The Latest

وحدت نیوز(اسلام آباد) ماہ مقدس رمضان میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈینگ نے عوام کو عذاب میں مبتلا کررکھا ہے ،ماہ رمضان المبارک کے دوران پورے ملک میں بجلی بلاتعطل فراہم کی جانی چاہئے تھی ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مختار امامی میڈیا سیل سے جاری بیان میں کہی ان کا کہناتھا کہ حکومت واپڈہ حکام کو لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا پابند کرئے۔ شدید گرمی میں بجلی کی بندش عوام کے لیے سخت اذیت کا باعث ہے ۔ رمضان کے مقدس ماہ میں عوام کو اس اذیت سے دور رکھا جائے۔

 انہوں نے کہا ہے کہ رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ماہ صیام تذکیہ نفس کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے خصوصی انعام ہے۔ محض جسمانی عبادات سے اس ماہ کی برکتوں کو مکمل طور پر نہیں سمیٹا جا سکتا بلکہ یہ مقدس مہینہ آپس کے معاملات میں صبرو تحمل رواداری، اخوت ،عجز و انکساری کا بھی تقاضہ کرتا ہے۔روزہ جسمانی مشقت کانام نہیں ہے بلکہ نفس کی تربیت کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔یہ ہمیں تمام اخلاقی و جسمانی برائیوں سے دور کرتا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ رمضان کی مناسبت سے دعائیہ محافل اور دیگر تقریبات میں وطن عزیز کے استحکام و ترقی کے لیے خصوصی دعائیں کی جائیں۔ ماہ رمضان کے دوران انتظامیہ گراں فروشوں پر  نظر رکھنے میں ناکام ہو چکی ہے ،عام آدمی کے لئے اشیائے خوردو نوش کا حصول دشوار ہوچکا ہے۔ناجائز منافع خوروں  کے اگے حکومت بے بس نظر آرہی ہے ۔ ناجائز منافع خوروں کے لیے فوری طور پر کڑی سزاؤں کا جگہ پر تعین کیا جائے تو عام گزر بسر کرنے والے افراد کو اس ماہ میں جن مشکلات کا سامنا رہتا ہے اس میں یقینی طور پر کمی واقعہ ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام کے ذمہ دار اداروں کو ملک دشمن عناصر پر بھی گہری نظر رکھنا ہو گی تاکہ وہ شر پسندانہ عزائم میں کامیاب نہ ہو سکیں۔مساجد ،امام بارگاہوں سمیت تمام مقدسات اور عبادت گاہوں کی حفاظت ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔اس سلسلہ میں ذرا بھر غفلت کا مظاہرہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ماہ رمضان کے دوران ملک بھر میں سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے غیر معمولی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔

انقلاب مگر کیسے!؟

وحدت نیوز (آرٹیکل)  انقلابیوں کو انقلاب ھرگز برا نہیں لگتا لیکن ناسمجھ ، جذباتی اور دو نمبر انقلابی بہت زیادہ ہو چکے ہیں۔ آج جن دہشتگردوں نے عراق وشام کو تباہ کیا سب کے سب انقلاب کے دعویدار تھے۔ امام کعبہ کی برکتوں سے بھی انقلابی لوگ میدان میں از سر نو فعال ہوئے ہیں ۔ اور شیخ صبحی طفیلی مزاج سپر انقلابی بھی ہر جگہ پائے جاتے ہیں ۔جو اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے لئے انقلاب اور رھبران انقلاب وبانیان حکومت جمھوری اسلامی کے فرامین واقوال اور مواقف واقدامات کی تاویلیں اور توجیہات اپنی مرضی سے کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اور دوسری طرف دشمنان مقاومت وبیداری اور استعماری واستکباری طاقتیں بیرونی واندرونی محاذوں پر حملہ آور ہیں۔ انقلاب ومقاومت کے دشمن کم علم اور  نا آگاہ عوام ، بالخصوص جذباتی نوجوانوں کے ذریعے  ہمارے راھبران مقاومت وانقلاب اور انقلابی شخصیات کی کردار کشی پر پوری توانائی صرف کر رہے ہیں۔ اور اسی طرح ایم آئی 6 کے ایجنٹ ہوں یا سی آئی اے کے آلہ کار یا موساد و را کے تنخواہ دار ان سب کا بھی  ہدف اور نشانہ فقط اور فقط پیروان ولایت وخط مقاومت وبیداری ہیں۔اس لئے خط ولایت ومقاومت وانقلاب کے پیروکاروں کو یہ حساس مسائل بڑی حکمت ودانشمندی کے ساتھ بیان کرنے ، ایک دوسرے کی تحقیر وتذلیل اور کردار کشی کی بجائے ایک دوسرے کو سمجھنے ، مشترکہ زبان تلاش کرنے اور  افہام وتفہیم سے مسائل کو سلجھانے اور حل کرنے کی ضرورت ہے۔

کوئی بھی انقلابی اور رہبر کا پیرو نظام ولایت سے نہیں گھبراتا بلکہ وہ تو ہر قسم  کی قربانی کے لئے تیار ہوتا ہے۔ لیکن اختلاف اسلوب اور موقف کو سمجھنے میں ہے۔ اور رھبریت کی  براہِ راست  راھنمائی سے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔  لیکن ایک دوسرے کے متعلق شائستہ زبان اور مہذبانہ تعبیرات ہی ہمیں قریب رکھ سکتی ہیں۔ اور احترام متبادل افہام وتفہیم ایجاد کرنے کا پہلا زینہ ہے۔ جتنا بھی اختلاف نظر ہو اور فکری فاصلے پیدا ہو جائیں تب بھی مشترکہ راھیں تلاش کی جا سکتی ہیں۔  اور شبھات کا ازالۃ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن تہمت  اور الزام تراشی ہمیشہ بند گلی کی طرف لے جانے والے راستے ہیں۔آئیے کچھ دیر کے لئے سوچتے ہیں کہ ہم پاکستان میں کس طرح کی تبدیلی اور انقلاب چاہتے ہیں۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں یہ ماننا چاہیے کہ یہ بحث اپنی جگہ پر قائم ہے کہ پاکستان کا نظام کہ جس کے دستور  میں واضح بیان ہے کہ اسکے تمام تر قوانین قرآن وسنت کے مطابق ہو نگے  یا مخالف نہیں ہو نگے تو کیا ایسے نظام کو مطلقاً طاغوتی کہنا درست ہے یا نہیں ؟یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان اور شیعان  پاکستان کے وجود کے دشمن جو تاسیس پاکستان کی تحریک سے لیکر آج تک تکفیریت کا پرچار کرنے  والے ہیں  اور سیاسی لبادے میں انکے سہولت کار جو  پاکستان دشمن قوتوں کے ھاتھوں میں کھیل بھی رھے ہیں اور دوسری جانب اس نظام کے اسٹیک ہولڈرز بھی بنے ہوئے ہیں نیز ہمیں ہمیشہ غیر کا ایجنٹ ، غیر پرست ، پراکسی وار کا حصہ اور دشمن نظام ثابت کرنے کی کوشش کرتے رھتے ھیں۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ  جب ہم پاکستان کے نظام کو طاغوتی نظام کہتے ہیں تو دانستہ یا نادانستہ طور پر اپنے دشمنوں کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہوتے ہیں اور لوگوں کو تبدیلی اور حقیقی انقلاب سے مایوس کرکے پاکستان کی دشمنی پر ابھار رہے ہوتے ہیں۔

عام طور پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ موجودہ فاسد اور طاغوتی نظام کا حصہ بننا ملت پاکستان بالخصوص مظلوم ملت تشیع کے لئے راہ نجات ہے یا نہیں ؟اصل سوال یہ نہیں بنتا کہ  ہمیں موجودہ  نظام کا  حصہ بننا چاھیے یا نہیں  بلکہ یہ  ایک روشن سچائی ہے کہ جس نظام کو طاغوتی اور فاسد کہا جارہا ہے  وہ تو  اپنی جگہ پر قائم ہے  اور پورے ملک کے باشندے چاھتے ہوئے یا نہ چاھتے ہوئے اس کے تحت اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ کوئی نظام مصطفی کی بات کر رہا ہے اور کوئی شریعت کا نظام لانا چاہتا ہے اور کوئی خلافت قائم کرنے پر تلا ہوا ہے۔ چنانچہ سوچنا یہ چاہیے کہ موجودہ صورتحال میں ہمارے لئے نجات کا راستہ کیا ہے؟1-آیا ہم شیعیانِ حیدر کرار  اس موجودہ  فاسد نظام کو  ہی مضبوط کریں؟ج - کوئی ہوشمند اور عاقل شیعہ ، ظلم وفساد کے نظام کی تقویت نہیں چاھتا۔ البتہ چند ایک نکات پر غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ خصوصا جس ملک میں شیعہ مسلمان (نظام امامت وولایت پر ایمان رکھنے والے) نسبتا اقلیت میں ہوں اور شیعہ مخالف مسلمان (جو نظام خلافت پر ایمان رکھتے ہوں) اور  انکی اکثریت ہو تو کیا عوام نظام خلافت چاہیں گے یا نظام امامت وولایت ؟نظام امامت و ولایت پر اعتقاد اور یقین رکھنا تو ضروریات دین میں سےہے لیکن عملی طور پر یہ نظام ولایت و امامت موجودہ  صورتحال میں کیسے نافذ ہو گا۔ ؟اس  نظام کے نفاذ کا کا روڈ میپ کیا ہو گا ؟ اقلیت کیسے اپنی مرضی کا نظام قائم کرے گی؟ یا پھر زبردستی اور طاقت کے ذریعے  یا کوئی اور معجزہ نما  راستہ  موجود ہے؟ہمیں یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ ہمارے مذہب میں اور ہمارے مراجع کرام کے نزدیک  اپنے عقیدے کا نظام قائم کرنے کے لئے طاقت کا استعمال جائز بھی ہے یا نہیں۔ ؟

یہ بھی قابلِ غور نکتہ ہے کہ اس ملک میں  لوگوں کو  نظام امامت کے لئے زبردستی  کرنے کے لئے اکسانا در اصل نظام خلافت کے حامیوں کو شہ دینے اور ابھارنے  کے مترادف تو نہیں!؟۔اسی طرح یہ   بھی شوچنا چاہیے کہ کیا اکثریت کو  اخلاقاً اور شرعاً یہ حق نہیں کہ وہ نظام خلافت قائم کرے۔؟پھر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا متروک شدہ  نظام خلافت سے بہتر نہیں کہ ایک جمھوری اسلامی نظام قائم کیا جائے۔ ؟مندرجہ بالا سوالوں اور اس ضمن میں ممکنہ طور پر پیدا ہونے والے دیگر سوالوں کے مدلل اور عام فہم جوابات تفصیل کے ساتھ بیان کرنے اور اصلح نظام کے لئے عوام کو آمادہ کرنے کی ضرورت ہے۔2-دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم شیعیان پاکستان اس نظام کا مکمل بائیکاٹ کریں ، سول نافرمانی کریں ، مثلا ٹیکس ادا نہ کریں،قوانین کو ماننے سے انکار کر دیں، نوکریوں کو چھوڑ دیں، عدالتی فیصلے قبول نہ کریں،  اس نظام کے تحت اسکولوں اور کالجوں یونیورسٹیوں میں اپنے بچے نہ بھیجیں،وغیرہ وغیرہاس میدان میں اترنے کے بھی دو طریقے ہو سکتے ہیںا- مسلح جدوجہد کریں۔ اور اس نظام کے سقوط  تک جہاد کریں۔ اور زمام اپنے ھاتھ میں لے لیں۔  2- پر امن عوامی جدوجہد کریں اور اس نظام کو کمزور کریں تاکہ ظلم وفساد سے نجات حاصل ہواور اکثریتی عوامی حمایت سے اس کومرحلہ وار بدلنے پر کام کریں اور نعم البدل لائیں۔یعنی عوامی انقلاب لا کر یکسر نظام بدل دیں۔3-اب پھر یہ سوال ابھرتا ہے کہ جب تک عوامی انقلاب لانے کا مرحلہ طے نہیں ہوتا تو کیا اس وقت تک معاشرے وعوام اور نظام سے کٹ جائیں ؟ ۔  یا اس سوسائٹی کے اندر رہتے ہوئے اپنے آپ کو اجتماعی ومعاشی وفرھنگی وسیاسی لحاظ سے طاقتور بنائیں۔ ؟

تحریر۔۔۔۔حجۃ الاسلام ڈاکٹر سید شفقت شیراز ی

وحدت نیوز(آرٹیکل)  شیعیت کی سیاسی اوراجتماعی تاریخ کی ابتداء پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد سے شروع ہوئی جو امیر المومنین علیہ السلام کی شہادت تک جاری رہی اور اس عرصے کی ابتدا میں ہی امامت وخلافت کا مسئلہ ایک اہم سیاسی اور دینی مسئلے کے طور پر جہان اسلام میں پیش ہوا اور اس سلسلے میں بہت سارے اختلافات رونما ہو ئے جن میں سے شیعہ امامت کے مسئلے میں نص اور نصب نبی کا عقیدہ رکھتاتھا۔ جبکہ دوسری طرف انصار ومہاجرین میں سے بعض افراد جانشین پیغمبراور امت اسلامی کے رہبر کےانتخاب کے لئے سقیفہ بن ساعدہ میں جمع ہوگئے تھے۔طویل گفت و شنید کے بعد ان کی اکثریت نے ابو بکر کے ہاتھوں  پربیعت کی اور یوں ابوبکر نے زمام امورسنبھال لیا اور تقریبا دو سال سات مہینے بر سر اقتدار رہے۔اس عرصے کی ابتدامیں حضرت علی علیہ السلام اور آپ کے پیروکاروں نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی اور مختلف اور مناسب مقامات پراپنے عقیدے کی وضاحت کی ۔

ابن قتیبہ کی روایت  کے مطابق جب ابوبکر کے حکم سےحضرت علی علیہ السلام کو لایا گیا اور انہیں بیعت کرنے کا حکم دیا گیا تو آپنے فرمایا :{ انا احق بھذا الامر منکم ، لا ابایعکم و انتم اولی بالبیعۃ لی } میں تم سےزیادہ خلافت و امامت کے لئے شایسۃ اور حقدار ہوں ،میں تمہاری بیعت نہیں کروں گا تم لوگ میری بیعت کرنےکے لئےزیادہ سزاوارہو ۔ عمر اور ابو عبیدۃ بن جراح نےحضرت علی علیہ السلام سے مخاطب ہو کر کچھ کہنے کے بعد اور آپ ؑکو ابو بکر کی بیعت کرنےکو کہا لیکن آپ ؑنے دوبارہ اسی بات کی تکرا رکی اور فرمایا :{فو الله یا معشر المہاجرین ، لنحن احق الناس بہ ، لانا اہل البیت و نحن احق بہذا الامر منکم ما کان فینا القاری لکتاب الله ،الفقیہ فی دین الله ، العالم بسنن رسول الله ،المضطلع بامر الرعیۃ، المدافع عنہم الامور السئیۃ، القاسم بینہم بالسویۃ ، والله انہ یفینا فلا تتبعوا الہوی فتضلوا من سبیل الله ، فتزدادوا من الحق بعدا}

اے مہاجرین خدا کی قسم ہم اہل بیت امت اسلامی کی رہبری اور خلافت کے لئے لوگوں میں اس وقت تک سب سے زیادہ حقدار اور سزاوار ہیں جب تک ہمارے درمیان قاری قرآن ،فقیہ ،سنت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگاہ ،لوگوں کی رہبری کےلئے قدرتمند ،برے کاموں سے دفاع کرنے والا اور بیت المال کو مساوات سے تقسیم کرنے والا موجود ہے اور خداکی قسم ایسا صرف خاندان رسالت میں موجود ہے ۔لہذا تم خواہشات نفسانی کی پیروی چھوڑ دو کیونکہ اس سے تم گمراہ اور حق سے دور ہوجاو گے۔

حضرت علی علیہ السلام کے پیروکاروں نےبھی ابوبکر کےسامنے صاف و شفاف الفاظ میں حضرت علی علیہ السلام کی امامت بلافصل پر اپنے عقائد بیان کئے تھے۔شیخ صدوق نے انصار و مہاجرین میں سے ان بارہ افراد  { مہاجرین سے خالد بن سعید بن عاص،مقداد بن اسود ،عمار بن یاسر ،ابوذر غفاری ،سلمان فارسی ،عبداللہ بن مسعود ،بریدہ اسلمی جبکہ  انصار سے خزیمۃ بن ثابت ،سہل بن حنیف ،ابو ایوب انصاری ، ابو الہیثم بن تیہان اور زید بن وہب  تھے }کا نام ذکر کیا ہے جنہوں نے دلائل و برہان کے ذریعے ابوبکر کے سامنے احتجاج کیا۔البتہ ان کی عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ احتجاج کرنےوالے افراد اس سے بھی زیادہ تھے چونکہ مذکورہ افراد کے ذکر کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں :{وغیرہم}اور آخر میں زید بن وہب کی تقریر کی طرف اشارہ کرتے ہیں{فقام جماعۃ بعدہ فتکلموا بنحوہا هذا} اس کے بعد ایک گروہ نے بھی انہیں مطالب کی طرح گفتگوکیا ۔ البتہ اس گروہ نے پہلے آپس میں مشورہ کیا اور ان میں سے بعض کا خیال تھا کہ ابوبکر کو منبر سے نیچےاتاراجائے لیکن بعض نےاس روش کوپسند نہیں کیا اور فیصلہ یہ ہوا کہ امیر المومنین علیہ السلام سے مشورہ کیاجائےچنانچہ آ پؑ نے لڑائی جھگڑے سے انہیں روکا اور فرمایا:اس کام میں مصلحت نہیں ہے اس بنا پر آپ ؑنے انہیں صبر وتحمل سے پیش آنے اور مسجد میں جا کر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث سنانےکاحکم دیا تا کہ لوگوں پر خداکی طرف سےحجت تمام ہو ۔یہ لوگ آپ ؑ کےحکم پرعمل کرتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے اور یکے بعد دیگرے کھڑے ہو کر ابوبکر کےسامنے احتجاج کرنا شروع کیا ۔چونکہ یہاں تفصیل سے ان دلائل کو بیان نہیں کر سکتے لہذا اختصار کے ساتھ کچھ نکات بیان کرتے ہیں:

1۔خالد بن سعید نے کہاپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :{ان علیا امیرکم من بعدی و خلیفتی فیکم ان اہل بیتی هہم الوارثون امری و القائلون{القائمون}بامر امتی} بے شک علی علیہ السلام میرےبعدتمہارے درمیان امیر اور خلیفہ ہے اور میرے اہل بیت میرے امور کے وارث اور میری امت کے امور کو بتانے والے ہیں۔

2۔ابوذر غفاری نے کہا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :{الامرلعلی بعدی ثم الحسن و الحسین ثم فی اہل البیتی من ولد الحسین } خلافت وامامت میرے بعد علی، انکے بعد حسن و حسین اور ان کےبعد حسین کی نسل سے میرے اہل بیت کا حق ہے ۔

3۔ سلمان فارسی نےکہا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:{ترکتم امر النبی {ص}و تناسیتم وصیتہ ، فعما قلیل یصفوا الیکم الامر حین تزورواالقبور...}تم لوگوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش پر عمل نہیں کیا اور ان کے فرامین کو فرموش کر دیا لیکن جلد ہی تمھارے کاموں کا حساب لیاجائےگا جب قبروں میں جاو ٴگے ۔

4۔مقداد بن اسود نے کہا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:{قد علمت ان هذا الامر لعلی علیہ السلام و هو صاحبہ بعد رسول اللهصلی الله علیہ وآلہ وسلم}{ اے ابوبکر} تم خود جانتے ہو کہ خلافت علی علیہ السلام کے لئے ہے اور وہی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد خلیفہ و امام ہیں ۔

5۔بریدۃ اسلمی نے کہا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :{ یا ابا بکر اما تذکر اذا امرنا رسول الله ص و سلمنا علی علی علیہ السلام بامرہ المومنین } اے ابو بکر کیا تمہیں یاد نہیں جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے علی علیہ السلام کو امیر المومنین کی حیثیت سےسلام کیا تھا ۔

6۔عبد اللہ  بن مسعود نے کہا پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :{علی ابن ابی طالب ع صاحب هذا الامر بعد نبیکم فاعطوہ ما جعلہ الله لہ و لا ترتدوا علی اعقابکم فتنقلبوا خاسرین}تمہارے نبی کےبعد علی ابن ابی طالب علیہ السلام خلافت کا حقدار ہے لہذا جس چیز کو خدا نےاس کے لئے قرار دیا ہے اسے اس کے سپردکردینااور اپنے سابقہ آئین کی طرف پلٹ نہ جانا  ٔ کہ بہت نقصان اٹھاوٴ گے ۔

7۔عمار بن یاسر نے کہاپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  فرمایا :{یا ابابکر لا تجعل لنفسک حقا ، جعل الله عزوجل لغیرک} اے ابو بکر جس
حق کو خداوندمتعال نے کسی دوسرے سےمخصوص کیا ہے اسے اپنےسےمخصوص نہ کرو۔

8۔خزیمہ بن ثابت نے کہاپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:{انی سمعت رسول الله یقول اہل بیتی یفرقون بین الحق و الباطل و ہم الائمۃ الذین یقتدی بہم}میرے اہل بیت حق و باطل کو جدا کرنے والے ہیں اور یہی پیشوا و رہبر ہیں جن کی اقتداء واجب ہے ۔

9۔ ابو الہیثم نے کہا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :{قال النبیﷺ اعلموا ان اہل البیت نجوم اہل الارض فقدموہم ولا تقدموہم}جان لو میرے اہل بیت  اہل زمین کے لئے روشن ستارے کے مانند ہیں ان کی اطاعت و پیروی کرنااور ان سے آگے نہ بڑھ جانا۔

10۔سہل بن حنیف نے کہا:{انی سمعت رسول الله قال : امامکم من بعدی علی ابن ابی طالب و هو انصح الناس لامتی}میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا میرے بعد علی ابن ابی طالب علیہ السلام تمہارا امام ہے  جو میری امت کے لئے سب سے زیادہ خیر خواہ ہے ۔

11۔ابو ایوب انصاری نے کہا :{قد سمعتکم کما سمعنا فی مقام بعد مقام من نبی اللهﷺ انہ علی اول بہ منکم}پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےکئی بار سن چکےہو جس طرح ہم نے سنا ہے کہ وہ {حضرت علی علیہ السلام} خلافت کے لئے تم سے زیادہ حقدارہے۔

12۔زید بن وہب کی گفتگو کے بعد ایک گروہ نےبھی اسی طرح کی گفتگو کی ۔
امیر المومنین علیہ السلام کے پیروکاروں نے جب دیکھا کہ خلافت و امامت کے راستے میں بہت بڑے بڑے انحرافات آ ر ہے ہیں جن کے آثار یکے بعد دیگرے معاشرے میں نمایاں ہو رہےتھے تو موقع سے فائدۃ اٹھاتے ہوئے حضرت علی علیہ السلام کی امامت و رہبری کی تبلیغ شروع کردی مثلا  ایک دن ابوذر مسجد میں  اہل بیت کے فضائل اس طرح سے بیان کررہے تھے:علی علیہ السلا م پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصی اور ان کے علم کے وارث ہیں ۔اے پیغمبر کی امت جو ان کے بعد حیران و سرگردان ہو چکی ہے اگر تم اس فرد کو مقدم کرتے جس کو خدا وند متعال نے مقدم کیا تھا  اور اہل بیت پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولایت و وراثت کا اقرار کرتےتو یقینا مادی اور معنوی حالات بہت بہتر ہوتے لیکن چونکہ تم لوگوں نےحکم خدا کے خلاف عمل کیا ہے اس لئے اپنے کئے کا مزہ چکھو۔   

امیر المومنین علیہ السلام کے پیروکاروں نے جب سے عثمان نے  خلافت سنبھالی اسی وقت سے انہیں انحرافات کا احساس ہونے لگا اسی لئے یعقوبی لکھتاہے :عثمان کی خلافت کے ابتدائی ایام میں ہی مقداد بن اسود کو مسجد میں دیکھا جو نہایت غم و اندوہ کی حالت میں کہہ رہے تھے: مجھے قریش پر بڑاتعجب ہوا جنہوں نے اہل بیت پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رہبری اورخلافت کو چھین لیا حالانکہ دین خدا سے سب سے زیادہ آگاہ ،سب سے پہلے ایمان لانےوالے یعنی پیغمبر اسلا م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ان کے درمیان تھےانہوں نے اس کام میں امت کی بھلائی اور بہتری کو نہیں دیکھا بلکہ دنیا کو اپنی آخرت پر مقدم کر دیا۔ عثمان کے بعد مسلمانوں نے امیر المومنین علی علیہ السلام کےہاتھوں پر امت اسلامی کےرہبر کی حیثیت سے بیعت کی اور حضرت علی علیہ السلا م کوجو خدا کی طرف سے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے ذریعے  مقام امامت وخلافت پر فائز ہوئے تھے پچیس سال کے بعد یہ منصب سپرد کیا گیا ۔بعض افراد کی بےتوجہی سے
اتنے عرصے تک مسلمانوں کی رہبری کو آپ ؑسے سلب کیا گیا اور آپ ؑنے بھی اسلام و مسلمین کے مصالح کی خاطر طاقت سے کام نہیں لیا لیکن افسوس اب بہت دیر ہو چکی تھی اور اتنے عرصے میں حکومت و خلافت بہت سارے انحرافات کا شکار ہو چکی تھی اور بہت سارے امکانات مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل چکے تھے اور یوں معاشرے کو قرآن و سنت کےمطابق ہماہنگ بنانا بہت مشکل کام ہو گیا تھا  لیکن حضرت علی علیہ السلام جو رضایت خدا اور اسلام و مسلمین کے مصالح کے بارے میں ہمیشہ فکر مند رہتے لوگوں کی بیعت قبول کرنے پر مجبور تھے ۔

جیسا کہ آپ  ؑنے فرمایا :{ لو لاحضور الحاضر و قیام الجۃ بوجود الناصر و ما اخذ الله علی العلماء الا یقاروا علی کظۃ ظالم و لا سغب مظلوم لالقیت حبلہا علی غارباا و اخرہا بکاس اولہا و لالفیتم دنیاکم ہذہ ازہد عندی من عفطۃ عنز} اگر بیعت کرنےوالوں کی موجودگی اورمدد کرنے والوں کے وجود سے مجھ پر حجت تمام نہ ہوگئی ہوتی اور وہ عہد نہ ہوتا جو اللہ نےعلماء سے لے رکھا ہے کہ وہ ظالم کی شکم پری اور مظلوم کی گرسنگی پر سکون و قرار سے نہ بیٹھیں تو میں خلافت کی باگ ڈور اسی کے کندھے پر ڈال دیتا اور اس کے آخر کو اسی پیالے سے سیراب کرتا جس پیالے سے اس کو اول نے سیراب کیا تھا اور تم اپنی دنیا کو میری نظروں میں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ ناقابل اعتنا پاتے ۔ لیکن کچھ جاہل ،نادان اور پست فطرت افرادنے کچھ چیزوں کےذریعے عصمت و طہارت کے اس پھلدارتناور درخت کو پھلنے ،پھولنے اور امت اسلامی کی رہبری کرنے نہیں دئیے  ۔

1۔ امت اسلامی پر مسلسل کئی جنگیں تحمیل کی گئیں ۔
2۔ حضرت علی علیہ السلام کو شہید کر کےجامعہ اسلامی کو ایک بے بدیل رہبر سےمحروم کر دیا گیا جیساکہ آپ ؑ اس سلسلے میں فرماتے ہیں :{فلما نہضت بالامر نکثت طائفہ و مرقت اخری و قسط آخرون}جب میں امر خلافت کو لے کر اٹھا  تو ایک گروہ نے بیعت تور ڈالی اور دوسرا دین سےنکل گیا اور تیسرے گروہ نے فسق اختیار کر لیا ۔یہاں ناکثین سے مراد اصحاب جمل اور مارقین سے مراد خوارج نہروان اور قاسطین سے مراد معاویہ اور اس کے پیروکار ہیں ۔حضرت علی  علیہ اسلام اس مطلب کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہ دنیا طلبی کےباعث اتنے فتنے برپا ہوئے فرماتے ہیں :گویا انہوں نے کلام خداکو نہیں سنا تھا جیساکہ ارشاد ہوتا ہے:{تلْکَ الدَّارُالاَخِرَۃُ نجَعَلُہَالِلَّذِينَ لَايُرِيدُونَ عُلُوًّافیِ الاَرْضِ وَلَافَسَادًاوَالْعَاقِبۃُ لِلْمُتَّقِين} آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لئے بنا دیتے ہیں جو زمین میں بلا دستی اور فساد پھیلانا نہیں چاہتے اور {نیک}انجام تو تقوی والوں کےلئے ہے۔ اس کے بعد آپ ؑفرماتے ہیں :خدا کی قسم ان لوگوں نےاس آیت کوسنا تھا اور یادکیاتھا لیکن ان کی نگاہوں میں دنیا کا جمال کھب گیا اور اس کی سج دہج نے انہیں لبھا  دیا ۔{ ولکنہم حلیت الدنیا فی اعینہم و راقہم زبرجہا } اس عرصےمیں اگرچہ شیعیان اپنے عقیدے کے اظہار میں آزاد تھے اور اس سلسلے میں حکومتی افراد اور دوسرےلوگوں سے تقیہ نہیں کرتے تھے۔لیکن مذکورہ حوادث و وقایع کی وجہ سے وہ اپنےعقائد کی نشرواشاعت اور اپنے افکار پر مکمل طور پر عمل نہ کرسکے لیکن حضرت علی علیہالسلام نے اس فرصت سے استفادہ کرتےہوئے اپنے معصومانہ رفتارو کردار کے ذریعے حقیقی اسلام کو لوگوں تک پہنچایا اور اس کےعلاوہ آپ ؑنے بہت سارے علوم اور معارف عالیہ بیان فرمائے جو آج بھی دین اسلام کےگرانقدر علمی و دینی سرمایہ اور میراث شمار ہوتےہیں  بلکہ بشریت و انسانیت کےلئے ایک فرہنگ و تمدن ہیں ۔


تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حوالہ جات:
1۔ الامامۃ و السیاسۃ ،ج1 ،ص 18۔
 2۔ایضا ۔
  3۔شیخ الصدوق ،الخصال ،باب12 ،حدیث 4۔
 4۔تاریخ یعقوبی ،ج 12،ص 67 – 68 ۔
5۔ تاریخ یعقوبی ،ج 12،ص 57۔
 6۔نہج البلاغۃخطبہ شقشقیہ ۔
 7۔ترجمہ نہج البلاغہ :علامہ مفتی جعفر حسین ۔
 8۔قصص،83۔
  9۔نہج البلاغہ ،خطبہ شقشقیہ،

وحدت نیوز (آرٹیکل)  آج وطن عزیز کو ہم سب کی ضرورت ہے، ملک کو درپیش بحرانوں کا سیدھا سادھا حل عوامی بیداری اور جمہور کے شعور میں پوشیدہ ہے۔ لوگ جتنے آگاہ اور بیدار ہونگے، ملک اتنا ہی محفوظ اور مضبوط ہوگا۔ نو مئی 2018ء کو کوئٹہ کے ایک اخبار میں ایک اشتہار چھپا تھا، اشتہار میں سات افراد کی گرفتاری کے لئے تعاون کی اپیل کی گئی تھی، ان سات افراد میں سلمان احمد بادینی عرف عابد بھی شامل تھا۔ جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی العالمی کا سربراہ ہے۔ اشتہار میں اس کے سر کی قیمت بیس لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔ اشتہار چھپنے کے چند دن بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز کو خفیہ ذرائع سے یہ اطلاع ملی کہ بلوچستان کے علاقے کلی الماس میں خودکش بمبار موجود ہیں، سکیورٹی فورسز نے علاقے کا آپریشن کیا تو  تو دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے تبادلے میں سلمان بادینی بھی ہلاک ہوا،  اور اس آپریشن کی کمان سنبھالنے والے کرنل سہیل عابد بھی مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے۔

کرنل سہیل عابد کے اہل خانہ سے ملاقات میں آرمی چیف نے اپنے جذبات کا اظہار یہ کہہ کر کیا کہ "جب بھی میرا کوئی سپاہی شہید ہوتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ جسم کا کوئی حصہ جدا ہوگیا ہے۔" اُن کا کہنا تھا کہ جوان کی شہادت کی خبر سُن کر رات گزارنا میرے لئے مشکل ہوتی ہے، پاک فوج کے تمام جوان وطن کے دفاع کے لئے کسی بھی قربانی کے لئے پرعزم ہیں۔ دوسری طرف سلمان احمد بادینی عرف عابد ایک سو سے زائد بے گناہ انسانوں کے قتل میں ملوث تھا اور بے گناہ انسانوں کا قاتل کسی ایک مذہب، مسلک یا ملک کا مجرم نہیں ہوتا بلکہ وہ بین الاقوامی طور پر ساری انسانیت کا مجرم ہوتا ہے۔ اس آپریشن میں ایک انسانیت کا ہیرو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا اور ایک انسانیت کا بدترین دشمن ہلاک ہوا۔ یہ دو کرداروں کی جنگ تھی، دو اصولوں کی لڑائی تھی اور حق و باطل کا معرکہ تھا۔ حق سر دے کر بھی سربلند رہا اور باطل ایک سو افراد کی جان لے کر بھی سرنگوں رہا۔

ہم یہاں پر اربابِ اقتدار و اختیار کو یہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ کوئٹہ کی طرح ڈیرہ اسماعیل خان بھی کرنل سہیل عابد جیسا عزم چاہتا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی انسانیت کے دشمن ہر روز بے گناہ انسانوں کا خون بہا رہے ہیں، ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی جگہ جگہ کالعدم تنظیموں کا راج ہے، ڈیرے میں بہتا ہوا بے گناہوں کا خون پاک فوج کی توجہ چاہتا ہے۔ کوئٹہ میں مادرِ ملت کے تحفظ کے لئے کرنل سہیل عابد کا بہنے والا خون پورے پاکستان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ پاک فوج ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم پاک فوج کے بلند عزم اور حوصلے کی قدردانی کریں اور پاک فوج کا شکریہ ادا کریں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاک فوج کوئٹہ کا امن بحال کرنے کے ساتھ ساتھ ڈیرہ اسماعیل خان کے حالات پر بھی اپنی توجہ مرکوز کرے گی۔ ڈیرہ کے حوالے سے ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح ڈیرہ میں بھی جہادی و سعودی و امریکی فنڈنگ کے باعث شدت پسندی کو نہ صرف فروغ ملا ہے بلکہ ڈیرہ اس شدت پسندی کا گڑھ بن گیا ہے۔

جہادی مفتیوں نے ایسا ماحول بنایا ہوا ہے کہ بظاہر لگتا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں صرف ایک فرقے کی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے، جبکہ درحقیقت ایک فرقے کی آڑ میں پاکستان کو بہترین دانش مندوں، پولیس افیسرز اور بہترین دماغوں سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اس شدت پسندی کے خاتمے کے لئے جہاں پاک فوج کی توجہ کی ضرورت ہے، وہیں عوامی شعور اور جمہور کے شعور کی سطح کو بھی بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈیرہ کے امن و مان کے حوالے سے میڈیا میں مسلسل بات چیت ہونی چاہیے، ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں اور بے گناہ لوگوں کو مارنے والوں کو بے نقاب کیا جانا چاہیے، نیز عوام کو بتایا جانا چاہیے کہ وہ ملکی سلامتی اور امن و امان کے حوالے سے سکیورٹی اداروں کے ساتھ کیسے تعاون کرسکتے ہیں اور اس حوالے سے مختلف اداروں اور تنظیموں کے تعاون سے ورکشاپس بھی منعقد کی جانی چاہیے۔ عوامی تعاون، جمہور کے شعور اور پاک فوج کی توجہ سے ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی جلد امن بحال ہوسکتا ہے اور دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ پاک فوج کے عزم و حوصلے، قربانیوں اور ہمارے ہاں جمہور کے شعوری سفر کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں پاکستانی آئین کی بالا دستی کا خواب ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ ان شاء اللہ

 

تحریر: نذر حافی
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز(گلگت)  گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن اراکین نے مجوزہ گلگت بلتستان آرڈر 2018ء پر وزیراعلٰی کی بریفنگ کا بائیکاٹ کر دیا، اسمبلی سیشن شروع ہونے کے آدھا گھنٹہ بعد سپیکر نے بتایا کہ کارروائی مختصر کر رہے ہیں، کیونکہ اسمبلی ہال میں مجوزہ آرڈر پر ان کیمرہ بریفنگ دی جانی ہے، جس کے بعد اراکین اسمبلی کو اسمبلی ہال لے جایا گیا۔ مجوزہ آرڈر پر بریفنگ سے قبل اپوزیشن اراکین نے استفسار کیا مجوزہ پیکج کا فائنل ڈرافٹ کوئی نیا ہے، کیونکہ حکومت کی جانب سے بتایا جا رہا ہے کہ اس وقت جو ڈرافٹ گردش کر رہا ہے، وہ فائنل نہیں ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ ڈرافٹ وہی ہے، اس پر مکمل بریفنگ دی جائے گی، جس پر اپوزیشن اراکین نے ان کیمرہ بریفنگ کا بائیکاٹ کر دیا اور باہر نکل آئے، تاہم اسلامی تحریک کے رکن اسمبلی کیپٹن(ر) سکندر علی بریفنگ میں موجود رہے۔ اپوزیشن اراکین نے موقف اختیار کیا کہ گلگت بلتستان کو آرڈر یا پیکیجوں کی بجائے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت مکمل آئینی صوبہ، آزاد کشمیر یا مقبوضہ کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جائے۔

قائد حزب اختلاف کیپٹن (ر) شفیع خان ایم ڈبلیوایم کے رکن اسمبلی ڈاکٹر حاجی رضوان علی و ممبران جاوید حسین، نواز خان ناجی اور راجہ جہانزیب نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے اسمبلی قراردادوں کے برعکس آرڈر لایا ہے۔ جس کا ہم حصہ نہیں بننا چاہتے ہیں۔ قائد حزب اختلاف محمد شفیع کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کو پیکچز یا آرڈرز کی بجائے مکمل آئینی سیٹ اپ دیا جائے، اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو کشمیر یا مقبوضہ کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کا اسلام آباد دھرنے کا فیصلہ حتمی ہے اور اگلے ایک دو روز میں تمام ممبران اسلام آباد روانہ ہوں گے اور گلگت بلتستان آرڈر 2018ء کے خلاف پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔ ادھر بی این ایف کے قائد و رکن اسمبلی نواز خان ناجی نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے حکومت کے ان کیمرہ سیشن کو مسترد کرتے ہوئے اجلاس سے بائیکاٹ کیا ہے، ہم نے وزیراعلٰی سے پوچھا کہ مجوزہ پیکج کوئی ایکٹ ہے؟ تو جواب ملا کہ ماضی کی طرح یہ پیکیج بھی آرڈننس کے طور پر نافذ العمل ہوگا، جس پر ہمارا جواب تھا کہ 70 سال بعد ایک بار پھر گلگت بلتستان کی قوم کسی پیکیج کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ خطے کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے، جس کے لئے ہم نے آزاد کشمیر طرز کے سیٹ اپ یا دفاع، کرنسی اور خارجی امور کے علاوہ تمام اختیارات اسمبلی کو تفویض کرنے کا مطالبہ کیا ہے، حکومت مزید ہمارے صبر کا امتحان نہ لے۔ ہمیں مختلف پیکجز سے سبق ملا ہے کہ اس طرح کے حربوں کا مقصد لوگوں کے حقوق غصب کرنے اور اختیارات چھیننے کے علاوہ کچھ۔ نہیں۔ ہم نے 2009ء کے نام نہاد پیکج کو بھی اسی وقت ہی مسترد کر دیا تھا، جب تمام لوگ اس پیکیج کے شان میں قصیدے پڑھتے تھے۔ ان لوگوں کو آج جاکر پتہ چلا کہ یہ پیکیج بھی ظالمانہ فیصلہ تھا، جس کی کوکھ سے ٹیکس اور کئی بیماریوں نے جنم لیا۔ آج ایک بار پھر پیکج کی بات ہو رہی ہے جو ماضی کے پیکجز سے برا ہوسکتا ہے تو اچھا کبھی نہیں ہوسکتا۔

ادھر پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی جاوید حسین نے اسلام ٹائمز کو بتایا کہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ کوئی اور ڈرافٹ ہے، بریفنگ میں جو کچھ دکھایا گیا، وہ تو پہلے ہی سب کے سامنے ہے، اس پر بریفنگ کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی، اس لئے ہم نے بائیکاٹ کیا۔ اب ہمارا مطالبہ ون پوائنٹ ایجنڈا ہوگا کہ کسی بھی سیٹ اپ کو ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے آئینی تحفظ دیا جائے، اگر یہ ممکن نہیں تو آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جائے۔

دوسری جانب ایم ڈبلیو ایم کے رکن اسمبلی حاجی رضوان نے اسلام ٹائمز کو بتایا کہ اصلاحات کے معاملے پر جذبات کی بجائے ہوش سے کام لینا ہوگا، حاجی رضوان کا کہنا تھا کہ ان کیمرہ بریفنگ میں اپوزیشن نے جذبات کا مظاہرہ کیا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کی بریفنگ کے بعد ہم ادھر ہی بیٹھ کر بحث کرتے اور ڈرافت میں موجود خامیوں اور خرابیوں کی نشاندہی کرتے، کیونکہ یہ مسئلہ روڈ پر نہیں ٹیبل پر ہی حل ہوگا، چونکہ اپوزیشن کا فیصلہ تھا، اس لئے ہم بھی باہر آگئے، وگرنہ ہم اس پر بحث کرتے اور کمزوریوں کو حکومت کے سامنے رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنی بریفنگ تو دیدی، اس کا جواب دینے کے بجائے واک آؤٹ کرنا دانشمندی نہیں تھی۔ یہ معاملہ جذبات سے حل نہیں ہوگا۔ اس پر مل بیٹھ کر غور کرنا ہوگا اور ساری خرابیوں کی نشاندہی کرکے حکومت کو پیش کیا جانا چاہیے تھا۔ کوئی بھی مسئلہ روڈ سے ہوتے ہوئے میز پر ہی پہنچ کر حل ہوتا ہے۔ اب پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے جا رہے ہیں تو اس سے پہلے ضروری تھا کہ اپوزیشن ہوش سے کام لیتے ہوئے مجوزہ پیکیج میں موجود خرابیوں کی نشاندہی کرکے اس کو ایک ڈرافت کی شکل دے دیتے اور اس ڈرافٹ کو حکومت کے سامنے رکھ کر بتا دیتے کہ ان خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے، پھر بھی حکومت ان خامیوں کو دور کرنے میں کوتاہی برتے اور انکار کرے تو اس صورت میں احتجاج کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں حاجی رضوان کا کہنا تھا کہ پھر بھی ہم اپوزیشن ممبران کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ احتجاج اور دھرنے سے پہلے ہم اس ڈرافٹ پر غور کریں اور خامیوں کو نکال کر اس کو ایک اور ڈرافٹ کی شکل دے کر حکومت کو پیش کیا جائے، اگر حکومت ان خامیوں کو دور نہیں کرتی تو پھر ہمیں احتجاج اور دھرنوں کا راستہ انتخاب کرنا چاہیے۔

وحدت نیوز(لاہور)  دنیا بھر کی طرح لاہور میں بھی یوم مردہ باد امریکہ منایا گیا جس میں امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان اور مجلس وحدت مسلمین کےمرکزی رہنماؤں اور کارکنوں نے بھرپورشرکت کی۔ ریلی کی قیادت ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنمااور ممتاز عالم دین علامہ امین شہیدی، ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے سیکرٹری سیاسیات اسد عباس نقوی، ایم ڈبلیوایم پنجاب کے سیکریٹری جنرل علامہ مبارک موسوی،ایم ڈبلیوایم لاہور کے سیکریٹری جنرل علامہ حسن ہمدانی  سینئر رہنما افسر رضا خان، سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ احتجاجی ریلی لاہور پریس کلب سے شروع ہوئی اور امریکی قونصلیٹ کے سامنے پہنچ کر جلسے کی شکل اختیار کر گئی جہاں مقررین نے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کے اپنا سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے اقدام کی پرزور مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی مسلمانوں کا لہو ضرور رنگ لائے گا اسرائیل بہت جلد نابود ہو جائے گا۔

وحدت نیوز (کراچی) امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب پر 16 مئی یوم مردہ باد امریکا کے موقع پر احتجاجی جلسے کا انعقاد کیا گیا، جس بڑی تعداد میں نوجوانوں، بزرگوں، خواتین نے شرکت کرکے امریکا و اسرائیل سے اظہار بیزاری کیا۔احتجاجی جلسے میں  مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم و مرکزی رکن نظارت آئی ایس او پاکستان علامہ احمد اقبال رضوی،ا یم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما وجنرل سیکریٹری ہیت آئمہ مساجد وعلماءامامیہ پاکستان  علامہ باقر زیدی، جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان، شیعہ علماء کونسل سندھ کے صدر علامہ ناظر عباس تقوی اور علامہ صادق رضا تقوی نے خطاب کیا، جبکہ اس موقع پرایم ڈبلیوایم کراچی ڈویژن کے رہنماعلامہ صادق جعفری، علامہ مبشرحسن، احسن عباس رضوی، میثم عابدی ، دیگر کارکنان وعہدیداران سمیت مختلف سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔ جلسے کے اختتام پر امریکا اور اسرائیل کے پرچم بھی نذر آتش کئے گئے۔ احتجا جی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا کہ 16 مئی وہ دن ہے کہ جب کرہ ارض پر انسانیت کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش کو پروان چڑھایا گیا اور استکباری طاقتوں نے اسرئیل کو وجود بخشتے ہوئے انبیاء کی سرزمین مقدس پر فلسطین میں بسنے والے مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں پر عرصئہ حیات تنگ کر دیا تھا، اور آج پھر اسی تاریخ کو ایک بار پھر دُہرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے اپنے سفارتخانے کی یروشلم (بیت المقدس) منتقلی قابل مذمت ہے۔

علامہ باقر عباس زیدی نے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اگر آج بھی اسرئیل کے خلاف متحد نہ ہوئے، تو انہیں مزید ظلم و بربریت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کو درپیش تمام مشکلات کا واحد حل اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر مسلمان متحد نہ ہوئے، تو اسرائیل اور استعماری طاقتیں دوسرے اسلامی ممالک کو بھی خانہ جنگی میں ملوث کر دیں گے۔ علامہ صادق رضا تقوی نے کہا کہ آئی ایس او نے دنیا کو غاصب صیہونیوں کا اصل چہرہ دیکھانے کیلئے ہر سطح پر احتجاج کیا، اس کا حکم ہمیں شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی نے دیا اور ان کے فرمان پر آئی ایس او نے لبیک کہا۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم الشان احتجاجی جلسے پر تمام شرکاء کو مبارک باد اور سلام پیش کرتا ہوں کہ اس شدید گرمی کے عالم میں انہوں نے احتجاجی جلسے میں شرکت کرکے امریکا اور اسرائیل سے اظہار بیزاری کیا۔

وحدت نیوز (ملتان) مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ملتان پریس کلب کے سامنے شمعیں روشن کی گئیں، اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی، ایم ڈبلیو ایم ملتان کے سیکرٹری جنرل مرزا وجاہت علی، عزاداری کونسل پاکستان کے رہنما سید مجاہد عباس گردیزی ،آئی ایس او ملتان کے ڈویژنل صدر ڈاکٹر موسیٰ کاظم اور دیگر موجود تھے۔ اس موقع پر شرکاء نے اسرائیلی مظالم سے زخمی اور شہید ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کے طور پر شمعیں روشن کیں اور امریکی و اسرائیلی جارحیت کے خلاف شدید نعرے بازی، شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی نے کہا کہ فلسطین میں جاری تشدد اور قتل عام جس میں اب تک ساٹھ سے زائد فلسطینی شہید اور سینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔

 اُنہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے سفارتخانہ منتقلی پر اُمت مسلمہ کی خاموشی قابل مذمت ہے، فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم انسانیت سوز ہیں، انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے، آئی ایس او کے ڈویژنل ڈاکٹر موسیٰ کاظم نے کہا کہ امریکہ اس وقت عالم اسلام کی تمام مشکلات کا موجب ہے، امریکہ اسرائیل کے ذریعے پورے خطے میں صیہونیت کا فروغ چاہتا ہے، بدقسمتی سے بعض اسلامی ممالک بھی امریکی ایماء اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد کو ویٹو کرنا عالمی انسانی حقوق کی دھجیاں اُڑانے کے مترادف ہے،علامہ مجاہد عباس گردیزی نے کہا کہ اقوام متحدہ اس وقت امریکی خوشامد اور غلام کا کردار ادا کررہا ہے۔

 اُنہوں نے کہا کہ فلسطین میں جاری مظالم پر او آئی سی اور عرب لیگ کی مجرمانہ خاموشی عالم اسلام کے لیے تشویشناک ہے، اُنہوں نے کہا کہ اسلامک ملٹری الائنس اس وقت مسلمانوں کے بہتے ہوئے خون کا تماشائی کے طور پر دیکھ رہا ہے،مرزا وجاہت علی نے کہا کہ اسرائیل ایک ناسور کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ ہر روز قابض اسرائیلی فوجی مظلوم فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتے نظر آتے ہیں۔ خواتین کی بے حرمتی، نوجوانوں کا قتلِ عام ، گرفتاریاں اور ان کے گھروں کی مسماری روز کا معمول بن چکا ہے، اس تمام تر صورتحال کا ذمہ دار امریکہ ہے، کیونکہ اسرائیل یہ سب کچھ اس کے ایما پر کر رہا ہے۔ جبکہ اقوامِ عالم اور بالخصوص مسلم امہ اور عرب ممالک کا کردار بھی افسوس ناک ہے۔ مقررین کا یہ بھی کہنا تھا کہ امتِ مسلمہ جب تک یکجا نہیں ہوگی، اس وقت تک مسلمانوں کی حالتِ بد سے بدتر ہی رہے گی۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ امتِ مسلمہ یک جاں ہوکر اپنے حقوق کی جنگ لڑے۔ مقررین نے مزید کہا کہ گریٹر اسرائیل کا امریکی خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا اور نہ ہی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کیا جائے گا۔ اس موقع پر حسنین کربلائی ، ڈاکٹر عاصم ، آصف حسین اور دیگر نے خطاب کیا ۔8

وحدت نیوز(سکردو) بلتستان انتظامیہ کی جانب سے ایک بار پھر عوامی اراضی پر زبردستی قبضہ جمانے کی کوشش آج ائیر پورٹ روڈ گمبہ اسکردو میں کی گئی۔ گمبہ اسکردو کے عوام عوامی حقوق کے پاسبان، جرائت و استقامت کا استعارہ آغا علی رضوی کی قیادت میں ڈٹ گئے۔ تفصیلات کے مطابق گمبہ تھانے کے ملحقہ عوامی زیرکاشت زمین پر ائیر سکیورٹی فورس نے اسکردو انتظامیہ کے اشارے پر قبضے کی کوشش کی۔ مقامی لوگوں کی مزاحمت پر ائیر سکیورٹی فورس کے جوان واپس چلے گئے، تاہم آغا علی رضوی اور گمبہ اسکردو کے جوانوں کا دھرنا اور عوامی اراضی کی پہرہ داری رات کے آخری پہر بھی جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق اسکردو انتظامی سربراہ ڈپٹی کمشنر اسکردو نے کل صبح دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کا عندیہ دیا ہے۔ کل صبح مذاکرات کامیاب نہ ہونے کی صورت میں ائیر پورٹ روڈ کی بندش سمیت بلتستان بھر میں احتجاج کی کال بھی دی جاسکتی ہے۔ اسلام ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین جی بی کے سربراہ آغا علی رضوی کا کہنا تھا ہے کہ لوکل انتظامیہ نے چھومک میدان کے تنازعے کے بعد معاہدے معاہدہ طے پانے کے باوجود دوبارہ خالصہ سرکار کے نام پر عوامی اراضی کو ہتھیانے کی کوشش لمحہ فکریہ ہے۔گلگت بلتستان میں ایک انچ زمین پر بھی کسی کو بغیر معاوضہ کے قبضے کرنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بار بار ریاستی اداروں کی جانب سے خطے میں بے چینی پھیلانے کی کوشش سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی اراضی کو ہتھیانے کی کوشش آئینی اصلاحات کے نام پر عوام کیساتھ ہونے والے مذاق سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں ظلم ہو عوام کے ساتھ میدان میں حاضر رہیں گے۔

وحدت نیوز(بہاولپور)  مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام تنظیم فدائیان علی اکبر، عزادار کونسل اور انجمن غلامان عباس کے تعاون سے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر ملک کے دیگر شہروں کی طرح بہاولپور میں بھی ''یوم مردہ باد امریکہ، اسرائیل اور ہندوستان ''منایا گیا، اس موقع پر یونیورسٹی چوک سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، ریلی کی قیادت مجلس وحدت مسلمین ضلع بہاولپور کے سیکرٹری سید اظہر عباس نقوی ایڈووکیٹ نے کی، اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اظہر عباس نقوی کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے شام میں ثانی زہرا سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے روضے پر حملے، یمن، شام اور بحرین میں شیعہ قتل عام، فلسطین ،کشمیر میں جاری مظالم کی پشت پناہی شیطان بزرگ امریکہ کر رہا ہے، امریکہ اب پاکستان کو بھی سیاسی، معاشی اور ثقافتی طور پر کمزور کرنے کی سازشیں کر رہا ہے، پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوششیں اب واضح ہوچکی ہیں، امریکہ کی جانب سے بار بار دھمکیاں ہمارے حکمران کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم امریکہ کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے مذموم مقاصد سے باز آجائے اور پاکستان میں فرقہ واریت، دہشتگردی کی آگ نہ لگائے ورنہ وہ اسی میں جل کر راکھ ہوجائے گا، اظہر عباس نقوی کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان امریکی دھمکیوں کا منہ توڑ جواب دے۔

Page 8 of 859

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree