرائیل اسلامی ممالک کو ایٹمی طاقت بنتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ یہ ہماری حکومت کی کمزوری ہے کہ دشمن کی سازشوں کو ناکام نہیں کر رہے۔ ایران کی حکومت مضبوط حکومت ہے۔ وہاں دشمن حالات خراب کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔

اسلام ٹائمز نامی سائیٹ کو دیے گئے انٹرویو کے دوران مجلس وحدت ایبٹ آباد کے رہنما کا کہنا تھا کہ ہمارے چند اسلامی ممالک کی طرف سے بھی دہشت گردوں کو سپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔ چند مدارس پاکستان میں ایسے ہیں جہاں دہشت گردی کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہنگو میں ایک مدرسہ ہے جو پہاڑوں کے بیچ بنا ہوا ہے۔ اس مدرسے کو وہاں بنانے کا کیا مقصد ہے۔ نہ وہاں آبادی ہے نہ دوسرے ذرائع میسر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مدارس پاکستان میں کافی تعداد موجود ہے۔ جن میں صرف دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے۔

NASIR imageمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید ناصر عباس شیرازی کی ضلعی و صوبائی رہنماؤں سے صوبائی سیکرٹریٹ مجلس وحدت مسلمین پنجاب میں ملاقات ہوئی ۔ ملاقات میں پنجاب کی سیاسی صورتحال پر گفتگو ہوئی ۔ سید ناصر عباس شیرازی نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کو ہرصورت آگے بڑھنا چاہئے پاکستان کسی آمریت کے متحمل نہیں ہو سکتا۔

mwm.kharمجلس وحدت مسلمین کراچی شعبہ خواتین کی جانب سے خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران میں منعقدہ ایک روزہ ورکشاپ کی مکمل رپورٹ
فاضلہ قم خواہر مہ جبیں نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ: ’’حماسہء حسینی‘‘ وہ عنوان ہے جو شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری نے دیا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس عنوان کو اس کے اصل مفہوم کہ ساتھ سمجھا اور سمجھایا جا ئے یہ لفظِ حماسہ اردو ادب میں بھی رائج ہے مگر بعض اوقات لفظوں کو سازش کہ تحت رائج نہیں ہونے دیا جاتا کہ کہی ملت ان الفظوں کہ زیر اثر نہ آجائے۔مگر ہم نے اس کے مطلب بدل دیئے ضرورت اسکی ہے کہ اسکے اصل مطلب کو سمجھا جائے۔انھوں نے فرمایا کہ حماسہ حسینی ایک ایسے موضوع کی یاد ہے جو روح کو تڑپا دے۔ حماسہ کے چار ارکان ہیں۔عزت،افتخار،حرکت،شجاعت،استقامت یہ خصوصیات جس شخصیت میں یا کسی تحریر یا شاعری یا کلام میں جیسے نہج البلاغہ کا کلام اوّل سے آخر تک حماسی ہے۔ ؑ جب سب گھر میں بیٹھ گئے تھے تو جنابِ زھر ہ ولایت کی دفع کے لئے گھر سے نکلی یہ خصوصیات ہوتی ہیں ایک حماسی شخصیت میں امامِ معصوم ؑ نے فرمایا: مجھے ود راستوں پرلاکر کھڑا کر دیاگیاہے، ایک عزت کا اور ایک ذلت کا۔امام نے فرمایا: ھہات من الز لہ اس کا آغاز عزت سے ہو رہا ہے ،موت کے سائے سے، عزت کے سائے سے۔ اگر ممبر پرسے ہی یہ پیغام عزت نہ پہنچایا جائے تو یہ ظلم ہے۔امام حسین ؑ نے پورے وجودکے ساتھ عزت کا پیغام دیا ایران اور لبنان نے اس پیغام عزت کو سمجھااور عمل کیا تو عزت ملی مگر ہم نے کیا کیا؟ ہم کو یہ دیکھنا ہوگاکہ ہم نے کہاں کوتاہی کی؟
امام نے فرمایاکہ:کیا تم نہیں دیکھ رہے کے حق پر عمل نہیں ہو رہا ۔ہرمومن پر لازم ہے کہ وہ خدا کے لئے قیام کرے۔ہم جو حضرت زہیر اور حضرت حر ؑ میں شجاعت،غیرت،فرض شناسی اور حرکت دیکھتے ہیں اگریہ ہی حرکت ،شجاعت،غیرت،فرض شناسی ممبر سے نہیں پہنچ رہی تو حق ادا نہیں ہو رہا۔سب سے زیادہ عزاداریہمارے ملک میں ہوتی ہےمگرنتیجہہم سب سے پیچھے ہیں۔ ابھی تک ویسے آگے بڑھ نہیں سکے کے

جیسے دنیا کی باقی اقوام آگے بڑھیں کیونکہ ہم نے حماسہ حسینی کو سمجھا ہی نہیں۔پیغامِ حسینی حرکت کے لئے ہے نہ کہ امت کوسلانے کہ لیے ممبر مصلحتوں کی جگہ نہیں ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں سے صرف حق اور سچ بیان ہونا چاہیے ،ظالم کے ظلم کو بیان ہونا چاہیے ،جہاں مظلوم کی مظلومیت بیان ہونی چاہیے لیکن ہم نے حسین ؑ کہ حماسہ کو حماسہ حسینی کو لوری بنادیا ہے جس سے حرکت نہیں بلکہ صرف خواب جنت دیکھ کر امت سو رہی ہے۔ ممبر سے حماسہ حسینی کو اس کہ چار ارکان یعنی(عزت ، افتخار،حرکت،شجاعت،استقامت) کو مد نظر رکھتے ہوئے اسکے اصل مفہوم کہ ساتھ بیان کیا جائے۔ ۔خدا بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔کیا ہم نے اپنی حالت بدلنے کی کوشش کی؟یہ کوشش اسی صورت میں ہوسکتی ہے کہ جب ہم واقعی کربلا کو حادثہ نہ سمجھے کیونکہ حادثے پر افسوس کیا جاتا ہے مگر واقعات سے ،تحریک سے سبق لیاجاتاہے بہت فرق ہے کہ عوام حماسہ حسینی کو صرف حادثہ سمجھتی یا تحریک یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے۔عزاداری ایک تحریک ہے جس کہ مرحلے ہیں اس کو نہ ہی مصائب سے جدا کیا جاسکتا ہے نہ فضائل سے اگر حماسہ حسینی کے ثمر کو حاصل کرنا ہے تو پھر عزاداری کے ہر مرحلے پر محنت کرنی ہوگی علم و تفکر ،شعور اور حرکت کہ پہلو وءں پر محنت کرنے کی ضرورت ہے ۔ایسا نہیں کہ فضائل کم کرکہ مصائب زیادہ بڑھا دیئے جائے یا فضائل بڑھا کر مصائب کم کردیئے جائیں ، نہیں ہر پہلو پر توجہ دیں۔ آخر میں مجلس وحدت مسلمین کہ اس اقدام کو سرہاتے ہوئے فرمایا کہ ایسی ورکشاپ منعقد ہوتی رہنی چاہیے تاکہ عزاداری اپنے اصل فلسفے کے ساتھہ منعقد کی جا سکے۔خواہر مہ جبیں کے بعد خواہر طاہرہ فاضلی(فاضلہ قم) کو خطاب کی دعوت دی گئی ۔۔
خواہر طاہرہ فاضلی نے حماسہ حسینی کہ عنوان پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ:
سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کے دیکھنا چاہیے کے آیا لوگوں نے اس کو حادثہ سمجھا یا واقعہ؟ کیونکہ اس سے واقعی بہت فرق پڑتا ہے۔کربلا کا سب سے خو بصورت ترجمہ رہبر کبیر نے کیا آپ ؒ نے فرمایا کہ: پیغام کربلا صرف ملت تشیع تک محدود نہیں کیونکہ یہ ایک تحریک ہے اور تحریک کسی ایک پر نہیں بلکہ اس کے اثرات دور داز تک یعنی دوسرے مکاتب پر بھی اس کے اثرات ہوتے ہیں اور کربلا ایسی تحریک کا نام ہے جو مسلسل حرکت میں ہے لہٰذا جب انقلاب اسلانی ایران انہیں آیا تھا تو شہنشاہ ایران کے دور میں ایران میں کامیابی کے لیے خود کو سیکولر ثابت کرنا ہوتا تھا مگر جب انقلاب اسلامی آیا اور حماسہ حسینی کے حوالے سے دروس وغیرہ منعقد کئے گئے تو وہاں ایسی تبدیلی آئی جس کو دنیا نے عزت کی نگاہ سے دیکھا۔جی عزیزپاکستان میں واقعاَسب سے زیادہ عزاداری منعقد ہوتی ہے مگر نتیجہ

ہم سب سے پیچھے ہیں امام حسین ؑ کو سمجھنے کے لئے شیعہ ہونا ضروری نہیں ہے۔گاندھی نے تحریک آزادی کو کامیاب بنانے کے لئے کربلا وحماسہ حسین کا مطالعہ کیا تھا۔امام باظل کے سامنے حق کو بیان کرنا ہی حسینیت اور مقصد عزاداری ہے اور یہ ہی عزاداری کی طاقت ہے ۔بہت افسوس کہ ہم عزاداری کہ ثمر سے ابھی تک محروم ہیں۔امام ؑ نے قیام کا مقصد منزل بہ منزل بیان کیا صرف عراقیوں کے لئے نہیں بلکہ رہتی دنیا تک کہ لئے۔ مقاصد اور اسباب بیان کئے کہ میں اپنے جد رسولﷺ اور اپنے بابا کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے دین اسلام کی بقاء کے لئے قیام کررہا ہو ۔خواہر طاہر فاضلی نے حماسہ حسینی کہ عنوان پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ:جب بھی کوئی انصار امامؑ مقتل کی جانب جاتا تو رجز پڑھتا اپنا مقصد بیان کرنے کے لئے کہ کیوں ہم فرزند ٖفاظمہ پر جان نصار کر ہے ہیں۔یہ رجز مقصد بیان کرنے کا ایک طریقہ تھا تاکہ آنے والے سمجھ سکے ثمر پا سکیں۔ کربلا میں اول سے آخر تک ہر شہید کی یہی آرزو رہی کہ مقصد پہنچ جائے آنے والوں تک۔ مگر ہم کیا کرر ہے ہیں؟mwm.khr01
شو قیہ ذاکری سب سے بڑا مسئلہ:خواہر طاہرہ فاضلی نے فرمایا کی عزاداری امانت دین ہے امانت آل رسولﷺ ہے مگر ہم نے اس کو شوق کی نظر،ریاکاری،ناموونمود ،تحریفات کی نظر کردیا ہے۔ شوقیہ زاکری نے عزاداری کہ مقصد کو حد درجہ نقصان پہنچایا ہے، ممبر کے لئے مصیبت بن گیا ہے ۵سال کہ بچے کو بیٹھا دیا شوق ہے ممبر علم کی جگہ ہے ابھی بارہ اماموں کے نام یاد نہیں مگر شوق کو پور کرنا ہوتا ہے ۔ صرف شوق کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے لئے سیکھنا اور علم حاصل کرنا ضرروری ہے ۔شرط اول ہے علم ،شرط اول ہے عمل و معرفت۔مثلا اگر آپ کو ڈاکٹر بنے کا شوق ہو operation کرنے کا شوق ہے تو کیا آپ چھری لے کر اپنے بچے کا operation کریں گی؟ نہیں کریں گی ایسا کیونکہ جان کا خطرہ ہے اس کے لئے علم کا ہونا مہارت کا ہونا ضروری ہے ،تو آیا ہمیں پھر یہ حق کس نے دیا کہ ہم زہراء ؑ کے فرزند کی قربانی کو ایک شوق کی نظر کردیں ایک غیر معلم کے سپرد کردے۔ایک بار ہمارے ایک استاد نے بہت خوبصورت بات کہی کہ جب کوئی بغیر درس و تدریس کہ ممبر پر جاتا ہے تو میں سوچتا ہو کہ ایسے لوگوں کی وجہ سے حسین ؑ کو پتہ نہیں اور کتنی بار مقتل میں جاناہوگا۔
خواہر طاہر فاضلی کے بعد آغا خطیب مہدی (ڈائریکٹر خانہ فرہنگ) کو خطاب کے لئے دعوت دی گئی 
آغا خطیب مہدی (ڈائریکٹر خانہ فرہنگ) نے فرمایا کہ:امام ؑ نے اپنے میں شعارمیں فرمایا کس مقصد کہ لئے کیوں دشمن کے مطلبات تسلیم نہیں کرے یہاں تک کہ اپنے آخری خطرہ بہانے کو تیارہوں ۔مگر ہم نے اس شعا رکو بھلا دیا ہے بلکے کچھ شعار لئے آئے ہیں۔وہ نہذتِ عاشورہ کو بیان کرنے کہ بجائے غلط مطلب بیان کرتا ہے۔جو ہم نے اپنایا ہے و ہ دشمن کے ساتھ تعاون کرنا سکھاتا ہے۔ عاشور کو جو ہم ماتم کرتے ہیں اسکا مقصد ،مقصدِ عاشورہ بیان کرنے میں ہے۔امام ؑ نے جنگ کے لئے قیام نہیں کیا تھا بلکہ اقوال کہ ذریعے مقصد واضح کیا۔روزِہ عاشورہ امام ؑ نے اپنے شعار کے ذریعے بنی امیہ اور بنی عباس کی بنیادوں کو ہلا دیا اگر ایسا نہیں کرتے امامؑ تو بنو عباس کئی عرصے تک قا ئم رہتے۔۔امام ؑ نے روز عاشور ایک شعار پڑھا جس کا مطلب یہ تھا کہ:
موت میرے لئے ذلت پرستی سے بہتر ہےmwm.kh02
آپ اس نعرے کا کیا نام رکھیں گے یہ عزت کا نعرہ ہے ،یہ خود اعتمادی کا نعرہ ہے،یہ عزت،شرافت ،شجاعت کا نعرہ ہے۔یہ بتاتا ہے کہ ذلت کی، پستی کی زندگی سے بہتر موت ہے۔دنیا یہ جان لے اپنے خون بہانے اپنے فرزند قربان کرنے کہ لئے تیار ہیں تو مقصد کیا ہے؟ امامؑ کی تربیت رسول اللہﷺ اور پرورش شیرِفاطمہ سے ہوئی ہے۔
امام ؑ کا قول :انسان جنگ لے لئے جب تیارہوتا ہے جب ساری امیدیں خطہ ہو جاتی ہیں۔
امام ؑ کاکلام اگرغور سے پڑھیں تو والہانہ انداز معلوم ہوتا ہے ۔زیاد کا جو بیٹا تھا اس کی تلوار سے خون ٹپکتا رہتا تھا اسکا باپ بھی اسی کی طرح ظالم تھاجب لوگوں کو پتاہ چلا کہ ابن زیادآگیا تو سب اپنے گھروں میں چھپ گئے۔امام ؑ نے فرمایا:مجھے اس نجس زنا زادے، حرام زادے نے دو راستوں پر لا کھڑا کیا ’’کہہ رہا ہے کہ تلواروں کا نشاناں بنو یا بیعت کرلو۔۔ایسی صورت حال میں ،میں کوسعاد ت کہ سوا کچھ نہیں سمجھتا ۔ ظالموں کے ساتھ زندگی گزارنے کو ذلت محسوس کرتا ہو اس لئے امام نے فرمایا میرے قیام کا مقصد مال و دولت حا صل کرنا نہیں ہے بلکہ اپنے نانا کی امت کی اصلاح ہے۔ آغا خطیب مہدی (ڈائریکٹر خانہ فرہنگ) نے فرمایا کہ عزاداری کو زندہ رہنا چاہیے۔عزاداری کرنے والے کا اتنا ثواب رکھا گیا کیوں آئمہ معصومین نے عزاداری کی سفارش کی ہے کیوں کہ اس کی روحَ ایثار ہے،روحِ بندگی ہے،دشمن شناسی ،رضا الہی خود اعتمادی اپنے آپکو پہچانا ،عزت ،سرفرازی غیرت اور شیطان کی ساتھ جنگ اور دور ی ہے۔عاشورہ اس وقت عاشورہ ہے جب لوگوں میں روح ِ مقصد حسینیؑ پیدا کر ے۔عاشورہ اس وقت عاشورہ ہے جب زندگی ملے۔صحیح عزاداری اس وقت عزاداری ہے جو دشمن نے اس میں شامل کیا ہے وہ دور ہو جائے جو عزاداری میں تحریفات شامل کی جاتی ہیں اس سے پاک ہو جائے۔ہمیں جو کچھ آج تک ملاہے امام ؑ کہ وسیلے سے ملا ہے۔
کچھ اہم نکات: 
کچھ اہم نکات جن پر زیادہ توجہ دیں ایام عزا قریب آرہے ہیں لہذا بھی سے ان نکات پر خا ص توجہ رکھیں:
* عزاداری میں جو تحریفات شامل ہوئی ہیں ان سے دور رہیں.
*جہاں بھی مجلس برپا کرئے مشن حسینی کوبیان کریں اور جہاں بھی مجلس پڑھیں وہاں زیادہ سے زیادہ خطبات سید الشہداء ؑ بیا ن کریں حماسہ حسینی بیان کریں۔
*جو ظاہری طور پر شامل ہیں ذوالجناح،تابوت وغیرہ انکو اصل مقصد کے لئے استعمال کریں۔مجلس اس انداز سے پربا کریں جیسے امام زین العابدین ؑ نے کی جیسے امام باقرؑ نے کی جیسے امام رضا ؑ نے کی اس حوالے سے پڑھیں کہ کیا طریق کار تھا آئمہؑ کی عزاداری کرنے کا۔ وہ طریقہ کار خود بھی پڑھیں اور دوسروں کے سامنے بھی یبان کریں کیونکہ آئمہ ؑ نے جو عزاداری و بیداری کہ لئے اپنایا۔،ا ن سب کی کوشش کرئے کیونکہ خواہران بی بی سیدہ ؑ کی کنیزوں میں ہیں تو تحریفات سے دور رہیں، صحیح واقعا ت بیان کرئے کتابیں پڑھیں حقیقت سے بڑھ کر کو ئی چیز اثر انداز نہیں ہو تی۔شہید استاد مطہری کی کتاب( حماسہ حسینی ؑ ) پڑھیں اور ایک ساتھ بیٹھ کر اس موضوع پر تبادلہ خیال کریں۔آپ جب مصائب پڑھیں لہوف المقتل سے پڑھیں(سید ابن طاوس ) کی۔
مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کراچی ڈویژنل سیکرٹیری جنرل خواہر زہراء نجفی کا خطاب:
مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کراچی ڈویژنل سیکرٹیری جنرل خواہر زہراء نجفی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ مجلس وحدت مسلمین کہ اغراض و مقا صد عزاداری کا انعقاد اور اسکی بقاء بنیادی مقاصد میں سے ہے،مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹیری جنرل آغا راجہ ناصر صاحب نے فرمایاکہ: یہ خطیب اور ذاکرین ہمار ی �آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔مجلس وحدت مسلمین کا کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس دن وہ مقصد سید الشہدا ء کے لئے کوئی اقدام نہ کرے۔اور اسی کوشش کی ایک کڑی ذاکری ورکشاپ ہے۔مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کراچی ڈویژنل سیکر ٹیری جنرل خواہر زہراء نجفی نے فرمایاکی امام مظلوم نے اپنے قیام کا مقصد بیان کردیا تھا اور فرمایا تھا کہ ا گرمیرے خون کے علاوہ دین نہیں بچ سکتا تو آؤ تلواروں مجھ پر ٹوٹ پڑو۔تو مقصد دین کی بقاء ہے ،مجلس وحدت مسلمین یہی مقصد لے کر چل رہی ہے۔ آخر میں فاضلِ قُم و مشہد اور اسکالر زکے پینل نے شرکاء کے سوالات کے جوابات دےئے اور عنا و ینِ مجالس ، بانیانِ مجالس و سامعین کی ذمہ داریوں جیسے اہم نکات پر گفتگو فرمائی۔

amin.lhrمجلس وحدت مسلمین لاہور خواتین ونگ کے زیر اہتمام وارث کربلا زینب کبری(ع) کانفرنس قومی مرکز خواجگان لاہور میں منعقد ہوئی جس سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی، مرکزی سیکرٹری تبلیغات علامہ ابوذر مہدوی اور خواتین ونگ کی انچارج خانم سکینہ مہدوی نے خطاب کیا۔ علامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ ایک واعظ اور معلم کا معاشرے میں بہت اہم کردار ہے، معلم ایک استاد کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی بحث معاشرے میں زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

Photo2439مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کی جانب سے14 اکتوبر 2012 بروز اتوار خانہ فرھنگ ایران کراچی میں ایک روزہ ذاکری ورکشاپ بعنوان(حماسہ حسینی ) منعقد کی گئی جس میں مختلف سے علاقوں سے خواتین کی ایک کثیر تعدادمیں شرکت کی شعبہ خواتین نے مختلف علاقوں سے شرکت کرنے والی خواتین کے لئے ٹرانسپورٹ کا بھی انتظام کیاتھا خانہ فرھنگ اسلامی جمہوریہ ایران میں ذاکری وخطابت ورکشاپ میں استقبالیہ کیمب اور بک اسٹال بھی لگایا گیا تھا اس کہ علاوہ خانہ فرھنگ کی جانب سے تصویری نمائش بمناسبت اما علی رضا ؑ کا انعقاد کیا گیا تھا جس کو کافی سہراہاگیا ۔ذاکری ورکشاپ میں کراچی کی ذاکرات و معلمات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ذاکری ورکشاپ کی صدارت خواہر حنا نے کی ورکشاپ کا باقاعدہ آغار قرآن پاک کی تلاوت سے کیا گیا جس کہ بعد بارگاہ امام میں ہدیہ سلام پیش کیا گیا۔سلام کے بعد فاضلہ قم خواہر مہ جبیں نقوی کو خطا بت کہ لئے دعوت دی گئی

zainab confلاہور( ) مجلس وحدت مسلمین لاہور خواتین ونگ کے زیر اہتمام وارث کربلا زینب کبریؑ کانفرنس قومی مرکز خواجگان لاہور میں منعقد ہوئی جس سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہید ی ،مرکزی سیکرٹری تبلیغات علامہ ابوذر مہدوی اور خواتین ونگ کی انچارج خانم سکینہ مہدوی نے خطاب کیا۔
علامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ ایک واعظ اور معلم کامعاشرے میں بہت اہم کردار ہے معلم ایک استاد کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی بحث معاشرے میں زیادہ اہمیت کی حامل ہے انہوں نے کہا کہ سیرت زینب ؑ نے کربلا کی تحریک کو وہ طاقت دی کہ ظالم کو ہمیشہ کے لئے عبرت کا نشان بنا دیا اس پر آشوب دور میں بھی جس طرح سے اسلامی اقدار کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں ہماری خواتین کو میدان میں آکر کردار جناب زینب ؑ پر عمل کر تے ہوئے اسلامی اقدار اور اصولوں کا محافظ بننا ہو گا۔ 
حسین ابن علیؑ کے خطبات جو حریت ، آزادی اور غیرت و حمیت درس دیتے ہے۔ آج ہمیں ان پر عمل کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔ مشن کربلا توحید و نبوت کے تحفظ کانام ہے اور وارث کربلا زینب کبریؑ جیسی شخصیات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔موجودہ دور میں ایک بار پھر یزیدیت سر اٹھاتی نظر آرہی ہے اس کو کچلنے کے لئے کردار زینبیؑ کی ضرورت ہے جس طرح انہوں نے کربلا کی تحریک کو منظم اور طاقت ور بنایا تھا اور یزید کے کرتوتوں کو عالم دنیا کے سامنے رکھ دیا تھا اسی طرح موجودہ دور کے یزید (شیطان بزرگ امریکہ ) کے مظالم اور اس کے کردار کو مسلم دنیا کے سامنے آشکار کرنا ہو گا اور مسلم معاشرے کو اسلامی اقدار کاتحفظ کرنا ہو گا

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree