The Latest

وحدت نیوز(کراچی) کے الیکٹرک انتظامیہ جعفرطیار، عمار یاسر،غازی ٹاؤن،حسنین سوسائٹی،محمد آباد، شمائل ہومز اور اس سے ملاحقہ علاقوں میں رہائش پذیر عوام کو مسلسل دھوکا دے رہی ہے،شہریوںکے ساتھ زیادتی کا یہ سلسلہ فل الفور بند کیا جائےان خیالات کا اظہارمجلس وحدت مسلمین ضلع ملیر کے ڈپٹی سیکریڑی جنرل علامہ غلام محمد فاضلی نے وحدت ہائو س ملیر میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ غیر اعلانیہ لوڈ شیدنگ کا اصل ذمہ دار وفاقی حکومت اورکے الیکٹرک کی نا اہل انتظامیہ ہے، جعفرطیار، عمار یاسر،غازی ٹاؤن،حسنین سوسائٹی،محمد آباد، شمائل ہومز اور اس سے ملاحقہ علاقوں میں کے الیکٹرک کی نااہل انتظامیہ کی جانب سے 9 سے 10 گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے جبکہ ان علاقوں میں رہائش پذیر افرادمستقل بنیادوں پر ہر ماہ باقائدگی سے بجلی کا بل جمع کراتے ہیں اور اس علاقے میں بجلی کےبلوں کی ریکوری 85 فیصد سے بھی زائد ہے، ہمیں ان گوٹھوں سے نجات دلائی جائے جن کے سبب سے ہر ماہ باقائدگی سے بل جمع کرانے والےجعفرطیار ملیر اور اس کے اطراف کے علاقوں کے باعزت شہریوں کو  9 سے 10 گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سامنہ ہے،ہم کے الیکٹرک انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کندہ مافیاکیخلاف کارروائی کی جائےاور باقائدگی سے بل ادا کرنے والے شہریوں کو ملیر کے دیگر علاقوں کی طرح ریلیف فراہم کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جعفرطیار ملیر کی انتظامیہ اور مجلس وحدت مسلمین ضلع ملیر کے وفود نے متعدد بارکے الیکٹرک کے اعلیٰ افسران سے اس حوالے سے ملاقات بھی کی، جس میں انہیں یقین دلایا گیا کہ جعفرطیار، عمار یاسر،غازی ٹاؤن،حسنین سوسائٹی،محمد آباد، شمائل ہومز اور اس سے ملاحقہ علاقوں میں 9 سے10گھنٹے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ میں ماہ محرم الحرام کے بعد کمی کی جائے گی، مگر تین ماہ گزر جانے کے باوجودکے الیکٹرک کی نا اہل انتظامیہ جھوٹے وعدے کر کے سفائیاں پیش کر رہی ہے۔

وحدت نیوز(لاہور) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا لاہور میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ 17 جنوری سے پنجاب حکومت کیخلاف ملک گیر احتجاج ہوگا، اس سلسلے میں احتجاج کا طریقہ کار طے کرنے کیلئے ایک ایکشن کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے،آل پارٹیز کانفرنس کے نتیجے میں بنے والی سٹیرنگ کمیٹی اپنی جگہ قائم رہے گی، مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید ناصرعباس شیرازی سٹیرنگ کمیٹی سمیت ایکشن کمیٹی کے رکن بھی نامزد  ہوگئے ہیں،ایکشن کمیٹی کا پہلا اجلاس 11 جنوری کو ہوگا، جو فیصلہ کرے گی اس احتجاج کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ ہم استعفی مانگیں گے نہیں بلکہ لے گے، دباﺅ کیساتھ لیں گے، اب صرف ہم شہباز شریف، رانا ثنااللہ اور دیگر کے استعفے نہیں بلکہ پورے ملک میں جہاں، جہاں ان کی حکومت قائم ہے، وہاں سے ان کا حکومت کا خاتمہ ہوگا، ہمارے پاس سارے آپشن کھلے ہیں، ہم کسی بھی حد تک جائیں گے۔ انہوں نے کہا حکمرانوں کو ماڈل ٹاﺅن کے شہدا کے خون، ملک میں قتل و غارت اور لوٹ مار کا حساب دینا ہوگا، ان کے گریبان ہوں گے اور عوام کے ہاتھ ہوں گے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا حکمرانوں کو ختم نبوت(ص) کے قانون میں ترمیم کرنیوالوں کو بھی سامنے لانا ہوگا، وہ ابھی تک ان کی صفوں میں موجود ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے نتیجے میں بننے والی سٹیرنگ کمیٹی اپنی جگہ پر قائم ہے، آج ہم نے ایکشن کمیٹی بنا دی ہے جس میں تمام جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایکشن کمیٹی میں مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے ناصر شیرازی، پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے قمر زمان کائرہ، پی ٹی آئی کی طرف سے عبدالعلیم خان، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید، مسلم لیگ (ق) سے کامل علی آغا، پی اے ٹی کے خرم نواز گنڈا پور شامل ہوں گے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی کا کام یہ ہوگا کہ وہ احتجاج کے تمام امور دیکھے گی، اس کمیٹی کے پاس یہ اختیارات بھی ہوں گے کہ کبھی بھی سٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس بھی بلا سکتے ہیں، 17 جنوری کے احتجاج میں شرکت کیلئے آصف زرداری، عمران خان، سراج الحق، چودھری شجاعت حسین سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان کو دعوت دی گئی ہے۔ قبل ازیں ڈاکٹر طاہرالقادری سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین، پیپلز پارٹی کے میاں منظور احمد وٹو، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا اور پاکستان عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے ملاقات کی۔ ملاقاتوں میں ملک کی سیاسی صورتحال، احتجاجی تحریک اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلسِ وحدت مسلمین شعبہ خواتین کوئٹہ ڈویژن کی ایک اہم نشست ایم ڈبلیوایم کے ممبر صوبائی اسمبلی آغا رضا کے ساتھ ہوئی۔جسمیں خصوصیت کیساتھ آغا رضا نے صوبہ بلوچستان اور ملک کے سیاسی حالات و واقعات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور آئیندہ آنے والے الیکشن کے حوالے سے لائحہ عمل اور پری الیکشن تیاری کے آغاز کے حوالے سے گفتگو کی۔

وحدت نیوز(کراچی) مجلسِ وحدت مسلمین شعبہ خواتین کراچی ضلع ملیر کی جانب سے اہلِ علاقہ کے لئے ولادتِ امام حسن عسکری ع کی مناسبت سے میلاد کا اہتمام کیا گیا، جس سے مجلسِ وحدت مسلمین شعبہ خواتین پاکستان کی مرکزی جنرل سیکرٹری محترمہ زہرہ نقوی نے خطاب کیا اور زندگانی و سیرتِ امام حسن عسکری ع پہ تفصیلی روشنی ڈالی ۔انہوں نے کہاکہ معاشرتی انحطاط کا مقابلہ سیرت آئمہ معصومین ؑ کی پیروی سے ہی ممکن ہے، خواتین اچھے گھر کی تربیت کریں تاکہ ایک اچھے معاشرے کا قیام عمل میں آئے ۔

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ اعجاز حسین بہشتی نے اپنے تنظیمی دورہ لاہور پر گرین ٹاون میں عمائدین شہر سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملت جعفریہ کو درپیش مشکلات اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے اس غیور قوم کو متحد ہونا ہوگا،آج گلگت بلتستان سے لے کر بلوچستان تک ملت تشیع افتخار و سربلندی کیساتھ مظلومین وطن کی آواز بن کر سامراجی قوتوں اور ظالموں کیخلاف سینہ سپر ہے،آج شہید قائد علامہ عارف حسین حسینی کی روح شاد ہونگے،ہمیں خانقاہوں میں بیٹھ کر مظلوموں کے مدد گاروں پر سنگ ریزی نہیں کرنا بلکہ اس قافلہ عشق میں شامل ہوکر ملت کے مظلوموں اور یتیمان آل محمدؑ کا مدد گار بننا ہے،وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم میداں عمل میں اتریں اور اپنی ذمہ داری کو عین شرعی و دینی ذمہ داری سمجھ کر ملک و قوم کے لئے ادا کرے،تاکہ بروز محشر ہم اپنے آئمہ طاہرینؑ کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔

وحدت نیوز (مظفرگڑھ) مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے قائمقام سیکرٹری جنرل سلیم عباس صدیقی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی امن دشمن پالیسی سے پورے دنیا کا امن خطرے میں پڑگیا ہے، پاکستان نے دنیا کے امن کی خاطر 70ہزار سے زائد قربانیاں دیں، جس کی قدر کی جانی چاہئے، ہم پاک فوج کے ٹرمپ کے بیان کے بروقت جواب کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، لیکن اس بات کا افسوس بھی ہے کہ جو لوگ وزارت خارجہ سنبھالے ہوئے ہیں ان کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلتا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزارت خارجہ فورا ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے لیکن لگتا ہے کہ ان نااہل حکمرانوں کے ذاتی مفادات امریکہ سے وابسطہ ہیں، جس کی وجہ سے امریکہ کے خلاف ہونٹ نہیں ہلتے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے مظفرگڑھ میں ایم ڈبلیو ایم کی ضلعی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں 13 ,14 جنوری کو ملتان میں ہونے والی ورکشاپ میں شرکت کے حوالے سے دعوت دی گئی، اس موقع پر تنظیم سازی کے مرحلے کو تیز کرنے کے حوالے سے عمران رضا ایڈووکیٹ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی، اجلاس میں ضلعی سیکرٹری علی رضا طوری، سید عمران کاظمی ایڈوکیٹ، سید شفقت کاظمی، آغا عابد فاطمی، سید مظہر نقوی، تفسیر خمینی، ایڈوکیٹ عدنان حیدر، عامر عباس، شوکت بک، عظم بخاری، نذر عباس، اظہر چانڈیہ، اقبال حسین اور دیگر اراکین نے شرکت کی۔

وحدت نیوز( اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے شیعہ علماءکونسل کے مرکزی رہنما اور علامہ سید ساجد علی نقوی کے دامادعلامہ سید عبدالجلیل نقوی کی رحلت پر دلی افسوس اور دکھ کا اظہارکیا ہے ، مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ مرحوم کا انتقال ملت جعفریہ کے لئے بہت بڑا نقصان ہے، مرحوم انتہائی فعال قومی شخصیت تھے ، علامہ راجہ ناصرعباس نے کہا کہ تمام پسماندگان کی خدمت میں تعزیت اور تسلیت پیش کرتے ہیں ،خدا مرحوم کو جوار معصومین ؑمیں محشور فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عنایت فرمائے  ، بعد ازاں معروف عالم دین شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنماعلامہ سید عبد الجلیل نقوی مرحوم کی نماز جنازہ یادگارِ حسین راولپنڈی میں علامہ شیخ محسن علی نجفی کی اقتدار میں ادا کی گئی ،مجلس وحدت مسلمین کے وفد میں علامہ حسنین گردیزی، علامہ اصغر عسکری ، علامہ علی اکبر کاظمی ، اور علامہ علی شیر انصاری  نے شرکت کی۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) بلوچستان میں سیاسی بحران اپنے انجام کو پہنچ گیا، وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری نے مستعفیٰ ہونے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے، خفیہ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو 41اراکین کی حمایت حاصل ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان ایوان میں اپنی عددی اکثریت کھودینے کے بعد وزارت اعلیٰ کے منصب سے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کرچکے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں 2جنوری کو مجلس وحدت مسلمین کے رکن بلوچستان اسمبلی آغارضا ، ق لیگ کے رکن اسمبلی اور سابق ڈپٹی سپیکرعبدالقدوس بزنجو اور دیگر 12اراکین اسمبلی کے دستخط سے جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں آج کل 41اراکین کی اکثریتی حمایت کے نتیجے میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری نے اقتدار چھوڑنے اور مستعفیٰ ہوجانے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے، ذرائع کے مطابق استعفیٰ کا ڈرافٹ تیاری کے مراحل میں ہے جسے بہت جلد سپیکر اسمبلی اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو بھیج دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ایم ڈبلیوایم کے رکن بلوچستان اسمبلی آغا رضا نے دیگر جماعتوں کے اراکین کے ہمراہ  وزیر اعلیٰ کی جانب سے ترقیاتی فنڈ ز کی عدم فراہمی، مخصوص حلقوں کے اراکین کو نوازنے ، بڑھتی ہوئی کرپشن اور میرٹ کی پائمالی کے پیش نظر وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی جسے ناکام بنانے کیلئے حکمران جماعت مسلم لیگ نواز نے ایڑی چوٹی کا زور بھی لگایا لیکن ناکام رہے ۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) بلوچستان میں سیاسی بحران میں شدت آجانے کے بعد وزیر اعظم شاید خاقان عباسی نے کوئٹہ پہنچتے ہی ناراض اراکین اسمبلی کومنانے کی کوشش کی اس حوالے سے جب انہوں نے مختلف ذرائع سے مجلس وحدت مسلمین کے رکن بلوچستان اسمبلی سید محمد رضا سے ملاقات کیلئے رابطہ کیا تو آغا رضا نے انکار کردیا، وحدت نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے آغا رضا نے کہاکہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے تحریک عدم اعتمادکی حمایت واپس لینے کیلئے مختلف ذرائع سے مجھ سے رابطہ کرنے اور ملاقات کرنے کی کوشش کی لیکن میں نے یہ کہہ کرانکار کردیا کے وزیر اعظم صاحب نے بہت کردی ہے، اب پانی سر سےاونچا ہو چکا ، بلوچستان میں عوامی مسائل کا درد اگر وزیر اعظم اور دیگر مقتدر شخصیات کوہوتا حالات اس نہج کو نا پہنچتے، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد بہت جلد نتیجہ خیز ثابت ہوگی ۔واضح رہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بلوچستان حکومت بچانے کیلئے صبح کوئٹہ پہنچتے ہی بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع سمیت دیگر اراکین اسمبلی  سے بھی ملاقات کیلئے رابطہ کیا تھا جس سے مولانا عبد الواسع ودیگر نے انکار کردیا تھا۔

جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ!

وحدت نیوز(آرٹیکل) وہ مہینہ جس میں سردی اپنے عروج پر ہوتی ہے اور انسان گرم لباس زیب تن کر نے کے باوجود گھروں سے باہر نکلتے ہوئے ہزار بار سوچتا ہے اسے دسمبر کہا جاتا ہے۔ راستوں میں جمی ککر کی پھسلن، برف کے گرتے گالوں اورسرد ہواؤں کے سبب لوگ گھروں میں محصور ہو جاتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں اسکردو کا شمار سرد ترین علاقوں میں ہوتا ہے جہاں اکیس دسمبر کے بعد سردی اپنے جوبن پر ہوتی ہے۔ گھروں میں دیسی انگیٹھی میں لکڑی جلا کر اس کے گرد بوڑھے بچے جمع ہو کر آگ کی تمازت سے جینے کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ اسی موسم میں اس خوبصورت شہر سے خوش گلو پرندے بھی غائب ہو جاتے ہیں ، درختوں کے پردے مرجھا جاتے ہیں، سبزہ و گل غائب ہو جاتا ہے۔ کاروبار زندگی منجمداور یخ بستہ ہو جاتا ہے۔ اس دوران دن کی چادر بھی سمٹ جاتی ہے جبکہ رات کی وادی تاریک اور گہری ہو جاتی ہے۔ سورج بھی ہلال عید بن جاتا ہے۔ بادل اور برفباری کی اجارہ داری ہوتی ہے۔ برف کی چادر اوڑھ کر اسکردو شہر سنساں ہو جاتا ہے اور ہو کا منظر پیش کرنے لگتا ہے۔ صبح دس بجے تک شاہراہوں پر اکا دکا انسان نظر آتا ہے اور سڑکوں پر خاموشی کی سنسناہٹ رقص کرتی اور اعصاب شکن سردی راج کرتی دکھائی دیتی ہے ۔ لیکن اب کی بار لگتا ہے یہ وہ بے جا ن اور منجمد دسمبر نہیں جس میں لوگ آگ کے گرد جمع ہو کر یا کمبل اوڑھ کر گزارا کرتے ہیں۔ میں نے جب ایک ریڑھی چلانے والے مزدور کا بدلا بدلا تیور دیکھا تو دیکھا کہ اس کے عزم کی گرمائش سے برف پگھل جا ئے گی ۔ مڑ کر دوسری طرف دیکھا تو ستر سال کا بوڑھاکانپتے ہاتھ، ہاتھ میں لاٹھی اٹھائے ہوئے ہے جنکی بے خواب آنکھوں میں غیض و غضب ہے یہاں کی برف پگھلانے کیلئے یہی کچھ کافی تھا۔ شاید اس دسمبر میں اس قوم نے کوئی اور تاریخ رقم کرنی ہے۔ اس تاریخی سردی میں قوم نے ٹھانی ہے کہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا جائے یہ دسمبر کی 25تاریخ ہے ۔ آج اسکردو شہر کے در و دیوار لرز رہے ہیں۔ میرے لیے یہ منظر انتہائی عجیب و غریب اور ناقابل یقین ہے۔

وہ دسمبر جس میں خاموشی کی سنسناہٹ گاتی ،رقص کرتی ،دھول اڑاتی، یخ بستہ ہوائیں راج کرتیں اورسخت سردی خون جمادیتی ہے اس میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندریہاں موجود ہے۔ سورج غروب ہونے سے قبل گھروں کو لوٹنے والے عوام شام ڈھلنے تک یہاں پر موجود ہیں۔ اس ٹھٹھرتی سردی میں لوگ مظلوموں اور محروموں کی فریاد کی جگہ یاد گار شہدا ء اسکردو کے گرد جمع ہیں۔ حقوق سے محروم عوام کے منہ سے نوالہ چھیننے کی حکومتی کوشش پر اب خطے کا ہر فرد اٹھ کھڑا ہے۔ میں اسوقت یادگار شہداء سے کئی سو فٹ کے فاصلے پر بیٹھ کر عوامی ایکشن کمیٹی اور ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ آغا علی رضوی کی تقریر سن رہا ہوں۔ آغا علی رضوی وہی شخصیت جو میدان عمل کا شہسوار ہے ۔ جو وہ کہتا ہے کر گزرتا ہے۔ جو بھی ان کے دل میں منہ سے کہہ دیتا ہے۔ ان کی سخت گوئی پر مجھ سمیت بہت سوں کو شکایت ہونے کے باوجود دھرنے کو چھ دن گزر چکے ہیں اور ہر کسی کی نگاہیں اس مرد مجاہد کی طرف ہیں۔ ان کا خلوص اور استقامت ناقابل یقین حد تک ہے ۔ میں مسلک کے اعتبار سے ان سے الگ ہوں ،لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ ٹیکس کے خلاف جاری تحریک میں جان اس وقت ہی آئی جب یہ شخص زیارات سے واپس آگیا۔انہوں نے خود کربلا سے واپسی کے بعد اپنی تقریر میں کہا کہ کربلا سے امام عالی مقام سے عزم اور حوصلہ لے کر آیا ہوں اور ا س مظلوم قوم پر جاری مظالم کے خلاف لڑنے کا عزم کر کے آیا ہوں۔ٹیکس کے خلاف جاری تحریک کے روح رواں انجمن تاجران کے نڈر صدر غلام حسین اطہر کا لہجہ بھی پر اعتماد تھا وہ کہہ رہے تھے جب آغا علی رضوی نے ساتھ دینے کا کہا ہے تو کامیابی یقینی ہے، یہ شخص جان دے سکتا ہے لیکن عوامی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ دوسری طرف حکومتی نمائندے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنے میں مصروف ہیں۔ عوام کو شیعہ سنی اور گلگتی بلتی کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جی بی میں ٹیکسز کا آغا ز پیپلز پارٹی کے دور میں ہوا تھا اور موجودہ ٹیکس کا فیصلہ بھی اسی دور میں ہوا تھا چنانچہ نون لیگ تمام تر ملبہ پیپلز پارٹی پر ڈال کر خود بری ہونے اور عوامی لعن طعن کرنے اور راہ فرار اختیار کرنے کی کوششوں کے ساتھ دھمکیوں اور الزاما ت بھی شروع کیے ہوئے ہیں۔ حفیظ الرحمان کے ارد گرد پھرنے والوں نے ٹیکس کے خلاف تحریک چلانے والوں کے تانے بانے کو انڈیا اور راء تک سے ملایا ہے۔ وزیر قانون گلگت بلتستان نے واضح پیغام میں کہا کہ حالیہ ٹیکس مخالف تحریک کے لیے را سے پیسے آرہے ہیں اور انکے اشارے پراحتجاج کر رہے ہیں۔ وزیراعلی گلگت بلتستان نے گزشتہ رات اپنے ویڈیو پیغام میں عوام کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس کے خلاف ٹحریک غیرملکی ایجنڈا ہے جسے کامیاب ہونے نہیں دیں گے انہوں نے کہا کہ جو شرپسندی کر یں گے انکے ساتھ سختی سے نمٹیں گے۔

اس یخ بستہ ،دسمبر کی سردہواؤں کا راج کرتی اور خون جمادینے والی سرد شاموں میں، میں نے ہر چوک چوراہے سے عوام کو امڈ امڈ کے یادگار شہداء کی طرف ایک عزم کیساتھ بڑھتے دیکھا۔ ان حالات میں لوگوں کو کئی کئی کلومیٹر پید ل چل کر آتے دیکھا جبکہ ہڑتال کی وجہ سے تما م پیٹرول پمپس بند ہیں۔ صرف یہی نہیں پورے بلتستان میں آج چھٹا روز ہے تمام دکانیں مکمل طور پر بند ہیں جبکہ کسی بھی دکاندار پر جبری اور زبردستی نہیں ہے۔ عوام نے اس تحریک پر سو فی صد اعتما د کا اظہار کر دیا ہے۔ میں نے حکومت کی غیر لچکدار اور میں نہ مانوں کی پالیسی کے سبب پست ہوتے ہوئے حوصلے والے افراد کی زبانی سنا کہ آغا علی رضوی اس تحریک کو کامیاب بنا کر دم لے گا۔ ایک طرف حکومتی رویے اور دوسری طرف عوام کا اعتماد عجیب منظر تھا۔ عوام کے دم توڑتے حوصلوں میں نئی روح پھونکنے کے لیے ایک کالے رنگ کے عمامے والے شخص کی کرشماتی تقریر کافی تھی۔ وہ پست حوصلوں کو بلند کرتے، مرے ہوئے جذبات کو زندہ کرتے، دفن ہونے والے عزم کو قم کہہ کر اٹھاتے دیکھا ۔ میرے لیے یہ زندگی کا عجیب منظر تھا۔

وہ دسمبر جس میں خاموشی کی سنسناہٹ رقص کرتی تھی اس میں، میں نے دیکھا کہ عوامی قیادت کس چیز کا نام ہے۔ قائد اور رہبر وہ ہوتا ہے جو خود آگے بڑھتا ہے اور عوام سے کہتا ہے کہ میرے پیچھے آؤ۔ ہمارے ہاں رہبر اور لیڈر وہ ہوتے ہیں جو عوام کو آگے کرتے ہیں اور خود نرم و گداز صوفوں پر چائے کی چسکیاں لیتے ہیں اور کامیابی پر جشن مناتے ہیں ایسے لیڈر اصل میں گیڈر ہوتے ہیں لیڈر نہیں۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو آگے بڑھ کر جان ہتھیلی پہ رکھ کر تمام تکالیف برداشت کرنے کے بعد کہتا ہے کہ میرے نام کے نعرے مت لگاؤ ہمار ا قائد غلام حسین اطہر ہے۔ ایسی بے لوث قیاد ت کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ میں نے دیکھا جب لوگ آغا قدم بڑھاؤ کے نعرے لگا رہے تھے تو انہوں نے روک کر کہا کہ میں عوام کا خادم اور اس تحریک کا ادنی سا کارکن ہوں اور ہمارا قائد اطہر غلام ہے اگر وہ اٹھنے کو کہیں تو اٹھیں گے اور بیٹھنے کو کہیں تو بیٹھیں گے ۔ وہ بار بار کہہ رہے تھے کہ غلام حسین اطہر کی قیادت ہی اس کی کامیابی کی ضامن ہے۔ یعنی وہ ہر طرح کا کریڈٹ اپنے نام نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ تمام انجمنوں اور سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے رہے۔اور تحریک کا چھٹا روز انتہائی منفرد دن تھا جب آغا علی رضوی نے اعلان کیا کہ اطہر غلام نے کورکمیٹی سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ کل گلگت کی طرف لانگ مارچ کریں گے اور وہیں پر ٹیکس سمیت صوبائی حکومت کا تختہ الٹ کر واپس آئیں گے۔ اس اعلان کے ساتھ ایسا لگا عوام کو فتح کی نوید ملی عوام اٹھ اٹھ کر آغا تیرا ایک اشارہ حاضر حاضر لہو ہمارا کے نعرے بلند کرتے رہے۔آغا علی رضوی نے گلگت جانے کے لیے گرم لباس ، کمبل اور راستے میں کھانے کے لیے خشک سامان لے کر اگلے دن پہنچنے کا اعلان کر دیا۔

وہ دسمبر جس میں خاموشی کی سنسناہٹ رقص کرتی ، یخ بستہ ہوائیں راج کرتیں او سردی خون جمادیتی ہے اس ماحول میں میں نے دیکھا کہ یادگار شہداء اسکردو تحریر اسکوائر کا منظر پیش کر رہا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں اس سے بڑا اجتماع نہیں دیکھا تھا۔ چلو چلو گلگت چلو کی صداؤں سے اسکردو شہر کی فضاء گونج رہی تھی ۔اس تحریک میں شہر سے قافلہ علامہ شیخ ضامن اور شیخ طہٰ ٰ موسوی کی قیادت میں پہنچ گئے، کھرمنگ سے مجاہد عالم دین شیخ اکبر رجائی کی قیادت میں پہنچ گئے۔ خپلو سے عوام کی بڑی تعداد پہنچ گئی ۔ اس تحریک میں شیعہ ،سنی، نوربخشیہ ، اہل حدیث سب ایک ہو چکے تھے۔ قافلہ درود و سلام اور دعائیہ کلمات کے ساتھ یادگار شہدا ء سے آغا علی رضوی اور غلام اطہر کی قیادت میں نکلنا چاہتا تھا ۔ میں بھی ان میں موجود تھا اور یہ میرے لیے عجیب جذباتی منظر تھا جب عوام نے قافلے کو یعنی گاڑی والوں نے جانے نہیں دیا۔ لوگ بضد تھے کہ آغا کو تنہا جانے نہیں دیں گے حالانکہ ہزاروں افراد گاڑیوں میں قافلے کی صورت میں موجود تھے لیکن عوام تھے کہ سنبھل نہیں رہے تھے یہاں تک کہ عوام کا ایک بے قابو بپھرا ہو ا سمندر قافلے کے آگے نکل گیا اور پیدل مارچ شروع کر دیا ، قائدین نے مل کر منتیں کرتے ہوئے روکنے کی بھرپور کوششیں کیں ۔ لیکن عوام نے کسی کی نہیں سنی، پید ل اور گاڑیوں کا قافلہ نعروں کی گونج میں گلگت کی طرف چل پڑا۔ یہ قافلہ نہیں سمند ر تھا عوام کا۔

اس یخ بستہ سرد برفیلی رات میں، میں نے عزم و ہمت کے چٹان ، کے ٹو سے بلند حوصلہ رکھنے، نڈر بہادر اور شجاع عوام کے محبوب قائد آغا علی رضوی کو اس وقت رات کے وقت پھوٹ پھوٹ کے روتے دیکھا جب عوام چار گھنٹہ پیدل چل کر گمبہ پہنچ گئے۔ آغا علی رضوی نے انہیں گزارش کہ تیل کی قلت کی وجہ سے گاڑیاں کم ہیں اور جتنی ہیں اس تحریک کی کامیابی کے لیے کافی ہیں آپ لوگوں نے اس سردی میں یہاں تک پید ل سفر طے کیامزید آگے نہ جائیں۔ جب عوام نے دوبارہ کہا کہ ہم ایک لمحے کے لیے آپ کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے تو آغا علی رضوی جلال میں آگئے وہ بھی عوام کے ساتھ پیدل چل نکلے۔ انہوں نے تاجران سے گزارش کہ فوری گاڑیوں کا انتظام کرو جب سب کے لیے گاڑی مل جائے اس وقت تک میں گاڑیوں میں نہیں بیٹھوں گا ۔ غلام حسین اطہر نے جتنی مزید گاڑیاں منگوائی جاسکتی تھی منگوائیں اور یہاں تک کہ کھلے چھت والی گاڑیوں پر اس ٹھنڈ میں لوگ بیٹھتے گئے ۔ اس کے باوجود گاڑیاں کم پڑ گئیں تو تحریک کے قائد نے آغاعلی رضوی سے گزارش کی کہ آپ مان جائیں اور عوام کو واپس بھیج دیں ۔ قائد تحریک کے حکم پر آغا علی رضوی نے لبیک کہا اور عوام سے دوبارہ خطاب کرکے پیادہ سفر کرنے والوں کو روکنے کو کہا۔ انکی تاکیدانہ لہجے کے باوجود عوام نے روتے ہوئے انکے پاؤں پکڑنا شروع کردئے کہ ہم آپ کو تنہا جانے نہیں دیں گے۔ چند جوانان کو جب یہ علم ہوا کہ انہیں واپس بھیجا جا رہا تو سر پیٹ کر رونے لگے۔ جب محبت ، خلوص اور فدا کاری کا یہ منظر دیکھا تو وہ خود بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔آغا علی رضوی کے سرخ گالوں سے آنسوؤں کے قطر ے موتی کی طرح گرنے لگے۔ یہ عجیب منظر تھا جب وہ رو پڑے تو کئی اور لوگوں نے مل کر رونا شروع کر دیا۔ یہ رونا ،یہ گریہ خوشی کا بھی تھا اور اعتماد کا بھی،اس میں عوام کی محبت کا عنصر بھی شامل تھا اور قیادت کا خلوص بھی کوٹ کوٹ کر بھرا تھا جو آنسوؤں کی صورت میں نکل رہا تھا۔یہی وہ موقع تھا جب عوام کو اپنی قیادت پر فخر محسوس ہوا ہوگا،اسی لیئے جب عوام نے اس ماحول میں آغا کے فیصلہ کو سنا تو اس کا فوری اثر ہوا اور عوام نے بات مان لی اور واپس جانے کیلئے تیار ہو گئے۔

دسمبر کی اس یخ بستہ برفیلی رات کے اس پہر میں بھی اپنے اہل تشیع دوستان کیساتھ روندو ڈمبوداس کے ایک امام بارگاہ میں دیگر جوانوں کے ساتھ موجود تھا۔ یہ رات کے بارہ بجے تھے۔ رات یہیں قیام کے بعد اگلے روز گلگت کے لیے روانہ ہونا تھا۔ اہلیان روندو جو کہ مہمان نوازی اور شجاعت کے حوالے سے یکتا اور یگانہ ہیں نے چھ سات گائے ذبح کرنے کے باوجود کھانا پڑ گیا تھا۔ او ر حسن اتفاق سے کچھ زیادہ جذبات میں آکر دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا البتہ بیگ میں کچھ خشک فروٹس تھے لیکن وہ سب کے سامنے کیسے کھائیں۔ باہر کسی دکان میں جا کر بسکٹ وغیر ہ سے پیٹ کی آگ بجھائی اور واپس امام بار گاہ میں پہنچ گئے تو اس تحریک کو رونق بخشنے والے حاجی پٹھان ماحول کو گرما رہے تھے۔ میں بھی کسی کونے میں دبک کے بیٹھ گیا صبح کی آذان ہوگئی لیکن نیند ندارد ۔ سخت ترین سردی اور شدید برفباری روندو میں ہمارے انتظار میں تھی۔ اس برف میں گاڑی چلانا بھی ایک عذاب سے کم نہ تھا ۔ صبح کی نماز مشکل سے ادا کرنے کے بعد دوبارہ سونے کی کوشش کی تو لانگ مارچ کے شرکاء کی خوش گپیاں بھاری ہوگئیںِ یہ تمام رات ٹھٹھرٹھٹھر کے گزار ی اور صبح کے ناشتے کے بعد دوبار ہ عازم سفر ہونے کو تھے کہ گلگت سے ایکشن کمیٹی کے سربراہ مولانا سلطان رئیس کی طرف سے پیغام آیا کہ دو بجے تک مذاکرات کا تیسرا دور ہوگا دو دور بے نتیجہ ختم ہو ئے ہیں اس کے بعد لانگ مارچ کا فیصلہ دیں گے۔ اس موقع پر روندو کے عوام امڈ کے آئے اور احتجاجی جلسے بھی ہوئے۔دو بجے کے بعد مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے بعد حکم ہوا کہ قافلہ واپس جائے گا۔ لانگ مارچ کے خوف کی وجہ سے حکومت مذاکرات کی ٹیبل پر آگئی تھی ۔ دوسری طرف اس مذاکرات میں کامیابی میں پاکستان آرمی کا بھی غیر معمولی کردار سامنے آیاہے ۔ ایف سی این اے کمانڈر ہی کی ضامن پر انجمن تاجران اور ایکشن کمیٹی نے لانگ مارچ کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کا سمجھنا تھا کہ حکومت پر کوئی اعتماد نہیں اور مذاکرات کے دھوکہ دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔ اس پرگھٹن ماحول میں پاکستان آرمی نے ایک بار پھر پاکستان کو درپیش بحران سے نکالنے میں مثبت کردا ر ادا کیا۔

اس موسم میں رات کے نو بجے جب ہم واپسی پر اسکردو شہر میں داخل ہوگئے تو کچورا سے حسینی چوک تک ہزاروں مرد و زن استقبال کے لیے موجود تھے۔ ہماری واپسی کی خبر پھیلتے ہی عوام گاڑیوں میں پیدل ہمارے انتظار میں تھے۔ مختصر یہ کہ رات گیارہ بجے قریب جب حسینی چوک انجمن تاجران کے آفس کے سامنے پہنچے تو عوام نے اپنے محبوب قائد غلام اطہر کو دائرے میں لے کر نعرے لگارہے تھے ۔ اس وقت جشن کا منظر تھا ،ابھی محبوب قائد آغا علی رضوی کا انتظار ہو رہا تھا اتنے میں فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ جگمگاتے جوانوں کے دائرے میں مجمع میں داخل ہوگئے ، انکی آمد کا اعلان سٹیج سے کیا گیا عوام ان کی طرف جھپٹ پڑے ان سے گلے ملے انکے عمامے چومے ، محبتوں کے اظہار کے ساتھ انہیں سٹیج پر پہنچایا گیااس دوران آغا آپ پے درود و سلام کے نعرے بلند ہوتے رہے۔اسٹیج پر احمد چو، راجہ جلال حسین مقپون، وزیر عدیل شگر کے علاوہ آغا علی رضوی اور غلام اطہر نے خطاب کرکے کہا کہ ہم نے لانگ مارچ واپس کیا ہے کل سے احتجاجی دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ٹیکس کے خاتمے کا نوٹیفیکیشن ہمارے ہاتھ میں نہیں آتا۔ ادھر گلگت میں مولانا سلطان رئیس کی بصیرت اور قائدانہ صلاحیت کے سبب ہر قسم کی علاقائی ، لسانی اور مسلکی تعصب کو ابھرنے نہ دیا۔ حکومتی مشینری یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی تھی کہ بلتستان والے شیعہ گلگت کے سنی وزیراعلی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ لیکن اس تحریک میں شیعہ ، سنی، دیوبندی، اہلحدیث، نوربخشیہ سب ایک ہو چکے تھے۔ تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کی دفن ہو گئی تھی۔ داریل ، تانگیر،چلاس، غذر، ہنزہ ،نگر،اور بلتستان کے تمام مسلم لیگ نون کے عوام دشمن فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوگئے تھے۔ ابھی جی بی بھر میں احتجاج جاری ہے اور یہ نوٹیفکیسن ملنے تک جاری رہے گا بلتستان میں ہڑتال میں نرمی لائی گئی ہے۔ اس تحریک میں تمام سیاسی ،سماجی و مذہبی جماعتیں شریک تھیں۔

اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہو گا کہ اس یخ بستہ سرد موسم میں جب انسان اور جاندار تک سوکھ جاتے ہیں ہم نے اس بلند چوٹیوں کی بیچ محبت کے پھول کھلتے دیکھے ہیں ، قربانی کی کلیاں چٹکتی دیکھی، اتحاد کی خوشبو پھیلتی دیکھی،عزم و ارادے کا چمن مہکتے دیکھا، حوصلوں کا سورج طلوع ہوتے دیکھا، امید کی کرنیں پھوٹتی دیکھیں، خوشیوں کی بہار آتے دیکھی، فتح کا سہرا سجتے دیکھا، نفرت کی راتیں ڈھلتی دیکھیں،وفاداری کا کونپل پھوٹتے دیکھا، سیادت کا چہرہ دمکتے دیکھتا ،شجاعت کا موسم آتے دیکھا،پیار کی گھٹائیں چھاتی دیکھی،جیت کا نغمہ گاتے دیکھا، غریب کا آنسو تھمتے دیکھا، مظلوم کی فریاد سنتے دیکھی اور ظلم کا محل گرتے دیکھا،ناانصافی کے قدم ڈگماتے دیکھے،نفرت کی دیواریں گرتی دیکھی، غرور کا بت گرتے دیکھا، حکمرانی کا تخت لرزتے دیکھا،سازشوں کی کشتی ڈوبتے دیکھی، حاکم کا چہرہ بجھتے دیکھا،فرقہ پرستی کا تراشیدہ بت چٹخ کے زمیں بوس ہوتے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔سال رفتہ کا دسمبر تو کتنا مہربان تھا تو میری زندگی میں پھر پلٹ آئے گا۔ اے 2017کا دسمبر تیرا اس عوام پر بہت احسان ہے ۔ تیرا لطف بہت عجیب تو لوٹ کے آنا ، تو لوٹ کے آنا۔۔۔ آخر میں اس تحریک کی جان اور عوامی قائد آغا علی رضوی کی نذر چند اشعار کیساتھ اجازت چاہوں گا۔

یہ تیرا جمال کامل، یہ شباب کا زمانہ
دل دوستان سلامت، دل دشمناں نشانہ
وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتح زمانہ


تحریر: عبداللہ گانچھے
بشکریہ: ماہانہ افکار العارف

Page 8 of 811

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree