The Latest

وحدت نیوز(آرٹیکل) گزشتہ دنوں ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے پاکستان کا دورہ کیا۔اس دورہ میں مہمان وزیر اعظم کو ملک میں شایان شان پروٹوکول دیا گیا یقیناًوہ اسی کے مستحق تھے۔مہاتیر محمد بظاہر بہت ضعیف العمر شخص نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ توانا اور طاقت ور دکھنے والے مسلمان رہنماؤں سے کئی گنا زیادہ مضبوط اور طاقتور انسان ہیں۔مہاتیر محمد کی پاکستان سے دوستی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔جب وہ پاکستان کے دورے پر تشریف آور ہوئے تو اس وقت خبریں گردش کر رہی تھیں کہ بھارت نے سفارتی ذرائع سے مہاتیر محمد کو پیغام بھجوایا ہے کہ وہ پاکستان کا دورہ منسوخ کر دیں یا کم سے کم ملتوی ہی کر دیں لیکن جواب میں مہاتیر محمد نے اس بات کا بالکل خیال نہیں رکھا کہ بھارت سے ان کے تعلقات خراب ہو جائیں گے یا نہیں، انہوں نے پاکستان سے اپنی والہانہ محبت اور اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کا دورہ کرنے کا اصولی موقف اپنائے رکھا اور بھارتی دشن کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔مہاتیر محمد نے پاکستان کا دورہ ایسے وقت میں کیا کہ جب قرار داد پاکستان کی یاد گار منانے کے دن یعنی 23مارچ کی رسومات کیا دائیگی ہونا تھی اور یہ بھی طے تھا کہ مہمان وزیر اعظم افواج پاکستان کی پریڈ کا معائنہ بھی کریں گے اور اس تقریب میں مہمان خصوصی ہوں گے جبکہ دوسری طرف بھارت کی پوری کوشش تھی کہ کسی طرح پاکستان کے اس قومی دن کو خراب کیا جائے جس کے لئے ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردوں نے کاروائیاں کر کے اس دن کی اہمیت کو سبو تاژ کرنے کی کوشش بھی کی اور دوسری طرف یہ تاثر بھی عام تھا کہ شاید بھارت یوم پاکستان کے موقع پر اسلام آباد یا کسی اور شہر کو نشانہ بنا سکتا ہے لیکن ان سب باتوں کے باوجود مہاتیر محمد کی پاکستان سے بے مثل دوستی میں کوئی دراڑ قائم نہیں ہوئی ۔

انہوں نے قوم دن کی تقریبات میں شرکت بھی کی اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے عنوان سے سرگرمیوں کا حصہ بھی بنے۔پاکستان اور ملائیشیا میں جہاں اور کئی باتیں مشترک پائی جاتی ہیں وہاں ایک اہم ترین بات فلسطین سے دونوں ممالک کی نظریاتی وابستگی اہمیت کی حامل ہے۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کی تحریک کے اوائل میں ہی فلسطینیوں کی زمین پر صہیونیوں کی جعلی ریاست کے قیام کی امریکی و برطانوی کوششوں کی کھل کر مخالفت اور مذمت کی تھی اور دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ اگر مغرب کو لگتا ہے کہ صہیونیوں کے لئے الگ ریاست قائم ہونی چاہئیے تو پھر یہ فلسطین میں کیوں ؟ امریکہ یا برطانیہ کیوں اپنی زمین پر قائم نہیں کر لیتے؟ قائد اعظم نے کہا تھا کہ مسلمانان ہند فلسطین کے ساتھ ہونیو الی ناانصافی اور فلسطین کی سرزمین پر صہیونیوں کی جعلی ریاست کے قیام پر خاموش نہیں بیٹھے رہیں گے اور فلسطینیوں کے حقوق کے لئے جس قدر ہو گا جد وجہد کریں گے۔

مہاتیر محمد کی بات کرتے ہیں کہ جنہوں نے پاکستان کے دورے کے دوران ایک ایسے وقت میں قائد اعظم محمد علی جناح کی یاد کو زندہ کیا ہے کہ جب پاکستان کی حکومت پر عرب ممالک کے بادشاہوں کی جانب سے امریکی دباؤ ڈالا جا رہاہے کہ اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے راستے کھولے جائیں یا کم سے کم اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لئے جائیں۔ اس کام کے لئے حکومت پر اندرونی اور بیرونی ذرائع سے دباؤ ڈالا جا رہا تھا ۔سابق صدر پرویز مشرف کی نام نہاد قومی سلامتی پریس کانفرنس میں بھی حکومت پر اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے دباؤ ڈالا جانا اس بات کی کھلی دلیل ہے۔اسی طرح سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر کی عمران خان سے ہونے والی ملاقات کے احوال میں بھی آیا ہے کہ عمران خان نے عادل الجبیر کو واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ اگر سعودی عرب پاک بھارت کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے تو بس کرے لیکن اسرائیل پاکستان تعلقات پر کوئی بات نہیں ہو گی۔مہاتیر محمد نے سرمایہ کاری کے عنوان سے بلائی جانے والی کانفرنس میں خصوصی خطاب کرتے ہوئے کھلے الفاظ میں بیان کیا کہ ملائیشیا کا کوئی دشمن نہین سوائے اسرائیل کے۔

ان کاکہنا تھا کہ اسرائیل نے فلسطین پر قبضہ کیاہے۔دوسروں کی زمین پر قبضہ کرنا ڈاکوؤں کا کام ہے ۔ہمارا اسرائیل کے سوا کوئی دشمن نہیں، باقی تمام ممالک سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں۔ اسرائیل سے ہم نے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم یہودیوں کے خلاف نہیں مگر دوسروں کے ملک پر قبضہ کرنا ڈاکوؤں کا کام ہوتا ہے۔ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کے یہ کلمات یقیناًپوری ملائیشین قوم کی ترجمانی کر رہے تھے۔کیونکہ اگر مہاتیر محمد کی ملائیشیا کے حوالے سے جد وجہد کی بات کی جائے تو نہ ختم ہونے والی داستان ہے۔انہوں نے بھی عمران خان کی طرح اپنے ملک میں کرپشن کے خلاف عملی اقدامات کئے ہیں۔دراصل مہاتیر محمد کے ان جملوں میں بڑی تاثیر موجود تھی جو بیک وقت فلسطینی اور پاکستانی قوم کے لئے ایک سنگ میل کی حیچیت رکھتی ہے تو دوسری جانب اسرائیل اور بھارت کے لئے بھی سنگین پیغام رکھتی ہے۔مہاتیر محمد اپنے دورہ پاکستان سے قبل پاکستان بھارت کشیدگی اور فلسطین سے متعلق پاکستان پر عرب حکمرانوں کے دباؤ سے بخوبی آگاہ تھے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سرمایہ کاری کانفرنس میں پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ کے سامنے اپنا پیغام ہی نہین بلکہ پاکستان کا پیغام بھی پہنچا دیا ہے کہ پاکستان اور ملائیشیا فلسطین کے بے مثال دوست ہیں اور اسرائیل ایک جعلی اور ڈاکوؤں کی ریاست ہے۔

دراصل مہاتیر محمد کے اس خطاب نے پاکستان کی اصل روح کو زندہ کیا کہ جس روح کو قائد اعظم محمد علی جناح کی صورت میں دیکھا گیا تھا۔خلاصہ یہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان بھی مہاتیر محمد کی طرح تحسین کے حق دار ہیں ۔کیونکہ مہاتیر محمد کی زبان سے ادا ہونیوالے تمام الفاظ کہ جن میں اسرائیل کی جعلی ریاست کی مذمت اور فلسطینیوں کی حمایت پنہاں تھی نہ صرف مہاتیر محمد کے الفاظ تھے بلکہ پاکستان کے وزیر اعظم اور عوام پاکستان کی ترجمانی بھی تھی۔اسی کانفرنس میں عمران خان نے مہمان وزیر اعظم کی خصوصیات بیان کی تھیں جن میں ایک خصوصیت یہ بھی بیان ہوئی تھی کہ مہاتیر محمد ایک ایسے بے باک اور بہادر لیڈر ہیں جو حق بات کہہ دیتے ہیں جبکہ بہت سے مسلمان ممالک کے حکمران ایسا کرنے سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔یقیناًمہاتیر محمد نے فلسطین کے حق میں بات کر کے اور صہیونیوں کی جعلی ریاست کی حقیقت کو آشنا کر کے ثابت کر دیا ہے کہ مہاتیر محمد پاکستان و فلسطین کے بے مثال دوست ہیں۔

 تحریر: صابر ابو مریم
 سیکرٹری جنرل
 فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
 پی ایچ ڈی اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے میڈیا سیل سے جاری شدہ بیان میںکہاگیا ہے کہ ہماری جماعت سیاست کے ساتھ ساتھ دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھی کام کر رہی ہے. نوجوانوں کی اخلاقی تربیت ہمارے اہداف میں سے ایک ہے. ان جوانوں کو ہی مستقبل میں وطن عزیز کی بھاگ دوـڑ سنبھالنی ہے انکی اخلاقی تربیت میں کسی قسم کی کوتاہی ہمارے مستقبل میں بھگاڑ کا باعث بن سکتا ہے اور انکی تربیت ہماری ذمہ داری ہے. اسکے علاوہ شعبہ تعلیم میںنوجوانوں کی اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے کسی بھی قوم کی ترقی کا رازتعلیمی نظام میں پوشیدہ ہے تعلیمی نظام جس قدر پختہ ہوگااس قوم کے نوجوان اس قدر مضبوط اور پختہ ہوگی تعلیم کے بغیر نہ توکسی قوم نے ترقی کی اور نہ وہ مہذب کہلائی جس قوم کے نوجوانوں کو ترقی کے بلند مدارج پر دیکھا گیا اور اس کے وجوہات پر غور کیا گیا تو اس کی ترقی کا سبب تعلیم میں ہی نظرآیا۔ نوجوانوں کی اخلاقی تربیت کے لئے ہمارے پاس جو وسائل ممکن ہے ہم ان کو برئو کار لاکرنوجوانوںکی اخلاقی تربیت کے لئے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

بیان کے آخر میں انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ وہ تمام نو جوان حضرات جنہیں ہم سے امیدیں ہیں ہم انکے امیدوں پورا اتریں گے اور نا صرف وہ ہمارے جماعت سے مستفید ہونگے بلکہ خود بھی قوم کیلئے بڑا سرمایہ قرار پاکر قوم کے دیگر افراد کو اپنے آپ سے مستفید کریں گے.علاوہ ازیںنو جوانوں کے مثبت سرگرمیوں کے لیے دوسرے مثبت ذرائع بروکار لائے جائیں تاکہ نوجوان نسل گمراہی اور دوسرے منفی سرگرمیوں سے بچ سکیں اور پاکستان کے نام کو دنیا کے ہر گوشے میں روشن کرسکیں ۔

وحدت نیوز(کراچی) موجودہ حکومت کے پاس مہنگائی پر قابو پانے کا کوئی ٹھوس اور موثر لائحہ عمل نظرنہیں آتا ،حکومت مہنگائی کا خاتمہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ھوچکی ہے،موجودہ حکومت غربت کا خاتمہ کرنے کے بجائے غریبوں اور مڈل کلاس کا خاتمہ کرتی نظر آرہی ہے، مہنگائی کے سبب سفید پوش طبقات کا جینا دشوار ھوچکا ہے۔عوام پر گرائے جانے والے پٹرول بم کے اثرات فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر بجلی کے بلوں میں ھوشربا اضافے کی صورت میں سامنے آنے کو ہے،ان خیالات کااظہار مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے پولیٹیکل سیکریٹری سید علی حسین نقوی نے میڈیا سیل سے جاری بیان میں کیا۔

انہوںنے کہاکہ موجودہ طرز حکمرانی کو تبدیل کیئے بغیر ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنا اور مسائل کو حل کرنا ممکن نہیں، موجودہ مسائل کے حل کے لیئے آئین میں ترامیم کرنا اشد ضروری ہے،نہ عدالت بدلی نہ پولیس نہ لاپتہ اسیر بازیاب کرائے گئے نہ مظلوموں کو انصاف دلایا گیا۔نہ بھاشہ ڈیم نہ مہمند ڈیم نہ 50 لاکھ گھر نہ ایک کروڑ نوکریاں نہ زرمبادلہ کی آمد میں اضافہ نہ لوڈ شیڈنگ سے نجات تمام دعوے صرف دعوں تک ہی اب تک محدود ہیں۔ترقی یا پیش رفت اگر کوئی ھوئی ہے تو صرف قرضوں کے حصول میں اضافے کی صورت میں۔ ماسوائے نیپال بھوٹان، ہندوستان، افغانستان، سری لنکا، مالدیپ، صومالیہ سوڈان نائجر یا نائیجیریا کے تقریبا ہر خوشحال ملک سے قرضے لیئے جاچکے ہیں۔ عوام کی مایوسی میں دن بدن اضافہ ھوتا جارہا ہے اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو بعید نہیں کہ عوام کا اعتماد تبدیلی کے نعرے سے جلد اٹھ جائے۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری اپنے پیغام میں اندرون وبیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاہے کہ اس وقت برادر اسلامی ملک ایران کے عوام تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کررہے ہیں ، جس سے لاکھوں شہری متاثر ہوئے ہیں ، ایرانی قیادت خصوصاًرہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای اور ایرانی قوم نے ماضی میں پاکستان کے سیلاب زدگان کے لئے جس طرح کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا تھا اوربروقت امدادی سامان کی بڑی کھیپ پاکستانیوں کی مدد کیلئے فراہم کی تھی بلکل اسی طرح قرآنی حکم احسان کا بدلہ احسان ہے کو پیش نظر رکھتے ہوئے ملت پاکستان اپنے سیلاب سے متاثرہ ایرانی بھائیوں کی بھر پور مدد کیلئے میدان میں آئیںاور خشک اجناس ، ادوایات، خیمے اور نقد عطیات ایم ڈبلیوایم کے دفاتر میں جمع کروائیں یا دیگر ذرائع سے ایران تک پہنچائیں۔

علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے مزیدکہاکہ اس تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ایران کے31 میں سے 15صوبے مکمل زیر آب ہیں، 5ہزار مکانات مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں جبکہ 25ہزار مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچاہے، ہزاروں ایکڑزرعی اراضی پر تیار فصلیں تباہ ہوچکی ہیں، ہزاروں گاڑیاں سیلابی ریلوں میں بہہ کر تباہ ہوچکی ہیں،اب تک کی موصولہ اطلاعات کے مطابق 67سے زائد شہری جاں بحق سینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں ساتھ ہی بڑی تعدادمیں مال مویشی بھی ہلاک ہوچکے ہیں اس افسوس ناک صورتحال میں ہماری دینی وشرعی ذمہ داری ہے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کی دل کھول کر مدد کریں اور مشکل کی اس گھڑی میں انہیں تنہانہ چھوڑیں، ایم ڈبلیوایم نے پہلے مرحلے میں ایران کے سیلاب متاثرین کے لئے بین الاقوامی سطح پر امدادی مہم کا آغاز کیا تھا اب پاکستان کے اندر بھی امدادی مہم کا باقائدہ آغاز کیا جارہاہے لہذٰا تمام پاکستانی بالعموم اور مخیر حضرات بالخصوص زیادہ سے زیادہ امدادجمع کرواکر ثواب دارین حاصل کریں ۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری مولانا احمد اقبال رضوی ، کراچی کے رہنمامولانا صادق جعفری اور علامہ مبشر حسن نے اپنے مشترکہ بیان میں کراچی میں ملت جعفریہ کہ خلاف ریاستی اداروں کے کریک ڈاؤن کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسکو فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ چادر اور چار دیواری کو پامال کرتے ہوئے اب تک کراچی کے مختلف علاقوں سے80سے زائد شیعہ نوجوانوں ، عزاداروں اور صحافیوں کو بلاجواز گرفتار کرکے انکو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہاہے ۔ مجلس وحدت مسلمین کےرہنماؤں نے وزیر اعلی سندھ ، گورنر سندھ ، کور کمانڈر کراچی ، ڈی جی رینجرز سندھ اور آئی جی سندھ سے شیعہ دشمن اقدامات کے فوری روکنے اور نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

 ان کا کہنا تھا کہ اسطرح کے اقدامات سے ملت جعفریہ میں شدید عدم تحفظ پیداہورہاہے جس پرملت جعفریہ کےاکابرین کو فوری اعتماد میں لیا جائے ۔ مولانا احمد اقبال رضوی ، علامہ صادق جعفری اور علامہ مبشر حسن کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کہ کریک ڈاؤن میں چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا جارہاہے جو کہ ناقابل برداشت ہے ۔ شہر کراچی ملت جعفریہ کےلیے نو گو ایریا بنایا جارہاہے جہاں کسی کا دفتر و گھر محفوظ نہیں رہا۔ انہوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیں تاکہ حالات کو بگڑنے سے روکا جاسکے اور لاپتہ کیے جانیوالے شیعہ جوانوں ، عمائدین اور صحافیوں کو فوری طور پہ رہاکیا جائے ۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) گلگت بلتستان الیکشن کے لئے غیر متنازعہ الیکشن کمشنر کا مطالبہ کرتے ہیں ۔آزادانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لئے سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے کے ساتھ الیکشن کمشنر کی تعینانی کرناہوگی فوری طورپر عبوری صوبے کا قیام عوامی مطالبہ ہے ۔تمام وفاقی جماعتوںسے گلگت بلتستان کی پاکستان کے ساتھ الحاقی کوششوں میں ساتھ دینے کی اپیل کرتے ہیں گلگت بلتستان کے لئے سی پیک اکنامک کوریڈور میں پیکج کا اعلان کیا جائے ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کی اعلی سطحی وفد جس کی سربراہی آغا سید علی رضوی کر رہے تھے وفاقی وزیر برائے امورکشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور سے اسلام آباد میں ملاقات میں کیں ۔ آغا سید علی رضوی نے کہا کہ گلگت بلتستان کی ستر سالہ محرومیوں کے ازالے کا وقت آگیا ہے وفاقی حکومت وقت گزارنے کی بجائے جلد از جلد عبوری صوبے کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرئے ۔

اس موقع پر وفاقی وزیز برائے امور گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور نے کہا کہ گلگت بلتستان الیکشن کے لئے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں ۔سابق دور حکومت میں سی پیک اکنامک کوریڈور میں گلگت بلتستان کے لئے حصہ نہیں رکھا گیا تھا تحریک انصاف حکومت نے گلگت بلتستان کے لئے اکنامک کوریڈور میں انڈسٹری اور ملازمت کے مواقع رکھے ہیں ۔تحریک انصاف کی حکومت عبوری صوبے کے حوالے سے درپیش پیچیدگیوں کو دور کرنے پر کام کر رہی ہے اور جلد ہی اس حوالے سے اہم اقدامات کئے جائیں گئے ۔گلگت بلتستان میں صحت اور تعلیم کے شعبے پر بلکل توجہ نہیں دی گئی تھی اس حوالے سے خصوصی توجہ کئے ہوئے ہیں ۔خطہ گلگت بلتستا ن سیاحوں کے لئے جنت ہے اور ہم اس جنت کو دنیا میں متعارف کروانے کے لئے اقدامات کر رہے ۔نئے سیاحتی مقامات سمیت موجودہ سیاحتی مقامات پر سہولیات کے لئے کوششیں کررہے ہیں ۔ ایم ڈبلیو ایم وفد میں رہنما ایم ڈبلیوایم عارف قمبری الیاس صدیقی غلام عباس، محمد سعید، شیخ اصغر طاہری ،شبیر حسین سمیت سید اعجاز موجود تھے ۔

وحدت نیوز (قم) مجلس وحدت مسلمین کے شعبہ امور خارجہ نے دنیا بھر میں قائم اپنے دفاتر کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی مہم کا آغاز کردیا،مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی ہدایت پر شعبہ امور خارجہ کے سیکرٹری حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے دنیا بھر کے مختلف شہروں میں قائم دفاتر کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فورا اسلامی جمہوریہ ایران کے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی مہم کا آغاز کریں جس میں میڈیا پر اشتہارات و کیمپس قائم کرکے عوام الناس سے ایران کے سیلاب متاثرین کے لیے عطیات جمع کرنے کی درخواست کی جائے۔

 ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے کہا کہ ایران اس وقت عالم اسلام کے اندر مزاحمت کے استعارے کے طور پر پہچانا جاتا ہے. سامراجی طاقتوں کی منفی تشہیر کیوجہ سے بین الاقوامی برادری بشمول مسلمان ممالک مصیبت کی اس گھڑی میں ایران کی مدد سے کترا رہے اور اس تباہ کن سیلاب پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ایسے میں امت مسلمہ کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ حکومتوں کا انتظار کیے بغیر مصیبت میں گھرے اپنے جیسے انسانوں کی مدد کے لیے قدم بڑھائیں اور یہی ہمارا شرعی و اخلاقی فرض بھی ہے. دفتر شعبہ امور خارجہ کے مطابق پہلے مرحلے میں دنیا بھر کے 8 مختلف مقامات پر امدادی مہم کا آغاز کیا گیا ہے جسے بعدازاں مزید اہم مقامات تک پھیلایا جائے گا. ان مقامات میں برطانیہ, آئرلینڈ, سوئزرلینڈ, نجف اشرف, قم المقدس, مشہد المقدس, اصفہان اور کویت کے چند اہم شہر شامل ہیں. ان مقامات میں مقیم کمیونٹیز مجلس وحدت مسلمین کے مقامی نمایندے سے رابطہ کرکے ڈونیشنز جمع کروانے کا طریقہ دریافت کرسکتے ہیں۔

وحدت نیوز (سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل آغا علی رضوی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سانحہ چلاس گلگت بلتستان کی تاریخ کا بدترین افسوسناک واقعہ ہے۔ سانحہ چلاس جیسے اندوہناک واقعے سے دلوں کو جو زخم پہنچے ہیں وہ مندمل ہونا ممکن نہیں۔ سانحہ چلاس کے مجرموں کو تاحال کسی قسم کی سزا نہ ملنا افسوسناک اور شرمناک عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ چلاس جیسے واقعات کے ذریعے دشمنوں نے کوشش کی علاقے میں فرقہ واریت کو ہوا دے لیکن گلگت بلتستان کے باشعور عوام نے اسے کامیاب ہونے نہیں دیا۔ دشمن گلگت بلتستان میں اب بھی فرقہ واریت یا لسانیت کے ذریعے امن و امان اور بھائی چارگی کی فضاء کو تہہ و بالا کرنا چاہتا ہے۔دہشتگردی اور فرقہ واریت میں ملوث افراد کا تعلق کسی بھی مذہب سے نہیں بلکہ یہ انسانیت دشمن ٹولہ ہے۔اسلام تمام مسلمانوں کو بھائی قرار دیتا ہے اور تمام انسانوں کی سلامتی کا ضامن دین ہے۔ فرقہ واریت اور لسانیت سمیت دہشتگردی کے واقعات میں ملوث مجرموں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ چلاس، سانحہ کوہستان ، سانحہ بابوسراور سانحہ نانگا پربت عالمی دہشتگردوں کی سازشوں کا شاخسانہ تھا اور اس میں ملوث تمام کردار وں کو عبرتناک سزا ملنی چاہیے لیکن تاحال انہیں سزا نہ دینا لمحہ فکریہ اور سکیورٹی اداروں پر سوالیہ نشان ہے۔ ان سنگین دہشتگردی کے واقعات میں ملوث افراد کو تختہ دار پر لٹکانا چاہیے۔ پورے خطے کے عوام کی نگاہیں مقتد ر اداروں کی طرف ہیں اور اب تک اس انتظار میں ہے کہ دہشتگردوں کو تختہ دار پر لٹکایا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستا ن میں ماضی میں ہونے والے سانحات میں شہید ہونے والے افراد کو سرکاری سطح پر شہداء تسلیم کیا جائے۔

وحدت نیوز (گلگت) چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے صوبائی حکومت کی سمری قابل قبول نہیں۔حکومت ابھی سے پری پول رگنگ میں مصروف ہوگئی ہے۔چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے بصورت دیگر من پسند تقرری کی گئی تو الیکشن نتائج متنازعہ قرار پائینگے۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صوبائی و ضلعی عہدیداران سید علی رضوی کی سربراہی میں وحدت ہائوس اسلام آباد منعقد ہونے والے اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی میں میرٹ کو پائمال کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا اور صوبائی حکومت کے اس اقدام کو انتخابی نتائج کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کی پیش بندی قرار دے کر اسے یکسر مسترد کردیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید علی رضوی نے کہا کہ صوبائی حکومت کا اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لئے بغیر یکطرفہ طور پر چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا فیصلہ انتخابی نتائج کو متنازعہ بناکر علاقے میں انتشار اور انارکی پھیلانے کی سازش ہے جسے کسی طور تسلیم نہیں کیا جائے گا۔چیف الیکشن کمشنر غیر جانبدار اور تمام سیاسی جماعتوں کیلئے قابل قبول ہونا چاہئے تاکہ انتخابات شفاف اور منصفانہ ہوں لیکن لیگی حکومت کوآنے والے انتخابات میںبدترین شکست کے آثار نظر آچکے ہیں اور من پسندچیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے ذریعے انتخابات نتائج کو اپنے حق میں تبدیل کرنا چاہتی ہے حالانکہ گلگت بلتستان میں اہل اور دیانتدار افراد کی کمی نہیں اور سمری میں جن افراد کی سفارش کی گئی ہے ان پر تمام سیاسی جماعتوں کو تحفظات ہیں۔ان میں سے ایک کے خلاف جوڈیشل کونسل میں پٹیشن بھی داخل ہے اس کے باوجود ایسے افراد کو چیف الیکشن کمشنر کی پوسٹ کیلئے نام بھیجنا قرین انصاف نہیں۔انہوں نے وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت کی سمری کو واپس کیا جائے اور تمام سیاسی جماعتوں کے مشورے سے قابل قبول ،اہل اور دیانت دار چیف الیکشن کمیشن کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل آغا علی رضوی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تاجدار امامت کے ساتویں تاجدار کی شہادت کے موقع پر عالم اسلام کو تسلیت پیش کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امام موسی کاظم ؑ کی زندگی حق و صداقت کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے لیے نمونہ عمل ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا طویل ترین عرصہ قید میں گزارنا قبول کیا لیکن ظالم و جابر حکومت کے سامنے سر خم نہیں کیا۔ فرزند رسول حضرت موسی کاظم ؑ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ جیل کی تاریکیوں میں کلمہ حق بلند کرتے رہنا اصل آزادی اور اسی قید کی حالت میں مرجانا اصل زندگی ہے جبکہ ظالم و جابر اور اسلامی شعائر کی تضحیک کرنے والوں کے ساتھ زندہ رہنا اصل موت اور غلامی ہے۔

آغا علی رضوی نے کہا کہ شہاد ت اور زندان کی تاریکیاں حق پرستوں کے لیے اعزاز اورخدا کی عنایت میں سے ہے۔ حق کی خاطر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنا آزاد انسان کی نشانی ہے۔ امام مظلوم نے ائمہ علیہم السلام میں سب سے زیادہ قید کی زندگی گزاری اور زندان میں ہی شہید ہوئے۔امام ؑ نے ہتھکڑیاں قبول کیں، زندان قبول کیے اور آخر میں شہادت کو بھی قبول کیا لیکن وقت کے ظالم حکمران کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ عہد حاضر میں دین اور حق کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے لیے امام موسیٰ کاظم ؑ کی مزاحمتی زندگی ایک عظیم نمونہ عمل ہے۔ امام ؑ نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ حق کی خاطر کوئی قیام کرے تو دنیا کی کوئی طاقت بھی انہیں نہیں جھکا سکتی۔ حکومتیں سر تن سے جدا تو کر سکتی ہیں لیکن سر کو جھکا نہیں سکتی۔

Page 8 of 930

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree