The Latest

وحدت نیوز (آرٹیکل) گذشتہ دنوں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے تم سے محبت تو بہت ہے لیکن یاد رکھوں امریکہ کی مدد کے بغیر تم اور تمھارا اقتدار دو ہفتے سے بھی زیادہ نہیں چل پائے گا۔دراصل امریکی صدر نے آل سعود حکمران طبقہ کو خبر دار کیا ہے کہ جس طرح سے آل سعود کی جانب سے امریکہ سے اسلحہ لینے کی مد میں اور امریکہ کو سعودی عرب کے تیل کے کنوؤں تک رسائی حاصل ہے وہ اسی طرح سے جاریر ہنا چاہئیے بصورت دیگر امریکی صدر نے شاہ سلمان کو زبردست طریقے سے ان کی اصلیت کی پہچان کروا دی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے دوراقتدار کے پہلے روز سے ہی دنیا کے امن کو تہس نہس کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے حالانکہ ان سے پہلے والی امریکی حکومتوں نے بھی دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے میں کوئی کسرنہ اٹھا رکھی تھی تاہم امریکی صدر کے چند ایک جارحانہ عزائم اور فیصلہ واضح دلیل ہیں کہ وہ دنیا کے امن و امان کو مکمل طور پر تباہ وبرباد کر کے دنیا کو اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں۔جیسا کہ پہلے انہوں نے میکسیکو کے حوالے سے بیانات دئیے، پھر سیاہ فام امریکیوں کے خلاف عزائم سامنے لائے اور سب سے بڑھ کر امریکی صدر نے فلسطین کے ابدی دارلحکومت ’’القدس‘‘ کو اسرائیل کا دارلحکومت بنانے کا اعلان کیا جسے پوری دنیا نے اقوام متحدہ میں مستردکیا تاہم ٹرمپ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے اور امریکی سفارتخانہ کو تل ابیب سے القدس شہر میں منتقل کر دیاگیا البتہ اب امریکیوں کو وہاں درپیش مشکلات کیا ہیں یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔
بہر حال اس مرتبہ امریکہ نے سعودی عرب کو ایک ایسا آئینہ دکھایا ہے جسے شاید دنیاکے بہت سے لوگوں نے نہ دیکھا ہو۔پہلے امریکہ ہی کے کہنے پر سعودی عرب کی حکومت نے یمن میں جنگ مسلط کی اور اس جنگ کو گذشتہ پانچ برس سے جاری رکھنے کے لئے امریکہ کہ ساتھ اسلحہ کے بڑے بڑے معاہدے کئے اور اسلحہ کی خرید و فروخت کے ساتھ ساتھ امریکی فوجیوں کی اس جنگ میں شمولیت کی بہت بڑی رقم اور معاوضہ کبھی تیل کی صورت میں اور کبھی مال ودولت کی صورت میں ادا کیا۔اسی طرح امریکی صدر یعنی دنیا کے سب سے بڑی شیطان ٹرمپ کو مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر بلا کر مسلمان ممالک کو امریکہ کی غلامی پر مجبور کرنے کا میدان بھی سجایا گیا تھااور اس کے نتیجہ میں پھر نام نہاد اسلامی ملٹری الائنش تشکیل دیا گیا جس کا مقصد سعودی عرب کا نام نہاد دفاع تھا۔

اب امریکہ کاکہنا یہ ہے کہ سعودی عرب امریکہ کی مدد کے بغیر دو ہفتے سے زیادہ نہیں چل سکتا ۔ یہ نہ صرف سعودی حکمرانوں کے لئے دھمکی ہے بلکہ خطر ناک صورتحال ہے کہ ایسے وقت میں جب سعودی عرب نے یمن میں جنگ مسلط کر رکھی ہے تو دوسری طرف خطے میں اور کئی ایک محاذکھول رکھے ہیں تا کہ خطے میں ظاہری بالا دستی سعودی عرب کی ہو لیکن حقیقت میں امریکہ کی۔

سیاسیات کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ امریکہ نے سعودی عرب کو ایک دودھ دینے والی گائے کے طور پر رکھا ہوا ہے اور اس سے جتنا دودھ درکار ہے وہ نکال رہاہے تا کہ امریکی مفادات کا ایک طرف خطے میں تحفظ بھی قائم رہے اور مالی مفادات میں بھی اضافہ ہو اور عرب دنیا ہمیشہ امریکہ کی غلام بنی رہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اسلحہ کی فروخت کے بڑے سودے سعودی حکومت کے ساتھ کئے ہیں اور یمن جنگ میں بھی سعودی عربکو پھنسانے والا یہی امریکہ ہی ہے تا کہ امریکی اسلحہ فروخت ہوتا رہے اور خطے میں موجود ذخائر اور وسائل پر امریکی دسترس قائم رہے۔

میری نظر میں امریکی صدر ٹرمپ کی یہ دھمکی اور بھی بہت سے پیغام دے گئی ہے۔ یعنی اگر گذشتہ چند ایام کی بات کریں سعودی عرب کے اندر اور پاکستان سمیت دیگر ممالک میں سعودی حکومت کے نمک خوار تو ہر طرف بس ایک ہی واویلا کر رہے تھے کہ یمن کے حوثیوں سے مکہ مکرمہ کو خطرہ ہے اور ایسا ہی سوال پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے سعودی عرب کے دورہ کے وقت میڈیا والوں نے کیا تھا جس کا عمران خان مناسب جواب دینے کی بجائے کچھ اور ہی کہتے چلے گئے ۔حالانکہ عمران خان صاحب کو اس وقت اس سوال کے جواب میں پوچھنا چاہئیے تھا کہ مکہ مکرمہ کو خطرہ کس سے ہے؟ حوثیوں نے تو آج تک پانچ سال کے عرصہ میں ایک بھی گولی مکہ مکرمہ کی طرف نہیں چلائی البتہ میدان میں سعودی و امریکی فوجیوں سے نبرد�آزما ضرور ہیں۔ بہر حال اس سوال کا جواب اب امریکی صدر کے بیان کے بعد واضح ہو چکا ہے ۔جیسا کہ پہلے بھی تحریروں میں بیان کیا ہے کہ امریکی پشت پناہی میں اسرائیل اپنی سرحدوں کو قبلہ اول بیت المقدس سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تک لانے کے نقشہ بنا چکا ہے اور اسی فارمولے کے تحت پورے خطے میں کہیں داعش، کہیں القاعدہ، کہیں طالبان، کہیں النصرۃ، کہیں دیگر گروہوں کے ذریعے اس کام کو انجام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم تاحال ناکامی کا سامنا ہے، لیکن اب امریکی صدر کا سعودی عرب کو دھمکانہ واقعا ایک سنگین فعل ہے جس پر مسلم دنیا کی خاموشی و بے حسی بھی سوالیہ نشان ہے۔
یمنی حوثی کہ جنہوں نے آج تک ایک بھی حملہ مکہ مکرمہ پر نہیں کیا ہے ان کے خلاف تو بھرپور واویلا کیاجاتا ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ امریکی ایماء پر سعودی جارحیت کے نتیجہ میں یمن میں دسیوں ہزار لوگ موت کی نیند سلا دئیے گئے ہیں، لاکھوں بچوں کی زندگیاں وبائی امراض کے باعث داؤ پر لگی ہوئی ہیں،یمن کے مظلوم عوام کا شدید محاصرہ کیا گیا ہے اور نہ جانے کیا کیا مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔
دوسرا اہم پیغام جو امریکی صدر کی دھمکی میں موجود ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح امریکی صدر نے فلسطین کے بارے میں یکطرفہ اعلان اور فیصلہ کیا تھا اور مسلم دنیا کی بڑی تعداد بے حسی کا مظاہرہ کرتی رہی تھی اب دیکھنا یہ ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ کون کھڑا ہوتا ہے؟

یہاں ایک مرتبہ پھر میں اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی کی فکر اور ان کی شخصیت کو سلام پیش کرنا چاہتا ہوں کہ جنہوں نے ایران میں اسلامی انقلاب کی بنیاد ڈالی اور تفرقہ کو مٹا کر امت مسلمہ کو وحدت کی رسی میں پیرونے کا کام انجام دیا۔ ایران ہی ایسا ملک ہے جس نے فلسطین کو صیہونی شکنجہ سے آزادی دلوانے کی خاطر جس طرح امریکہ و اسرائیل سے دشمنی لے رکھی ہے آج جب سعودی عرب کے حکمرانوں کی تذلیل کی گئی ہے اور عرب اقوام کو ٹرمپ نے ذلیل کیا ہے تو ایران نے آگے بڑھ کر امریکہ کو پیش کش کی ہے کہ آئیں مسلم دنیا اور امت کے وقار کے تحفظ کی خاطر مل کر اسلام ومسلمین کے ازلی دشمن شیطان بزرگ امریکہ کے خلاف متحد ہو جائیں ۔یقیناًیہ بہت بڑی پیش رفت ہو گی اور اب فیصلہ بالآخر سعودی عرب کی حکومت کو کرنا ہے کہ کیا وہ اس ذلت کے ساتھ امریکہ کی گود میں بیٹھے رہیں گے یا عرب غیرت و حمیت کے مطابق اس ذلت کا انتقام یمن کے مظلوم عوام سے نہیں بلکہ دنیا کے سب سے بڑے شیطان امریکہ کی ناک زمین پر رگڑ کر لیں گے۔

خلاصہ یہ ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے صرف سعودی عرب کے حکمرانوں اور عوام کی ذلت و رسوائی نہیں کی گئی ہے بلکہ یہ ذلت پورے مسلمانوں کی ہے کیونکہ سعودی عرب میں موجود مقدس مقامات آل سعود کی ملکیت نہیں بلکہ مسلم امہ کا اثاثہ ہے۔تاہم مسلمان ممالک کو امریکہ کے خلاف سخت سے سخت انداز میں سامنے نکل کر آنا چاہئیے اور اپنے اختلافات کو بھلا کر اسلام ومسلمین کے سب سے بڑے دشمن شیطان بزرگ امریکہ کے خلاف متحد ہونا چاہئیے۔

تحریر: صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید علی احمر زیدی نے امیگریشن اینڈ پاسپورٹ محکمے کی جانب سے زائرین کے پاسپورٹ کے اجراء میں غیر ضروری تاخیر پر کڑی تنقید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ محکمہ سارا سال طے شدہ تاریخ کے مطابق پاسپورٹ جاری کرتا ہے لیکن محرم کے ایام میں دانستہ طور پر تاخیری حربے اختیار کیے جاتے ہیں تاکہ زائرین کو پریشان کیا جا سکے۔متعلقہ افسران کا یہ رویہ ناصرف پیشہ وارانہ بددیانتی ہے بلکہ ملک میں مسلکی منافرت کو ہوا دینے کی بھی مذموم کوشش ہے۔اس طرح کے غیرمنصفانہ اور متعصبانہ اقدامات ناقابل برداشت ہیں جن پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔

انہوں نے کہا ایک جانب پہلے ہی زائرین کو تفتان بارڈر پر آنے جانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہاں ہفتوں کھلے آسمان تلے قیام، بھوک وپیاس، طبی سہولیات کا فقدان جیسے مسائل کیا کم تھے جواب دوسری جانب زائرین کو  امیگریشن اینڈ پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے عملے کے بھی نارواسلوک کا سامنا کرنا پڑرہاہے ، انہوں نے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی سے مطالبہ کیاہے کہ ادارے میں موجود ایسے متعصب افسران کی انکوائری کی جائے جو زائرین کو پاسپورٹ کے بروقت اجرا ءکی راہ میں رکاوٹ ہیں،پاسپورٹ کے اجراءمیں بلاجواز تاخیر ہزاروں زائرین کے چہلم امام حسین ؑ پر کربلا روانگی میں رکاوٹ کا سبب بنی ہوئی ہے ، وزارت داخلہ ان امور کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے زائرین کو پاسپورٹ کی بروقت فراہمی یقینی بنائے۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کوئٹہ ڈویژن کے سیکریٹری جنرل کربلائی رجب علی اپنے وفد کیساتھ آج جناب عبدالودود ڈائریکٹر پاسپورٹ اینڈ امیگریشن سے ہزارہ قوم کو پاسپورٹ بنانے میں درپیش مسائل کے حوالے سے انکے دفتر میں ملاقات کی۔اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کوئٹہ ڈویژن کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری کامران حسین،کونسلر سید مہدی، ڈویژنل شوری کے ڈپٹی سیکریٹری حاجی حسین، حاجی کریم، حاجی الطاف حسین، کربلائی عبدالحکیم، بھی موجود تھے ۔وفد نے کوئٹہ کے مقامی لوکل باشندوں بطور خاص ہزارہ قوم  کیساتھ پاسپورٹ آفس کے عملہ کے ناروا سلوک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے سالہا سال وطن عزیز کی دفاع کیلئے خدمات انجام دیئے ہیں ان بزرگ شہریوں اور ان کے بچوں کے اسناد کو بھی پولیس صفائی کیلئے بھیجنا بنیادی شہری حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے بزرگ شہری سمیت خواتین اور بچوں کو کبھی لوکل سرٹیفیکیٹ کی صفائی تو کبھی پولیس صفائی کے نام پر تنگ کیا جا رہا ہے جسکی وجہ سے شہریوں کو پاسپورٹ بنانے میں مشکلات کا سامنا ہیں  ۔

حالانکہ وزارت داخلہ کی طرف سے وضع کردہ پالیسی بلکل واضح ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جن شہریوں کے پاس سنہ 1979  سے پہلے کے اسناد موجود ہونگے انہیں بغیر پولیس صفائی کے پاسپورٹ جاری کیا جائیں لیکن حیرت ہے کہ 1979 تو در کنار 1965 کی جنگ لڑنے والے پاکستانی فوجیوں کے بچوں کو بھی پاسپورٹ بنانے میں مشکلات درپیش ہیں ۔وفد میں شامل تمام اراکین کو سننے کے بعد ڈائریکٹر امیگریشن اینڈ پاسپورٹ جناب عبدل ودود نے یقین دہانی کروائی کہ جن شہریوں کے پاس پاکستانی ہونے کے ثبوت موجود ہوں گے ایسے شہریوں کو پاسپورٹ بنانے میں آئندہ کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ہماری کوشش ہوگی کہ ہر شہری کو بروقت سفری  دستاویزات پاسپورٹ مہیا ہو ۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ آفس میں ہمیں کچھ مشکلات کا سامنا ہیں اس سلسلے میں اسلام آباد کے ہائیر اتھارٹی کو آگاہ کیا جا چکا ہے تاکہ ان مسائل کا مستقل حل تلاش کیا جا سکے ۔ وفد میں شامل تمام اراکین نے جناب عبدالودود صاحب کا شکریہ ادا کیا ۔

وحدت نیوز(ڈیرہ اسماعیل خان) مجلس وحدت مسلمین ڈیرہ اسماعیل خان کے سیکریٹری جنرل علامہ سید غضنفرعباس نقوی کے والد بزرگوارعلامہ سید ریاض حسین شاہ طویل علالت کے بعد داعی اجل کو لبیک کہہ گئے، ان کی ناگہانی وفات پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری سمیت دیگر مرکزی قائدین اور صوبہ خبرپختونخواکے سیکریٹری جنرل علامہ محمد اقبال بہشتی نے دلی رنج وغم اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اپنے مشترکہ تعزیتی بیان میں ایم ڈبلیوایم کے قائدین نے مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کی ہے اور تمام پسماندگان بالخصوص علامہ سید غضنفرعباس نقوی کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ہے ۔

علاو ہ ازیں مولانا سید غضنفر نقوی جنرل سیکرٹری ایم ڈبلیو ایم ڈیرہ اسماعیل خان کے والد بزرگوارعلامہ سید ریاض حسین شاہ کی نماز جنازہ بستی سیداں میں ادا کر دی گئی جس میں علاقے کی معزز سیاسی وسماجی شخصیات سمیت شہریوں کی بڑی تعدادنے شرکت کی اور انہیں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ مقامی کوٹلی امام حسین ؑمیں سپردخاک کردیا گیا، مرحوم کی قل خوانی کل بروز جمعہ 9 بجے بستی سیداںمیں ادا کی جائے گی۔

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ سید مبارک علی موسوی کا اقوام متحدہ میں پاکستان کی جانب سے یمن مخالف ووٹ دینے پر گفتگو کرتے ہوئےکہنا تھا کہ ایم ڈبلیوا یم نے انتخابات میں اور اس سے قبل مختلف تحریکوں میں تحریک انصاف سے بیلنس خارجہ پالیسی اپنانے پر اتفاق کیا تھا ۔ جبکہ پاکستان نے یمن ایشیو پر فریق بن کر ظلم کا ساتھ دیا ہے، جس سے دنیا میں پاکستان کا امیج خراب ہوا ہے اور بین الاقوامی سطح پر کشمیر کاز کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف پاکستان اقوام متحدہ میں دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ دکھاتا ہے اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے اور دوسری جانب یمن میں بے گناہ لوگوں کے قتل عام کی تحقیقات کے مخالف ووٹنگ میں حصہ لیتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی دوغلے پن کا شکار ہے جس پر شاہ محمود قریشی صاحب کو وضاحت دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم ڈبلیو ایم نے ہر فورم پر دنیا کے ہر مظلوم کے حق میں آواز اٹھائی اور اسی طرح ان ایشوز کو اٹھاتے رہیں گے، اور یہی کربلا کا درس ہے۔ علامہ مبارک علی موسوی کا مزید کہنا تھا کہ مظلوم چاہے کشمیرکے ہوں ، فلسطین یا یمن کے ہوںہمیں نیوٹرل رہتے ہوئے دنیا کے تمام مظوموں کا ساتھ دینا ہو گا۔

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ خواتین کی مرکزی سیکریٹری جنرل اور رکن پنجاب اسمبلی محترمہ سیدہ زہرانقوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹیوٹر پر جاری اپنے ایک پیغام میں کہاہے کہ یمن میں جاری سنگین انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے مخالفت میں ووٹ دے کر حکومت کس منہ سے کشمیری مظلوموں کا مقدمہ لڑیں گی؟حکومت کا یہ عمل مشرق وسطیٰ کے دلدل میں پاکستان کو دھکیلنے کی استعماری طاقتوں کی ایک اور سازش کا حصہ ہے۔

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ تنظیم سازی کا اہم اجلاس صوبائی سیکرٹری جنرل آغا مبارک علی موسوی کی زیر صدارت صوبائی آفس پنجاب میں منعقد ہوا جس میں صوبائی کابینہ کے اراکین سمیت مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرک سید ناصرعباس شیرازی، مرکزی سیکرٹری تنظیم سازی سید مہدی عابدی ، مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی اور مرکزی سیکرٹری معاون تنظیم سازی آصف رضا نے خصوصی شرکت کی اجلاس آئندہ چھ ماہ کے تنظیم سازی کے لیئے اہداف مقرر کیئے گئے اور مرکزی تنظیم سازی کونسل کے فیصلہ جات پر عمل درآمد کرنے کے لیئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نمائندگان مخلتف اضلاع کت دورہ جات کر کے تنظیم ڈھانچوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے اقدامات کریں گے ضلعی شوری کے اجلاس منعقد کیئے جائیں گے اجلاس میں مولانا سید ملازم حسین نقوی صاحب کو صوبائی سیکرٹری تنظیم سازی کی ذمہ داری تفویض کی گئی۔

وحدت نیوز (کراچی) اقوام متحدہ میں مظلومین یمن کے خلاف ووٹ انسانیت خصوصا ًپاکستانیوں کے ضمیر پر بدنما داغ ہے،یمن میں ہونے والے مظالم کے خلاف ووٹ دے کر حکومت نے کشمیر پر پاکستانی موقف کو کمزور کیا ہے،اقوام متحدہ میں مظلوم یمنیوں کے خلاف ووٹ کرنے پر وزارت خارجہ اپنی پوزیشن واضح کرئے،سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق راحیل شریف کی غیر قانونی اجازت کو کینسل کیا جائے راحیل شریف کی وجہ سے پاکستان کی غیر جانبدارانہ اور امن پسندانہ کردار دونوں زیر سوال ہیں۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے سیکرٹری جنرل علامہ صادق جعفری نے یمن پر مسلط جنگ کے خلاف اپنے مذمتی بیان کہا ۔

انہو ں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے سعودی امریکی اتحاد کی سعودی عرب پر مسلط کردہ جنگ کو عالمی بے توجہی کی وجہ سے دنیا کی فراموش شدہ جنگ اور موجودہ دنیا کا بدترین انسانی المیہ قرار دیا ہے۔غریب ترین عرب ملک پر مسلط کردہ جنگ چوتھے سال میں داخل ہونے جا رہی ہے۔ملک کی تین چوتھائی آبادی کو پانی،غذا اور دوا کی شدید کمی کاسامناہے۔سمندری،زمینی اور فضائی محاصرے کی وجہ سے ملک کی 70 فیصد آبادی کا سب سے بڑا مسئلہ ایک وقت کا زندہ رہنے کے قابل بنانے والے کھانے کی فراہمی ہے۔لاکھوں بچے غذا کی کمی کی وجہ سے مستقل معزور ہو چکے ہیں۔

انہوںنے مزید کہاکہ دسیوں ہزار بے گناہ شہری فضائی حملوں کے نتیجہ میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔عورتیں، بچے،شہری ضرورت کی تنصیبات سب سے بڑا نشانہ بنی ہیں۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے اس انسانی المیہ کہ جس کا واضح زمہ دار سعودی عسکری اتحاد ہے، کی تحقیقات کی مدت میں توسیع کو کثرت رائے(21) سے منظور کر لیا۔بدقسمتی سے پاکستان ان چند(8)ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دے کر جہاں بالواسطہ طور پر حملہ آور اتحاد کی حمایت کی وہاں کشمیر اور فلسطین پر اپنے تاریخی موقف کو کمزور بھی کیا۔نئی حکومت نے واضح موقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان مشرق وسطی کے کسی تنازعہ کا فریق نہیں بنے گا۔

وحدت نیوز (اسلام آباد)  اقوام متحدہ میں مظلوم یمنیوں کے خلاف ووٹ کرنے پر وزارت خارجہ اپنی پوزیشن واضح کرے ۔ یمن میں ہونے والے مظالم کی تحقیقات کے خلاف ووٹ دے کر حکومت نے کشمیر پر پاکستانی موقف کو کمزور کیا ہے ۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق راحیل شریف کی غیر قانونی اجازت کو کنسل کیا جائے راحیل شریف کی وجہ سے پاکستان کی غیر جانبدارانہ اور امن پسندانہ کردار دونوں زیر سوال ہیں ۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے یمن پر مسلط جنگ کے خلاف پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 انہو ں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے سعودی امریکی اتحاد کی سعودی عرب پر مسلط کردہ جنگ کو عالمی بے توجہی کی وجہ سے دنیا کی فراموش شدہ جنگ اور موجودہ دنیا کا بدترین انسانی المیہ قرار دیا ہے ۔غریب ترین عرب ملک پر مسلط کردہ جنگ چوتھے سال میں داخل ہونے جا رہی ہے ۔ملک کی تین چوتھائی آبادی کو پانی،غذا اور دوا کی شدید کمی کا سامناہے ۔سمندری،زمینی اور فضائی محاصرے کی وجہ سے ملک کی 70 فیصد آبادی کا سب سے بڑا مسئلہ ایک وقت کا زندہ رہنے کے قابل بنانے والے کھانے کی فراہمی ہے۔لاکھوں بچے غذا کی کمی کی وجہ سے مستقل معزور ہو چکے ہیں ۔دسیوں ہزار بے گناہ شہری فضائی حملوں کے نتیجہ میں جان کی بازی ہار چکے ہیں ۔عورتیں، بچے،شہری ضرورت کی تنصیبات سب سے بڑا نشانہ بنی ہیں ۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے اس انسانی المیہ کہ جس کا واضح ذمہ دار سعودی عسکری اتحاد ہے، کی تحقیقات کی مدت میں توسیع کو کثرت رائے(21) سے منظور کر لیا ۔بدقسمتی سے پاکستان ان چند(8)ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دے کر جہاں بالواسطہ طور پر حملہ آور اتحاد کی حمایت کی وہاں کشمیر اور فلسطین پر اپنے تاریخی موقف کو کمزور بھی کیا ۔نئی حکومت نے واضح موقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان مشرق وسطی کے کسی تنازعہ کا فریق نہیں بنے گا۔جناب وزیراعظم عمران خان صاحب نے سعودی عرب کے دورہ کے دوران دئیے گئے انٹرویو میں صراحت سے کہا تھا کہ پاکستان کا کردار یمن مسئلہ میں مصالحت کنندہ کا ہو گا ۔اور ان کی نگاہ میں اس مسئلہ کا عسکری حل موجود نہیں اور نہ ہی وہ عسکری حل پر یقین رکھتے ہیں ۔انہوں نے امت مسلمہ کے تمام تنازعات کو گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کے پاکستان کے رول کا اعادہ بھی کیا تھا ۔

علامہ راجہ ناصرعباس نے کہاکہ اقوام متحدہ میں پاکستان نے اس ووٹ کے ذریعے جہاں اپنی غیر جانبداری کو متاثر کیا ہے وہاں ظالم کی حمایت کر کے کشمیر پر اپنے کیس کو کمزور بھی کیا ہے جو نئی حکومت کی خارجہ پالیسی کے بیان کردہ اصولوں کے منافی ہے ۔پاکستان کی ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت ہونے کے ناطے مجلس وحدت مسلمین اس ووٹ پر شدید تحفظات رکھتی ہے اور وزیراعظم اور وزارت خارجہ و وزارت انسانی حقوق سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتی ہے ۔یمن ایک اسلامی ملک ہے ۔وہاں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے بقول تاریخ کا بدترین قحط ہے ۔لوگ درختوں کے پتے کھانے پر مجبور ہیں ۔انسانی المیہ رونما ہو چکا ہے ۔پاکستان کو عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے اس جنگ کو ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔وزارت خارجہ فوری طور پر اس ووٹ کے مسئلہ پر اپنی پوزیشن واضح کرے ۔اور عمران خان صاحب کی بیان کردہ خارجہ پالیسی کے مطابق اس غلطی کا ازالہ کرے ۔صحافی برادری سے گزارش ہے کہ خبروں میں حوثی باغی کا لفظ لکھ کر نفرتیں نہ پھیلائیں ۔یمن میں حوثی اور شافعی اتحاد یمنی سلامتی کا ضامن ہے ۔اور وہ اپنی سرزمین  پر کشمیریوں  اور فلسطینیوں کی طرح بیرونی جارحیت کے مقابل دفاع کر رہے ہیں ۔انسانی بنیادوں پر یمن کا محاصرہ ختم کیا جائے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق وفاقی کابینہ راحیل شریف کی غیر قانونی اجازت کو کینسل کر کے  ملائشیا کی طرح اس نام نہاد سعودی عسکری اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کیا جائے ۔راحیل شریف کی وجہ سے پاکستان کی غیر جانبداریت اور امن پسندانہ کردار دونوں زیر سوال ہیں لہذا ان کو فوری طور پر واپس بلایا جائے ۔

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکرٹریٹ پنجاب میں ہنگامی پریس کانفس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ سید مبارک علی موسوی نے کہا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں چار دیواری کے اندر مجالس عزا پر پابندی لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور بعض جگہوں پر پنجاب پولیس کے اہلکار چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے بانیان مجالس کو حراساں کرنے پر مصروف ہیں،ذکر سید الشہدا ءامام حسین علیہ السلام نہ صرف ہمارا دینی فریضہ ہے بلکہ آئینی و قانونی حق ہے،اس پر کسی بھی قسم کی قد غن کو ہم نہ پہلے کبھی برداشت کی ہے نہ کریں گے،پریس کانفرنس میں معروف ڈیزائنر بی جی بھی شریک تھیں پنجاب پولیس کی بانیان مجالس کے خلاف غیر قانونی ایف آئی آرز اور دیگر مقدمات میں الجھانا سمجھ سے بالاتر ہے،ملت جعفریہ اس ملک کی بانیان کی اولادیں ہیں ہمارے ساتھ مقبوضہ کشمیر والا سلوک بند کیا جائے،پنجاب پولیس کس ایجنڈے اور قانون کے تحت بے گناہ لوگوں پر جھوٹی ایف آئی آرز کاٹ رہی ہے؟ ہم اس کی شدیدمذمت کرتے ہیں۔

 علامہ مبارک موسوی نے پنجاب حکومت سےمطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سابقہ گورنمنٹ کی روش پر چلنے کی کوشش نہ کرے،ہم اپنے آئینی قانونی حقوق سلب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دینگے کیونکہ عزاداری سید الشہدا ہماری شہ رگ حیات ہے،علامہ مبارک موسوی نے کہا کہ ہم موجودہ حکومت کے اتحادی ضرور ہیں لیکن عزاداری سید الشہداء سے متعلق کسی قسم کی رکاوٹ کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے،پرامن ماحول میں منعقد ہونے والے روایتی اور لائسنس یافتہ مجالس اور جلوس ہاے عزا پر ناجائز ایف آئی آرز کے سلسلے کو فی الفور روکا جاے،ہم سمجھتے ہیں ملک چلانے والے ابھی تک ماضی کے تلخ حقائق سے سبق نہیں سیکھ سکے،ہم ضیاء دور سے ان شدت پسند گروہ کے ھاتھوں یرغمال ہیں،دنیا بھر میں انہی امن دشمن گروہ کے ہاتھوں پاکستان بدنام ہے،آج بھی پولیس سمیت تمام ادارے دہشتگردوں کی حوصلہ افزائی میں مصروف ہیںعلامہ مبارک موسوی نے کہا کہ ہم پاکستان کی جانب سے یمن کے مظلوموں کیخلاف اقوام متحدہ میں ووٹ دینے کی عمل کو شرمناک قرار دیتے ہیں اور اسے مشرقی وسطیٰ کے ڈرٹی وار میں پاکستان کو دھکیلنے کی کامیاب سازش سمجھتے ہیں،اب پاکستان کس منہ سے کشمیری مظلوموں کا دفاع کرے گا؟جبکہ یمن کے مظلوموں کیخلاف عالمی استعمارکا ساتھ دے رہا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف ڈیزائنر بی جی نے کہا میں مجلس وحدت مسلمین کی شکر گزار ہو کہ انہوں نے ہمیں عزاداری سے متعلق درپیش مشکلات پر آواز اٹھائی عمران خان کو ہم باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ پاکستان کو ریاست مدینہ نہیں بلکہ ریاست طالبان بنانے چلے ہیں،میں پچیس سال سے مجلس کروا رہی ہوں اور متعصب پنجاب پولیس نے جھوٹی ایف آئی آر درج کرکے ثابت کیا ہے کہ پنجاب میں پولیس انتہا پسندوں کی بی ٹیم ہے،ہم انشاالله کسی دباؤ میں آنے والے نہیں اگر یہ متعصبانہ سلسلہ جاری رہا تو ہر قسم کے آئینی قانونی و جمہوری احتجاج  کا حق محفوظ رکھتے ہیں،پنجاب پولیس میں نااہل لوگ مسلط ہو چکے ہیں،یہ قابل افسوس اور لمحہ فکریہ ہے۔

مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل پنجاب ڈاکٹر سید افتخار حسین نقوی کا کہنا تھا کہ عزادروں میں ان مسلسل ہونے ایف آئی آرز کے حوالے سے انتہائی غم و غصہ پایا جاتا ہے جبکہ انتظامیہ کی طرف سے علامہ اقبال ٹاؤن میں شبیہ ذوالجناح کی بے حرمتی کی گئی اور مشہور ڈیزائنر محترمہ بی جی کے گھر عرصہ پچیس سال ہونے والی قدیمی مجلس کے دوران چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پائمال کیا گیا،انہوں نے کہا کہ ایس پی اقبال ٹاؤن علی شاہ نے مبینہ طور پر عزاداروں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جبکہ شب عاشور عزا خانہ گلشن زہرہ وحدت روڈ پر عزاداری امام حسین علیہ السلام کے خلاف  پولیس گردی نے ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان چھوڑ دیا ہےاس تمام معاملے پر آئی جی پنجاب نوٹس لیں اگر پولیس گردی کے اس سلسلے کو نہ روکا گیا اور سابق حکومت کی عزاداری مخالف پالیسیوں کو ترک نہ کیا گیا تو عزاداران امام حسین ع کے سامنے تمام جمہوری و آئینی راستے کھلے ہیں جس کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کرنا ہم اچھی طرح جانتے ہیں اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری پنجاب ڈاکٹر افتخار نقوی معروف اہلسنت عالم دین ڈاکٹر امجد چشتی،ستدسر ابوذر بخاری،سید خرم عباس نقوی رانا ماجد علی،رائے ناصر علی بھی شریک تھے۔

Page 8 of 887

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree