The Latest

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع لاہور کی شوری کا اجلاس صوبائی سیکرٹریٹ لاہور میں ہوا جس کی صدارت ضلعی سیکرٹری جنرل علامہ سید حسن رضا ہمدانی نے کی اجلاس میں اراکین ضلعی شوری یونٹس کے سیکرٹری جنرل نمائندگان، ضلعی کابینہ کے اراکین اور  صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ سید مبارک علی موسوی صوبائی کابینہ کے اراکین سید حسین زیدی آفس سیکرٹری سید عملدار زیدی سیکرٹری شماریات نے خصوصی شرکت کی اجلاس میں ضلع کی کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی اور ضلع لاہور میں تنظیم سازی اور مختلف ٹاونز میں فعالیت اور کار کردگی کو بہتر بنانے کی تجاویز پر مختلف فیصلہ جات کئے گئے اجلاس سےصوبائی سیکرٹری جنرل علامہ سید مبارک علی موسوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین ملت جعفریہ کی امیدوں کی ترجمان نمائندہ شیعہ سیاسی و مذہبی جماعت ہے جو ملت جعفریہ کے حقوق کے حصول کے لیئے کوشاں ہے اجلاس سے سید حسن رضا ہمدانی ، شیخ علی عمران ، نجم عباس خان ، سید سجاد نقوی،سید ماجد کاظمی ایڈووکیٹ نے خطاب کیا۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنے دورہ ڈیرہ غازی خان کے موقع پر  بستی شاہانی درخواست جمال خان میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےکہا ہے کہ ملک دشمن قوتیں ارض پاک کو نظریاتی و فکری بنیاد پر تقسیم کر کے اسے غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں۔اس مقصد کے حصول کے لیے اربوں ڈالر لٹائے جا چکے ہیں اور یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔شیعہ سنی افراد کو شکوک و شبہات میں مبتلا کر کے ان کے عقائد سے ورغلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دشمن طاقتوں کا اولین ہدف امت مسلمہ کو گروہ در گروہ تقسیم کرنا ہے۔ایشیا کو انتشار کا شکار کرنے کے لیے تکفیریت اور تفرقہ بازی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔شیعہ سنی افراد کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرنے کے منصوبے پر عالمی سطح پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ہمیں ہشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اہل سنت اور اہل تشیع اس ملک کا مضبوط دفاع ہیں۔قیام پاکستان سے قبل قائد اعظم کے خلاف نعرے لگا کر پاکستان کی نظریاتی اساس پر حملے کیے گئے آج بھی صورتحال مختلف نہیں۔محب وطن قوتیں الزامات کی ذد میں ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں پر سنگین خطرات منڈلا رہے ہیں۔ایشیا کو بالعموم اور پاکستان کوبالخصوص ایسی جنگ میں الجھایا جا رہا ہے جس کا مقصد خطے کو عدم استحکام کا شکار کر کے اقتصادی لحاظ سے تباہ کرنا ہے۔سی پیک کے خلاف بے جا پروپیگنڈہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات ان مذموم عزائم کی کڑی ہیں۔چائناکی بڑھتی ہوئی آبادی اس سے مغربی حصے کو آباد کرنے کا تقاضہ کر رہی ہے۔ مغربی راستے سے گوادر تک کا رابطہ چین کی اقتصادی طاقت کو امریکہ سے کئی گنا زیادہ بڑھا دے گا۔ایشیا کو ڈسٹرب کرنے کے لیے تکفریت ،تفرقہ بازی اور تعصبات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔اس مقصد کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔ہمارے ملک میں دہشت گرد اور قاتل بھیجے گئے مسلکی بنیادوں پر شناخت کر کے بے دردی سے قتل کیے جانے کے سفاکانہ واقعات ہماری بدقسمت تاریخ کا حصہ ہیں۔ضیا الحق ،امریکہ ،آل سعود اور پاکستان کے اندر انتہا پسندی جیسے منحوس الائنس نے ارض پاک کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ملک کی مقتدر اور بااختیار شخصیات نے اپنے غیر دانشمندانہ فیصلوں سے اس ملک کے امن و سکون کو تباہ کیا ہے۔شیعہ سنی برادران نے مل کر اس ملک کی حفاطت کرنی ہے۔ہمیں اپنی بابصیرت فیصلوں سےان نادیدہ قوتوں کو شکست دینا ہو گی جو ہمیں ایک دوسرے کے مقابلے میں لانا چاہتی ہیں۔

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کی جانب سے ایم ڈبلیوایم کے رہنما اور وزیر قانون وپارلیمانی امور حکومت بلوچستان آغا سید محمد رضاکے اعزازمیں صوبائی سیکریٹریٹ سولجر بازارکراچی میں تقریب عشائیہ کا اہتمام کیاگیا، اس موقع پر ایم ڈبلیوایم کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی، سنی اتحاد کونسل کے مرکزی رہنما اور صاحبزادہ حامد رضا کے چھوٹے بھائی صاحبزادہ حسین رضا ، ایم ڈبلیوایم کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل علامہ صادق جعفری، علامہ مبشرحسن، صوبائی رہنماناصرحسینی ، علامہ اظہر حسین نقوی، علامہ نشان حیدر،علامہ احسان دانش ، میر تقی ظفر، احسن عباس رضوی ، تمام اضلاع کے سیکریٹری جنرل صاحبان اور دیگر رہنما موجود تھے، اس موقع پر آغارضا کی گزشتہ ماہ انتقال کرجانے والی مرحومہ ہمشیرہ محترمہ اور شہدائے ملت جعفریہ کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ مبارک موسوی پر قاتلانہ حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ علامہ مبارک موسوی کے سکیورٹی گارڈ نے ملزم کو دبوچ لیا۔ ملزم رحمان عزیز ون ٹو فائیو موٹر سائیکل پر سوار تھا۔ واقعہ تھانہ اسلام پورہ کی حدود میں پیش آیا۔ ملزم سےبیریٹا 9mm پستول بھی برآمد کر لیاگیا۔ علامہ مبارک موسوی کے محافظوں نے مبینہ دہشت گرد کو اسلام پورہ پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے رات گئے ملزم کو رہا کر دیا تھالیکن میڈیا پر خبر نشرہونے کے بعد پولیس نے مبینہ حملہ آورکو دوبارہ گرفتار کرلیاہے جس سے تفتیش جاری ہے ۔

وحدت نیوز (ڈیرہ غازیخان)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری جنوبی پنجاب کے دورہ پر ڈیرہ غازیخان پہنچ گئے، ڈیرہ غازیخان پہنچنے پر ایم ڈبلیو ایم کے کارکنان نے اُن کا استقبال کیا، علامہ ناصر عباس جعفری نے بستی برمانی میں امام بارگاہ کا دورہ کیا اور عوامی اجتماع سےخطاب بھی کیا، اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری تربیت ڈاکٹر یونس حیدری، معاون سیکرٹری سیاسیات سید محسن شہریار، صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی، مولانا ہادی حسین ہادی، سید انعام حیدر زیدی اور دیگر رہنما موجود تھے۔

علامہ ناصر عباس جعفری نے اپنے خطاب میں کہا کہ عزاداریسیدالشہداء ہمارا آئینی و قانونی حق ہے کسی صورت میں اس سے دستبردار نہیں ہوں گے، یہ کیسی اسلامی ریاست ہے جہاں میوزک کنسرٹ کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں لیکن نواسہ رسول (ص) کے ذکر کے لیے ہزاروں مشکلات موجود ہیں، حکومت اس ریاست کو غیراسلامی ثابت کرنے پر تلی ہے، ایک میچ کے لیے اربوں روپےخرچ کیے جاسکتے ہیں تو عزاداری سیدالشہداء کے لیے کیوں نہیں؟، اُنہوں نے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب میں عزاداروں کے خلاف بے بنیاد مقدمات قائم کیے گئے ہیں جنہیں فی الفور ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں، حکمرانوں کی نواسہ رسول (ص) سے دشمنی عیاں ہے، ایک مخصوص نظریے کو تقویت دینے کے لیے ہمیں تختہمشق بنایا جا رہا ہے۔ حکومت ہوش کے ناخن لے اور عزاداری کے خلاف سازشیں بند کرے ورنہ عذاب الہی کے مستحق ہوں گے۔ واضح رہے کہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری 10 روزہ دورے پر جنوبی پنجاب میں موجود ہیں، اس سے قبل اُنہوں نے میانوالی، بھکر اور لیہ کا دورہ کیا، علامہ ناصر عباس جعفری کل رحیم یارخان پہنچیں گے، جہاں دو دن مختلف تقریبات میں شرکت کریں گے۔

وحدت نیوز (گلگت) آغا علی رضوی کی حقوق کیلئے جدوجہد سے لیگی حکومت کے اوسان خطا ہوگئے ہیں۔حکومت کے عطائی مشیرخودنظام کیلئے خطرہ بن چکے ہیں۔آغا علی رضوی گلگت بلتستان کے مظلوم ومحروم عوام کی حقیقی ترجمانی کررہے ہیں اور عوام کی امیدوں کا مرکز بن چکے ہیں،مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکرٹری اطلاعات شیخ علی حیدر نے کہا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین پر تنقید کرکے حکومت اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کررہی ہے۔ چند ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع کرنے سے گلگت بلتستان کے مسائل حل نہیں ہوتے، اصل مسائل کی طرف توجہ دلائی تو حکومت سیخ پاہوگئی ہے۔عوامی زمینوں پر جبری قبضے جمانے کی کوشش کرکے حکومت نے خود ہی اپنے چہرے پر کالک مل دی ہے۔ آغا علی رضوی گلگت بلتستان کے عوام کے حقیقی ترجمان ہیں جنہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو حقوق کیلئے ایک پیج پر یکجا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے معاملے میں حکومت کی گلگت بلتستان کے عوام کو تقسیم کرنے کی سازش کو عوام خوب جانتے ہیں، ایم ڈبلیو ایم نے عوامی ایکشن کمیٹی و انجمن تاجران کے تعاون سے گلگت بلتستان کے عوام کو تقسیم کرنے کی سازش کو خاک میں ملادیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان عطائی مشیروں کے نرغے میں ہے اور عوام کے منتخب نمائندے حکومتی پالیسیوںپر تنقید کرتے نظر آرہے ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین کا روز اول سے موقف ہے کہ گلگت بلتستان کے بنیادی مسائل مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے پیداکردہ ہیں اور آج بھی اسی موقف پر قائم ہیں۔آئینی،سیاسی اور بنیادی انسانی حقوق کے حصول کیلئے جدوجہد کاطریقہ کار مجلس وحدت مسلمین خوب سمجھتی ہے اور شمس میر جیسوں سے مشورہ لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔حکومت اگر اپنے آپ کو عوام کی نمائندہ سمجھتی ہے تو عوامی مسائل ان کے دہلیز پر حل کرے ،دھونس دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوتے۔

وحدت نیوز (اسلام آباد)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نےلیہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ معاشی،سیاسی و سماجی بحرانوں کے ذمہ دار سیاسی فرعون ،معاشی قارون اورمذہبی بلعم باعورا ہیں۔یہ استحصالی طبقہ ہے جو غریب کوسر نہیں اٹھانے دیتا۔ ایم ڈبلیو ایم ملک میں بسنے والے ہر فرد کے یکساں حقوق پر یقین رکھتی ہے۔قانون کی عمل داری نہ ہونے کانتیجہ عوامی استحصال کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ملک میں قانون کے نفاذ کی بجائے قانونی شکنی کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔ ہر شعبے میں قانون شکن عناصر متوسط طبقے اور عام شہریوں کے لیےمشکلات اور اذیت کا باعث بنے ہوئے ہیں۔جو قوتیں ارض پاک کو مسلکوں کا ملک بنانے کی متمنی ہیں انہیں اپنے ناپاک عزائم میں شکست اٹھانا پڑے گی۔ہم تعصب ،تقسیم اور تفریق کی دیواروں کو گرانے کے لیے پورے عزم کے ساتھ میدان میں موجود رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنائے بغیر ملک و قوم کی ترقی ممکن نہیں۔اقربا پروری اور نا اہل افراد کی کلیدی عہدوں پر تعیناتی نے ریاستی اداروں کی کارکردگی کو شدید متاثر کیا ہے ۔عام انتخابات میں باصلاحیت نوجوان قیادت کو ملک کی بھاگ دور سنبھالے کا موقعہ دیا جانا چاہیے۔سیاست میں خاندانی اجارہ داری کاخاتمہ ہونا چاہیے۔کیا پاکستان کی مائیں ایسا کوئی بچہ پیدا نہیں کر سکتیں جو وطن عزیز کی سیاسی سطح پر قیادت کرے۔ملک کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو امریکہ کے دباؤ کا عوامی امنگوں اور قومی وقار کے مطابق جواب دے سکے ۔۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پرعالمی پریشر بہت زیادہ ہے۔ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنےکے لیے خطے کی ضرورت کے مطابق پائیدارپالیسیاں طے کرنا ہوں گی جو نتیجہ خیز ثابت ہوں ۔ پاکستان،چین،روس، ترکی، ایران اورعراق پر مشتمل ایسا اتحاد تشکیل دیا جائے جو خطے کی سلامتی کے معاملات کا نگران ہو۔ یہ اقدامات پاکستان کو نا صرف مستحکم کرنے بلکہ خود انحصاری میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔

انہوں نےکہا کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کی مشکلات کے ازالے کے لیے سرائیکی صوبے کا قیام انتہائی ضروری ہے ۔ملک میں نظام حکومت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی جدوجہد اور انتخابات کے علاوہ اور کوئی راستہ عوام یا ملک کے مفاد میں نہیں۔ہم ریاست میں آئینی اقدامات کی حمایت جاری رکھیں گے۔مختلف سیاسی جماعتیں الیکشن میں اتحاد کے لیے ہم سے رابطے میں ہیں تاہم اس حوالے سے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا ۔

پاکستان کی تاریخ میں تخریب

وحدت نیوز (آرٹیکل)  ہر عمارت اپنے ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے، برصغیر کی آزادی کے بھی کچھ ستون ہیں،بلاشبہ  سرسید احمد خان، چودھری رحمت علی، علامہ محمد اقبال  کا شمار انہی ستونوں میں ہوتا ہے۔موجودہ دور میں ایک خاص منصوبے کے تحت سرسید احمد خان کی تکفیر کی جاتی ہے ، پاکستان کا نام تجویز کرنے کا سہرا کسی اور کے سر باندھنے کی سعی کی جاتی ہے اور علامہ اقبال کو ایک سیکولر انسان بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور سات ہی جیسے دہشت گردوں کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ویسے ہی علامہ اقبال اور قائداعظم کے بارے میں بھی کہاجاتا ہے کہ ان کا بھی کوئی مذہب نہیں۔

حالانکہ سب کے افکارو نظریات اور مذہبی عقائد روز روشن کی طرح عیاں ہیں، اس کے باوجود اب یہ لکھا جاتا ہے کہ دوقومی نظریے کے بانی سرسید کے بجائےحضرت مجدد الف ثانی  تھے، اسی طرح  لفظ پاکستان کے خالق کے طور پر چودھری رحمت علی کے بجائے کسی اور کا نام لیا جانے لگا ہے اور ساتھ ہی علامہ اقبال اور   قائداعظم کا چونکہ مذہب چھپانا مقصود ہے ، اس لئے ان کے دینی و مذہبی نظریات کو سرے سے ہی رد کردیا جاتا ہے۔

بھلا کہاں پر حضرت مجدد الف ثانی کا دور اور کہاں پر دو قومی نظریہ، کہاں حضرت شاہ ولی اللہ کا عہد اور کہاں پر لفظ پاکستان کا انتخاب، کہاں پر  مولانا قاسم نانوتوی ، رشید احمد گنگوہی، مولانا مودودی  اور یعقوب نانوتوی کے افکار اور کہاں پر علامہ اقبال اور قائداعظم کے نظریات، اسی طرح کہاں پر دارالعلوم دیوبند اور جماعت اسلامی کا وژن اور کہاں پر تشکیل پاکستان۔

مذکورہ بالا ساری شخصیات قابلِ احترام ہیں لیکن شخصیات کو بچانے یا بڑھانے کے لئے تاریخ میں تحریف سے گریز کرنا چاہیے۔تاریخ میں تخریب  اس لئے بھی کی جا رہی ہے چونکہ جولوگ  تشکیل پاکستان کے خلاف تھے اب وہ پاکستان میں اپنے وجود کے اظہار کے لئے اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے کام لے رہے ہیں۔

تئیس مارچ کی مناسبت سے  اس وقت  ہماری کوشش ہے کہ تاریخ پاکستان کی تین اہم شخصیات کے افکارو نظریات کا خلاصہ پیش کریں پھر کسی اور مناسبت سے دیگر شخصیات کے کارنامے اور خدمات بھی بیان کئے جائیں گے۔

آئیے ہم شروع کرتے ہیں سرسید احمد خان سے اور سرسید کے بارے میں ان معلومات کا ذکر کرتے ہیں جو عام طور پر زیرِ مطالعہ نہیں آتیں۔
سرسید احمد خان

۱۸۵۷ کی جنگِ آزادی شروع ہوئی تو سرسید ایک اکتالیس سالہ معروف دانشمند تھے۔یعنی آپ ۱۸۱۷ میں پیدا ہوئے،  اور ۱۸۵۷ تک آپ کئی مقالات اور کتابیں لکھ چکے تھے، آپ کے نانا فریدالدین کشمیری آخری مغل بادشاہ کے وزیر اعظم تھے اور آپ کی تعلیم و تربیت شاہی دربار میں ہی ہوئی۔

۱۸۵۷ کی جنگِ آزادی کے بعد سرسید احمد خان نے مندرجہ زیل امور پر توجہ دی:

۱۔سول انگریز اہلکاروں کو نہ مارا جائے

۲۔مسلمانوں کا ہندووں کے ساتھ اتحاد ناممکن ہے چونکہ دونوں کے عقائد،عبادت گاہیں، معبود، ہیرو، تاریخ، دین، رسومات،حلال و حرام اور پاک و نجس ایک دوسرے سے مختلف ہے۔پس ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں۔

۳۔ انگریزوں نے چونکہ مسلمانوں سے حکومت چھینی ہے لہذا وہ ہندووں کے بجائے مسلمانوں کو اپنا اصلی دشمن سمجھتے ہیں اور کسی وقت بھی ہندو انگریزوں سے مل کر مسلمانوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

۴۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ہندووں کے بجائے انگریزوں کو اپنے اعتماد میں لیں ۔

۵۔ عملی سیاست وقتی طور پر مسلمانوں کے لئے زہرِ قاتل ہے ، مسلمان سیاست کے بجائے تعلیم پر توجہ دیں۔

۶۔ جس چیز سے حکومت کسی ملت کو محروم کرنا چاہے اس چیز کو اس ملت کے نصابِ تعلیم میں شامل کردیا جائے

مذکورہ بالا امور کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سرسید نے مندرجہ زیل عملی اقدامات کئے:

۱۔ رسالہ اسبابِ بغاوت ہند کی اشاعت ۱۸۵۹ میں ہوئی، اسی طرح اسی سال مراد آباد میں ایسے سکولوں کی بنیاد رکھی جن میں فارسی اور انگریزی دونوں کی تعلیم دی جاتی تھی،۱۸۶۲ میں غازی پور میں بھی اسی طرح کا سکول کھولا۔

۲۔۱۸۶۴میں غازی پور سائنٹیفک سوسائٹی قائم کی ۔انگریزی و دیگر یورپی زبانی کی سائنسی کتابوں اور مقالات کا اردو ترجمہ کیا جائے

۳۔۱۸۶۹ میں انگلستان کا سفر کیا اور وہاں کے دو مشہور رسالوںTatler & Spectator کا مطالعہ کیا اور واپسی پر انہی کی روش کے مطابق  ۱۸۷۰ میں رسالہ تہذیب الاخلاق شائع کیا۔

۴۔ ۱۸۷۵میں ایم اے او (محمڈن اینگلو اورینٹیل )ہائی سکول کی بنیاد رکھی جو ۱۹۲۰ میں یو نیورسٹی بنا۔۱۸۸۵ میں کانگرس کی بنیاد رکھی گئی تو سرسید نے مسلمانوں کو سیاست کے بجائے تعلیم کی طرف دعوت دی۔

۵۔۱۸۸۶ میں محمڈن ایجوکیشن کانفرنس کی بنیاد رکھی، یہ ایک تنظیم تھی جو ہر علاقے میں مقامی مسلمانوں کے تعلیمی مسائل  سنتی اور ان کے حل کے لئے کوشش کرتی۔

۶۔ سرسید احمد خان ۸۱ سال کی عمر میں 27 مارچ 1898ء میں فوت ہوئے اور علیگڑھ یونیورسٹی کی مسجد میں دفن ہوئے۔

یوں برصغیر کی آزادی کی تاریخ کا ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچا۔

۷۔۱۹۰۶ میں  ڈھاکہ میں محمڈن ایجوکیشن کانفرنس کے سالانہ اجلاس کے موقع پر آل انڈیا مسلم لیگ وجود میں آئی اور یوں سرسید کے بوئے ہوئے بیج سے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔اس موقع پر مسلم لیگ کا پہلا صدر سر آغا خان کومنتخب کیا گیا، مرکزی دفتر علی گڑھ میں قائم ہوا اور برطانیہ میں لندن شعبے کا صدرسید  امیر علی کو بنایا گیا۔

اسی  طرح سرسید کے بعد چودھری رحمت علی کے بارے میں بھی کچھ اہم اور مفید نکات بیان کرتے ہیں:
چودھری رحمت علی

سرسید کی وفات سے صرف ایک سال پہلے یعنی ۱۸۹۷ میں ،مشرقی پنجاب کے  گاوں موہراں میں گجر خاندان کے ہاں ایک ایسا بچہ پیدا ہوا جس نے اٹھارہ برس کی عمر میں تقسیمِ برصغیر کا فارمولہ پیش کیا[1]،جسے پہلا پاکستانی کہاجاتا ہے اور جس نے پاکستان کا نام تجویز کیا۔اس نے ۱۹۱۸ میں اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کیا۔ یعنی بی اے تک کی تعلیم ہندوستان میں ہی حاصل کی، بی اےکےبعد  محمد دین فوق کےاخبار کشمیر گزٹ میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سےشعبہ صحافت میں عملی زندگی میں قدم رکھا۔

1931ء میں وہ انگلستان چلے گئے اور  کیمبرج اور ڈبلن یونیورسٹیوں سے قانون اور سیاست میں اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں۔

1933ء میں چودھری رحمت علی نے وہاں پر پاکستان نیشنل موومنٹ کی بنیاد رکھی۔ 28 جنوری، 1933ء کو انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں پڑھائی کے دوران "اب یا پھر کبھی نہیں" (Now OR Never) کے عنوان سے چار صفحات پر مشتمل ایک پمفلٹ شائع کیا اور یہی پمفلٹ لفظ "پاکستان" کی تشہیر کا باعث بنا۔

1935ء میں آپ نے آپ نے زمانہ طالب علمی میں  ایک ہفت روزہ اخبار "پاکستان"  بھی کیمبرج سے شائع کیا اور تشکیل پاکستان کے لئے  امریکہ، جاپان ، جرمنی اور فرانس کے دورے بھی کئے اور اس سلسلے میں ہٹلر سے ملاقات بھی کی۔

آپ نے ہی "سب کانٹیننٹ آف براعظم دینیہ " کا تصور پیش کیاجس میں پاکستان ، صیفستان ، موبلستان ، بانگلستان ، حیدرستان ، فاروقستان ، عثمانستان وغیرہ کے علاقے اور نقشے بیان کئے گئے۔[2]

آپ لاہور میں ہونے والے  تئیس مارچ ۱۹۴۰ کے سالانہ اجلاس میں شامل نہیں ہوئے ، اس کی دو وجوہات بیان کی جاتی ہیں:

ایک خاکسار تحریک اور پولیس میں تصادم کے باعث آپ پر پنجاب میں داخلے پر پابندی تھی  اور دوسری وجہ یہ کہ  آپ مسلم لیگ کے ساتھ آل انڈیا کے لفظ کے مخالف تھے،آپ  کے نزدیک انڈیا کے بجائے دینیہ یا برصغیر کا لفظ معقول تھا۔چونکہ آپ صرف  مسلمانوں کو ہی متحدہ ہندوستان کا وارث سمجھتے تھے۔

تئیس مارچ کی قرارداد میں کہیں بھی لفظ پاکستان استعمال نہیں ہوا تھا، ہندو پریس نے اسے طنزاً قرارداد پاکستان کہا اور پھر یہی نام مشہور ہو گیا۔

تئیس مارچ ۱۹۴۰ کا اجلاس قائداعظم کی زیر صدارت ہوا ، جس میں مسلمانوں نے علیحدہ وطن کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستان بننے کے بعد چودھری رحمت علی دو مرتبہ پاکستان آئے تاہم پاکستان کی بیوروکریسی نے آپ کو قبول نہیں کیا اور آپ واپس لندن چلے گئے۔

3 فروری1951 ؁بروز ہفتہ آپ نے لندن کے ایک ہسپتال میں وفات پائی ، جہاں سترہ دن تک آپ کے ورثا کا انتظار کیا گیا اور بالاخر  20 فروری، 1951ء کو دو مصری مسلمان طالب علموں نےچودھری رحمت علی کو  انگلستان کےشہر کیمبرج کے قبرستان کی قبر نمبر بی - 8330 میں لا وارث کے طور پر امانتاً دفن کیا اور آپ ابھی تک وہیں دفن ہیں۔[3]

سرسید اور چودھری رحمت کے بعد علامہ اقبال کی شخصیت کے کشھ اہم پہلو بھی پیش خدمت ہیں:
علامہ محمد اقبال

9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور۲۱ اپریل ۱۹۳۸ کو فوت ہوئے۔ آپ  25 دسمبر 1905ء کو علامہ اقبال اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونیورسٹی ٹرنٹی کالج میں داخلہ لے لیا ابھی یہاں آئے ہوئے ایک مہینے سے کچھ اوپر ہوا تھا کہ بیرسٹری کے لیے لنکنز اِن میں داخلہ لے لیا۔ اور پروفیسر براؤن جیسے فاضل اساتذہ سے رہنمائی حاصل کی۔ بعد میں آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے آپ نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ برصغیر کی آزادی کے ایک ستون ہونے کے ناطے فکرِ اقبال میں امت کو درپیش مسائل کا حل کیا تھا۔ ہم فکر اقبال کے تناظر میں امتِ مسلمہ کو درپیش مسائل کو مندرجہ ذیل دو حصّوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔

1۔ ایسے مسائل جنہیں حل کرنے کے لئے اقبال نے فکری کاوشوں کے سمیت عملی اقدامات بھی کئے۔

2۔ ایسے مسائل جو اقبال کے نزدیک نہایت اہمیت کے حامل تھے لیکن اقبال کی عمر نے وفا نہیں کی اور اقبال کو انھیں عملی طور پر انجام دینے کی فرصت نہیں ملی۔ لہذا ان مسائل کا حل ہم فقط اقبال کے اشعار و مضامین یعنی افکار میں ڈھونڈتے ہیں۔

جب ہم فکر اقبال کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ذاتِ اقبال کے پہلو بہ پہلو سمجھنا ہوگا اور جب ہم فکر اقبال کو ذاتِ اقبال کے پہلو بہ پہلو رکھ کر دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اقبال فقط گفتار کے غازی نہیں بلکہ کردار کے بھی غازی ہیں۔ اقبال نے جو سمجھا اور جو کہا اس پر خود بھی عمل کیا ہے۔

اقبال نے فلسفیوں کی طرح نہ ہی تو محض نظریہ پردازی کی ہے اور نہ ہی سیاستدانوں کی طرح فقط زبانی جمع خرچ سے کام لیا ہے بلکہ فکرِ اقبال میں جو امت مسلمہ کو درپیش مسائل تھے، اقبال نے انھیں حل کرنے کے لئے عملی طور پر کام کیا ہے اور خدمات انجام دی ہیں اور جن مسائل کو حل کرنے کی زندگی نے اقبال کو فرصت نہیں دی، اقبال نے ان کا حل تحریری صورت میں نظم و نثر کے قالب میں بیان کیا ہے۔ یادرکھیے! اقبال کی ایک خاص خوبی جس کے باعث اقبال کا آفتابِ فکر ہر دور میں عالم بشریت کے افق پر جگمگاتا رہے گا، یہ ہے کہ اقبال نے صرف امت کے مسائل نہیں اچھالے بلکہ ان کا حل بھی پیش کیا ہے اور صرف حل ہی پیش نہیں کیا بلکہ عملی طور پر ان مسائل کو حل کرنے کی جدوجہد بھی کی ہے۔

اب آیئے اقبال کے نزدیک امت مسلمہ کے مسائل کا حل دیکھتے ہیں۔

اقبال کے زمانے میں سیاسی و اجتماعی شعور کو کچلنے کے لئے استعمار سرگرمِ عمل تھا اور یہ مسئلہ فوری توجہ کا طالب تھا۔ لہذا اس مسئلے کو ہم سب سے پہلے بیان کر رہے ہیں۔

1۔ مسلمانوں کا اپنی حقیقی شناخت اور خودی کو کھو دینا اور اس کا حلاقبال کے زمانے میں استعمار کی سازشوں کے باعث مسلمانوں میں اجتماعی شعور کے فقدان کا مسئلہ اس قدر سنگین تھا کہ مسلمان اپنی خودی اور شناخت تک کھوتے چلے جا رہے تھے۔ چنانچہ بانگِ درا میں جوابِ شکوہ کے سترہویں بند میں اقبال کہتے ہیں:

شور ہے ہوگئے دینا سے مسلماں نابود

ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدّن میں ہنود

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

یوں تو سیّد بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو

تم سبھی کچھ ہو، بتائو تو مسلمان بھی ہو!

اقبال کے نزدیک مسلمانوں کی مثال اس ماہی کی سی تھی، جو علم و حکمت کے سمندروں میں پلی بڑھی تھی، لیکن غفلت نے اسے اس مقام پر لاکھڑا کیا تھا کہ اسے یہ احساس ہی نہیں تھا کہ وہ جس سمندر کی طلب کر رہی ہے، خود اسی سمندر میں اب بھی غوطے کھا رہی ہے۔ اقبال کے نزدیک امت مسلمہ علوم و فنون کے بحرِ بیکراں کی پروردہ ہونے کے باعث ہر لحاظ سے دوسری اقوام سے بے نیاز اور غنی ہونے کے باوجود بھٹکتی ہوئی پھر رہی تھی اور اپنے کھوئے ہوئے وقار کی بحالی کے لئے دوسروں سے رہنمائی اور مدد کی طالب تھی۔ چنانچہ بالِ جبریل میں مسلمانوں کی غفلت کی تصویر اقبال نے ایک شعر میں کچھ یوں کھینچی ہے:

خضر کیونکر بتائے، کیا بتائے؟

 اگر ماہی کہے، دریا کہاں ہے

اقبال نے امت کی حقیقی شناخت کھو جانے کا حل امت کی خودی کو زندہ کرنے میں ڈھونڈا ہے۔ اقبال کہتے ہیں:

خودی ہے زندہ تو ہے موت اِک مقامِ حیات

کہ عشق موت سے کرتا ہے امتحانِ ثبات

خودی ہے زندہ تو دریا ہے بے کرانہ ترا

ترے فراق میں مضطر ہے موجِ نیل و فرات

خودی ہے مردہ تو مانندِ کاہِ پیشِ نسیم

خودی ہے زندہ تو سلطانِ جملہ موجودات

اقبال جہاں خودی کو زندہ کرنا چاہتے ہیں، وہاں یہ بھی بتا دینا چاہتے ہیں کہ وہ کسی علاقائی، جغرافیائی یا لسانی خودی کو زندہ نہیں کرنا چاہتے، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ امت کا ہر فرد مسلمان ہونے کے ناطے اپنی خودی اور شناخت کو زندہ کرے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے

خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے

اقبال کے نزدیک ضروری ہے کہ مسلمان اپنے اصلی مقام کو سمجھے اور غلامی کا طوق اپنے گلے میں دیکھ کر شرمندگی محسوس کرے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

اے کہ غلامی سے ہے روح تیری مضمحل

سینہء بے سوز میں ڈھونڈ خودی کا مقام

اقبال نے صرف خودی کا نعرہ نہیں لگایا بلکہ مسلمانوں کی کھوئی ہوئی خودی کو واپس لانے کے لئے آپ عملی فعالیت کے ذریعے 1926ء میں پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ فکرِ اقبال کے ساتھ جب ہم اقبال کی ذات کو رکھ کر دیکھتے ہیں تو ایک یہ بات سامنے آتی ہے کہ باصلاحیت اور دانشمند حضرات گوشوں میں بیٹھ کر صرف افکار کی کھچڑی تیار کرنے کے بجائے عملی طور پر میدان میں اتریں اور قوم کی رہنمائی کریں۔

2۔ مسلمانوں میں جراتِ اظہار اور فکری تربیت کا اہتمام نہ ہونا اور اس کا حلاقبال کے نزدیک امت مسلمہ کا ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ انگریزوں کے مظالم اور ہندووں کی سازشوں نے مسلمانوں کو ان کے اپنے ملک میں ہی غلام بنا کے رکھ دیا تھا، مسلمان اپنی آواز کو نہ ہی تو غاصب حکمرانوں کے سامنے بلند کرنے کا سلیقہ جانتے تھے اور نہ ہی ان کی موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لئے فکری و نظریاتی تربیت کا کوئی سلسلہ موجود تھا، چنانچہ اب اس مسئلے کے حل کے لئے اقبال نے خود اپنی سرپرستی میں 1934ء میں لاہور سے روزنامہ احسان کے نام سے ایک اخبار نکالا، جس میں امت مسلمہ کو درپیش مسائل کی ترجمانی کی جاتی تھی اور جس کا اداریہ تک آپ خود لکھتے تھے اور اس اخبار میں نوجوانوں کی فکری و سیاسی اور نظریاتی تربیت کے لئے آپ کے مضامین و نظمیں شائع ہوتی تھیں۔

اس جراتِ اظہار کے باعث اقبال کہتے ہیں:

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش

میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

مسلمانوں میں جراتِ اظہار اور فکری تربیت کی مشکل کو حل کرنے کے لئے اقبال نے خود عملی طور پر میڈیا کے میدان میں قدم رکھا، ایک اخبار نکالا اور اس طرح مسلمانوں کو اقوامِ عالم کے درمیان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہنے کے بجائے اپنے مقام، اپنے دین اور اپنے جذبات کے اظہار کا ہنر سکھایا۔ آپ شاعری کی زبان میں "مسلمان" کو مخاطب کرکے کہتے ہیں کہ تو جرات اور تڑپ کے ساتھ اپنی خودی، شناخت اور مقام کو آشکار کر، تاکہ تو اور تیری آئندہ نسلیں غیروں کی غلامی کو قبول نہ کریں۔ چنانچہ اقبال کہتے ہیں:

کبھی دریا سے مثلِ موج ابھر کر

کبھی دریا کے سینے میں اتر کر

کبھی دریا کے ساحل سے گزر کر

مقام اپنی خودی کا فاش تر کر

اسی طرح امت کی فکری تربیت کے لئے اقبال نے بے شمار مضامین اور اشعار لکھے ہیں، ہم ان میں سے نمونے کے طور پر چند اشعار اس وقت پیش کر رہے ہیں:

آتی ہے دمِ صبح صدا عرشِ بریں سے

کھو گیا کس طرح تیرا جوہرِ ادراک

کس طرح ہوا کند تیرا نشترِ تحقیق

ہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک

تو ظاہر و باطن کی خلافت کا سزاوار

کیا شعلہ بھی ہوتا ہے غلامِ خس و خاشاک

قوم کو فکری طور پر عقائد کی پاسداری کی ترغیب دینے کیلئے ضربِ کلیم میں فرماتے ہیں:

حرف اس قوم کا بے سوز، عمل زار و زُبوں

ہوگیا پختہ عقائد سے تہی جس کا ضمیر

اقبال اسی طرح پورے عالمِ اسلام کے جذبات کی بھی ترجمانی کرتے تھے، مثلاً فلسطین، طرابلس، کشمیر اور افغانستان کے بارے میں اقبال کا ایک ایک شعر بطورِ نمونہ ملاحظہ فرمائیں:

ہے خاکِ فلسطیں پر یہودی کا اگر حق

ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہلِ عرب کا

اسی طرح 1912ء میں جنگِ طرابلس میں غازیوں کو پانی پلاتے ہوئے شہید ہونے والی فاطمہ کے بارے میں اقبال لکھتے ہیں:

فاطمہ! تو آبرُوے اُمّتِ مرحوم ہے

ذرّہ ذرّہ تیری مُشتِ خاک کا معصوم ہے

کشمیر کے بارے میں ارمغان حجاز میں اقبال فرماتے ہیں:

آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر کل

جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر

افغانستان کے بارے میں بالِ جبریل میں لکھتے ہیں:

قبائل ہوں ملّت کی وحدت میں گم

کہ ہو نام افغانیوں کا بلند

3۔ کسی متحدہ پلیٹ فارم کا نہ ہونا اور اس کا حلاقبال، پورے عالم اسلام کے لئے ایک مرکز اور پلیٹ فارم کے خواہاں تھے آپ کے بقول:

قوموں کے لئے موت ہے مرکز سے جدائی

ہو صاحبِ مرکز تو خودی کیا ہے، خدائی

لیکن اس وقت بہت سارے لوگ لندن اور جنیوا کو اپنا قبلہ اور مرکز بنا چکے تھے، انھیں جو کچھ ادھر سے حکم ملتا تھا، وہ اسی کے سامنے سرخم کرتے تھے۔ چنانچہ اقبال نے مسلمان قوم کو مخاطب کرکے کہا:

تیری دوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں

فرنگ کی رگِ جاں پنجہء یہود میں ہے

اقبال کی دوراندیشی کا یہ عالم تھا کہ آپ اس زمانے میں تہران کو ایک عالمی اسلامی مرکز کے طور پر دیکھ رہے تھے، اس لئے آپ نے کرہ ارض کی تقدیر بدلنے کی خاطر اقوام مشرق کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ لندن اور جنیوا کے بجائے تہران کو اپنا مرکز بنائیں۔ جیسا کہ آپ ضربِ کلیم میں فرماتے ہیں:

تہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا

شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے

آپ کے نزدیک خلافتِ عثمانیہ کے زوال کے بعد مسلمانوں کا ایک بڑا مسئلہ ان کے پاس ایک متحدہ پلیٹ فارم کا نہ ہونا تھا، آپ نے اس سلسلے میں لوگوں کو صرف اشعار اور نظمیں نہیں سنائیں بلکہ آپ نے ایک عالمی اسلامی پلیٹ فارم کی تشکیل کے لئے ابتدائی طور پر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرکے فعال کردار بھی ادا کیا اور اس طرح مسلم لیگ کو ہندوستانی مسلمانوں کے لئے ایک قومی پلیٹ فارم بنا دیا۔


تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز (اسلام آباد)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید ناصرعباس شیرازی نے یمن کے دارالحکومت صنعا پرسعودی امریکی اتحاد کے غیر انسانی اور وحشیانہ بمباری کے 3 خونریز سال مکمل ہونے پر اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ لاکھوں لوگ بدترین حملوں کے دوران یمنی افواج اور مقامی حوثی رہنمائوں سے اظہار عشق و عقیدت کے لیے متحد ہو کر مظاہرہ کر رہے ہیں ۔تمام فرقے اور مسالک امریکی اور اسرائیلی ایماء پر سعودی قیادت میں یمن پر مسلط کردہ جنگ کی مذمت میں یکجا ہیں۔

ناصر شیرازی کاکہنا تھاکہ خبروں کے مطابق اس موقع پر یمنی افواج نے جارح ملک پر 7 میزائل بھی داغے جس سے ایک ہلاکت کی اطلاع بھی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے  اب تک سعودی حملوں میں مارے جانے والے بے گناہ یمنییوں کی تعداد 14000 سے زائد ہے جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔2 کروڑ 20 لاکھ لوگ شدید قحط کا شکار ہیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں ۔پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے 3 سال بعد یمن کے جوابی میزائل حملوں کی مذمت تو کی ہے لیکن آج تک یمنی سرزمین پر سعودی مداخلت،بدترین فوجی جارحیت اور وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں مارے جانے والے بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر مذمتی بیان تک جاری نہیں کیا ہے۔

انہوںنے کہاکہ جب ہم خود دوہرے معیارات رکھیں گے اور غلامانہ زہنیت پر عمل کریں گے تو ہم کبھی آل سعود کے انڈیا اور اسرائیل سے تاریخی سطح پر پہنچ چکے تعلقات کو زیر سوال نہیں لا سکیں گے اور نہ ہی کبھی سعودی عرب کی اندھی حمایت کرتے ہوئے یہ پوچھ سکیں گے کہ آج تک سعودی عرب کشمیریوں کی حمایت اور ان پر جاری بے پناہ ظلم و ستم پر کیوں خاموش ہے ۔

وحدت نیوز (اٹک) مجلسِ وحدت مسلمین شعبہ خواتین ضلع اٹک کے زیراہتمام راہِ سید الشھداء کے راہیان سے اظہارِ عقیدت کے لئے یومِ شھداء کا انعقاد کیا گیا،جس میں خانوادہ شھداء کی خدمت میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ ضلع بھر سے تقریباً 18 شھداء کے عظیم محترم خانوادوں نے خصوصی شرکت کی۔اسکے علاوہ ضلع کی دیگر تنظیموں کی نمائندہ خواہران نے بھی شرکت کی۔جسمیں بالخصوص سپاہ علی اکبر اور رضا کارانِ زینبیہ شامل ہیں۔مجلسِ وحدت مسلمین شعبہ خواتین پاکستان کی مرکزی سیکرٹری جنرل محترمہ زہرہ نقوی اور مرکزی سیکرٹری برائے تعلیم و تربیت محترمہ ہر نرگس سجاد نے شرکت کی۔ مہمانانِ گرامی اور خانوادہ شھداء کا پُرتپاک استقبال معصوم بچیویوں نے دورود و سلامتی کی صداوں کے ساتھ ساتھ پھول نچھاور کرکے کیا۔جسکے بعد خانوادہ شھداء کی خواتین نے شرکاء سے اظہارِ خیال کیا۔پروگرام کے آخر میں مجلسِ وحدت مسلمین شعبہ خواتین پاکستان کی مرکزی سیکرٹری جنرل محترمہ زہرہ نقوی نے خطاب کیااور خانوادہ شھداء میں تحائف تقسیم کئے۔پروگرام کا اختتام دعائے سلامتی امامِ زمانہ ع اور ملک و ملتِ جعفریہ کی کامیابی و کامرانی کی اجتماعی دعا کیساتھ کیا گیا۔اسکے علاوہ مجلسِ وحدت مسلمین شعبہ خواتین پاکستان کی مرکزی سیکرٹری جنرل محترمہ زہرہ نقوی اور مرکزی سیکرٹری برائے تعلیم و تربیت محترمہ نرگس سجاد نے ضلع اٹک کی خواہرانِ وحدت کی ضلعی کابینہ کیساتھ بھی ایک خصوصی نشست کی جسمیں آئندہ مستقبل کے حالات کے حوالے سے گفتگو کی اور تنظیمی و تربیتی ورکشاپ کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا۔

Page 8 of 841

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree