The Latest

وحدت نیوز(جہلم) مجلس وحدت مسلمین ضلع جہلم کی ضلعی شوری کا اجلاس دینہ ضلع جہلم میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت صوباٸی سیکرٹری جنرل علامہ سید مبارک علی موسوی نے کی۔ اجلاس میں مرکزی سیکرٹری روابط ملک اقرار حسین صوباٸی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سیکرٹری تنظیم سازی علامہ سید ملاز م حسین نقوی نے خصوصی شرکت کی اجلاس میں بنیادی ھدف تنظیم سازی و توسیع تنظیم تھا ضلعی سیکرٹری جنرل سید وسیم حیدر نقوی  نے اجلاس کےاغراض و مقاصد پہ روشنی ڈالی۔تنظیم سازی کے لۓ اگلی سہ ماہی کا پروگرام طے کیا گیااجلاس کے اختتام پہ صوباٸی سیکرٹری  جنرل علامہ مبارک موسوی نے تنظیم و ضرورت تنظیم پہ مفصل گفتگو کی۔

وحدت نیوز (کویت) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری امور خارجہ علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے برادرسیف علی کو مجلس وحدت مسلمین شعبہ کویت کا سیکریٹری جنرل نامزد کیا ہے،سیف علی کی نامزدگی پرایم ڈبلیوایم کویت کے ممبران نے خیر مقدم کیاہےانہیں ایم ڈبلیوایم کویت کی ذمہ داری حاصل کرنے پر مبارک باد پیش کی ہے اور ان کو مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکریٹری جنرل آغا علی رضوی نے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے دیامر یوتھ کی طرف سے منعقدہ احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیامر بھاشاڈیم کے متاثرین کے تحفظات کو دور کیا جائے اور ان کے مطالبات کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دیامر کے عوام کے ساتھ گلگت بلتستان کے عوام کھڑے ہیں حکومت دیامر کے عوام کے مطالبات کو فوری طور پر حل کریں۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ دیامر ڈیم کے متاثرین کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنے میں لیت و لعل سے کام لینا کسی طور درست نہیں۔ گلگت بلتستا ن میں جہاں بھی زیادتی ہوگی ہم کھڑے ہونگے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔اگر ضرورت پڑتی ہے دیامر جا کر وہاں کے عوام کے ساتھ جاری تحریک کا حصہ بنیں گے اور انکے حقوق دلا کر دم لیں گے۔ اسلام آباد پریس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ میں آغا علی رضوی نے کہا کہ وفاقی حکومت فوری طور پر دیامر کے متاثرین کے تحفظات کو فوری طور پر دور کرے۔اس موقع پر احتجاجی مظاہرہ میں اسلام آباد میں مقیم دیامر کے طلباء کی بڑی تعداد شریک تھی۔

وحدت نیوز(اسکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکریٹری جنرل آغا علی رضوی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے بعض اراکین بلخصوص حکومتی اراکین کی جانب سے خطے کے آئینی حقوق کے لیے پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے اور آئینی حقوق دینے کے لیے تحریک چلانے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ خطے کی تعمیر و ترقی اور حقوق کے حصول کے جہاں نمائندے ایک قدم اٹھائے وہاں عوام دس قدم اٹھائیں گے۔ عوامی حقوق کے لیے خطے کے عوام ان کے شانہ بشانہ کھڑ ے ہیں۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ بعض وفاقی سیاسی جماعتوں کے طرف سے گلگت بلتستان کے مقدمے کو کمزور کرنے کی کوشش انتہائی افسوسناک عمل اور پاکستان کے وفادار خطے کے ساتھ ظلم ہے۔ ستر سالوں سے گلگت بلتستان کو حقوق سے محروم رکھنے میں وفاقی سیاسی جماعتوں کا کردار ہے اب مزید اس معاملے میں سستی کسی طور درست نہیں۔ گلگت بلتستان میں پاکستان کا آئینی حصہ بننے کے جدوجہد کرنے والوں کا راستہ روکا جاتا ہے اور انہیں غدار بنا کر پیش کیا جا تا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام سے بڑھ کر کوئی اور پاکستانی نہیں ہے۔ عوام اپنے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھیں ۔ وفاقی جماعتیں گلگت بلتستان کے عوام کے امنگوں کے مطابق اپنا موقف اپنائیں اور خطے کو محروم رکھنے میں کردار ادا کرنے والی جماعتوں کو گلگت بلتستان کا مقدمہ کسی بھی فورم پر لڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جو بھی وفاقی جماعت گلگت بلتستان کے حوالے سے آواز اٹھانا چاہتی ہے وہ یہاں کے عوام کے موقف کو ٹھیس نہ پہنچائیں ۔آغا علی رضوی نے جی بی اسمبلی کے اراکین خطے کے حقوق کے لیے سنجیدہ اقدام اٹھائیں تو عوام ساتھ ہیں۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما سابق وزیر قابون و نامزد امیدوار برائی صوبائی اسمبلی حلقہ پی بی 26 سید محمد رضا نے مری کالونی میں ایک حمایتی کارنر میٹنگ میں سیاسی شخصیات علاقہ عمائدین اور کارکنوں سے خطاب کے دوران کہا کہ سرد موسم میں گیس پریشر کی کمی سے شہریوں کو کئی مسائل کا سامنا ہے ذمہ دار ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہے وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ترجیحی بنیادوں پر اس مسلے کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کریں ۔

آغا رضا نے کہا کہ عوام کی بھر پور حمایت کامیابی کی نوید ہے ضمنی الیکشن میں حلقہ پی بی 26 کے با شعور عوام کا ہم پر اعتماد کا اظہار توقع سے کہی زیادہ ہے اگر ہم کامیاب ہوئے تو تمام بنیادی شہری حقوق کے حصول کیلئے مرکز تک جائیں گے۔

زمین پر سجدہ

وحدت نیوز (آرٹیکل) سجدہ خداکی بارگاہ میں خضوع کا اظہار کرنا ہے اور یہ مقصد دوسری چیزوں کی نسبت خاک پر سجدہ کرنے سے حاصل ہو جاتا ہے لیکن سجدہ کے لیے سب سے زیادہ باارزش، قیمتی اور حائز اہمیت چیز خاک کربلا ہے۔روایات کے مطابق انسان سجدہ کی حالت میں دیگر حالات کی نسبت خداسے زیادہ قریب ہوتا ہے ۔ مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ نماز گزار کو نماز کی ہر رکعت میں دو سجدے بجا لانا چاہیے لیکن جن چیزوں پر سجدہ صحیح ہے اس میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف ہے ۔

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ حالت نماز میں زمین پر یا ایسی چیز پر جو زمین سے اگتی ہو بشرطیکہ وہ چیز کھانےاور پہننے میں استعمال نہ ہوتی ہو سجدہ کرنا چاہیے اور اختیاری حالت میں ان دو چیزوں کے علاوہ کسی اور چیز پر سجدہ کرناجائز نہیں ہے لیکن اہل سنت لباس اور فرش وغیرہ پربھی سجدہ کرنے کو جائز قرار دیتے ہیں ۔اس حکم کےبارے میں شیعوں کا مستند ائمہ اہلبیت علیہم السلام سےنقل شدہ احادیث ہیں ۔البتہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اصحاب کی سیرت بھی اس بات کی تائید کرتی ہے ۔

جناب ہشام کہتےہیں :میں نے امام جعفر صادق علیہ السلا م سے سوال کیا کہ کن چیزوں پر سجدہ کیا جاسکتا ہے اورکن چیزوں پر سجدہ نہیں کیا جا سکتا ۔امام ؑنے جواب میں فرمایا:(السجودلا یجوز إلاعلی الارض أوعلی ما أنبتت من الارض إلا ما أکل أو لبس) 1 سجدہ جائز نہیں ہےمگر زمین پر یا ان چیزوں پر جو زمین سےاگتی ہیں سوائے کھانے اور پہننے والی چیزوں کے ۔جناب ہشام نے جب اس حکم کی حکمت کےبارے میں سوال کیا تو امام نے فرمایا:(لان السجود خضوع لله عزوجل فلاینبغی أن یکون علی ما یؤکل و یلبس لان أبنا الدنیا عبید مایاکلون و یلبسون و الساجد فی سجودہ فی عبادۃ الله عزوجل فلاینبغی أن یضع جبہتہ فی سجودہ علی معبود أبناء الدنیا الذین اغتروا بہا)2

اس لئے کہ سجدہ خداوند متعال کےحضور خضوع کا نام ہے لہذا کھانے اورپہننے والی چیزوں پر سجدہ جائز نہیں ہےکیونکہ دنیا کی پرستش کرنے والے کھانے اور پہننےوالی چیزوں  کےبندے ہیں پس جو سجدہ کرتاہے وہ سجدہ کی حالت میں خدا کی عبادت میں مشغول ہےلہذا مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنی  پیشانی کوایسی چیز پر رکھے جو دنیا کی پرستش کرنے والوں کا معبود ہے جو دنیا کے زرق و برق پر فریفتہ ہیں ۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:(والسجودعلی الارض افضل لانہ ابلغ للمتواضع والخضوع لله عزوجل)3 سجدہ زمین پر افضل ہے اس لئےکہ یہ خدا کےسامنے تواضع اور خشوع کو بہترپیش کرتا ہے ۔

عبد الوہاب شعرانی (اہل سنت کےبزرگ فقیہ و عارف ﴾)کہتے ہیں :سجدہ خدا کی بارگاہ میں خضوع کا اظہار کرنا ہے۔انسان اپنےبدن کے عزیز ترین حصے کو جو کہ پیشانی ہے زمین پر رکھے۔یہ کام انسان سےغرور و تکبر کو ختم کر دیتا ہے اور انسان کے اندر خدا کے حضور شرفیاب ہونےکی لیاقت پیدا کرتا ہے ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سلسلے میں فرماتے ہیں:(لایدخل الجنۃ منفی قلبہ مثقال ذرۃ من کبر)4جس کےدل میں ذرہ برابر تکبر ہو وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔” پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مشہور حدیث میں ذکر ہوا ہے :(جعلت لی الارض مسجدا و طہورا )5زمین کو میرے لئے سجدہ اور پاک کرنےکی جگہ قرار دی گئی ہے۔ کلمہ (طہور)جو تیمم پر دلالت کرتا ہے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ (ارض)سے مراد پتھر ،مٹی اور ان چیزوں کےمانند ہیں ۔

پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےزمانےمیں مسلمان مسجد کی زمین پر سجدہ کرتے تھے جو سنگ ریزوں سے مفروش تھی جب گرمی کی شدت کی وجہ سے سنگریزے گرم ہو تے تھے اور ان پر سجدہ کرنا مشکل ہوجاتا تھا تو  انہیں ہاتھ میں اٹھاتے تھے تاکہ سرد ہو جائیں پھر ان پر سجدہ کرتے تھے جیسے جناب جابر بن عبد اللہ انصاری کہتےہیں :میں نماز ظہر کو پیغمبر خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امامت میں ادا کر رہاتھااور مٹھی بھر سنگریزوں کو ہاتھ میں لے کر ایک ہاتھ سےدوسرےہاتھ میں پھیر لیتا تھا تاکہ سرد ہوجائیں پھر نماز کی حالت میں ان پر سجدہ کرتا
تھا ؏۔6

گرمی کی شدت کی وجہ سے مسجد کےسنگریزے (جو مفروش تھے اورظاہراً مسجد بھی بغیر چھت کی تھی)گرم ہو تے تھے بعض اصحاب گرمی سےبچنےکےلئے اپنی پیشانیوں کےنیچے  لباس رکھتے تھے ۔پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس کام سےمنع فرمایا ۔ان لوگوں نے آپ ؐ سے گرمی کےبارے میں شکایت کی لیکن آپ ؐ نے اس کی پروا  نہ کی اور  انہیں لباس پر سجدہ کرنے کی اجازت نہیں دی  ۔ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت الہی کے پیکر تھے ۔آپ ؐلوگوں کی مشکلات کی وجہ سے پریشان ہو تے تھے اورآپؐ ان مشکلات کوحل کرنے کی کوشش کرتے تھےچنانچہ قرآن کریم اس بارے میں فرماتا ہے :(لَقَدْ جَاءَکمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِکمْ عَزِيزٌ عَلَيْہ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْکُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيم)7

بتحقیق تمہارےپاس خود تم ہی میں سے ایک رسول آیاہے تمہیں تکلیف میں دیکھنا ان پر شاق گزرتا ہے وہ تمہاری بھلائی کا نہایت خواہاں ہے اور مومنین کے لئے نہایت شفیق و مہربان ہے۔

اگر لباس اور اس طرح کی چیزوں پر سجدہ کرنا صحیح ہوتا تویقیناپیغمبراسلا م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلممسلمانوں کو لباس وغیرہ پر سجدہ کرنے کی اجازت دیتےاور انہیں لباس وغیرہ پر سجدہ کرنے سے منع نہیں فرماتے ۔اصحاب سے جو روایات نقل ہوئی ہیں ان کے مطابق پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعدمیں حصیر اور چٹائی پربھی سجدہ کرنے کی اجازت دی تھی ۔ ام المومنین میمونہؓ سے مروی ہے :(ورسول الله یصلی علی الخمرۃ فیسجد)رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھتے اور اسی پر سجدہ کرتے تھے۔8
البتہ مشکلات کے وقت لباس وغیرہ پربھی سجدہ کرنا جائز ہےچنانچہ بعض احادیث اسی بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔ انس بن مالک کہتے ہیں:(کنا اذا صلینا مع النبی فلم یستطع أحدنا أن یمکن جبہتہ منالارض طرح ثوبہ ثم سجدعلیہ)9

ہم پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ۔اگر ہم میں سے کوئی زمین پر اپنی پیشانی رکھنے سے معذور ہوتا تو  اپنے لباس پر سجدہ کر لیتاتھا ۔ اس حدیث میں لباس پر سجدہ کرنے کو زمین پر سجدہ نہ کرسکنے کے ساتھ مقید کیا ہے اور یہ قیددوسری روایات کے اطلاقات کو بھی مقید کر دیتا ہے  ۔

سجدہ کےبارے میں اہل سنت کی احادیث سے کچھ نکات حاصل ہوتے ہیں :
1۔ابتداء میں مسلمان صرف پتھر اور مٹی پر سجدہ کرتے تھے ۔
2۔دوسرے مرحلے میں چٹائی اور زمین سے اگنی والی چیزوں پر بھی سجدہ کرنے کو صحیح قرار دیا گیا ۔
3۔اضطراری حالت میں  لباس وغیرہ پر بھی سجدہ کرنا جائز ہے ۔
ان احادیث سے جو نکات حاصل ہوتے ہیں وہ شیعوں کے عقائد سے مکمل طورپر مطابقت رکھتےہیں ۔ اہل سنت کے فقہاء لباس وغیرہ پر سجدہ کرنے کو عام حالتوں میں بھی جائز قرار دیتے ہیں۔

پتھر اور مٹی {مسجود علیہ}ہیں نہ {مسجود لہ }ان پر سجدہ ہوتا ہےنہ ان کو سجدہ کیا جاتا ہے۔بعض اوقات غلط بیان کیا جاتا ہے کہ شیعہ پتھر کو سجدہ کرتے ہیں حالانکہ وہ دیگر مسلمانوں کی طرح صرف خدا کے لئے سجدہ کرتےہیں اور خدا کی بارگاہ میں خضوع  کے ساتھ پیشانی کو خاک پر رکھتے ہیں ۔علاوہ ازیں بعض مورخین کے نقل کے مطابق سابقہ لوگ{سلف}بھی گلاب کے خشک حصے کو ساتھ رکھتےاور اس پر سجدہ کرتے تھے۔چنانچہ ابوبکر بن ابی شیبۃ ،مسروق بن اجدع {متوفی 62ھ جو تابعین میں سے تھے}نقل کرتا ہے کہ وہ سفر میں ہمیشہ گلاب کے خشک حصے کو ساتھ رکھتے تھے تاکہ اس پر سجدہ کر سکے ۔10

شیعہ مٹی  کے ایک ٹکڑے کو  بطور سجدہ گاہ اپنے پاس رکھتے ہیں یہ اس لئےہےکیونکہ ممکن ہے کہ ہر جگہ ایسی چیزیں موجود نہ ہو جن پر سجدہ  کرناصحیح ہو ۔دوسری بات یہ کہ زمین پر سجدہ کرنا دوسری چیزوں کی نسبت زیادہ مناسب ہے کیونکہ سجدہ خداکی بارگاہ میں خضوع کا اظہار کرنا ہے اور یہ مقصد دوسری چیزوں کی نسبت خاک پر سجدہ کرنے سے حاصل ہو جاتا ہے لیکن سجدہ کے لیے سب سے زیادہ باارزش، قیمتی اور حائز اہمیت چیز خاک کربلا ہے۔ تمام ائمہ اطہارعلیہم السلام نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ حتی المقدور سجدہ، خاک کربلا پر کیا جائے اور وہ خود بھی ہمیشہ سجدہ خاک شفا پر کیا کرتے تھے۔ معاویۃ ابن عمار کا کہنا ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے پاس زرد رنگ کا ایک رومال تھا جس میں خاک شفا رکھی ہوئی تھی اور جب نماز کا وقت آتا تھا تو آپ اسی پر سجدہ کرتے تھے۔خاک کربلا پر سجدہ کرنا امام زین العابدین علیہ السلام کی سنت ہے تاریخ میں ہے کہ جب آپ نے سید الشہداءعلیہ السلام کو دفن کر دیا تو آپ کی قبر مبارک سے ایک مٹھی خاک اٹھا لی اور اس کی سجدہ گاہ بنا کر اپنے پاس رکھ لی اور ہمیشہ اس پر سجدہ کیا کرتے تھے۔ آپ کے بعد دیگر ائمہ بھی ہمیشہ خاک کربلا پر سجدہ کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ امام صادق علیہ السلام سوائے خاک کربلا کے کسی چیز پر سجدہ نہیں کرتے تھے۔11

تربت امام حسین علیہ السلام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسان کو ہر طرح کے خطرے سے محفوظ رکھتی ہے امام رضا علیہ السلام نے لباس کا ایک صندوقچہ ایک آدمی کی طرف بھیجا اس میں کپڑوں کے ساتھ تھوڑی سی خاک کربلا بھی رکھ دی۔ اس شخص نے تحقیق کی کہ کیوں امام ؑنے کپڑوں کے ساتھ خاک کربلا کو بھجوایا ہے تو معلوم ہوا کہ کہ تربت کربلا انسان کو ہر طرح کے خطروں سے امان میں رکھتی ہے جیسا کہ امام صادق علیہ السلام نے بھی فرمایا: امام حسین علیہ السلام کی قبر کی خاک میں شفا بھی ہے اور ہر خوف سے امان بھی۔12

حوالہ جات:
1۔وسائل الشیعۃ ،ج3،باب 1،حدیث اول،ص 591۔
2۔ایضاً۔
3۔علل الشرایع ،ج2ص341۔
4۔الیواقیت و الجواہر فی عقائد الاکابر ،ج1،ص164۔ الاعتصام بالکتاب و السنۃ،ص74۔
5۔صحیح بخاری ،ج1،ص91،کتاب تیمم ،حدیث 2۔
6۔مسند احمد ،ج3،حدیث 327۔
7۔توبہ،128۔
8۔مسند احمد،ج6،ص321۔
9۔مسند احمد ،ج2، ص198 ۔الاعتصام بالکتاب و السنۃ ،ص81 ۔
10۔صحیح بخاری،ج2،ص64،کتاب الصلوۃ ۔المصنف ،ج1،ص400،الاعتصام بالکتاب و السنۃ،ص86۔
11۔بحار الانوار، ج۱۰۱، ص۱۵۸۔
12۔ کامل الزیارات، ص۲۷۸، باب ۹۲،حدیث ۱۔


تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ سید مبارک علی موسوی نے کشمیری مظلوموں کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ریاستی دہشتگردی کی انتہا کر دی ہے، آئے روز نہتے کشمیریوں کا خون بہانا قابل مذمت ہے، حکومت پاکستان اور وزارت خارجہ کو چاہیے کشمیر کے معاملے پر او آئی سی کا اجلاس بلوائے اور اس معاملے کو سنجیدگی سے انٹرنیشنل فورم پر اٹھائیں تاکہ کشمیر کاز کو کمزور نہ پڑنے دیا جائے۔ انہوں نے کہا دنیا کی نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ نے کشمیریوں پر ہونیوالے مظالم پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں، کشمیر اقوام عالم کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں، بھارت کا آئے روز نہتے کشمیریوں کو شہید کرنا اب قابل برداشت نہیں رہا، کشمیریوں کا خون اتنا سستا نہیں کہ اس پر آواز ہی نہ بلند کی جائے۔ پوری دنیا کو اس وقت ایک صحافی کا قتل نظر آ رہا ہے لیکن بھارتی دہشتگردی پر خاموشی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مغربی ممالک مفاد پرست اور دوغلے ہیں۔ علامہ سید مبارک علی موسوی کا مزید کہنا تھا پاکستانی مین اسٹریم میڈیا کو چاہیے کہ کشمیر کے معاملے پر آواز بلند کریں اور اس معاملے کو عالمی تحریک بننے تک خاموش نہ بیٹھا جائے، جبکہ ایم ڈبلیو ایم کشمیر کاز پر حکومت کیساتھ کھڑی ہے۔

وحدت نیوز(ملتان) مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے زیراہتمام ولادت باسعادت امام حسن عسکری علیہ السلام کے موقع پر ''نور ولایت سیمینار'' 21 دسمبر کو سائبان زہراء ملتان میں منعقد ہوگا، ملتان سے جاری بیان کے مطابق ایم ڈبلیو ایم جنوبی پنجاب کے صوبائی ترجمان ثقلین نقوی کا کہنا تھا کہ سیمینار میں علمائے کرام، شعرائے کرام، منقبت خواں شریک اور خطاب کریں گے، ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی آمد بھی متوقع ہے، اُنہوں نے کہا کہ سیمینار سے حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر یونس حیدری، سید ناصر عباس شیرازی، علامہ سید اقتدار حسین نقوی خصوصی خطاب کریں گے۔

وحدت نیوز(کراچی) 23دسمبر کو تیروتبرپتنگ اور بلے ڈھیرہوجائیں گے اور پہاڑکو فتح ہوگی،عارف رضا زیدی یو سی 11کے محروم عوام کی توانا آواز ہے،استحصالی طرز سیاست نے کراچی کے عوام کو انتخابی سیاست سے بد ظن کیا، یوسی 11کے ووٹرز پہاڑکے نشان پر مہر لگا کر عارف رضازیدی کو کامیاب بنائیں ہم آپ سے عوامی مسائل کے حل کا وعدہ کرتے ہیں، یوسی 11جعفرطیار کے ضمنی انتخاب میں حساس پولنگ اسٹیشنزپر رینجرز اہلکار تعینات کیئے جائیں،کسی صورت دھاندلی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے پولیٹیکل سیکریٹری سید علی حسین نقوی نے جعفرطیار سوسائٹی میں ایم ڈبلیوایم اور اہلیان جعفرطیار کے حمایت یافتہ امیدوار برائے وائس چیئرمین یوسی 11سید عارف رضا زیدی کی انتخابی مہم کے دوران جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہاکہ بلدیاتی نظام عوام کی مشکلات کے فوری حل کیلئے تشکیل پایا تھا لیکن افسوس کہ موروثی سیاسی جماعتوں نے اسے من پسند افراد کو نوازنے کا زریعہ بنادیاہے،سبرسراقتدار سیاسی جماعتیں جانبدارانہ انداز میں فقط اپنے منظور نظر علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرتی ہیں جبکہ مخالف ووٹرزکے ساتھ متعصبانہ طرز عمل اختیار کیا جاتاہے،جمہوری طرز عمل میں خدمت بلاتفریق ہوتی ہے، انشاءاللہ یوسی 11کے ضمنی انتخاب میں کامیابی کی صورت میں حلقہ کے تمام ووٹرز کی بلاتفریق خدمت ہمارا فرض اولین ہے، انہوں نے مزید کہاکہ 23دسمبرکو ہونے والے ضمنی بلدیاتی انتخاب میں حساس پولنگ اسٹیشنز پر رینجرز اور پولیس کی بھاری تفری تعینات کی جائے جبکہ ہم الیکشن کمیشن سے رینجرز اہلکاروں کی پولنگ بوتھ کے اندر تعیناتی بھی مطالبہ کرتے ہیں ۔

جنرل ورکرزاجلاس سے  پر ایم ڈبلیوایم کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی ،ڈویژنل سیکریٹری جنرل علامہ صادق جعفری ، علامہ مبشر حسن ، مولانا نشان حیدر، احسن عباس رضوی اور امیدوار برائے وائس چیئرمین یونین کونسل 11 سید عارف رضازیدی نے بھی خطاب کیا،اس موقع پر یوسی 11جعفرطیار کے معزز سماجی شخصیات حکیم امیر رضا رومی، اظہرحسین زیدی، حسن بھائی (سبیل کمیٹی )اور دیگر سمیت بڑی تعدادمیں مرد وخواتین کارکنان شریک تھے۔

تبدیلی مگر شعور کے ساتھ

وحدت نیوز(آرٹیکل) Change.org  ایک ایسی ویب سائٹ ہے جو ۲۰۰۷ میں بنا تھا ان کا ہیڈآفس سان فرانسسکو، کیلیفورنیا، امریکا میں ہے، اس کو تیز ترین سوشل ایکشن پلیٹ فارم بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی سائٹ ہے جہاں پر مختلف این جی اوز، انسانی حقوق کی تنظیمیں مختلف حوالوں سے درخواستیں دائر کرتی ہے۔ یہ ویب سائٹ ان درخواستوں کو عوامی حلقوں تک پہنچاتی ہے اور ان درخواستوں پر عوامی رائے لی جاتی ہے۔ اس طریقے سے یہ درخواستیں سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے کونے کونے تک پہنچ جاتی ہیں اور اس کے جواب میں ایک زبردست ردعمل وجود میں آتا ہے، اس سائٹ سے اب تک مختلف تحریکوں نے جنم لیا ہے۔

اسی طرح کی ایک تحریک آج کل فرانس میں چل رہی ہے جس کو پیلی جیکٹ (Yellow Jacket) کا نام دیا گیا ہے۔ اگر ہم تاریخ دیکھیں تویہ کوئی پہلی تحریک نہیں ہے جس نے سوشل میڈیا کے ذریعے جنم لی ہو، اس سے پہلے بھی دنیا میں اسی طرح کی مختلف تحریکیں جنم لے چکی ہیں جن میں سے بعض کامیاب ہوئے ہے تو کچھ کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے مگر اس فضاء کو قائم کرنے والے اور اس ماحول کو بنانے والے دونوں صورتوں میں فائدے میں ہوتے ہیں۔

یہ رنگوں کی تحریکیں کافی پُرانی نہیں ہیں، لیکن ان کے پیچھے چھپے محرکات خطرناک ہیں یہ تحریکیں سانپ کی طرح ہے جس کا ظاہر تو بہت خوبصورت اور ملائم ہوتا ہے مگر اس کا درون یا اس کے پیچھے موجود عزائم بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔ اکثر ایسے واقعات کے پیچھے جنگ نرم کا کھیل ہوتا ہے اور عالمی طاقتیں اس کے ذریعے اپنے مفادات تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے لشکر معاشرے کے متوسط اور حکومتی مظالم اور معاشرتی ناانصافیوں میں پسے ہوئے طبقے ہوتے ہیں اور ان کا ہتھیار نہتے عوام کی خواہشیں اور ارمان ہوتے ہیں جن کے وسیلے سے یہ لوگ اپنے اہداف تک پہنچتے ہیں۔

اگر ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو اسی طرح کی کچھ اہم تحریکوں یا انقلابوں کے نام مندرجہ زیل ہیں۔ پیلا انقلاب، کوکونٹ انقلاب، ولویٹ انقلاب، بلڈوزر انقلاب، روز انقلاب، اورینج انقلاب، پرپل انقلاب، ٹولپ انقلاب، بلیو انقلاب، سبز انقلاب، جاسمن انقلاب، کافی انقلاب و۔۔۔

اس طرح کی تحریکوں اور انقلابوں میں شرکت کرنے والے عام اور پُر امن عوام خصوصا کالج یونیورسٹی کے اسٹوڈنس ہوتے ہیں، ان کا کوئی ایک لیڈر نہیں ہوتا لیکن بعض اوقات یہ ایک مسلسل تحریک یا پھر ایک تنظیم کی شکل بھی اختیار کرلے تی ہے، یہ لوگ مظاہرے ہڑتال وغیرہ کے ذریعے اپنے مطالبات کو حکمران حلقوں اور دنیا تک پہنچاتے ہیں بعض اوقات یہ پرتشدد واقعات میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور خانہ جنگی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔

یہاں پر ایک اہم بات یہ ہے کہ اس طرح کے اکثر مسائل میں مختلف عوامل و محرکات شامل ہوتے ہیں، اکثر اوقات اس طرح کے مسائل کو پیدا کرنے میں بیرونی ہاتھ شامل ہوتے ہیں جو مختلف ذرایع سے اپنے کام انجام دیتے ہیں۔ مثلا مختلف نظریات کے ذریعے، امداد کے ذریعے، انسانیت، حقوق بشریت،آزادی وغیرہ کے خوبصورت نعروں کے ذریعے یہ لوگ عام عوام میں یا جس جگہ کو ہدف بنایا ہے وہاں اپنے نفوذ پیدا کرتے ہیں۔ آپ شام میں وائٹ ہیلمڈ کی تازہ مثال دیکھ لیں جب شام میں جنگ شروع ہوئی تو یہ ادارہ ترکی میں بنا ہوا کچھ یوں کی ایک برطانوی ریٹائرڈ آفیسر ایک پبلک پلیس پر شام کے مسئلے کو توڑ موڑ کر بیان کرتا ہے، جب سادہ لوح عوام سوال کرتے ہیں کہ ہم کیسے اپنے شامی بھائیوں کی مدد کریں تو وہ اپنا آئیڈیا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ دیکھو تم لوگ چندہ جمع کرو اور ایک فلاحی تنظیم کی شکل میں ان امداد کو شام تک پہنچا دو اس کے لئے نام بھی تجویز کر دیتا ہے، لوگوں کو یہ بات پسند آجاتی ہے اور اپنی مدد آپ کے تحت کام شروع کر دیتے ہیں، یوں اس میں غیرملکی امداد مختلف شکلوں میں شامل ہوجاتے ہیں اور یہ غرملکی عناصر اپنے اصل ہدف پر کام شروع کردیتے ہیں جو سب عوامی نظروں سے دور مخفیانہ طریقوں سے انجام پاتا ہے، وائٹ ہیلمڈ کے ذریعے کس طرح امریکہ و برطانیہ نے پروپگینڈا کیا اور کیسے دہشت گردوں کی مدد کی یہ سب کے سامنے واضح ہے۔ یاد رہے اکثر ممالک میں غیر ملکی این جی اوز بھی اس طرح کے کاموں میں ملوث ہوتی ہیں۔

 یلو جیکٹ کا معاملہ بھی کچھ اس طرح سے ہے کہ ایک فرانسوی خاتون نے مئی ۲۰۱۸ کو Change.org  کی سائٹ پر ایک درخواست دائر کی جس پر اکتوبر تک  تین لاکھ دستختیں مکمل ہو گئی تھیں، اسی درخواست کو سامنے رکھ کر دو آدمی )جو اسی خاتون کی ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھتے ہیں( فیس بک پر ۱۷ نومبر کو ایک مظاہرے کا انتظام کرتا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ۱۷ نومبر کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف تمام سڑکوں کو بند کیا جائے گا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ سوشل میڈیا پر اس قدر شورو غل مچاتا ہے کہ ایک ایسے ملک جو اپنے آپ کو مہذب اور ترقی یافتہ صفوں میں شمار کرتا ہے اُس ملک کی سڑکوں پر عوام کا سیلاب آمڈ آتا ہے۔ فرانس کی سڑکوں پر بچے، جوان، بوڑھے، مرد خواتین سب انصاف کی حصول  کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ اس عوامی مظاہرے پر پولیس کی طرف سے شدید لاٹھی چارج، شیلنگ اور ربڑ کی گولیوں کا بے تحاشہ استعمال کیاجاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ویڈیوز بھی وائرل ہو رہے ہیں جس میں پولیس کے ساتھ چھڑپیں، حکومتی مظالم اور مظاہرین کی جانب سے جلاو گھراو دیکھایا گیا۔ یہ مظاہرین پہلے سوشل میڈیا پر مظاہرہ کا دن اور وقت مقرر کرتے ہیں پھر مختلف نعروں اور ہیچ ٹیک کے ساتھ ٹویٹر اور فیس بک پر ٹرینڈ چلاتے ہیں پھر ہر ہفتے اور اتوار سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ مگرابھی تک ان کا کوئی لیڈر یا منظم کرنے والا سامنے نہیں آیا ہے، لیکن مختلف تنظیموں نے ان کی حمایت کا اعلان بھی کیا ہے۔ یلو جیکٹ کہاں جا کر رکتا ہے؟ ان کے پیچھے کون لوگ ہیں؟ ان کا اصل ہدف کیا ہے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ مجھے تو شام میں وائٹ ہیلمٹ کو بنانے والوں اور یلو جیکٹ کو شروع کروانے والوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔
 میرا یہاں پر ہمارے میڈیاپرسنز و سوشل ایکٹوسٹ حضرات سے یہ سوال ہے کہ جب کبھی کسی اسلامی ملک میں مثلا شام، لیبیا، عراق، ایران  یا وطن عزیز میں کوئی ایسا عوامی یا پرتشدد واقعہ رونما ہوتا ہے توتمام عالمی طاقتیں اور شخصیات آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں کہ بھائی وہ دیکھو مسلمانوں کو، وہ دیکھو ان کے حکمرانوں کو، مسلمان شدت پسند ہیں، یہ لوگ جاہل ہہیں،یہ لوگ مہذب نہیں ہیں، یا کہتے ہیں دیکھو مسلمان حکمرانوں کو یہ بڑے ظالم ہیں، عوام کو ان کے جائز حقوق نہیں دیتے ان کو ایسا ہونا چاہئے، ویسا ہونا چاہئے ان کے خلاف یہ ہونا چاہئے وہ ہونا چاہئے ساری دنیا کی چیخیں نکل رہی ہوتی ہیں، عالمی حقوق کی تنظیمں اور انسانیت کے نام نہاد علمبردار حکومتیں فورا میدان میں کود پڑتے ہیں۔ مگر بات فرانس کی یا کسی یورپین ممالک کی آتی ہے تو سب کو سانپ سونگھ جاتے ہیں آخر کیوں؟ جب امریکہ کا دل کرتا ہے کسی بھی ملک کو اٹھا کر کسی بھی لسٹ میں ڈال دیتا ہے، ابھی کچھ دن پہلے پاکستان کوامریکہ نے مذہبی  آزادی کی خلاف ورزی کرنے والے ملکوں کے لسٹ  میں ڈال دیا تھا۔ اس کا جب دل چاہتا ہے کسی بھی اسلامی ملک پر دہشت گردی کا الزام لگا دیتا ہے، کسی بھی ملک پر پابندیاں لگا دیتا ہے اور جب چاہئے حملہ کر دیتا ہے لیکن جب ان کے اپنے شہریوں کی حقوق کی بات آتی ہے تو ان کے منہ سے بات تک نہیں نکلتی ان کی تو بات چھوڑیں ہمارے وہ حضرات جو ہر وقت اپنی ہی برائیاں کرنے میں لگے ہوتے ہیں آج وہ سارے لوگ بھی چپ کا روزہ رکھے نظر آتے ہیں۔

ہمارے اکثر لوگ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس زمانے میں میڈیا ایک ایسا ہتھیار ہےجس کی کوئی سرحد نہیں ہوتی یہ گھروں سے لیکر ہماری جیبوں تک میں موجود ہے۔ ہم اپنا پیشتر قیمتی وقت اسی میڈیا پر ہی صرف کرتے ہے یہ ایک ایسا میدان جنگ ہے جہاں اگر دشمن کی چالاکیوں کو نہیں بھانپ سکے تو شکست کھا جاتے ہیں۔ میری اس تحریر کا مقصد فرانس کے مظاہرین کی حمایت کرنا یا فران­سوی حکومت کی برائی کرنا یا ہمارے معاشرے میں رونما ہونے والے ہر واقعات کی حق میں بولنا نہیں ہے۔ بلکہ میڈیا اور دوسری چیزوں کے ذریعے لوگوں کی ذہنوں کو گمراہ کیا جاتا ہے اس کی طرف توجہ دلانا ہے، عالمی طا­قتیں مختلف حیلوں بہا­نوں سے ایسے حالات پی­دا کرتے ہیں کہ ہم اپ­نوں کے ہی خلاف ہوجاتے ہیں، ایسے دلائل اور وجوہات پیش کئے جاتے ہیں کہ ہم پس پردہ حقائق سے کوسوں دورچلے جاتے ہیں۔ لہذا ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں اپنے آپ کو ہر طریقے سے آراستہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دش­منوں کی سازشوں کو سم­جھ سکیں۔ ہمیں ہر وسا­ئل سے استفادہ کرنا چاہئے لیکن آگاہی اور شعور کے ساتھ کیونکہ دشمن مختلف ذرایع سے ہماری صفوں میں داخل ہوتے ہیں اور ہمیں اپ­نے مقصد سے دور کر دی­تے ہیں۔آج کے اس تیز ترین دن­یا میں انٹرنٹ کے بغیر زندگی ناممکن ہے اور سوشل میڈیا عوامی روابط و مسائل کی حل کے لئے ایک بہترین پیلٹ فارم ہے مگر ان کے استعمال، ان کے فوائد، نقصانات اور اہداف سے سب کو باخبر ہونا چاہئے، ہمیں فری میں وائی فائی ملنے پر پا­گل نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہر قدم کو سوچ سم­جھ کر اور پھونک پھونک کر اٹھانے کی ضرورت ہے یہ ساری فری سائٹز اور فری ایپلیکیشنز ایسے ہی مفت میں نہیں دیتے ہیں ان سب کے پیچھے ایک خاص مقصد پوشیدہ ہوتا ہے۔ ہمیں کسی کے خلاف بولنے اور کسی کی حمایت کرنے کے لئے صرف انٹرنٹ اور میڈیا پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے بلکہ حق­ائق کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے، ہمارا معیار دلائل اور سچائی ہونا چائے نہ کہ کسی کی دی ہوئی ڈیکٹیشن یا بنائے ہوئے نعروں پر۔

 تحریر: ناصر رینگچن                                                              

Page 8 of 903

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree