The Latest

وحدت نیوز(گلگت)  اعلیٰ تعلیمی ادارے میں پک اینڈ چوز کی پالیسی ہرگز قبول نہیں۔ماضی میںقراقرم یونیورسٹی میںسیاسی اثر رسوخ کے ذریعے میرٹ کی دجیاں اڑائی گئی ہیں جس کی وجہ سے علاقے کے واحد اعلیٰ تعلیمی ادارے کی کارکردگی صفر ہے۔وائس چانسلر سیاسی دبائو کو قبول کیئے بغیر میرٹ پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے کہا کہ قوم کے مستقبل کو سنوارنے والے ادارے میں میرٹ کو نظر انداز کرنا نہایت ہی افسوسناک امر ہے۔قبل ازیں یونیورسٹی کے اہم عہدوں پر تعیناتی کیلئے Pick and chose کی پالیسی اختیار کی گئی جو ادارے کے اپنے مستقبل اور  قوم کے معماروں کے ساتھ سخت ناانصافی ہے۔علاقے میں اعلیٰ تعلیمی ادارے کے قیام سے امید کی کرن پیدا ہوئی تھی لیکن آج بھی گلگت بلتستان کے طلباء کو اس ادارے میں مطلوبہ فیکلٹیزاور سہولیات میسر نہیں جس کی وجہ سے پسماندہ ترین علاقے کے طلباء کو بھاری فیسیں ادا کرکے پنجاب یا د یگر صوبوں کی طرف رخ کرنا پڑرہا ہے۔گلگت بلتستان کے طلباء میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جائے تو یہاں کے طلباء ملک اور قوم کا نام روشن کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرٹ کی بالادستی اور ادارے کی تعمیر وترقی میں وائس چانسلرکے ساتھ کھڑے ہیں،انہیں چاہئے کہ وہ کسی قسم کا سیاسی و مذہبی دبائو قبول کئے بغیر تمام تر فیصلے میرٹ پر کریں۔انہوں نے کہا کہ ادارے میں اخلاقی اور تعمیری سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہے۔ہمارے تعلیمی نظام میں اخلاقیات کو ترجیح نہ دینے کی وجہ سے ملک میں کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ایسے تعلیمی اداروں سے قوم کا مستقبل سنوارنے والی لیڈرشپ پیدا ہونی چاہئے جو بین الاقوامی سطح پر بڑے چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کرسکیں۔

وحدت نیوز (کراچی) استکباری قوتیں ارض پاک کو معاشی و اقتصادی بحران سے دوچار کر کے اسے عدم استحکام کا شکار بنانا چاہتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کراچی کے سیکرٹری جنرل علامہ صادق جعفری نے علامہ عارف حسین الحسینی کی 30ویں برسی کی مناسبت سے وحدت ہاوس کراچی میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ داعش سمیت دیگر استعمال شدہ مہروں کو پاکستان میں آزمانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ان سازشوں کو اتحاد و اخوت کے ہتھیار سے ناکام بنایا جائے گا۔ اس وقت اسلام دشمن عالمی طاقتیں ارض پاک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ملک کو معاشی و اقتصادی بحران اور بدامنی کا شکار کرکے اس کی سالمیت و بقا کو سنگین نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ارض پاک میں سب سے پہلے شہید قائدعارف حسینی نے امریکہ کے مکروہ چہرے اور گھناونے عزائم کو بے نقاب کیا۔۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں عوام نے تبدیلی کی حمایت کی ہے۔ جو طاقتیں انتخابی عمل کو مشکوک قرار دے رہی ہیں وہ ملک کو بحران کا شکاربنانا چاہتی ہیں۔عوام ان طاقتوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔سابق حکومت نے جس الیکشن کمیشن کی خود تشکیل کی تھی اس کے کردار پر شکوک و شبہات کا اظہار عوام کے لیے حیران کن ہے۔سابق حکومت کے ذمہ داران واضح کریں کہ کیا انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی کلیدی پوسٹوں پر بد دیانت افراد کی تقرری کی۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے اندرونی معاملات میں براہ راست مداخلت کر رہی ہے۔ ملک کے داخلی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کی کسی کو اجازت دینا قومی حمیت و عظمت کے منافی ہے۔ شہید قائد عارف حسینی ملکی سیاست میں ملت تشیع کے سیاسی کردار کے زبردست حامی تھے۔مجلس وحدت مسلمین شہید قائد کی نظریاتی جدوجہد کی پاسدار ہے۔ہم دنیا بھر کے مظلومین کے ساتھ کھڑے ہیں۔یمن، عراق فلسطین اور کشمیر سمیت جہاں جہاں بھی ظلم ہو رہا ہے ہم اس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ایم ڈبلیو ایم ملک میں وحدت و اخوت کی داعی اور ملت تشیع کی سیاسی عمل میں شرکت کو حالات کے عین متقاضی سمجھتی ہے۔تکفیری گروہوں کی پارلیمنٹ تک رسائی میں رکاوٹ ملت تشیع کے سیاسی استحکام سے مشروط ہے۔انہوں نے کہاکہ انتخابات کے ذریعے آنے والی حالیہ تبدیلی حوصلہ افزا ہے۔ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو مسترد کیاجانا عوام کے سیاسی شعور میں بہتری کی نوید ہے۔انہوں نے کہا کہ حلقہ پی ایس 89 میں کراچی میں عوام کے مینڈیٹ پر شب خون نہیں مارنے دیا جائے گا۔ مذکورہ حلقے میں مخالف امیدوار کو دھاندلی سے جتایا گیاجس کے خلاف تمام قانونی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے جنوبی پنجاب سے منتخب پاکستان تحریک انصاف کے ممبران صوبائی و قومی اسمبلی،ایم این اے ملک محمد عامر ڈوگر،ایم این اے ملک ریاض حسین،ایم پی اے محمد ندیم قریشی،ایم پی اے رفاقت علی شاہ گیلانی اورآزاد منتخب رکن اسمبلی سابق سپیکرقومی اسمبلی سید فخر امام نے اسلام آباد میں ملاقات کی،نو منتخب ممبران اسمبلی نے الیکشن 2018میں بھر پور تعاون پر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا شکریہ ادا کیا،اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنر ل علامہ احمد اقبال رضوی، مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسدعباس نقوی،علامہ عبدالخالق اسدی،علامہ اقتدار نقوی ،ملک اقرار حسین،نثار فیضی،سید محسن شہریار اور سیکریٹری سیاست جنوبی پنجاب انجینئر مہر سخاوت بھی موجود تھے۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے نومنتخب ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور دشمن قوتوں کی بھیانک سازشوں کیخلاف نو منتخب حکومت اور ممبران اسمبلی کو کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا،عوام نے آپ پر اعتماد کیا ہے اور آپ کی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کے محب وطن اور غیور عوام کی امنگوں کی بھر ترجمانی کریں ،ملک سے کرپشن،لاقانونیت،اقرباءپروری کے خاتمے کے لئے جدوجہد کریں اور روائتی سیاست کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش مشکلات خصوصاََ پانی،صحت،تعلیم اور توانائی کے شعبوں میں انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے،دہشتگردی کے ناسور سے نجات کے لئے انتہا پسندوں ان کے سہولت کاروں اور سیاسی سرپرستوں کا محاسبہ کرنا نو منتخب حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیئے،آزاد خارجہ و داخلہ پالیسی پاکستان کی سلامتی و بقا کے لئے ناگزیر ہو چکا ہے،ملک میں بسنے والے تمام مکاتب فکر مسالک و مذاہب کو یکساں آزادی دینا اور انکی جان و مال کی تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اور یہ ہمارے آئین میں بھی اس کی تاکید ہے،امید ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت روائتی حکومت سے ہٹ کر ایک مثال قائم کرے گی اور پاکستان کو ایشیاء کے عظیم ممالک کے صفوں میں کھڑا کرنے میں کردار ادا کریگی،سینئر سیاستدان ونومنتخب رکن قومی اسمبلی سید فخرامام نے تمام ممبران کی جانب سے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان کی بہتری کے لئے ہمارے ایسے عالمی حالات سے باخبر علماء کو کردار ادا کرنا ہوگا علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے خیالات اور جذبات پاکستانی عوام کے امنگوں کی حقیقی ترجمانی ہے،انشااللہ ہم ملکی سلامتی وبقا کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

وحدت نیوز(رپورٹ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید عارف حسین الحسینی کی 30ویں برسی کی مناسبت سے حمایت مظلومین کانفرنس سے سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا مکمل خطاب ۔

تیس سال سے ہم عزادار ہیں اور تیس سال سے ہم دلوں کے اس محبوب کو ،اس کی یاد کو اپنے سینوں میں لئے میدان میں موجود ہیں وہ جو پاکستان کی سرزمین پر قافلہ سالار حریت تھا ،جو آزادی کے کارواں کا سالار رہبر اور پیشوا تھا وہ جو پاکستان کی سرزمین پر محروموں مظلوموں کی امید تھا ۔قیامت تک مولا کے پیروکاروں کے لئے وصیت یہ تھی کہ کونا لظالم خصما و للمظلوم عونا کہ ظالموں کا خصما بن کے رہنا اور مظلوموں کا عون عربی زبان میں خصم انسان کے لباس کی سب سے اوپر والی جگہ (گریبان ) کو کہتے ہیں خصم یعنی تم ظالموں کے گریبان میں ہاتھ ڈالنا ۔اے میرے پیروکاروں اے علی ؑ کے ماننے والوں،تمہیں مولاعلی ؑ یہ وصیت کررہے ہیں کہ تم ظالموں کے گریبان میں ہاتھ ڈالنا ۔تمہارے ہاتھ ظالموں کے گریبان تک پہنچ جانے چاہیئےاور ان کے مقابل قیام کرنا ،ان کے ساتھ سمجھوتا نہ کرنا ۔ان کے ساتھ ساز باز نہ کرنا ،ان کا ساتھی نہ بننا ،ان کے گریبان میں ہاتھ ڈالنا اور مظلوموں کا صرف حامی نہیں بلکہ مدد گار بننا مظلوموں کی صرف تائید نہیں بلکہ مدد کرنا ۔

دوستو ںشہید قائد مولاعلی ؑ کے سچے اور صادق بیٹے تھے ،شہید قائد نے عالمی استکباری قوتوں ،اس زمانے کے فرعونوں، نمرودوں اور شدادوں کے گریبان میں ہاتھ ڈالاتھا ۔ شہید کا ہاتھ ان کے گریبانوں تک جا پہنچا تھا اس لے انہیں شہید کیا گیا و ہ پاکستان کی سرزمین پر مظلوموں کو بیدار کررہے تھے ،مظلوموں کو اکھٹا کررہے تھے ظالموں کے مقابلے میں مظلوموں کو طاقتور بنا رہے تھے۔
شہید کا سفر ،شہید کی قیادت مظلوموں کو طاقتور بنانے کے لئے تھی لہذا پورے پاکستان کے انہوں نے سفر کئے ۔ایک انتھک سفر جو گلگت بلتستان سے لیکر بلوچستان اور سندھ کے آخر ی علاقوں تک جبکہ اس وقت سفر کی سہولتیں نہیں تھیں ،سڑکیں نہیں تھیں ،سفر کی مشکلات تھیں اوروسائل کی کمی تھی اس کے باوجود وہ ظالموں کے تعاقب میں نکلے ،مظلوموں کی مدد کے لئے نکلے ۔میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ وہ اس زمانے کے علی ؑ یعنی امام خمینی کے پاکستان کی سزرمین پر مالک اشترتھے ۔ان کا قد و قامت ،انکا نورانی اور ملکوتی چہرہ ،ان کی معنویت اور روحانیت ،ان کی شجاعت اور بصیرت ،ان کی دشمن شناسی ،انکا حوصلہ ،ان کی ہمت ان کی مقاومت ،ان کی استقامت ،انکا صبر میں آپ اپنے جد مولاعلی ؑ اور آئمہ اتباع اور صفات کی تجلی نظر آتی تھی ،جلوہ نظر آتا تھا ۔

دوستو ہم اس وقت سر فخر سے بلند رکھتے تھے ،ہم یہ سوچا کرتے تھے کہ ہم پہاڑوں سے ٹکرائیں گے اور انہیں راستے سے اٹھاکر پرے پھینک دینگے ،لہذا شہید کو دیکھ کر حوصلہ ملتا تھا ،شہید کو دیکھ کر ہمت بنتی تھی ۔شہید عالمی استکباری قوتوں کو پہچانتے تھے ،دشمن شناس تھے اور امریکہ کو سب سے بڑا دشمن سمجھتے تھے۔ پاکستان کی سرزمین پر گلی گلی کوچہ کوچہ ،شہر شہر مردہ باد امریکہ کا نعرہ لے کر پہنچے ۔مردہ باد امریکہ یعنی شیطان بزرگ ،یعنی زمانے کا دجا ل اور ابلیس شہید قائد امریکہ کا دشمن تھے ،اسرائیل اور عالمی صیہونیزم کے دشمن تھے ،وہ پاکستا ن کا استقلال چاہتے تھے ،وہ پاکستان کے دشمنوں کے دشمن تھے ،وہ پاکستان کے ترقی اور پیشرفت چاہتے تھے ،چاہتے تھے کہ پاکستان ایک خودمختار Sovereign ملک بنے جس کے فیصلے اسلام آباد میں ہوں وائٹ ہاوس میں نہ ہوں ،تل ابیب میں نہ ہوں ،نہ لندن میں ہوں۔

وہ چاہتے تھے کہ پاکستان ترقی کرے ،پیشرفت کرے ایک باوقار ملک بنے وہ پاکستان کو درست انداز سے سمجھتے تھے ،وہ پاکستان کی جغرافیائی لوکیشن سے خوب واقف تھے ۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت پاکستان کے تمام سیاسی و مذہبی قائدین میں ان جیسا کوئی نہ تھا اس وقت ہمارے قائد جیسا امام خمینی کے بعد پورے دنیائے اسلام میں کوئی رہبر نہیں تھا دوستو میں بہت دفعہ کہہ چکا ہوں کہ دشمن بہت منظم ہے ،وہ جانتا تھا کہ شہید قائد کس طرح قوم کو بیدار کررہا ہے کربلائیوں کو بیدار کررہا ہے ،کس طرح شیعہ سنی وحدت کو وجود دے رہا ہے ،کس طرح روکاوٹوں کو عبور کررہا ہے ،اگر یہ سفر جاری رہا ،یہ قائد اور پیشوا آگے بڑھتا رہا کہ جسے نہ جھکایا جاسکتا ہے نہ ڈرایا جاسکتا ہے نہ خریدا جاسکتا ہے ،نہ ٹریپ کیا جاسکتا ہے جیسے نہ دھوکا دیا جاسکتا ہے لہذا ان کےلئے یہ بہت خطرناک تھا ۔

وہ ایک اور خمینی برداشت کرنے کو تیار نہیں تھے ،ایک جوان ایک چالیس بیالیس سال جس عمر ہو وہ معاشرے میں اس طرح سے پاپولر ہو جائے ،ایسے مشہور ہو کہ دلوں میں جگہ بنانا شروع کردے ،ہرطرف اس کی عزت و وقار میں اضافہ ہو،اور پاکستان بنانے والی قوم اور ملت طاقتور بننا شروع ہوجائے ،شیعہ سنی اکھٹاہونا شروع ہوجائیں دشمن کے لئے ناقابل برداشت تھا ۔دشمن کے منصوبوں کے لئے اسٹرٹیجکلی نقصاندہ تھا ،دشمن نے اس خطے اور پاکستان کے لئے جو خواب دیکھا تھا وہ شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا تھا جب تک وہ شہید کو راستے سے نہ ہٹائیں اور ان یتیمان آل محمد اور شیعہ اور سنی کو ٹکڑوں میں نہ بانٹیں ،تقسیم نہ کریں ،کمزور نہ کریں ۔

اس زمانے کے حالات آپ کے سامنے ہیں ،عالمی قوتوں کے منصوبے آپ کے سامنے ہیں وہ اس ریجن میں آئے تھے اس پورے علاقے کو Destabilize عدم استحکام کرنے کے لئے ۔دوستو وہ امام خمینی کا سچا اور صادق پیرو تھا ،وہ مکتب آل محمد ص کا پروردہ کربلائی شعور و فکر رکھنے والا رہبر تھا ۔وہ واقعا حسینی تھا ،وہ واقعا مولاحسین ؑ کا سچا بیٹا تھا ۔آج جو آپ یہاں آئے ہیں تو اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَٰنُ وُدًّا۔جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور عمل صالح کرتے رہے تو اللہ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کرے گا ۔

آج تیس سال گذرنے کے باوجود شہید کی محبت میں اضافہ ہوا ہے کمی نہیں ہوئی ہے ،دشمن ناکام ہوا ہے ہمیں شہید کے نعروں میں شہید کی بصیرت نظر آتی ہے مردہ باد امریکہ خالی ایک نعرہ نہیں ہے یہ ایک اسٹرٹیجی ہے ایک منصوبہ اور حکمت عملی ہے ،لہذا اس پنڈال کو اس طرح مردہ باد امریکہ کے نعروں سے گونجنا چاہیے کہ کم ازکم امریکی سفارت خانےمیں یہ پیغام جائے جس کو کل تم نے شہید کیا تھا چھپ کے بزدلوں کی طرح وار کیا تھا آج اسلام آباد میں ،اس کا نعرہ ،اس کا شعور موجود ہے ۔

 ہم شہید کے بہادر بیٹے ہیں ،غیرتمند بیٹے ہیں ،ہم دشمنوں کو پہچانتے ہیں ،شہید نے جو دوسرا نعرہ پورے پاکستان میں پہنچایا تھاوہ کیا تھا ؟اسرائیل مردہ باد ،ہم نہیں بھولینگے اسرائیل کل بھی مردہ باد تھا آج بھی مرد ہ باد ہے اور کل بھی مرد ہ باد ہو گا ،مردہ باد مردہ باد اسرائیل مردہ باد،  لہذا شہید قائد صرف نعرے نہیں دےکر گئے بلکہ ایک اسٹرٹیجی دے کرگئے ہیں۔ایک منزل دیکھا کے گیا ،ایک راستہ دیکھا کے گیا اور اس راستے پر چلنے کا سلیقہ دیکھا گیا حوصلہ دے کے گیا ،شعور دے کر گیا اور ہم اسی راستے پر چلتے رہے گے ،آگے بڑھتے رہے گے ،اور انشااللہ اپنی استقامت اور مقاومت سے دشمنوں کو مایوسی کرکے رہے گے۔

دوستوںشہید قائد اس لئے شہید ہوئے کیونکہ وہ شہید وحدت امت ہے ،وہ شہیدِ وحدت مسلمین ہے ،وہ شہید وحدت مومنین ہے وہ شہیدِ وطن ہے ،وہ شہیدِ استقلال وطن ہے ،وہ وطن کی آزادی کا شہید ہے ،وہ حریت کا شہید ہے وہ پاکستان کو خود مختار ملک بنانے کی راہ کا شہید ہے دوستوں شہید قائد کو عالی استکباری قوتوں نے شہید کیا ہے کیونکہ و ہ عالمی استکباری اسٹیبشلمنٹ کے لئے چلینج تھا ۔
اس لئے اسے مارا ہے کیونکہ وہ عالمی استکباری غلبے کے لئے چلینج تھا ۔دوستو ںآپ دیکھ لے کس طرح عالمی استکباری قوتوں نے کس طرح اس انتہائی اسٹرٹیجکل جگہ پر واقع ملک کو اپنے خون آشام منصوبوں کا شکار کیا اورقتل و غارت گری کا رواج دیا ۔اگر اس وقت ہم اٹھ کھڑے ہوتے ۔

انہوں نے شہید قائد کو شہید کرکے ہمارا سرکاٹا تھا اگر ہم اس وقت دشمن تک پہنچتے تو بعد کی شہادتیں شاید اس طرح سے نہ ہوجاتیں ،بعد کے یہ حالات پیدا نہ ہوتے ۔لہذا دشمن یہ سمجھتا تھا ،زمانے کے یزید ہمیشہ کج فہم کج فکر اور احمق ہوتے ہیں ،اندھے ہوتے ہیں وہ یہ سوچتے ہیں کہ شہادتوں سے تحریکیں رک جاتیں ہیں شہادتوں سے راستے تاریک ہوجاتے ہیں آج علماء زعما ءیہاں موجود ہیں یہ شہیدکی فتح اور دشمن کی شکست کا اعلان ہے ۔دوستوںشہید دین اور سیاست کو اکھٹا سمجھتے تھے ،وہ دین اور سیاست کی جدائی کے قائل نہیں تھے کس طرح سے ممکن ہے کہ جن کے بارہ میں سے گیارہ امام شہید ہوں وہ دین اور سیاست میں جدائی کے قائل ہوجائیں ۔کیسے ممکن ہے کہ جو مکتب امامت سے تعلق رکھتے ہوں وہ دین اور سیاست کی جدائی کے قائل ہوں۔

گذشتہ چند سالوں سے ہم نے شہید کا پرچم اٹھایا اور دشمنوں کے مقابلے میں میدان میں اترے ہیں ۔ دوستوں آپ کو یاد ہوگا کہ پاراچنار محاصرے میں تھا ،بسوں سے اتار کر مارا جاتا تھا ،تکفیری دروازوں تک پہنچ چکے تھے ۔ڈیرہ اسماعیل خان کربلا تھی ،کوئٹہ مقتل تھی کراچی سندھ ،پنجاب پورا ملک ہمارے بیگناہوں کے خون سے لہو رنگ تھا شہادتیں ہمارا ورثہ ہے لیکن ہماری کوئی آواز نہیں تھی۔ مجھے یاد ہے پاراچنار جب محاصرے میں تھا میں اور آقائی امین شہیدی ائر مارشل قیصر حسین صاحب سے ملنے گئے اسلام آباد یہ 27دسمبر 2007کا دن تھا ۔کہنے لگے میں ابھی پشاور سے واپس آیا ہوں ،ائرمارشل ،ائرچیف فور سٹار جرنیل یہ کہتا ہے میں وہاں گیا اور وہاں کے کور کمانڈر نے ملاقات کا وقت دینے سے انکار کردیا ان کی آنکھوں میں آنسو تھے وہ کہتے تھے کہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پیچھے کوئی نہیں ہے ۔ہم تنہا ہیں ساڑھے پانچ لاکھ لوگ محاصرے میں ہیں ،ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں بچے ان وحشی درندوں طالبان کے محاصرے میں ہیں کوئی آواز نہیں سنتا ہماری ۔ہماری کوئی بات نہیں سنتا میڈیا میں بلیک آوٹ ،سنسر ہے ڈی آئی خان سے لوگ شہر چھوڑ کر بھاگ رہے تھے ،ہرطرف برا حال تھا ہم مدرسوں میں تھے ہم نہیں چاہتے تھے ۔۔۔ہم کونسا کام کررہے تھے تبلیغ کا ۔۔ہر وہ کام جس قوم کو تقسیم کرنے کا ہم پر الزام نہ لگے ،ہم تبلیغی کام کرتے تھے ،اسیروں کی مدد کرتے تھے ،شہدا کے بچوں کی کفالت کے لئے کوشش کرتے تھے ۔ہم ادارے بنارہے تھے ،علمی مراکز بنارہے تھے لیکن جب یہ مظلومیت دیکھی تو ہم گھر سے باہر نکلے ۔ آپ انصاف سے بتائیں اے پاکستان کے علماء،اے پاکستان کی عوام ،اے پاکستان کے غیور اور شجاع لوگواے میری ماؤں بہنوں بیٹیوں بتاؤجب مجلس وحدت بنی تو اس کے بعد کیا ہماری طاقت میں اضافہ ہوا یا کمی آئی ؟بولیں کہ کیا ہماری طاقت میں اضافہ ہوا ہے یا کمی آئی ہے ہماری آواز میں طاقت پیدا ہوئی ہے یا نہیں ہوئی ہے ؟پاراچنار کا محاصرہ ٹوٹا یا نہیں ٹوٹا ؟بلیک آوٹ اور سنسر شب ختم ہوا یا نہیں ہوا ؟ہم نے پانچ دن دھرنا دیکر ایک ظالم حکومت کو گرایا یا نہیں گرایا ؟

ہم نے شیعہ سنی وحدت پیدا کردی ،ہم اکھٹے ہوئے راوالپنڈی کے عاشور کا واقعہ آپ کے سامنے ہے،ہم نے عزاداری سید الشہداءکیخلاف ہونے والی تمام سازشوں کو ناکام کیا ۔ہم شہید قائد کے معنوی فرزند تھے ،ہم نے اپنے سرپر کوئی بڑعنوان نہیں رکھا ہم نے جماعت بنائی تو کیا نام رکھا ؟مجلس وحدت مسلمین اور بڑا عہدہ سیکرٹری جنرل ،مجلس کے دوست اور ہمیں خدمتگار بننے کا شوق ہے ،یتیمان آل محمد ص کا نوکر بننے کا شوق ہے ہم خدمت کے بھوکے ہیں اقتدار اور قدرت کے بھوکے نہیں ہیں ہم نے اپنی قوم کو حوصلہ دیا ہمت بندھائی نو دن پارلیمان کے باہر دھرنا دیا اور پیغام دیا خبردار گلگت بلتستان کے مظلوموں کو تنہا مت سمجھنا پورے پاکستان کے مظلوموں کے حامی ان کے ساتھ ہیں اور ان کی آواز میں آواز ملائیںگے اور ان کے دشمنوں کا تعاقب کرینگے ۔
کوئٹہ ،شکار پور ،کراچی ،ڈی آئی خان ۔۔۔آج حالات بہتر ہیں یا نہیں ہیں ؟دشمن ہماری سیاسی طاقت توڑنا چاہتا تھا ،ہماری سماجی طاقت توڑنا چاہتا تھا ہماری معاشی طاقت توڑنا چاہتا تھا ۔ہمیں ڈرانا چاہتا تھا ہمیں مایوس کرنا چاہتا تھا ،ہم بے چارے بن کر رہیں ،ہم ڈرے ہوئے سہمے ہوئے رہیں ہمیں قادیانیوں کی طرح مسلمانوں کے پیکر سے کاٹ کر پرے پھینک کر نفرت انگیز بنانا چاہتا تھا ۔آج آپ دیکھ لیں صورتحال کیا ہے الحمد اللہ ہم شہید کے راستے پر چلے ،آج دشمن سیاسی طور پر بھی تنہا ہے ،سماجی طور پر بھی تنہا ہے مذہبی طور پر بھی تنہاہے اور منفور ہے ۔اگر کوئی ان سے ملے بھی تو چھپ کر ملتا ہے کھلے کوئی نہیں ملتا ،خوف ہے آپ کا ،یہ آپ کی طاقت ہے ۔

دوستو ںشہید قائد نے لاہور کی قرآن و سنت کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ ہم سیاسی کردار ادا کرینگے ۔ہم 2013سے سیاسی جدوجہد میں آئے۔ کیوں ؟ہم چاہتے تھے کہ سیاسی شناخت ہو، دشمن یہ چاہتا تھا کہ ایک فرقہ وارانہ سرکل میں ہمیں بند کرکے فرقہ واریت کا لیبل لگاکر ہمیں تنہا کردے ۔یہ ہمارا ایک اسٹرٹیجک اسٹینڈstrategic stand اور فیصلہ تھا کہ ہم نے سیاسی شناخت پیداکرنی ہے ۔ہم جانتے ہیں کہ امریکہ اور عالمی قوتوں کے نمایندے پاکستان میں موجود ہیں انکا influenceاثر رورسوخ ہے وہ نہیں چاہتے ہیں کہ ہم سیاسی جدوجہد میں بھی کامیابیاں حاصل کریں ۔وہ روکاوٹ بننا چاہتے ہیں ،وہ ہمیں مایوس کرنا چاہتے ہیں وہ ہمیں نامید کرناچاہتے ہیں ،وہ بھول جائیںہم ہیں کربلا ئی عاشورائی ،ہم کربلائی شعور اور بصیرت کے حامل ہیں ہم جانتے ہیں کہ زمانے کے یزیدوں کا تعاقب کیسے ہوتا ہے اور انہیں شکست کیسے دی جاتی ہے ۔اس الیکشن ہماری اسٹرٹیجی یہ تھی ،ایک اسٹریٹجک مقاصدstrategic goalsتھا اور وہ یہ تھا کہ کمپرومائزیٹ جو لیڈر شب ہے ،کچھ لوگ جو ہمارے پولیٹکل لیڈر ہیں ان کے بزنس انڈیا میں ہے ان کے کاروبار یو اے ای میں ہیں ،ان کے کاروبار برطانیہ میں ہیں

،ان کا پیسہ وہاں پر ہے یہ لوگ عالمی قوتوں کے آگے دبتے ہیں کیونکہ ان کی کمزوریاں ان کے پاس ہیں ۔ان کی کرپشن کی فائلیں ان کے پاس ہیں ،ان کے اربوں روپےوہاں پر ہیں ۔ لہذا یہ عالمی قوتوں کےnationals interest قومی مفاد کے لئے کام کرتے ہیں اور اپنے ملک کے قومی مفادات کے ساتھ سودے بازی کرتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان بحرانوں کا شکار ہے ۔یہاں سے میری گفتگو توجہ سننا پاکستان ایشیا کا دل ہے پانچ ارب انسان کےcollectiviti  اکھٹ کا مرکز ہے ،پانچ ارب انسانوں کو آپس میں ملاتا ہے جہاں انرجی کے ذخائر وافر مقدار میں موجود ہیں اور جہاں deficiencyاور ضرورت ہے اور جہاں یہ چیز آپس میں ملتی ہے۔ ایشیا دنیا کا سب سے بڑابراعظم ہے ،وسائل کے اعتبار سے بھی آبادی کے اعتبار سے بھی تہذیبی اعتبار سے بھی ،لیبر بھی سستی ہے ۔ اہم مہارتوں کے اعتبار سے بھی اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی ایشیا میں ہیں ۔اور دنیا کے تمام بڑے مذاہب کا مرکز بھی ایشیا ہے ،یہودیت یہاں پیدا ہوئی، کرسچنیٹی عیسائیت یہاں پیدا ہوئی اسلام یہاں پیدا ہوا ،ہندوازم ،بدھ ازم ،سیکھ ازم ،حتی کہ کیمونزم بھی ایشیا سے تعلق رکھتا ہے۔ ایشیا بہت امیر خطہ ہے ، طول تاریخ میں پاور ایشیا اور یورپ کے درمیان شفٹ ہوتی رہی ہے۔ اس وقت پاور کا سرکل ایشیا کی طرف آرہا ہے ۔امریکہ یورپ اور اس کے حامی اس طاقت کی منتقلی کو روکنا چاہتے ہیں۔ سست کرنا چاہتے ہیں اور اپنے غلبے کو باقی رکھنا چاہتے ہیں ۔اسی بنیاد پر ایشیا کے جو اہم حصے ہیں ان کو destabilize غیر مستحکم کررہے ہیں اور گریٹر میڈل ایسیٹ بنارہے ہیں ۔توجہ چاہتا ہوںمیں ان دنوں ایک کتاب پڑھ رہا ہوں a peace to end all peaceیعنی امن پورے امن کے خاتمے کے لئے یہ David Fromkin کی کتاب ہے جو امریکی ہے جس نے 1914سے لیکر 1922تک پہلی عالمی جنگ کے بارے میں یہ کتاب لکھی ہے ۔جس میں وہ لکھتا ہے یورپین یہ کہتے تھے کہ پہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں ماڈرن میڈل ایسٹ پیدا ہوگا  اور وہ افریقی ممالک سے لیکر افغانستان اور وسطی ایشیا تک تھا جو دوسری جنگ عظیم میں اسرائیل بنے پر مکمل ہوا اور مسلمان ممالک چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم ہوگئے ۔ آپ دیکھ لیں افریقہ کے مسلمان ممالک سے لیکر وسطی ایشیا کے مسلمان ممالک یہ آبای آپس میں جڑی ہوئی ہے اور اس مسلمانوں کی طاقت کو توڑ دیا گیا ۔ان کے اندر کیمونسٹ مومنٹس شروع کی گئیں نیشنلسٹ مومنٹس شروع کیں گئی تاکہ اسلامی سوچ مرجائے اور یہ الگ الگ ہوجائیں ۔کوئی ایرانی نیشنلسٹ کوئی عراقی نیشنسلٹ کوئی ترک نیشنلسٹ کوئی عرب نیشنلسٹ ۔۔کیا کیا بن جائے دوستو اب جو گریٹر میڈل ایسٹ کی بات ہورہی ہے تو بالکل وہی علاقہ ہے جو پہلے ماڈرن میڈل ایسٹ کہلایا تھا یعنی مراکش سے لیکر افغانستان اور سنٹرل ایشیا تک اس کو reshapeتشکیل نو کرناچاہتے ہیں اور اگر وہ reshape اس کی دوبارہ تشکیل نہ کرسکے تو امریکہ ٹوٹ جائے گا ،یورپ بھی ایسے نہیں رہے گا ۔

یہ جو ٹکراو اس وقت جاری ہے یمن سے لیکر ساوتھ چائنہ سی پیک تک یہ ٹکراو اسٹرٹیجک ہے یہ امریکہ کی hegemonyغلبہ و بالادستی کیخلاف ہے اور اس میں آپ کا بنیادی کردار ہے امریکہ اسرائیل اور ان کے تمام ساتھی یمن میں اسٹرٹیجک شکست کھاگئے ہیں ہم یمن کے مظلوموں کے ساتھ ہیں ،ہم یمن کے مظلوموں کو سلام کرتے ہیں ان کی استقامت کو سلام ان کی ہمت کو سلام ،ان کے حوصلے کو سلام، ان کی قربانی کے جذبے کو سلام اور ان کے میدان میں ثابت قدم رہنے کو سلام۔ چالیس ماہ سے زیادہ ہو ا ہے یمن کےمظلوم ان کے مقابلے میں کھڑے ہیں دنیا کی ساری طاقتیں شکست کھاگئی ہیں ۔یہ امریکہ کی اسٹرٹیجک شکست ہے الحمداللہ وہاں پر شیعہ سنی اکھٹے ہیں ،اہل تشیع زیدی اہلسنت جو کہ شافعی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ۔شیعہ سنی اکھٹے ہیں کس کے مقابلے میں امریکہ کے مقابلے میں جو جہان اسلام کو توڑنا چاہتا ہے ۔وہاں اسرائیل امریکہ اور آل سعودکو شکست ہورہی ہے فرانس کو شکست برطانیہ کو شکست ان سب اتحادیوں کو شکست ہورہی ہے ۔لبنان میںبھی ان کو شکست ہوگئی ہے شام میں 90ملکوں کے دہشتگردگئے لیکن امریکہ کو شکست ہوگئی ،لبنان میں عسکری شکست بھی ہوئی سیاسی شکست بھی ہوئی ،اسی طرح عراق میں شکست کھاگئے اس وقت شام کے شہر ادلب میں ایک لاکھ دہشتگرد ہیں ترکی میں ایک لاکھ دہشتگرد ہیں، پریشان ہیں ان کو کہاں لیکر جائیں ۔

اب دشمن پاکستان کو بھی destabilizeغیر مستحکم کرنا چاہتا ہے اگر پاکستان غیر مستحکم ہوا تو ایشیا غیر مستحکم ہوجائے گا ۔چائنہ کی اقتصادی ترقیeconomic growth امریکی قومی مفاداتnational interest کے لئے خطرہ ہے لہذا وہ پاکستان کے اندر سیاسی بحران ،معاشی سماجی امن و امان کا بحران لانا چاہتے ہیں ۔مجلس وحدت کی یہ پالیسی تھی کہ امریکی پالیسی کے پچھے چلنے والوں کو ،انڈیا کی پالیسی کا ساتھ دینے والوں کو پاکستان میں شکست ہو اور شکست ہوئی ،اس میں ہمارا بھی حصہ ہے ۔ یہ الیکشن بہت اہم تھا الحمداللہ ہمارے مجتہدین نے فتوا دیا کہ پاکستان کی عوام اپنے وطن کی استحکام کی خاطر اپنا یہ حق استعمال کریں ووٹ ڈالیں انتخابات میں شریک ہوں ۔یہ جو ٹرن آوٹ زیادہ تھا اس کی ایک وجہ ہمارے مجتہدین کے فتواتھے جن کی بنیاد پر لوگوں نے جوق در جوق الیکشن میں حصہ لیا اور ووٹ ڈالا۔اس کا نتیجہ ہم نے دیکھ لیا امریکہ کے حامی چاہیے وہ تکفیری مذہبی تھے چاہے وہ تکفیری سیاسی تھے یا ان کے لبر ل ایجنٹ تھے انہیں شکست فاش ہوگئی پاکستان میں یہ ایک اسٹرٹیجک شکست ہے پاکستان تبدیل ہونے کی جانب جارہا ہے ۔اس میں ہمارا حصہ ہے ہمارا رول ہے ،ہم نے پی ٹی آئی کا ساتھ دیا

میںنے عمران خان صاحب سے چند روزپہلے کہا دوسری دو بڑی جماعتوں کی لیڈرشب مالی کرپشن کا شکارہے وہ سر تک ڈوبی ہوئی ہے غرق ہے ،وہ سمجھوتوں کا شکار ہیں۔ ان کے باہر کے ملکوں میں پیسہ اور کاروبار ہے آپ کمپرومائزڈ نہیں ہیں ہمیں آپ سے توقع ہے ،پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی ہونی چاہیے ،بیلینس پالیسی ہونی چاہیے ،علاقائی ممالک سے اچھے تعلقات ،ہمسائیوں سے اچھے تعلقات ،مسلم امہ سے اچھے تعلقات ،بیس کروڑ عوام کا ایٹمی ملک پاکستان لیڈرشب کا رول پلے کرے گا۔

دوستوں !ہم حساس مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں ہم نے مدتوں بعد امیدکی نسیم کو چلتے ہوئے دیکھاہےامید ہے نامیدی نہیں ہے ،تکفیریت کو شکست ہوئی ہے ہمارے ملک میں کچھ ناعاقبت اندیش قاتلوں کو مین اسٹریم میں لانا چاہتے ہیں اور ہمارے کچھ نادان ،کمزور لوگ ۔۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ۔۔ہم چاہتے ہیں کہ مسلک کے بڑے علماء کے ساتھ بات چیت ہونی چاہیے ڈئیلاگ ہونا چاہیے جو کسی مسلک کے نمایندے ہیں ان کے ساتھ بیٹھو کوئی بات نہیں ان کے بڑے مفتیوں کے ساتھ بیٹھوکوئی بات نہیں ملک میں مذہبی ہم آہنگی لانے کے لئےامن و امان لانے کے لئے، نفرتیں مٹانے کے لئے بیٹھو کوئی بات نہیں لیکن قاتلوں کے ساتھ نہیں ،چھپ چھپ کے ملنا ،چھپانا ۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کاش ان نادانوں کو پتہ چلتا یہ ان مظلوموں اور یتیمان آل محمد کے ساتھ خیانت کررہے ہیں اور ان کے اقدامات قابل مذمت ہیں جب  پیغام پاکستان پر سائن ہورہے تھے تو میں نے بھی کئے تھے شایدمیںآخری لوگوں میں سے میں تھا سائن کروانے والوں سے میں نے کہا تھا کہ اچھاڈاکیومنٹ ہے یہ لیکن یہ کافی نہیں ہے آپ چار پانچ کام کرنے پڑیں گے پھر جاکر پاکستان میں صورتحال بہتر ہوگی وہ یہ کہ

1۔  تکفیر کرنے والوں کے جو بڑے مفتی ہیں یہ لوگ ٹی وی پر آکر کہیں فقہ حنفی شافعی،مالکی ،حنبلی جعفری اور غیر مقلد، یہ اسلام کے مسلمہ مکاتب فکر ہیں اور ان کی تکفیر حرام ہے ۔
2ْ۔  یہ چھوٹے مولوی ان کی حمایت کریں ٹی وی پر آکر اور تکفیر سے توبہ کریں ۔
3۔  آئین میں ترمیم کی جائے آئین میں لکھا جائے کہ فقہ حنفی شافعی،مالکی ،حنبلی جعفری اور غیر مقلدیہ اسلام کے مسلمہ مکاتب فکر ہیںاور ان کی تکفیر اور توہین قابل تعزیر جرم ہے۔
4۔ جو لوگ شہید ہوگئے ان کے خون کو کسی اور کو معاف کرنا کا حق نہیں ہے ان کے گھروالوں کے پاس جاو ،وہ تین طرح کے قدم اٹھاسکتے ہیں وہ قصاص مانگ سکتے ہیں یہ انکا حق ہے ،دیت مانگ سکتے ہیں یہ نکا حق ہے اور معاف بھی کرسکتے ہیں ۔

ان نکات کے بغیر یہ جتنے بھی اقدامات ہیں وہ قاتلوں کومین اسٹریم میں لاکر پھر فتنے کھڑے کرنے کے ہیں اور ا ن کی تقریریں آپ نے سن لیں ہیں گذشتہ چند دنوں میں وہ کیسی تقریریں کررہے ہیں پھر سے ہم پاکستان میں ایمان رکھتے ہیں کہ کسی بھی مسلک کا ماننے والاکافر نہیں ہے ،سب مسلمان ہیں ،سب بھائی ہیں ،سب مادر وطن کے بیٹے ہیں لیکن قاتلوں کے ساتھ کوئی بھی غیرتمند نہیں بیٹھا کرتا ۔کوئی شریف نہیں بیٹھا کرتا عزت نفس رکھنے والانہیں بیٹھا کرتا ،گھٹیا بیٹھا کرتا ہے پست بیٹھا کرتا ہے اور چھوٹا بیٹھا کرتا ہے ۔

الحمد اللہ اس الیکشن میں آپ کی بصیرت نے ان تکفیریوں کو شکست دی  امریکہ اور انڈیا کے دوستوں کو شکست دی بڑا مشکل چینج ہے یہ زہن میں رکھ لیں ،ابھی آگے مشکل مرحلے درپیش ہیں یہ عبوری حکومت اپوزیشن اور مسلم لیگ نون نے مل کر بنائی تھی الیکشن کمیشن کا چرمین یہ لوگ لیکر آئے تھے اس لیکشن کمیشن اور نون لیگ و پی پی کی بنائی حکومت نے الیکشن کو سبوتاژ کرنے اور سوالیہ نشان کھڑا کرنے میں مرکزی رول پلے کیا ہے ۔ان سے پوچھا جائے یہ خیانیت ہوئی ہے خیانت اس کا فائدہ انڈیا کو ہوگا اگر یہ خیانت نہ کرتے تو پی ٹی آئی کی جیت اس سے زیادہ ہوتی ہمیں بھی نقصان پہنچایا گیا ،ہم جانتے ہیں کہ ہم امریکہ اسرائیل اور انڈیا کے حامیوں کی آنکھوں میں خار کی طرح کھڑکتے ہیں ،ہم جانتے ہیں انشااللہ یہ خار دشمنوں کی آنکھ میں ہمیشہ کھڑکتا رہے گا لہذا مشکل سفر درپیش ہے ممکن ہے حکومت بنانے میں روکاوٹیں کھڑی کی جائیں جیسے عراق میں مئی میں الیکشن ہوا آج تک حکومت نہیں بنانے دیا جارہا ہے لبنان میں13 مئی میں الیکشن ہواحکومت نہیں بننے دیا جارہا ہے ۔پاکستان کی عوام بیدار رہے ہیں ،ملک معشیتی مسائل کی جانب جارہا ہے انڈیا امریکہ سارے مل کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں ۔لہذا ہم نے میدان میں حاضر رہنا ہے اس وطن کی خاطر اور دشمنوں کے مقابلے میں الحمد اللہ آج فلسطین میں بھی مظلوم طاقتور ہیں ،کشمیر میں بھی مظلوم طاقتور ہیں اور ہم ان کے ساتھ ہیں انشااللہ ہم ان کو تنہا نہیں چھوڑینگے ۔

اسی طرح سے گلگت کے اندر انڈیا اور امریکہ کی آنکھ میں وہاں کا امن کھڑکتا ہے وہاں کا نالائق وزیر اعلی وہ وہاں پر نامنی لیکر آرہا ہے ،بے گناہوں کو شڈول فور میں ڈال رہا ہے وہاں کے علما کو ،شخصیات کو وہاں کے بزرگ عالم دین جناب قبلہ علامہ سید علی رضوی اور ان جیسے علما ءو زعماء کو ۔آپ نے دیکھا کہ اس وقت داریل اور چلاس کے علاقو ں میں آپریشن ہورہا ہے بچیوںکے سکول بوکوحرام کی طرح جلائےرہے ہیں ۔ہم پرامن لوگ  ہیں ،ہم کبھی بھی اس ملک میں اسلحہ اٹھاکر مسلح جدوجہد کرنے کو جائز نہیں سمجھتے ۔گلگت بلتستان کی عوام اپنی شناخت مانگتے ہیں ،وہ پاکستانی بننا چاہتے ہیں اور انہیں دیوار کے ساتھ لگایا جارہا ہے، وہاں کا نالائق وزیر اعلی اور ناعاقبت اندیش لوگ ملکر انہیں دیوار سے لگایا جارہا ہے ۔لہذا ابھی جو حکومت آنے والی ہے مجھے امید ہے کہ وہ سادگی کو اپنائے گی اقتصادی بحران کا مقابلہ کرنے کے لئے ۔عمران خان صاحب نے جو اعلان کیا ہے کہ وہ وزیراعظم  ہاؤس میں نہیں جائیںگے۔ مجھے امید ہے کہ وہ سادگی کو اپنائیںگے ،ملکی مصنوعات کو استعمال کرنے کا اعلان کریںگے ،باہر کی مصنوعات کو نہیں خریدیں گے تاکہ زرمبادلہ بچ سکے ۔بلاتفریق کرپشن کے خلاف اقدام ہوگا امن وامان کے لئے کام ہوگا نیشن بلڈنگ کا کام کرینگے ایک قوم بنے گے ایک طاقتور قوم بنے گے ۔گلگت بلتستان کے نمایندے یہاں موجود ہیں جو وہاں کی اپوزیشن لیڈرہیں کیپٹن شفیع صاحب میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ یہاں تشریف لائے اور میں اعلان کرتا ہوں پورے مجمعے کی جانب سے کہتا ہوں ہم گلگت بلتستان کے مظلوموں کے ساتھ ہیں میں دنیا میں بسنے والے پاکستانیوں سے اور حسنیوں سے خاص طورپر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب نئی حکومت آئے تو باہر سے زرمبادلہ بھیجو پیسے بھیجو تاکہ ہمیں قرضے نہیں لینے پڑیں ۔تاکہ ہمیں اپنی سالمیت پر کمپرومائز نہ کرنا پڑے تاکہ ہمیں ان عالمی معاشی دہشتگردوں کے آگے نہ جھکنا پڑے ۔پوری دنیا میں بسنے والے پاکستانیوں خاص کر حسینیوں سے گذارش ہے کہ یہاں پیسہ بھیج دیں زرمبادلہ بھیج دیں اور انشااللہ جب حکومت اعلان کرے گی تو ہم حمایت کرینگے ایک اچھی ٹیم بنانی چاہیے بہترین ٹیم بنانی چاہیے تاکہ ڈیلیور کرے اور جو ڈیم بنانے کا اعلان ہے اور نئی حکومت آکر اعلان کرے گی انشااللہ ہم بھی اس میں بھر پو رحصہ ڈالے گے ۔پاکستان بنایا تھا پاکستان بچاینگے کوئٹہ میں ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی کراچی میں ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی لیکن مایوس مت ہونا ہم انشااللہ الیکشن کمیشن میں جاینگے کوٹ میں جاینگے اپنے حقوق کے لئے پچھے نہیں ہٹے گے ۔مایوس نہیں ہونا نامید نہیں ہونا کل کی نسبت آج ہمارا بہت بہتر ہے اور آنے والا کل اس سے بھی بہترہوگا انشااللہ انشااللہ اے امام زمان ؑ گواہ رہنا اے یوسف زہرا ؑ گواہ رہنا ہم تیرے باوفا پیرو ہیں ۔۔۔

وحدت نیوز (آرٹیکل)  ویژنری شخصیات کا اکھٹ دھرنوں سے لیکر سیاست تک نئے پاکستان کے نعرے اور عزم کے ساتھ کامیابی ہونے والی جماعت پی ٹی آئی وزارت عظمی کے لئے نامزد امیدوار عمران خان سے ملاقات کے لئےامریکہ کے علاوہ بہت سے قابل الذکرممالک کے سفیر وں نے ملاقات کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔بات صرف سفیر کی نہیں بلکہ اس وقت امریکی اسٹیٹ ڈیپارنمنٹ کا رویہ بھی روکھا سا ہے تو عالمی بینک سے پاکستان کے لئے ممکنہ قرضے کو لیکر پہلے سے ہی امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پیمپیو نے تحفظات دیکھانے شروع کردیے ہیں ۔بات دراصل یہ ہے کہ امریکہ کی عمران خان یا پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی ذاتی مخاصمت تو نہیں ہے جو کچھ ہے وہ اس خطے کے بارے میں امریکی نئی پالیسی اور پاکستان بعنوان ریاست کے اس پالیسی کواپنے قومی مفاد کے خلاف سمجھنا ہے ۔لیکن گذشتہ دو جماعتوں کے بارے میں اس بات کا امکان موجود تھا کہ وہ کسی نہ کسی لیول پر امریکہ کے ساتھ کمپرومائز کرسکتیں تھیں جو اب ختم ہوچکا ہے ۔عمران خان کاسلوگن پاکستان کا استحکام اور بیرونی مداخلتوں کو قبول نہ کرنا ہے جسے وہ نیا پاکستان کے نام دے دہا ہے یقینا یہ نیا پاکستان کسی بھی اعتبار سے خطے اور خاص کر افغانستان و پاکستان کے بارے میں نئی امریکی پالیسی کے بالکل مد مقابل کھڑا ہے ۔

کہا جاسکتا ہے کہ خان کی نوخیز حکومت امریکہ کے ساتھ بچ بچاو کی پالیسی کو ترجیح دے گی نہ تو وہ مزید خلش پیدا کرنا چاہے گی اور نہ ہی امریکہ کے قریب جانا چاہے گی کیونکہ دونوں صورتوں میں نئے پاکستان کی تشکیل کا بنیادی ہدف متاثر ہوسکتا ہے ۔عمران خان کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ بہت سی قیادتی خامیوں کے باوجود وہ ایک ویژنری لیڈر ہیں اور اپنے مقصد کا پچھا کرنے کی اچھی صلاحیت رکھتے ہیں گرچہ ان میں افراد شناسی کو لیکر بڑی خامیاں پائی جاتیں ہیں جس کا تجربہ شائد وہ اپنی نجی زندگی میں بھی کرچکے ہیں ۔خان کے ساتھ پارلیمان سے ہٹ کر دو اور دینی ایسی قیادتیں موجود رہی ہیں جو بہت سے ایشوزمیں ان کی اچھی اتحادی شمار ہوتی ہیں اور سب سے اہم چیز یہ ہے کہ یہ دونوں قیادتیں ملک کے مستقبل کے بارے میں ایک ویژن رکھتی ہیں ۔علامہ ڈاکٹر طاہر القادری اور علامہ راجہ ناصر عباس جعفری دو الگ مسلکوں سے تعلق رکھنے والی وہ شخصیات ہیںجو خاص مسلک کی نمایندگی رکھنے کے باوجودان کا ویژن وسیع اور ہمہ گیر ہے ۔

ان شخصیات کو دھرنے کے دوران بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ جو عمران خان کے ساتھ کھڑ ی تھیں اور شنید یہ بھی ہے کہ اس دھرنے کی درست مینجمنٹ اور بھونڈے اختتام سے بچانے میں ان سے ایک شخصیت کا انتہائی اہم کردار رہا ہے کہ جس کی دور رس نگاہیں کہتی تھی کہ اس کا نتیجہ سیاسی خودکشی کی شکل میں نکل آئے گا ۔علامہ قادری کے حالیہ انتخابات میں عدم شرکت اور زیادہ تر وقت بیرون ملک گذارنے کے سبب ہوسکتا ہے کہ کوئی بہت زیادہ کردار نئے پاکستان کی تشکیل میں دیکھائی نہ دے۔علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کہنے کو تو ایک مذہبی رہنما ہیں لیکن مذہبی رہنماوں کے بارے میں جو عام تاثر پایا جاتاہے اس سے بالکل الگ تھلگ ان کی شخصیت ہے ۔قرآن و سنت کے علوم پر وسیع اور گہری عمیق دسترس رکھنے کے علاوہ ایک دانشور اور مفکر ہیں کہ جن کی نگاہ ہمیشہ آنے والے حالات کو وقت سے پہلے پرکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے وہ نہ صرف اس خطے کے حالات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں بلکہ عالمی حالات پر بھی ان کہ گہری نگاہ ہواکرتی ہے ۔ان کا وسیع تر مطالعہ اور چار اہم زبانوں انگلش ،عربی فارسی اور اردو سے واقفیت کے ساتھ ساتھ پولیٹکل سائنس پر گرفت تو دوسری جانب تقریبا دس سالوں سے اپنی جماعت کی قیادت اور مختلف بحرانوں کے کنٹرول کی صلاحیت نے ان کی شخصیت کے کئی پہلو نمایاں کردیے ہیں ۔

ان کے بارے میں مشاہدات کچھ یوں ہیں کہ وہ سوچتے ہیں تو ایک پائے کے دانشور لگتے ہیں ،بحرانوں میں ایک زبردست لیڈر دیکھائی دیتے ہیں دینی حلقوں میں ایک زبردست عالم دین اور استاد و معلم جبکہ عام سماجی تعلقات میں ایک اچھے دوست ۔اس کی جماعت کے عام کارکن انہیں مرد قلندر اور خاک نشین کہتے ہیں کیونکہ وہ تمام تر پروٹوکولز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے کارکنوں میں جلد گل مل جاتے ہیں ۔گذشتہ روز دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہونے والی حمایت مظلومین کانفرنس میں جو کچھ ان اس خطےخاص کر پاکستان کے حالات کے بارے میں انہوں نے کہا وہ انتہائی قابل توجہ ہے ان کا کہنا تھاکہ جس سیاسی لیڈرشب کا پیسہ بیرون ممالک میں ہے اور ان کے مفادات ان ملکوں سے وابستہ ہیں وہ ان کی پالیسیوں کے آگے جھکنے پر مجبور ہونگے ۔’’ان کا پیسہ وہاں پر ہے یہ لوگ عالمی قوتوں کے آگے دبتے ہیں کیونکہ ان کی کمزوریاں ان کے پاس ہیں ۔ان کی کرپشن کی فائلیں ان کے پاس ہیں ،ان کے اربوں روپےوہاں پر ہیں ۔ لہذا یہ عالمی قوتوں کےnationals interest قومی مفاد کے لئے کام کرتے ہیں اور اپنے ملک کے قومی مفادات کے ساتھ سودے بازی کرتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان بحرانوں کا شکار ہے ‘‘پاکستان کے بارے میں جو کچھ انہوں نے کہا وہ موجود صورتحال میں انتہائی توجہ طلب ہے  ’’پاکستان ایشیا کا دل ہے پانچ ارب انسان کےcollectiviti  اکھٹ کا مرکز ہے ،پانچ ارب انسانوں کو آپس میں ملاتا ہے جہاں انرجی کے ذخائر وافر مقدار میں موجود ہیں اور جہاں deficiencyاور ضرورت ہے اور جہاں یہ چیز آپس میں ملتی ہے۔

ایشیا دنیا کا سب سے بڑابراعظم ہے ،وسائل کے اعتبار سے بھی آبادی کے اعتبار سے بھی تہذیبی اعتبار سے بھی ،لیبر بھی سستی ہے ۔ اہم مہارتوں کے اعتبار سے بھی اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی ایشیا میں ہیں ۔اور دنیا کے تمام بڑے مذاہب کا مرکز بھی ایشیا ہے ،یہودیت یہاں پیدا ہوئی، عیسائیت یہاں پیدا ہوئی اسلام یہاں پیدا ہوا ،ہندوازم ،بدھ ازم ،سیکھ ازم ،حتی کہ کیمونزم بھی ایشیا سے تعلق رکھتا ہے۔ ایشیا بہت امیر خطہ ہے ، طول تاریخ میں پاور ایشیا اور یورپ کے درمیان شفٹ ہوتی رہی ہے۔ اس وقت پاور کا سرکل ایشیا کی طرف آرہا ہے ۔امریکہ یورپ اور اس کے حامی اس طاقت کی منتقلی کو روکنا چاہتے ہیں۔ سست کرنا چاہتے ہیں اور اپنے غلبے کو باقی رکھنا چاہتے ہیں ۔اسی بنیاد پر ایشیا کے جو اہم حصے ہیں ان کو destabilize غیر مستحکم کررہے ہیں اور گریٹر میڈل ایسیٹ بنارہے ہیں ۔توجہ چاہتا ہوںمیں ان دنوں ایک کتاب پڑھ رہا ہوں a peace to end all peaceیعنی امن پورے امن کے خاتمے کے لئے یہ David Fromkin کی کتاب ہے جو امریکی ہے جس نے 1914سے لیکر 1922تک پہلی عالمی جنگ کے بارے میں یہ کتاب لکھی ہے ۔جس میں وہ لکھتا ہے یورپین یہ کہتے تھے کہ پہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں ماڈرن میڈل ایسٹ پیدا ہوگا  اور وہ افریقی ممالک سے لیکر افغانستان اور وسطی ایشیا تک تھا جو دوسری جنگ عظیم میں اسرائیل بنے پر مکمل ہوا اور مسلمان ممالک چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم ہوگئے ۔

آپ دیکھ لیں افریقہ کے مسلمان ممالک سے لیکر وسطی ایشیا کے مسلمان ممالک یہ آبای آپس میں جڑی ہوئی ہے اور اس مسلمانوں کی طاقت کو توڑ دیا گیا ۔ان کے اندر کیمونسٹ مومنٹس شروع کی گئیں نیشنلسٹ مومنٹس شروع کیں گئی تاکہ اسلامی سوچ مرجائے اور یہ الگ الگ ہوجائیں ۔کوئی ایرانی نیشنلسٹ کوئی عراقی نیشنسلٹ کوئی ترک نیشنلسٹ کوئی عرب نیشنلسٹ ۔۔کیا کیا بن جائے دوستو اب جو گریٹر میڈل ایسٹ کی بات ہورہی ہے تو بالکل وہی علاقہ ہے جو پہلے ماڈرن میڈل ایسٹ کہلایا تھا یعنی مراکش سے لیکر افغانستان اور سنٹرل ایشیا تک اس کو reshapeتشکیل نو کرناچاہتے ہیں اور اگر وہ reshape اس کی دوبارہ تشکیل نہ کرسکے تو امریکہ ٹوٹ جائے گا ،یورپ بھی ایسے نہیں رہے گا ‘‘۔اب اہم سوال یہ ہے عمران خان نئے پاکستان کے سامنے موجود ان مشکلات کا مقابلہ کرنےکے لئے کس قسم کی ٹیم کو لیکر میدان میں اترتے ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ جس وقت انہوں نے ولڈکپ جیتا تھا تو ٹیم انہوں نے خود تشکیل دی تھی اور اسے ایسے کھلاڑی میسر آئے تھے کہ جنہوںنے فتح دلانے میں کردار ادا کیا تھا تو کیا اس بار میدان سیاست میں بھی وہ ایک ایسی ٹیم تشکیل دے پاینگے ؟اور کیا اس وقت ان کے پاس اس قسم کی ٹیم موجود ہے ؟اگلے چھ ماہ ہی ہمیں عملی طور پر ان سوالات کا جواب فراہم کرینگے ۔۔۔ہمیں ایک بات یاد رکھنی ہوگی کہ نیا پاکستان کسی ایک شخص یا جماعت کی بس کی بات نہیں بلکہ پوری قوم کے مل جانے سے ممکن ہوگا اسی طرح عالمی طاقتوں کی پاکستان کو لیکر مزید دباو بڑھانے اور مشکلات میں اضافہ کرنے کی کوشش بھی کسی ایک شخص یا جماعت کے سبب نہیں بلکہ ریاست پاکستان کیخلاف ہے لہذا پوری ریاست ہی ان موجودہ و ممکنہ بحرانوں کا مقابلہ کرسکتی ہے ۔  


تحریروتحقیق: حسین عابد

وحدت نیوز(اسلام آباد)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیراہتمام قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی 30ویں برسی کا عظیم الشان اجتماع پریڈ گراونڈ میںمنعقد کیاگیا، پنجاب بھر سے بھرپور اورملک بھر سے نمائندہ وفود نے شرکت کی، اجتماع عام میں علمائے کرام، قائدین اور اکابرین نے بھرپور شرکت کی، برسی کے اجتماع میں خواتین اور بچے کی بڑی تعدادہاتھوں میں قومی وتنظیمی پرچم تھامے شریک ہوئی۔ اس بار برسی کا مرکزی پروگرام شام 5بجے شروع ہوا جوکہ نماز مغربین کےمختصر وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوا۔ انتظامیہ کی جانب سے شرکاء کے لئےہزاروں کرسیاں لگا دی گئی تھیں جبکہ کئی اسٹالز بھی لگائے گئے تھے جن پر قائد شہید کے افکار کے حوالے سے جرائد و رسائل رکھے گئے ہیں۔ برسی کے پروگرام سے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری اور دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا۔ اس بار برسی کے پروگرام میں ’’حمایت مظلومین کانفرنس‘‘ بھی رکھی گئی جس کا مقصد یمن ،بحرین، کشمیر، افغانستان کے بےگناہ مظلومین پر مسلط کی گئی جنگ کے خلاف آواز اٹھاناتھا۔
 
حمایت مظلومین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ باقر زیدی نے کہا کہ معاشی مشکلات سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ایسی جامع پالیساں مرتب کرنا ہوں گی جس سے عام طبقے کا نظام زندگی بہتر ہو سکے۔مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد نقوی نے کہا کہ عوام کے منتخب نمائندے شاہانہ رہن سہن کی بجائے سادگی کو اپنائیں تاکہ عوام کا دیا ہوا ٹیکس قومی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کیا جا سکے اورقومی خزانے کا بے جا ضیاع نہ ہو ۔علامہ شبیر بخاری نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے پُرکشش مواقع موجود ہیں ۔ماضی میں ملک کو عدم استحکام کا شکار کربیرونی سرمایہ کاروں کو دانستہ طور پر ملک سے دور رکھا گیا ۔نئی حکومت سے توقع ہے کہ وہ بیرونی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرے گی تاکہ ملک معاشی خوشحالی کی طرف گامزن ہو۔حلقہ پی بی 30 کے امیدوار سید آغٖا محمد رضا نے کہا کہ ہم اس حلقہ میں انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہیں۔حلقہ پی ایس 89 کے امیدوار علی حسین نقوی نے کہا کہ عوام کے مینڈیٹ پر شب خون نہیں مارنے دیا جائے گا۔ مذکورہ حلقے میں مخالف امیدوار کو دھاندلی سے جتایا گیاجس کے خلاف تمام قانونی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔کانفرنس میں علامہ امین شہیدی، علامہ مختار امامی،علامہ اعجاز حسین بہشتی،علامہ برکت مطہری،علامہ اقتدار نقوی، علامہ مبارک موسوی،نثار فیضی،علامہ اقبال بہشتی ،علامہ شبیر بخاری،نثارفیضی ، ملک اقرارحسین اور علامہ ذوالفقار سمیت دیگر مرکزی و صوبائی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔تقریب میں ہزاروں کارکناں سمیت بزرگوں ،خواتین اور بچوں نے بڑی تعداد موجود تھی۔شرکا نے امریکہ اور اسرائیل سمیت استکباری قوتوں کے خلاف زبردست نعرے بازی بھی کی۔

وحدت نیوز (اسلام آباد)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے شہید علامہ عارف حسین الحسینی کے 30ویں برسی کے اجتماع سے خطاب میں کہا ہے کہ امام علی علیہ اسلام نے وصیت کی کہ ظالموں کا مخالف اور مظلوموں کا حامی بن کر رہنا، شہید قائد مولا علی علیہ اسلام کے سچے بیٹے تھے، جنہوں نے ظالموں کے گریبانوں میں ہاتھ ڈالا تھا، اسی وجہ سے انہیں شہید کیا گیا، وہ پاکستان کی سرزمین پر مظلوموں کو جمع کرکے انہیں طاقتور بنانا چاہتے تھے، شہید کی قیادت مظلوموں کو طاقتور بنانے کے لئے تھی، شہید کو دیکھ کر ہمت ملتی تھی، طاقت ملتی تھی، شہید دشمن شناس تھے، وہ امریکہ کو سب سے بڑا دشمن سمجھتے تھے، پاکستان کی سرزمین پر مردہ باد کا نعرہ لیکر پہنچے۔ علامہ ناصر عباس نے کہا کہ شہید قائد امریکہ اور اسرائیل کے دشمن تھے، وہ پاکستان کا استقلال چاہتے تھے، پاکستان کی ترقی و پیش رفت چاہتے تھے، ایک خود مختار ملک چاہتے تھے، وہ چاہتے تھے کہ پاکستان کے فیصلے اسلام آباد میں ہوں، شہید قائد ایک باوقار ملک چاہتے تھے۔ امام خمینی کے بعد شہید عارف جیسا کوئی رہبر نہیں تھا، دشمن جانتا تھا کہ اگر اسی طرح عارف حسینی چلتا رہا تو ان کے لئے مسئلہ بنے گا، وہ دوسرا امام خمینی نہیں چاہتے تھے، شہید عارف شیعہ سنی وحدت کو لیکر آگے بڑھ رہے تھے، دشمن کے لئے وہ بہت خطرناک تھے، دشمن پر واضح تھا کہ جب تک شہید قائد کو اپنے راستے سے ہٹا نہیں لیتا، تب تک وہ اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔

علامہ ناصر عباس نے کہا کہ قائد شہید امام خمینی کے سچے پیروکار تھے۔ 30 سال بعد بھی قائد شہید کی محبت میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، امریکہ مردہ باد کا نعرہ ایک حکمت عملی ہے، جو قائد شہید نے متعارف کرائی۔ شہید کے راستے پر چلتے رہیں گے اور اپنی استقامت سے دشمن کو مایوس کرتے رہیں گے۔ شہید کو اس لئے قتل کیا گیا کیونکہ شہید اتحاد و وحدت کے داعی تھے، عالمی استکباری قوتوں نے انہیں شہید کرایا، کیونکہ وہ ان کے غلبے کے لئے چیلنج تھے۔ دشمن نے قائد شہید کو قتل کرکے ہمارا سر کاٹا تھا، اگر اس وقت کھڑے ہوتے تو آج یہ حالات پیدا نہ ہوتے۔ زمانے کے یزید کج فہم اور اندھے ہوتے ہیں، وہ یہ سوچتے ہیں کہ شہادتوں سے تحریکیں رک جاتی ہیں یا حوصلے ٹوٹ جاتے ہیں، لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ شہید کے خون نے کربلا کے سرخ لیکر کو پاکستان تک کھینچا ہے۔ شہید دین و سیاست کو اکٹھا سمجھتے تھے، وہ جدائی کے قائل نہیں تھے۔ مجلس وحدت کی تاسیس کے بعد مکتب اہل بیت کے ماننے والوں کی طاقت اور قدرت میں اضافہ ہوا ہے، آواز میں طاقت پیدا ہوئی، دشمن ہماری سیاسی، سماجی اور معاشی طاقت توڑنا چاہتا تھا، ہمیں مایوس کرنا چاہتا تھا۔ ہم شہید کے راستے پر چلتے ہوئے دشمن کو سماجی اور سیاسی حوالے سے تنہا کریں گے، یہ عوام کی طاقت ہے۔

سربراہ ایم ڈبلیو ایم نے اپنی جماعت کی سیاسی پایسی بتاتے ہوئے کہا کہ اس الیکشن میں ہمارے اسٹریٹیجک گولز تھے، وہ یہ تھا کہ کمپرومائزڈ سیاسی لیڈرز آگے نہ آسکیں، وہ جن کے کاروبار برطانیہ اور بھارت میں ہیں، وہ جو اپنے مفادات کی وجہ سے پاکستان کے مفاد پر سودہ بازی کرتے تھے، ان کے لئے کام کرتے تھے، ان کو شکست دینا تھا، مجلس کی پالیسی تھی کہ بھارت اور امریکہ کی پالیسی کو آگے بڑھانے والوں کو شکست ہو اور ہماری یہ پالیسی کامیاب رہی۔ امریکہ، بھارت اور اسرائیل کے اتحادیوں کو شکست ہوئی، ہم نے پی ٹی آئی کا ساتھ دیا۔ عمران خان سے کہا ہے کہ آزاد خارجہ پالیسی ہونی چاہیئے، ہمسایوں اور علاقائی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں گے۔ ہم نے مدتوں بعد نسیم اور امید کو چلتے ہوئے دیکھا ہے، تکفیریت کو شکست ہوئی ہے۔ علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ ہم نے ناعاقبت اندیشن افراد کی مذمت کرتے ہیں، جو یتیمان آل محمد کے قاتلوں کے ساتھ بیٹھے ہیں، ان لوگوں نے قوم سے خیانت کی ہے، یہ چھپ کر ملاقات کرتے رہے ہیں، جن کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ ہم پاکستان میں ایمان رکھتے ہیں کہ کسی بھی مسلک کا ماننے والا کافر نہیں ہے، سب مادر وطن کے بیٹے ہیں، لیکن قاتلوں کے ساتھ کوئی شریف اور عزت رکھنے والا نہیں بیٹھا کرتا، گھٹیا اور پست انسان تکفیریوں کے ساتھ بیٹھا کرتا ہے۔

سربراہ ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ موجودہ الیکشن کمیشن کا چیئرمین نون لیگ اور اپوزیشن نے بنایا تھا، الیکشن کی ساکھ پر سوال اٹھا کر انہوں نے الیکشن کو جان بوجھ کر متنازعہ بنایا ہے، اپوزیشن نے خیانت کی ہے۔ ہمیں بھی نقصان پہنچایا گیا ہے، ہم امریکہ، بھارت اور آل سعود کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹکتے رہیں گے، ممکن ہے کہ یہ حکومت بننے میں مشکل ایجاد کریں، عراق، لبنان میں یہ مشکل جاری ہے۔ ہم کشمیری اور فلسطینی مظلوموں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ان کے ساتھ ہیں۔ چلاس میں بچیوں کے اسکولز جلائے جا رہے ہیں، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں، ہم مسلحانہ جدوجہد کرنے کو جائز نہیں سمجھتے۔ گلگت بلتستان کے عوام اپنی شناخت مانگتے ہیں، ان کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے، وہاں کا وزیراعلیٰ اس عمل میں شامل ہے۔ نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی سمندر پار پاکستانیوں اور حسینیوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ پاکستان پیسے بھیجیں، تاکہ ملک قرضوں کی دلدل سے نکلے، نئی حکومت ڈیم بنانے کی مہم چلائے گی تو ہم بھرپور ساتھ دیں گے۔ الیکشن کا حوالہ دیتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ کوئٹہ اور کراچی میں ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی، ہم کورٹ میں جائیں گے، آنے والے دن ہمارے لئے بہتری کی نوید لیکر آئیں گے۔

سربراہ ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ عمران خان سے کہا ہے کہ افغانستان، ایران، ترکی، عراق، چین اور روس کے ساتھ اتحاد بنائیں۔ عراق میں 20 لاکھ پاکستانیوں کو بھیجا جاسکتا ہے، ایسا وزیر خارجہ ہونا چاہیئے جو علاقائی اور جغیرافیائی صورتحال سے آگاہ ہو۔ شام کے اندر بھی تعمیر نو ہو رہی ہے، ہمیں جانا چاہیئے، وہاں بھارت جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاون کے ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچانا ہوگا، رانا ثناء اللہ اور شہباز شریف اس سانحہ کے مجرم ہیں، ان کو سزا ملنی چاہیئے۔ پنجاب کا ابن زیاد شکست کھا چکا ہے، جس میں مکتب اہل بیت کے ماننے والوں کا مرکزی کردار ہے۔ اپوزیشن کو متنبہ کرتا ہوں کہ اگر ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی تو ملک کے باوفا بیٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ ہم یمن کے مظلوموں کی حمایت کرتے ہیں اور ان کے حوصلوں اور ہمت کو سلام پیش کرتے ہیں، چالیس ماہ ہوگئے، وہ دشمن کے آگے ڈٹے ہوئے ہیں، سارے ممالک سعودی قیادت میں ایک ساتھ ہیں، لیکن یمنیوں کی مقاومت کو نہیں توڑ سکے۔ یمن میں امریکہ، اسرائیل، فرانس اور سعودی عرب کو شکست ہوگئی ہے۔ لبنان اور شام میں بھی ان کو شکست ہوچکی ہے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کے صاحبزادے حسین الحسینی نےمجلس وحدت مسلمین کے تحت برسی شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کے مرکزی اجتماع سے خطاب میں کہا ہے کہ شہید کے ماننے والے پیرو آج بھی حاضر ہیں، ان کی حاضری اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا ویژن اور فکر زندہ ہے، امام خمینی نے کہا تھا کہ شہید کی فکر کو زندہ رکھیں، پاکستان کی سرزمین پر ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس کام کو آگے بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ مدرسوں اور گھروں میں بیٹھنے سے کچھ نہیں ہوگا، میدان عمل میں آنا ہوگا، اتحاد کا نعرہ بلند کرنا پڑے گا، میں تاکید کرتا ہوں کہ قائد شہید کے افکار کو زندہ رکھیں اور میدان میں حاضر رہیں۔

وحدت نیوز (اسلام آباد)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی 30 برسی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن قوتوں نے سمجھا تھا کہ قائد عارف حسین الحسینی کو شہید کرکے وہ ان کی فکر کو ختم کر دیں گے لیکن ایسا نہ ہوا، کیوںکہ ان کی فکر امام حسین علیہ السلام اور امام علی علیہ السلام کی فکر تھی، جو اللہ کی فکر تھی، اس کو کوئی کیسے ختم کرسکتا ہے۔؟ تیس سال گزرنے کے باوجود شہید کے پروانے ان کی فکر کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، قائد شہید کا راستہ نہیں چھوڑیں گے۔ شہید قائد کے معنوی فرزندوں نے اپنے قائد کا پرچم گرنے نہیں دیا، ہم عہد کرتے ہیں کہ اپنے خون سے اس فکر کو آگے بڑھائیں گے۔ شہید کی فکر امت اور ملت کی تربیت کر رہی ہے۔

علامہ احمد اقبال نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور  بعض عرب ریاستیں جو شہید کی فکر کو ختم کرنا چاہتی تھیں، لیکن شیہد کے فرزندوں نے ان کو اپنے ارادوں میں ناکام بنا دیا ہے، آنے والی نسلیں اس فکر کو لیکر آگے بڑھیں گی، شہید کا نظریہ اسلام کا نظریہ ہے، جس میں کبھی کمزوری نہیں ہونے والی۔ علامہ عارف اخلاص کا پیکر تھے، انہوں نے لوگوں کو اپنی جانب نہیں بلکہ اسلام کی طرف بلایا ہے، اللہ کی طرف بلایا۔ ان کی زندگی کا خلاصہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بابصیرت انسان تھے، انہیں معلوم تھا کہ دشمن ملکی اور عالمی سطح پر عالم اسلام کے خلاف کیا سازشیں کر رہا ہے، انہیں معلوم تھا کہ اسلام کے خلاف دشمن امریکہ، بعض عرب ریاستیں اور تکفیری سوچ رکھنے والے کیا سازشیں کر رہے ہیں۔

ایم ڈبلیو ایم کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ شہید کا نظریہ جہد مسلسل کا نام ہے، آگے بڑھنے کا نام ہے۔ عارف حسینی نے امام خمینی کی فکر کو آگے بڑھایا، پسے ہوئے طبقے کو اٹھایا، مظلوموں کی آواز بنے۔ شہید میدان عمل کے مرد مجاہد تھے۔ ایک ایسے عالم تھے تو جو میدان عمل میں دشمن کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھے۔ مجلس وحدت سیاسی میں میدان میں وارد ہوگی، مکمل رول ادا کرے گی، خارجہ پالیسی سے لیکر داخلہ پالیسی تک اپنا اثرورسوخ پیدا کریں گے، اپنے ملک کو بیرونی طاقتوں سے آزاد کرائیں گے۔ اقبال و قائداعظم کی سوچ کو آگے بڑھائیں گے۔ ہم تکفیریت کو پاکستان کا دشمن سمجھتے ہیں، ان کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہیں نہ ٹیکیں گے۔ ہمیں مجبور کیا گیا کہ تکفیری لوگوں سے ملیں، لیکن ہم نہیں ملے۔ نہ ہی ہم تکفیری سوچ کے حامل لوگوں سے کبھی ملیں گے۔ میدان سیاست کا کارواں قائد شہید کے ویژن کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔

وحدت نیوز (سکردو)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سربراہ آغا علی رضوی نے دیامر میں ہونے والے حالیہ افسوسناک واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ دیامر کے عوام کے خلاف گہری عالمی سازش ہے اور اسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیامر کے عوام کو تعلیمی میدان میں پیچھے رکھنے کی ہر سطح پر سازشیں ہو رہی ہیں، عوام ان سازشوں کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔ دیامر چلاس میں تعلیمی اداروں کو نذر آتش کرنے والے چاہتے ہیں کہ تعلیمی طور پر یہ علاقہ پسماندہ رہے اور ساتھ میں علاقے کی پرامن ساکھ بھی خراب ہو۔ حالیہ افسوسناک واقعے کے ذریعے دیامر کے عوام کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش کی ہے۔ ہم اپنے دیامر کے بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ دیامر کے عوام محبت کرنے والے اور تعلیم دوست ہونے کے ساتھ ساتھ پرامن بھی ہیں۔ چند شر پسند افراد چاہتے ہیں کہ یہ علاقہ تعلیمی طور پر پسماندہ رہے اور خطے کی ساکھ خراب ہو۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو چاہیئے کہ اس پسماندہ علاقے کی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے آگے بڑھیں۔ ہر دور کی حکومت نے دیامر کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایا ہے۔ عوام اور جوان دیامر کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لئے جو بھی اقدام اٹھائیں ہم ان سے دس قدم آگے ہونگے۔ تعلیمی انقلاب و پیشرفت کے لئے دیامر کے عوام کا جہاں پسینہ گرے گا وہاں ہم اپنا خون بہانا سعادت سمجھتے ہیں۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ خطے کے عوام اتحاد و محبت کی فضاء کو قائم رکھیں اور تمام تر سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ جب تک خطے میں تعلیمی انقلاب نہیں آئے گا، امن و بھائی چارگی کی فضاء قائم نہیں رہے گی خطے میں ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

Page 10 of 878

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree