The Latest

وحدت نیوز (لاہور)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی نے لاہور کی مال روڈ پر فیصل چوک میں یوم القدس کی مناسبت سے نکالی جانیوالی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے غیور عوام نے آج امام خمینی کے حکم پر اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کیساتھ اظہار یکجہتی کرکے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہمیشہ حق کیساتھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے غیور عوام آج شدید گرمی میں روزے کی حالت میں بھی اپنے بھائیوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے نکلے ہیں، پاکستان نے پہلے روز سے ہی اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا تھا اور آج بھی ہمارے گرین پاسپورٹ پر یہ عبارت درج ہے کہ یہ پاسپورٹ اسرائیل کیلئے قابل استعمال نہیں، پاکستانی آج بھی اسرائیل کے نجس وجود سے نفرت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حسین (ع) کے فرزند امام خمینی نے 38 سال قبل ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ یوم القدس منا کر پوری دنیا اسرائیل سے اظہار نفرت کرے، آج امام خمینی (رہ) کی دور اندیشی واضح ہو گئی ہے، آج ہر غیرت مند مسلمان فلسطین کے مظلوموں کی حمایت میں سینہ سپر ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبر معظم سید علی خامنہ ای نے اسرائیل کی نابودی کیلئے ٹائم فریم دے دیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ آئندہ 25 سال میں اسرائیل صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا، جس کے بعد اسرائیل میں کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک ناپاک اور غیر قانونی ریاست ہے جس کا خاتمہ لازم ہے، امام خمینی نے امت کو اتحاد کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تمام مسلمان حکمران ایک ایک بالٹی پانی ہی اسرائیل کی جانب بہا دیں تو یہ اس میں ہی غرق ہو کر ختم ہو جائے گا۔ انہوں نےکہا کہ فلسطینیوں کی آزادی بہت قریب ہے، وہ جلد ہی آزادی کا سورج دیکھیں گے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد)  مجلس وحدت مسلمین اور آئی ایس او پاکستان کے زیر اہتمام عالمی یوم القدس انتہائی جوش وجذبے کے ساتھ منایا گیا، اس سلسلے میں اسلام آباد، لاہور ، کراچی، پشاور، کوئٹہ، ملتان، مظفر آباد اورگلگت بلتستان سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ریلیوں کی قیادت ایم ڈبلیو ایم اور آئی ایس او کے مرکزی ،صوبائی اور ضلعی قائدین نے کی۔اسلام آباد کی مرکزی القد س ریلی سے خطاب کر تے ہوئے سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ ہم فلسطین کی اسلامی شناخت کو ختم نہیں ہونے دیں گے یہ اسلامی رہے گا ۔عالمی استعمار اور صہیونی قوتیں بیت المقدس کو یہودی بنا نا چاہتی ہیں ہم ایسا نہیں ہونے دیں گئے ہم مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ ہیں ان کے حقوق کی بازیابی کے لئے ساتھ ہیں القدس ریلیاں درحقیقت مقاومت کی علامت ہیں اس سے دنیا بھر میں شعور پیدا ہو رہا ہے اور ہر سال اس میں اضافہ ہور ہارہے۔

 ان کا مذید کہنا تھا کہ اسلامی جمہوری ایرا ن واحد ملک ہے جس نے مسئلہ فلسطین کو زند ہ رکھا ہے اور ہر ممکن مدد کر رہا ہے ۔نیل فرات تک کا خواب دیکھنے والا اسرئیل آج اپنے گرد دیواریں بنانے پر مجبور ہے امام خمینی نے بتایا تھا کہ بیت المقدس کی آزادی مقاومت اور مزحمت کے بغیر نا ممکن ہے اسرائیل کسی صورت مزاکرات سے فلسطین اور بیت المقدس سے دست برادار نہیں ہو گا ،اسرائیل کی مایوسی اور امریکہ کو عزائم میں ناکامی درحقیقت ان استعماری قوتوں کی شکست ہے جو امت مسلمہ کو سرنگوں دیکھنے کے لیے بے چین تھے۔ظلم کے خلاف ٹکراؤ کا جواعلان عظیم قائد امام خمینی نے کیا تھا آج ان کے انقلابی بیٹے ان کے پرچم کو اٹھائے میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں اور کفر و باطل کے خلاف ہمیشہ میدان میں حاضر رہیں گے۔

 انہوں نے کہا کہ اس وقت فلسطین، کشمیر، برما سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کوبدترین ظلم و بربریت کا سامنا ہے دیگر مقررین نے اپنے خطابات میں مظلوم فلسطینیوں پر صیہونی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے دنیا بھر کے مظلومین کی حمایت کا اعادہ کیا۔شرکاء نے احتجاجی بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیل،امریکہ اور بھارت مخالف نعرے درج تھے۔مظاہرین نے طاغوتی طاقتوں کی جارحیت اور اسلامی ممالک میں مداخلت کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے شدید نعرہ بازی کی احتجاجی مظاہرے کے اختتام پر امریکہ و اسرائیل کے پرچم اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پتلے بھی نذر آتش کیے گئے۔

اعتکاف، مظہر عبودیت و بندگی

وحدت نیوز (آرٹیکل)  لغت میں اعتکاف سے کسی جگہ توقف کرنے کو کہا جاتا ہے۔فقہی اصطلاح میں اعتکاف سے مراد انسان کا عبادت خداوندی کی قصد سے  مسجد میں کم از کم تین دن تک بیٹھنا ہے۔ اعتکاف کے لئے شریعت میں کوئی خاص وقت معین نہیں لیکن احادیث کے مطابق اس کا بہترین وقت ماہ مبارک رمضان اور خاص طور پر اس مہینے کے آخری دس دن ہیں۔ اعتکاف اگرچہ ایک مستحب عمل ہے لیکن دو دن معتکف رہنے کے بعد تیسرے دن کا اعتکاف واجب ہوگا۔ رمضان المبارک کا مہینہ رحمت، برکت اور مغفرت کا مہینہ ہے۔اس مہینے کا پہلا عشرہ رحمت ، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ دوزخ کی آگ سے نجات کاہے۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : {عَنِ النَّبِيِّ (ص) قَالَ: إِنَّ فِي الْجَنَّۃ بَابًا يُقَالُ لہ: الرَّيَّانُ، يَدْخُلُ مِنْہ الصائمونَ يَوْمَ الْقِيَامَۃِ لا يَدْخُلُ مِنْہُ أَحَدٌ غَيْرُہُمْ۔۔ }1۔جنت کے ایک دروازے کا نام ریان ہے اورقیامت کے دن اس دروازے سے صرف روزہ دار ہی  جنت میں داخل ہوں گے اور ان کے علاوہ کسی دوسرے کو اس دروازے سے داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انسان کی خلقت کا ہدف عبودیت اور بندگی ہے اور اعتکاف اس ہدف کے حصول کے لیے ایک بہترین ذریعہ ہے جس کا خداوند نے قرآن کریم میں اور خاصانِ خدا نے احادیث اور اپنے اعمال و کردار میں تعارف کروایا ہے۔ اعتکاف ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان اپنی فطرت کے نزدیک تر ہوتا ہے اور پھر منزل اخلاص پر فائز ہوکر خداوند منان کا قرب حاصل کرنے میں کامیاب  و کامران ہو جاتا ہے۔اعتکاف کی روح اورحقیقت یہ ہے کہ انسان ہرکام ،مشغلہ ،کاروباراور اہل وعیال کوچھوڑکراللہ کے گھرمیں گوشہ نشین ہو جائیں اورساراوقت اللہ تعالیٰ کی عبادت وبندگی اور اس کے ذکر میں گزاریں۔ اعتکاف کی حقیقت توجہ اور حضورِ قلب ہے۔عبادت خواہ نماز یا روزہ ہو، خواہ اعتکاف، روح عبادت توجہ اور حضور قلب کی برکت سے نصیب ہوتی ہے۔ متدین اور دیندار افراد کے لئے خدا سے ارتباط قائم کرنے کے اہم طریقوں  میں سے ایک طریقہ یہی اعتکاف ہے ۔ اعتکاف انسان ساز ہے ، اور جو انسان بن جاتا ہے وہ اجتماع کو بناتا ہے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:{لا یزال المؤمن فی صلوٰۃ ما کان فی ذکر اللہ عزوجل قائماً کان او جالساً او مضطجعاً }2۔ مؤمن ہمیشہ نماز میں (شمار ہوتا)ہے جب تک وہ اللہ عزوجل کی یاد و ذکر میں رہے چاہے کھڑا ہو یا بیٹھا ہو یا لیٹا ہوا ہو۔ اعتکاف کاثمرہ بھی یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ اوراس کی بندگی کودنیاکی ہرچیز پرفوقیت اورترجیح دے۔

اعتکاف اللہ تعالیٰ کی عبادت وبندگی بجالانے کاایک ایسامنفرد طریقہ ہے جس میں مسلمان دنیا سے بالکل لاتعلق اورالگ تھلگ ہوکراللہ تعالیٰ کے گھرمیں فقط اس کی ذات میں متوجہ اورمستغرق ہوجاتاہے۔ اعتکاف کی تاریخ بہت قدیم ہے۔قرآن پاک میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ ساتھ اس کاذکربھی بیان ہوا ہے۔ارشادِخداوندی ہے:{وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَۃً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِيمَ مُصَلًّی وَعَہِدْنَا إِلَیٰ إِبْرَاہِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَہِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاکِفِينَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ}3۔اور اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے خانہ کعبہ کو ثواب اور امن کی جگہ بنایا اور حکم دے دیا کہ مقام ابراہیم کو مصّلی بناؤ اور ابراہیم علیہ السّلام و اسماعیل علیہ السّلام سے عہد لیا کہ ہمارے گھر کو طواف اور اعتکاف کرنے والوں او ر رکوع و سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک و پاکیزہ بنائے رکھو۔
اعتکاف کے عبادی مراسم فقط دین اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام آسمانی والہٰی ادیان میں یہ عبادت موجود رہی ہے۔ بحار الانوار میں منقول ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام مسجد بیت المقدس میں ایک سال،دوسال،ایک ماہ،دوماہ،کم و بیش اعتکاف میں رہتے تھے۔4۔ علامہ طباطبائی نقل کرتے ہیں کہ :حضرت مریم سلام اللہ علیہا اعتکاف کی خاطر لوگوں سے دور رہتی تھیں۔5
اسی طرح سے دیگر انبیاء واولیاء کے بارے میں بھی یہ ذکر موجود ہے۔ حضرت محمد مصطفيٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں اعتکاف جیسی شیرین عبادت کے تذکرے موجود ہیں۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ مبارک رمضان کے پہلے عشرے میں معتکف ہوتے تھے،کبھی دوسرے عشرے میں اعتکاف فرماتے تھے اور پھر تیسرے عشرے میں؛اور بعدازاں حضور کی سنت و سیرت یہی رہی کہ ماہ رمضان المبارک کے تیسرے عشرے میں معتکف رہتے تھے۔

اعتکاف کی فضیلت کے لئےیہی کافی ہے کہ قرآن کی آیات اورخاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روایات میں اعتکا ف کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:{اعتکاف عشر فی شھر رمضان تعدل حجتین و عمرتین } 6۔ماہ رمضان کے ایک عشرہ میں اعتکاف کرنا (چاہے وہ پہلے عشرہ میں ہو یا دوسرے میں یاتیسرے عشرہ میں ہو) دو حج اور دو عمروں کے برابر ہے
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں{عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّیّ اللہ علیہ وَسَلَّمَ قَالَ۔۔ مَنِ اعْتَکف يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْہِ اللہ تَعَالٰی جَعَلَ اللہ  ُ بَيْنَہُ وَبَيْنَ النَّارِ ثَلَاثَ خَنَادِقَ کُلُّ خَنْدَقٍ أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ}7۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی رضا کیلیے ایک دن کا اعتکاف کرتا ہےتو اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقوں کو آڑ بنا دیں گے، ایک خندق کی مسافت آسمان و زمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے۔

پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:{عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللہ ِ صَلَّی اللّہ ُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمُعْتَکِفِ ہُوَ یَعْکِفُ الذُّنُوبَ، وَيَجْرِيْ لَہُ مِنَ الْحَسَنَاتِ کَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ کُلِّہَا}8۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اعتکاف کرنے والا گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کی تمام نیکیاں اسی طرح لکھی جاتی رہتی ہیں جیسے وہ ان کو خود کرتا رہا ہو۔

اسی طرح  ایک اور مقام پرارشاد فرماتے ہیں:{مَنِ اعْتَکَفَ اِیْمَانًا وَ احْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ}9۔جس نے اللہ کی رضا کیلیے ایمان و اخلاص کے ساتھ اعتکاف کیا تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اعتکاف کو اس قدر اہمیت دیتے تھے کہ اگر کسی سال کسی وجہ سے اس مستحبی عبادت کو انجام نہیں دیتے تھے تو اگلے سال ماہ مبارک رمضان میں دو عشروں میں اعتکاف کرتے تھے ،ایک عشرہ اسی سال کے لئے اور ایک عشرہ قضاء کے عنوان سے اعتکاف کرتے تھے ۔عن ابی عبداللہ (علیہ السلام) قال : کانت بدر فی شھر رمضان فلم یعتکف رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ)فلما ان کان من قابل اعتکف عشرین عشرا لعامہ و عشرا قضاء لما فاتہ }10۔

امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:{اعتکف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فی شھر رمضان فی العشر الاولی ،ثم اعتکف فی الثانیۃ
فی العشر الوسطی ، ثم اعتکف فی الثالثۃ فی العشر الاواخر ،ثم لم یزل یعتکف فی العشر الاواخر} ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کئی برس ماہ رمضان کے پہلے عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے ، اگلے سال ماہ رمضان کے دوسرے عشرہ میں اورتیسرے سال ماہ رمضان کے تیسرے عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے ۔ اور آخری برسوں میں ہمیشہ ماہ مبارک رمضان کے تیسرے عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے ۔11۔

ہر عبادت کی طرح اعتکاف کی صحت و قبولیت کے لئے بھی کچھ شرائط ہیں۔جیسے:ایمان،عقل،قدرت اور اس کے علاوہ دیگر شرائط میں قصد قربت(نیت)،روزہ،تین دن روزہ دار ہونا،مسجد جامع یا مساجد چہارگانہ میں سے کسی ایک میں ہونا،بغیر کسی عذر شرعی یا ضرورت شرعی کے باہر نہ نکلنا،مسلسل مقامِ اعتکاف میں رہنا،زوجہ شوہر کی اجازت کے ساتھ اورفرزندان  والدین کی اجازت کے ساتھ ہی معتکف ہو نا ۔ اعتکاف کے دوران دنیاداری اورغیر معنوی اشعار سے پرہیز کرنا چاہیے اور اسی طرح ہر وکام جو اعتکاف کے مقدس اہداف کے حصول میں مانع اور رکاوٹ بن سکے اس کو ترک کردینا چاہیے ۔انسان کو زیادہ سے زیادہ  وقت ذکر، صلوات ، دعاؤں،اور تلاوت قرآن کریم میں بسر کرنا چاہیے تاکہ جب معتکف اعتکاف ختم ہو جانے کے بعد مسجد سے باہر آئے تو اس کا ان تمام معنوی امور کے ساتھ اُنس اور دلی لگاؤ بہت زیادہ ہوچکا ہو۔


تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

وحدت نیوز(ملتان) جمعتہ الوداع پر فلسطینی مظلومین سے اظہار یکجہتی اور قبل اول کی آزادی کے لئے عالمی یوم القدس ملک بھر میں منظم اور بھر پور انداز میں منایا جا ئے گا،ہم مظلوم فلسطینوں کے ساتھ ہیں اور قبلہ اول کی آزادی تک اس جدوجہد کو جار ی رکھیں گے ،یہ ہمارا دینی اخلاقی و شرعی ذمہ داری ہیں،ان خیالات کااظہار مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 انہوں نے کہا ہے کہ23رمضان المبارک کوفلسطین کے مظلومین سے اظہار یکجہتی اور غاصب اسرئیل کے خلاف عالمی یوم القدس منایاجائے گا، ملک بھر کے تمام اہم اضلاع اور شہروں سے القدس کی ریلی نکالی جائیں گی ۔انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی آج بھی ظالم صہیونیوں کے ٹینکوں کے مقابل ڈٹے ہوئے ہیں۔ آج مسلم امہ فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے میں ناکام رہی ہے، کشمیر و فلسطین میں آج بھی نہتے عوام اپنے حق کے لئے پتھر ہاتھ میں اٹھا کر میدان عمل میں ہیں،قرآنی حکم ہے کہ یہود و نصاری ہمارے دوست نہیں ہو سکتے،ظلم ان کا شیوہ ہے، ان کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہے،ہمیں یہود و نصاری پر اعتماد نہیں کرناچاہیے، چند مسلمان ریاستوں نے غاصب ریاست کے ساتھ تعلقات قائم کئے ہوئے ہیں جو انتہائی افسوسناک امر ہے، شام ، یمن ، عراق اور افغانستان کی جنگیں گریٹر مڈل ایسٹ بنانے کی جنگ ہے جس کے درپردہ امریکہ اور اسرائیل کی سازش کارفرما ہے۔ آج حالات مختلف ہیں نیل و فرات کی باتیں کرنے والا اسرائیل آج دیواریں کھڑی کرکے دفاع پر مجبور ہے، غاصب صہیونی ریاست کی ہیبت قصہ پارینہ بن چکی ہے،یہ ہمت اور حوصلہ امام خمینی نے امت مسلمہ کودیا،امام خمینی نے قبل اول کی آزادی کے لئے پوری امت کو یہ حکم دیا کہ ماہ رمضان کے آخری جمعہ کوعالمی یوم القدس کے نام پر منائے اور دنیا بھر میں ظالم فاشسٹ صہیونی غاصب ریاست کے مظالم سے پردہ اٹھا سکے، پاکستان بھر میں جمعہ الوداع کو شہر شہر،گلی گلی،قریہ قریہ مسلمانان پاکستان اپنے مظلوم فلسطینی و کشمیری بھائیوں کے حق میں آواز بلند کریں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر شہروں کی طرح جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع ملتان،بہاولپور،ڈیرہ غازیخان،بھکر،رحیم یارخان،مظفرگڑھ،علی پور، اوچشریف،جلال پور پیروالا،لیہ،میانوالی ، خانیوال اور کبیروالا میں نماز جمعہ کے بعد القدس ریلیاں نکالی جائیں گی۔ جنوبی پنجاب کی مرکزی ریلی تحریک آزادی القدس کے زیراہتمام نماز جمعہ کے بعد امام بارگاہ شاہ گردیز سے چوک گھنٹہ گھر تک نکالی جائے گی ، ریلی میں دیگر مذہبی جماعتوں کے قائدین اور رہنما شرکت اور خطاب بھی کریں گے۔

وحدت نیوز(مشہد مقدس) حضرت امیر المؤمنین، مولا الموحدین، غرالمحجلین ،قاتل المشرکین، امام المتقین علی ابن ابی الطالب علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت اور رہبر کبیرانقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رض کی ۲۹ویں برسی کی مناسبت سے دفتر مجلس وحدت مسلمین (موسسہ شھید عارف الحسینی )مشہد مقدس می ایک مجلس ترحیم کا انعقاد کیا گیا جس میں علمائے کرام ،طلاب عظام اور زائرین ثامن الآئمہ علی ابن موسی الرضا علیہ السلام نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام مجید سے کیا گیا جسکی سعادت برادر علی عمران نے حاصل کی اسکے بعد پروگرام کے پہلےخطیب حجۃ الاسلام عارف حسین نے اسلام کےلئےحضرت امام خمینی کی خدمات اور انکی شخصیت پر تفصیلی گفتگو فرمائی۔اسکے بعد مشہور معروف عالم دین حجۃ الاسلام والمسلمین سید ضیغم الرضوی (قم) نے خطاب کیا ۔دفتر مجلس وحدت مسلمین مشہد کی طرف سے افطاری اور کھانے کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔پروگرام کے اخر میں مجلس وحدت مسلمین مشہد مقدس کے سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام عقیل حسین خان نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

وحدت نیوز (سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کےسکریٹری جنرل ژ آغا علی رضوی نے اپنے ایک تعزیتی بیان میں کہا کہ حاجی اکبر خان مرحوم پورے خطے کا عظیم سرمایہ تھے انکی پوری زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی اور فکر امام خمینی و نظریہ ولایت فقیہہ کی پرچار میں گزری ہے۔ آج گلگت بلتستان ایک عظیم پیروئے خمینی ، فکری، انقلابی، علمی و روحانی شخصیت سے محروم ہو گئے۔ انکی وفات پر انکے خاندان اور پورا گلگت بلتستان کو تعزیت پیش کرتے ہیں۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ حاجی اکبر خان کی فکر و فلسفے کا مرکز ولایت علی اور ولایت فقیہہ تھا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی نامساعد ترین حالات اور گٹھن مراحل میں بھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور ولایت کی ترویج و اشاعت  میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیے۔ انکی ولایت کے حوالے سے نظریات غیر مبہم اور قاطعیت پر مبنی تھے ۔ وہ دور اندیش اور دیندار انسان تھے۔ دینی تحریکوں کے لیے انکی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انکی وفات سے جو خلا پیدا ہوگیا ہے اسے پر کرنا کبھی ممکن نہیں۔مرحوم باعمل تعمیر سوچ اورخطے میں دینی افکار کی سربلندی چاہتے تھے۔

وحدت نیوز (لاڑکانہ)  نثار احمد کھوڑو سے وابستہ پیپلز پارٹی کے یوسی چیئرمین کی جانب سے مجلس وحدت مسلمین کے سیاسی کارکنوں کے خلاف اقدامات قابل مذمت ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین سندہ لاڑکانہ میں مجلس وحدت مسلمین کے ضلعی رہنما سلیم رضا ابڑو اور امیدوار برائے صوبائی اسمبلی صابر حسین ابڑو کے پٹرول سے گذشتہ شب ڈاکے کی واردات، واردات کا مقصد سیاسی مخالفین کو حراساں کرنا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین ضلع لاڑکانہ کے سیکریٹری جنرل مولانا محمد علی شر نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے پیپلز پارٹی کے بااثر شخصیت کی انتقامی کاروائی قرار دیا۔

مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندہ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصودعلی ڈومکی نے لاڑکانہ میں مجلس وحدت مسلمین کے امیدوار صوبائی اسمبلی کے خلاف مسلح ڈاکوٗوں کی کاروائی کو شرمناک کاروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی سندہ میں جبر و تشدد کے مکروہ ہتھکنڈوں سے اجتناب کرے، اپنے کارکنوں کا تحفط کرنا جانتے ہیں ۔

در ایں اثنا علامہ مقصودعلی ڈومکی نے ایس ایس پی لاڑکانہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس واقعے میں ملوث مجرموں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمپین کے آغاز میں اس نوعیت کے اقدامات وڈیروں کے اوچھے ہتھکنڈے ہیں جن کا مقصد خوف و حراس کی فضا پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت ایسے منفی اقدامات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کو سزا دے۔

وحدت نیوز(جیکب آباد) بانی انقلاب اسلامی رہبر کبیر حضرت امام خمینی ؒ کی ۲۹ ویں برسی کے موقعہ پرمدرسہ خدیجۃالکبریٰ جیکب آباد میں انقلاب اسلامی و افکارامام خمینی کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندہ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصودعلی ڈومکی ، ضلعی سیکریٹری جنرل آگا سیف علی ڈومکی، استاد عبدالفتاح بلوچ، مولانا حسن رضا غدیری، مولانا منور حسین سولنگی ، سید شبیر علی شاہ کاظمی نے خطاب کیا۔

اس موقعہ پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندہ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصودعلی ڈومکی نے کہا ہے کہ امام خمینی ؒ کے افکار و تعلیمات آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ ہم ان کے نقش قدم پر چلنے کا عہد کرتے ہیں۔ آج دنیائے اسلام میں بیداری اور شعور کی حامل انقلابی تحریکیں امام خمینی ؒ کے افکار کی پیرو ہیں۔امام خمینیؒنےتیس برس قبل خالص محمدی ﷺ اسلام کے مقابل جس امریکی اسلام کی فتنہ پروری کا ذکر کیا تھا وہ آل سعود کی شکل میں آشکارہوچکاہے،۔ آپ ؒ عصر حاضر کے عظیم انقلابی رہنما تھے آپ نے امت مسلمہ کو خواب غفلت سے بیدار کیا اور عالمی استکباری قوتوں کے انسان دشمن عزائم کو بے نقاب کیا، مستضعفین عالم کو مستکبرین کے مقابل لاکھڑا کیا۔ آپ ؒ نے اکیسویں صدی میں قرآن و سنت اور سیرت آل محمد ﷺ پر مبنی اسلامی جمہوریہ کی بنیاد رکھی۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ترجمان علامہ مختار امامی نے کہا ہے کہ قبلہ اول کی صیہونی قبضہ سے آزادی کی حمایت میں اور اسرائیلی مظالم کے خلاف جمعہ کے روزعالمی یوم القدس منایا جائے گا۔ اس موقعہ پر ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام اسلام آباد، کراچی، حیدر آباد،لاہور، کوئٹہ،پشاور،ملتان،گلگت بلتستان اور مظفرآباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی جن میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنما اور کارکنان شریک ہوں گے۔اسلام آباد سے نکلنے والے احتجاجی جلوس کی قیادت ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کریں گے۔اس احتجاج کا مقصد اسرائیلی بربریت اور دنیا بھر میں ہونے والے مظالم کے خلاف نفرت کا اظہار کرنا ہے۔انقلاب اسلامی ایران کے بانی امام خمینی کے حکم کے مطابق عالمی یوم القدس ہر سال مظلوموں کی حمایت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کا ہر ذی شعور ظلم کو انسانی تقاضوں کی توہین سمجھتا ہے۔فلسطین کے مسلمانوں کے خلاف اسرائیل کے بڑھتے ہوئے مظالم عالم اسلام کے وقار پر حملہ ہے۔مسلمانوں کے ازلی دشمن اور قبلہ اول پر قابض اسرائیل کی نابودی کے لیے امت مسلمہ کو متحد ہونے کی ضرورت ہے تاہم یہ امر افسوسناک ہے کہ اسلامی ممالک کے ہر اتحاد سے صرف مسلمانوں کو ہی نقصان پہنچا۔ اسرائیلی ظلم و ستم کے خلاف سرکاری سطح پر کوئی بات کرنے کو بھی تیار نہیں۔قبلہ اول کی آزادی مسلمانوں پر قرض ہے۔عالم اسلام کو تفرقوں میں الجھا کر اسرائیل اور اسلام دشمن طاقتوں کی معاونت کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلکی نظریات کو ابھارہ اور حقیقی اسلام کو دبایا جا رہا ہے جو عالم اسلام کے زوال کا سب سے بڑا سبب ہے۔قبلہ اول پر اسرائیلی یلغار کے پیچھے امریکہ ،برطانیہ اور اس کے اتحادی ممالک کی سازشیں کارفرما ہیں۔استعماری قوتیں ہماری وحدت کو پارہ پارہ کرکے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں مصروف ہیں۔غزہ کے محاصرہ اور مظلوم مسلمانوں کے آئے روز قتل عام پر خاموشی امت مسلمہ کی غیرت و حمیت پر بدنما داغ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کی آزادی امت مسلمہ کی مشترکہ جدوجہد سے مشروط ہے۔یہود و نصاری کے مفادات اور اہداف مشترک ہیں امت مسلمہ کو بھی اپنے مشترکات پر باہم ہونا چاہیے۔تاریخ کے اس نازک دور میں مسلمان حکمرانوں کو اعلی بصیرت اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔اسرائیل نے فلسطین کے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے لیکن مسلمان ممالک اسرائیل کے اس جارحانہ طرز عمل کے خلاف کسی غیرمعمولی ردعمل کا اظہار کرنے کی بجائے اس کے ساتھ کاروباری رابطے استوار کرنے میں مصروف ہیں جو نا صرف اخلاقی تنزلی ہے بلکہ حکم ربانی سے بھی صریحاََ انحراف ہے۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے فلسطنیوں کی حمایت کر کے پاکستان کا موقف واضح کر دیا تھا۔مظلوم فلسطینوں کی حمایت میں عالمی یوم القدس کے روز گھروں سے نکل کر احتجاج میں شامل ہوناہر شخص کا شرعی فریضہ ہے۔

وحدت نیوز (آرٹیکل)  الیکشن پر بحث جاری ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار، نگران وزیر اعظم جسٹس ناصرالملک سمیت الیکشن کمیشن کا یہ کہنا ہے کہ الیکشن 25جولائی ہی کو ہوں گے۔ میں نے 25جولائی کو الیکشن نہ ہوسکنے کی وجوہات پچھلے کالم میں بیان کردی تھیں، اب دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ کچھ تازہ باتیں ہیں، پہلے ان تازہ باتوں کا تذکرہ ہو جائے۔ سوائے سندھ کے ابھی تک باقی صوبوں میں نگرانوں کا معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ اس سے ہمارے سیاستدانوں کی فیصلہ سازی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ویسے تو اٹھارہویں ترمیم کے تحت یہ قانون ہی عجیب بنایا گیا تھا کہ صرف دو شخصیات یعنی لیڈرآف دی ہائوس اور لیڈر آف دی اپوزیشن بیٹھ کر کسی نگران کا فیصلہ کردیں اسی لئے تو پچھلے سالوں میں مک مکا کی حکومتیں رہیں، اسی لئے تو بھرپور اپوزیشن نہ ہو سکی، اسی لئے تو ملک قرضوں تلے چلا گیا، اسی لئے تو عمدہ حکمرانی نہ ہوسکی۔ دو روز پہلے آپ نے منظر نہیں دیکھا کہ جو شہباز شریف اپنے کارنامے گنواتے نہیں تھکتا تھا، اسے سپریم کورٹ میں خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے چیف جسٹس کے سامنے کرپشن کی داستانوں کی کہانیوں میں چھپے کرداروں کی وارداتیں تک یاد نہ رہیں۔ اسے افسران کے نام بھی بھول گئے۔ چیف جسٹس صاحب کو کہنا پڑا..... ’’کہاں گئے آپ کے کارنامے، ہر طرف کرپشن ہی کرپشن ہے۔‘‘ بہت افسوس ہوا کہ جو وزیر اعلیٰ نیب کو کرپشن کا گڑھ قرار دیتا رہا، خود اس کی اپنی پوری حکومت کرپشن کی داستانوں سے لبریز رہی۔ اسے یہ تک پتا نہیں کہ اس کی حکومت میں افسران کو بھاری تنخواہوں پر کیوں رکھا گیا؟ نہ وہ مجاہد شیردل کی خوبی بتا سکے اور نہ ہی کیپٹن عثمان کا کوئی وصف گنوا سکے۔ برہمی ہوئی، قطار اندر قطار برہمی، ایسا طرز حکومت سوائے ندامت کے کچھ نہیں۔

مجھے افسوس سے لکھنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے ہاں سیاستدانوں میں فیصلہ سازی کی قوت نہیں۔ نگرانوں ہی کا معاملہ دیکھ لیجئے۔ آج کل دو ہی لوگوںکا رش نظر آرہا ہے یا ٹکٹوں کے حصول کے لئے سیاسی پارٹیوں کے لوگ کوششیں کر رہے ہیں یا پھر ریٹائرڈ جج اوربیوروکریٹس نگرانوں میں جگہ بنانے کے لئے لابنگ کر رہے ہیں۔ ہر پانچ سال کے بعد ریٹائرڈ ججوں اوربیوروکریٹس کے لئے بہار کے یہ چنددن آتے ہیں کہ وہ وزیر، وزیراعلیٰ یا پھر وزیر اعظم بننے کی تگ و دو میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ایک طویل عرصے سے پاکستانی سیاست میں انتخابات، الیکشن سے پہلے اور بعد میں نگرانوں کی حالت، الیکشن کمیشن کے دعوے اور پھر دھاندلی کے مناظر الیکشن ٹربیونلز، ان کے فیصلے اور ان فیصلوں کے لٹکتے ہوئے مناظر، نتائج پر دھاندلی کا شور، پولنگ ڈے پر مارکٹائی اور پھر پولنگ ڈے کی شام، شام میں ابتدائی نتائج اور پھر رات ساڑھے دس گیارہ بجے کسی کا اکثریت مانگنا، یہ سب کچھ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔اس دکھ کے مداوے کے لئے ظاہر ہے ہمیں اپنی حکومتوں ہی کی طرف دیکھنا پڑتاہے۔ ہمارے ہاں حکومت سازی پرکبھی عمدہ انداز میں توجہ ہی نہیں دی گئی، حالت تو یہ ہے کہ ہم اپنا انتخابی نظام بھی ابھی تک درست نہیں کرسکے۔ ابھی تک اس میں دھونس، دھاندلی کا راج ہے۔ ابھی تک انتخابی شفافیت قائم کرنے میں ناکامی ہماری ہے کسی اور کی نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارا انتخابی نظام چوروں اورلٹیروں سے جان نہیں چھڑوا سکا اور اب تو انہوںنے نامزدگی کے فارم ہی کو ’’برقع‘‘ پہنوا دیا ہے تاکہ کسی کوکچھ پتا ہی نہ چل سکے کہ برقعے کے اندر دہشت گرد ہے یا کوئی عورت ہے؟

آج کل سخت گرمی کے دنوں میں رمضان المبارک کے باوجود اگلےاقتدار کے حصول کے لئے پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کی اکثریت دن رات مصروف ہے۔ سب کو الیکشن جیتنے کی فکر ہے مگر ایک سیاستدان ایسا بھی ہے جسے سب سے زیادہ پاکستان کی فکر ہے۔ یہ حالیہ دنوں کی ایک رات کا قصہ ہے۔ دس بارہ لوگوں کی محفل تھی۔ مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس پاکستان کی اہمیت بتارہے تھے۔ پاکستان کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات پر تبصرہ کر رہے تھے۔ میرے لئے حیرت تھی بلکہ سب کے لئے حیرت تھی کہ جس شخص کوہم صرف ایک مذہبی جماعت کا سربراہ سمجھتے تھے، وہ تو ایک دانشور سیاستدان ہے۔ اسے صرف مذہب کا علم نہیں اسے تو عالمی حالات کی بہت خبرہے۔ وہ تو دنیا بھر کی جنگی اور معاشی حکمت ِ عملیوں سے آگاہ ہے۔ اسے سازشوں کی خبر بھی ہے اورحالات سدھارنے کا ادراک بھی۔رات سحری کی طرف بڑھ رہی تھی اور وہ شخص بول رہا تھا جس کے والدسانحہ ٔ مشرقی پاکستان کی خبر سن کر زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔ اس پیارے وطن کے نقصان کا سننا ہی موت کا سبب بنا۔ جس کا والد پاکستان کی محبت میں چلا گیا تھا اور وہ خود ایک چھوٹا سا یتیم بچہ رہ گیا تھا۔ رات کے آخری پہر میں وہی یتیم بچہ اور آج کامعتبرسیاستدان علامہ راجہ ناصر عباس حب الوطنی سے بھرپور گفتگو کر رہا تھا۔

 ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے کبھی سنجیدگی سے سوچا ہی نہیں۔ ہمارے ہاں ایسے ادارے ہی نہیں بنے جو حکومت سازی میں رہنمائی کرسکیں۔ ہماری سیاسی جماعتوں میں بھی یہ سوچ نہیں بلکہ وہ تو ایسے افراد کو وزیر خارجہ لگا دیتی ہیں جنہیں خارجہ امور کا پتا نہیں ہوتا۔ زراعت کے وزیرکو یہ خبر نہیں ہوتی کہ دنیامیں زرعی ترقی کی اصلاحات کون سی ہیں۔ صحت والا وزیر اپنے محکمے کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ معیشت والوں کا حال سامنے ہے کہ انہوں نے ملک کو قرضوں تلے دے ڈالا۔ ہم نے نیشن بلڈنگ کے ادارے ہی نہیں بنائے، نہ ہمارے ہاں حکومت سازی کے ادارے ہیں اور نہ ہی ہمارے ہاں ملت سازی کے ادارے۔ ہماری نوجوان نسل کی رہنمائی کےلئے کچھ بھی نہیں۔ ہم بطور قوم آگے نہیںبڑھ رہے بلکہ ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم ہیں۔ کہیں صوبائی تعصب کے نام پر تو کہیں لسانی بنیادوں پر، ہماری یہ تقسیم دشمن کی چال ہے۔ ہم کہیں ذاتوں اور قبیلوں میں تو کہیں فرقوں میں تقسیم ہیں حالانکہ یہ ہمارے چھوٹے چھوٹے سے اختلافات ہیں، انہیں مدھم کیاجاسکتاہے۔ قوم اور ملک کی محبت اس سے اوپر کی چیزیں ہیں لیکن ہم ملک و قوم کا سوچتے ہی نہیں۔ مجھے اس دن بہت افسوس ہوا جب تین دفعہ کے وزیراعظم نے اپنی ہی فوج پر تنقید شروع کی۔یہی دشمن کی چال ہے۔ہمیں اس وقت ایک ہونے کی ضرورت ہے۔ ہماری قوم کو اپنی فوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ ہم سب پاکستانی ہیں۔ ہمیں پاکستانی بن کر ہی بڑا کردار اداکرنا چاہئے۔علامہ راجہ ناصر عباس کی باتیں درست ہیں مگر ہم سوچتے کہا ں ہیں؟ منیرنیازی کا شعر یاد آ رہا ہے کہ

وہ جو اپنا یار تھا دیر کا، کسی اور شہر میں جا بسا


تحریر۔۔۔۔مظہربرلاس،بشکریہ روزنامہ جنگ

Page 3 of 859

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree