The Latest

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مطالبے پر ملی یکجہتی کونسل کا ہنگامی اجلاس کل شام منصورہ لاہور میں طلب کرلیا، واضح رہے کہ حالیہ سانحہ پاراچنار،کوئٹہ، کراچی ٹارگٹ کلنگ واقعات کے تناظر میں ایم ڈبلیوایم کے مرکزی سیکریٹری امور سیاسیات سید اسد عباس نقوی نے ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ اور ثاقب اکبر سے ٹیلفونک رابطہ کرکرے ملی یکجہتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد لیاقت بلوچ کی جانب سے میڈیا کو جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاراچنار، کراچی اور کوئٹہ میں دہشتگردی کے المناک واقعات کے خلاف اور احمد پور شرقیہ کے غم ناک حادثے کے حوالے سے ملی یکجہتی کونسل کاہنگامی اجلاس کل بروز منگل 27 جون، ساڑھے چار بجے سہ پہر منصورہ ملتان روڈ لاہور میں منعقد ہو گا۔اجلاس کے بعد 6 بجے پریس بریفنگ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ آپ سے بروقت شرکت کی درخواست ہے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے وارثان شہدائے پاراچنار کے تین روز سے جاری احتجاجی دھرنے اور ان کے مطالبات کی حمایت میں اسلام آباد پریس کلب کے باہر قائم دھرنا کیمپ میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ پاراچنارپر ریاستی اداروں کی مجرمانہ خاموشی نے آج ہمیں ایک مرتبہ پھر اس مقام پر دھرنا دینے پر مجبورکیا ہے، افسوس کا مقام ہے کہ سانحہ پاراچنار کو تین روز گزرگئے لیکن کسی حکومتی یا عسکری شخصیت کو متاثری کی داد رسی کی توفیق حاصل نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ احتجاجی دھرناعلامتی نہیں بلکہ  پاراچنار میں گذشتہ تین روز سے جاری دھرنے اور وہاں کے عوام کے مطالبات کی منظوری سے مشروط ہے، جب تک پاراچنار کے غیور عوام دھرنے سے نہیں اٹھیں گے ہم بھی نہیں اٹھیں گے ، پوری قوم گھروں سے نکلنے کیلئے تیار رہے،  اور حکمرانوں اور ریاستی اداروں کی جانب سے  مطالبات کی منظوری میں تاخیر کے نتیجے میں دھرنا کا یہ سلسلہ پورے ملک کے طول عرض میں پھیل جائے گا۔انہوں نے اپنے خطاب میں شرکاءکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا پاکستان کے تمام شیعہ صرف دو گھنٹے کیلئے پورے پاکستان میں اپنے گھروں سے نکلنے کیلئے تیار ہیں ؟؟؟؟ جس پر تمام شرکاء نے لبیک یاحسین ؑ کے فلک شگاف نعروں سے تائید کا اعلان کیا۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) سانحہ پاراچنار میں سو سے زائد بے گناہ شیعہ پاکستانیوں کے قتل عام کے خلاف آج نماز عید الفطر کے بعد مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاجی ریلی نکالی گئی جو کہ بعد میں دھرنے میں تبدیل ہوگئی، مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کی زیر قیادت پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنا کیمپ قائم کردیا گیا ہے جہاں جڑواں شہروں سے شہریوں کی بڑی تعداد کی آمد ورفت کا سلسلہ جاری جو کہ عید کی مصروفیات کے باجود دھرنا کیمپ  میں شریک ہوکر شہدائے پاراچنار سے اظہار یکجہتی کررہے ہیں  اس کے ساتھ ہی  سیاسی ومذہبی شخصیات ، ماتمی انجمنوں ، علمائے کرام سمیت سول سوسائٹی کے نمائندوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے،سابق وزیر داخلہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رحمٰن ملک ، ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی رہنما ثاقب اکبر نقوی نے بھی دھرنا کیمپ میں آکر شہدائے پاراچنار سے اظہار یکجہتی کیا ، تھوڑی دیر قبل نماز ظہرین باجماعت دھرنا کیمپ میں علامہ علی اکبر کاظمی کی زیر اقتداءادا کی گئی جس کے بعد ایس ایس پی اسلام آباد کیا نی نے علامہ راجہ ناصرعباس جعفری سے دھرناکیمپ میں ملاقات کی ان سے دھرنے کی وجوہات معلوم کیں اور گذارش کی عید الفطر میں پولیس نفری کی کمی کے باعث دھرنا دو روز موخر کردیں جسے علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے مسترد کردیا۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) سانحہ پاراچنار میں سو سے زائد قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور حکمرانوں  اور میڈیا کی  مجرمانہ غفلت اور خاموشی کے خلاف علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کی زیر قیادت مجلس وحدت مسلمین ، آئی ایس او اور یوتھ آف پاراچنارکے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی ، جس میں علمائے کرام ، جوانوں اور بزرگوں سمیت شہریوں کی بڑی تعداد شریک تھی، جنہوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن دہشت گردوں اور نااہل حکمرانوں کے خلاف اور انصاف کے حصول کیلئے نعرے درج تھے ، علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے شرکاءریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ داعش کی پاکستان میں موجودگی اور پاراچنار کو لاحق داعش کے خطرے سے بار بار آگاہ کرنے کے باوجود ریاستی اداروں کی جانب سے کوئی ٹھوس اقدام نا اٹھایا جانا قابل تشویش ہے ، پاراچنار مسلسل داعش کے حملوں کی زد پر ہےاور ہمارے ناعاقبت اندیش حکمران مسلسل داعش کی پاکستان غیر موجودگی کا راگ الاپ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ سانحہ پاراچنار کے متاثرین نے اپنے جائز مطالبات کی منظور ی کیلئے تین روز سے دھرنا دیا ہوا ہے جس کی ہم مکمل حمایت کرتے ہیں اور حکوت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر پاراچنارکے قبائل کی جانب سے جاری احتجاجی دھرنے میں شریک ہوکر ان کے مطالبات کی منظوری کا اعلان کریں ۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کےمرکزی سیکریٹری امور سیاسیات سید اسد عباس نقوی نے ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ اور ثاقب اکبر نقوی سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے سانحہ پاراچنار کے تناظر میں ملی یکجہتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا تجویز پیش ک ہے، اسد نقوی نے دونوں رہنما وں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ پاراچنار میں درجنوں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام پر حکومتی و عسکری اداروں سمیت دینی وسیاسی جماعتوں کی جانب سے مسلسل خاموشی ملت جعفریہ کے جذبات کو مجروح کررہی ہے ، ایک جانب تکفیری دہشت گردوں کے بم دھماکے میں درجنوں شہری لقمہ اجل بنے اور بعد ازاں ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر ایف سی میں موجود متعصب افسران کی ایماءپردرندہ صفت اہلکاروں نے پر امن نہتے مظاہرین پر گولیاں برسا کرمتعدد شیعہ پاکستانیوں کو شہید کردیا ، جس کے بعد گذشتہ تین روز  سے پاراچنار کے قبائلی عوام نےاپنے جائز مطالبات کے حق میں دھرنا دے رکھا ہے اور ایسی صورت حال میں پورے ملک میں ایک غیر یقینی سی کیفیت کا سامنا ہے، انہوں نے ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی رہنماوں سے کہا کہ سانحہ پاراچنار اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات  کے باعث ملی یکجہتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جا نا ضروری ہے  تاکہ دینی جماعتوں کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے اور کونسل میں شامل جماعتوں کو پاراچنار کے مظلوم عوام کے ہم آواز کیا جائے۔

دوسری جانب ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ اور ثاقب اکبر نقوی نے سانحہ پاراچنار اور پیدا ہونے والی صورت حال پر شدید افسوس اور تشویش کا اظہارکیا انہوں نے اسد عباس نقوی کی تجویز کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کروائی کے سانحہ پاراچنار کے پیش نظر ملی یکجہتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جلد طلب کیا جائے گا جس میں رکن جماعتوں کے قائدین سمیت اراکین کو مدعو کیا جائے گا تاکہ دینی جماعتوں کو سانحہ پاراچنار کے حوالے سے مکمل آگاہی فراہم کی جاسکے اور متاثرین کی داد رسی کیلئے اپنا کردار ادا کرسکیں ۔

وحدت نیوز(سکردو)  مجلس وحدت مسلمین ضلع سکردو کے زیر اہتمام یاد گار شہداء پر پاراچنار میں گزشتہ دن ہونیوالی سفاکانہ دہشت گردی کے واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اسطرح کی سفاکانہ کاروائیاں حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے۔ موجودہ حکومت مظلوم اقوام پر مظالم کے پہاڑ ڈھائے جانیوالے سعودی بادشاہت کی تو اتحادی بنتے ہوئے فخر کررہی ہے لیکن اپنے ملک کے اندر شر انگیزی کرنیوالے درندوں کے سامنے لاچار بت کی طرح صرف زبانی جمع خرچ کرنے پر اکتفا کررہی ہوتی ہے۔ ملزموں کی سربراہ حکومت کو اپنا کرپشن چھپانے سے فرصت نہیں ، اور ملک کے طول و عرض میں بیرونی فنڈز کے پالتو درندے عوام کا جینا دوبھر کررہے ہیں۔ تقریب سے شیخ ذوالفقار عزیزی ڈپٹی سکریٹری جنرل ضلع سکردو و دیگر علمائے کرام نے خطاب کیا۔ اسی احتجاجی جلسے میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی غفلت اور فائرینگ کے نتیجے میں کئی شہریوں کی شہادت کی بھی بھر پور مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ قانون کے رکھوالے ایک طرف اپنی روزی روٹی حرام کرنے میں لگے ہوئے تھے، اب باقاعدہ ایک قوم کی نسل کشی میں دہشت گردی کا مرتکب ہورہے ہیں۔ ان کے سربراہوں کو چاہئے کہ فی الفور تحقیقات کرکے سٹریٹ فائر کے احکامات دینے والے نا اہل افسران کو کڑی سے کڑی سزا دے اور دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات چلا کر انکو پھانسی پر لٹکایا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ محب وطن عوام مجبورا قانون کو اپنے ہاتھوںمیں لیں اور کرپشن زدہ حکمرانوں کو انکے ایوانوں سے گھسیٹ کر نکال باہر کردیں۔ احتجاجی جلسے میں ملک بھر میں ہونیوالے دیگر دہشت گردی کے واقعات خصوصا کراچی میں فائرینگ اور کوئٹہ میں آئی جی پی دفتر کے باہر ہونیوالے دھماکوں کی بھی بھرپور مذمت کی گئی۔

وحدت نیوز(مظفرآباد) مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر،امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن،امامیہ آرگنائزیشن و دیگر تنظیمات کے زیر اہتمام عظیم الشان القدس ریلی مرکزی امام بارگاہ مظفرآباد سے عزیز چوک تک نکالی گئی۔عزیز چوک میں احتجاجی ریلی سے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم آزاد کشمیر سید طالب حسین ہمدانی نے کہا کہ عرب حکمرانوں کی حیانتوں نے امت مسلمہ کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ عرب حکمران اپنی حکومتوں کے دوام کے لیے امریکہ و اسرائیل کے مریدین بن چکے ہیں۔ قبلہ اول کی آزادی کے لیے ان کے منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکلنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہ صرف عیاشی کے لیے حکمران بنے ہوئے ہیں۔ سرزمین مقدس فلسطین اور بالخصوص بیت المقدس قبلہ اول پر اسرائیل کا قبضہ بھی انہی خائن نام نہاد مسلم حکمرانوں کی وجہ سے ہوا۔آج یہ خائن حکمران دوبارہ امت مسلمہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنیکے درپے ہیں۔ 39ممالک کا نام نہاد اسلامی اتحاد بنا کر پھر سے مسلمان ممالک پر چڑہائی اورامریکہ کو اس اتحاد کا سربراہ مقرر کرکے مسلم امہ کے قلب میں خنجر گھوپنے کے مترادف ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ اگر یہ اتحاد مسلم امہ کی بہتری کے لیے ہے تو سارے اسلامی ممالک مل کر سرزمین مقدس فلسطین کو پنجہ یہود و ہنود سے آزاد کروائیں۔ کیا یہ اسلامی اتحاد بیت المقدس کو آزاد کروائے گا؟کیا یہ اسلامی اتحاد کشمیر کو بھارت سے آزاد کروائے گا؟ کیا یہ اسلامی اتحاد  افغانستان،عراق اور شام  کے بحران کو حل کریگا؟ ہر گز نہیں۔امریکہ و اسرائیل کبھی بھی ان مسائل کو حل نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے مذید کہا کہ ہم حکومت پاکستان اور آرمی چیف سے یہ پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سابق ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کو وطن واپس بلائیں اور ان کو مظلوم مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے سے روکا جائے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت عروج پر ہے اور آئے دن جس طرح کی مصیبتیں مظلوم کشمیری عوام پر ڈھائی جا رہی ہیں شاید ہی ان کی مثال تاریخ میں کہیں ملتی ہو۔ ہمارے حکمرانوں کو صرف پانامہ لیکس نظر آرہی ہے اور میڈیا بھی اسی طرف لگا ہوا ہے۔مظلوم کشمیری عوام کے لیے صرف یوم دعا کافی نہیں بلکہ اس مسئلہ کی کوئی بہتر دوا بھی کرنا ہو گی۔ آزاد حکومت کی نا اہلی کی کوئی اور مثال کیا ہو سکتی ہے کہ پانچ ماہ گزرنے کے باوجود علامہ تصورجوادی اور ان کی اہلیہ پر قاتلانہ حملہ کرنیوالے گرفتار نہیں ہو سکے۔انہوں نے مذید کہا کی حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ساتھ جتنا تعاون کر سکتے تھے کیا لیکن سوائے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ عید کے بعد دوبارہ سڑکوں پر نکلیں گے اور عین ممکن ہے کہ آزاد حکومت کے ساتھ رائیسانی کی حکومت والا کوئی معاملہ ہو جائے۔

وحدت نیوز(کراچی) سانحہ پاراچنار و کوئٹہ اور کراچی میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کے اعلان پر ملک گیر احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور علامتی دھرنے دیئے گئے، گذشتہ جمعہ کو ہونے والے پارا چنار و کوئٹہ دھماکوں میں اب تک 64سے زیادہ پاکستانی شہید اور150سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں، ایم ڈبلیو ایم کراچی کے تحت امام بارگاہ شاہ خراسان تا نمائش چورنگی نکالی گئی احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مرزا یوسف حسین، علامہ علی انور، علامہ اظہر نقوی و دیگر علماءکرام ا و رہنماو ں نے کہا کہ حکومت دہشتگردی روکنے میں ناکام ہو چکی ہے،آئے روز ہونے والے دھماکے آپریشن ردالفساد اور نیشنل ایکشن پلان پر سوالیہ نشان ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ پارا چنار مسلسل دہشتگردوں کے نشانے پر ہے، پارا چنارمیں سیکورٹی کے نام پر ایف سی کی چیک پوسٹیں صر ف عام عوام کو تنگ کرنے کیلئے ہیں، مگر دہشتگر د باآسانی درجنوں چیک پوسٹو ں کو کراس کر کے آتے ہیں اور بے گناہ معصوم عوام کو نشانہ بنارہے ہیں۔ علماءکرام نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت اور ریاستی ادارے دہشتگردوں کیخلاف عملی کارروائی کو یقینی بنائے اور ان درندہ صفت ملک دشمنوں کو نشان عبرت بنایا جائے،پاراچنار کی تحفظ کیلئے مقامی رضا کار فورس کو بحال کیا جائے، بصورت دیگر ہم اس دہشتگرادانہ کاروائیوں میں حکومت کو ملوث تصور کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کو بہتریں علاج معالجے کی سہولت فراہمی کو یقینی بنایا جائے، شہید ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے فی کس شہید 50لاکھ روپے دئے جائیں۔ احتجاجی مظاہرے میں خواتین او ر بچوں نے بھی کثیر تعدا د میں شرکت کی مظاہریں نے پلے کارڈ اتھا رکھے تھے جن پر دہشت گردی مردہ بار اور دھماکوں کی مذمت میں نعرے درج تھے۔

وحدت نیوز(لاہور) سانحہ پاراچنار اور کوئٹہ کیخلاف مجلس وحدت مسلمین کے ملک گیر مظاہرے اورعلامتی دھرنے،چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے اہم شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے،مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی جانب سے پورے ملک میں تین دن یوم سوگ کا بھی اعلان کیا گیاہے،لاہور پریس کلب کے سامنے ایم ڈبلیوایم لاہور کے رہنما علامہ حسن ہمدانی کی قیادت میں علامتی دھرنا دیا گیا جو کہ رات گئے تک جاری رہا،مظاہر ین کیلئے پریس کلب لاہور پر ہی افطاری اور نماز مغربین کا اہتمام کیا گیا تھا،علامتی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے علامہ حسن ہمدانی نے کہا کہ پا کستان میں اگر کسی چیز کی کوئی قیمت نہیں تو وہ ملت جعفریہ کے محب وطن شہداء کے خون ہیں،ہماری نسل کشی ہو رہی ہے ریاستی ادارے اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے،پاراچنار کے مظلومین گذشتہ روز سے جنازوں کے ہمراہ سڑکوں بیٹھے ہیں ،لیکن ان کا کوئی پوچھنے والا نہیں،سکیورٹی فورسز اور پولیٹیکل ایجنٹ ہر دھماکے کے بعد دہشتگردوں کی ٹارگٹ سے بچے لوگوں کو فائرنگ کا نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں،پارچنار کے ہر سانحے میں نہتے عوام پر پہلے دہشتگرد حملہ آور ہوتا ہے بعد میں سکیورٹی فورسسز اور پولیٹیکل ایجنٹ عوام کو سیدھی گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں،ہم حیران ہیں کہ مملکت خداداد پاکستان میں بانیان پاکستان کے اولادوں کو کس جرم کی سزا دی جارہی ہے،ہمیں ہر تہوار پر لاشوں کا تحفہ دینے کا ہمارے محافظوں نے روایت اپنا لی ہے،علامہ حسن ہمدانی نے کہا کہ کرم ایجنسی میں مقامی رضا کار فورس کو ہٹانے کا مقصد ہی یہی تھا کہ یہاں دہشتگردوں کو مسلط کیا جائے،اور یہ کام بخوبی سرانجام دینے حکمران اور سکیورٹی ادارے کامیاب ہو چکے ہیں۔

علامتی دھرنے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بیرسٹر عامر حسن نے بھی خطاب کیا انہوں نے کہا ہم دکھ کی اس گھڑی مین ملت جعفریہ کیساتھ ہیں،پاکستان میں دہشتگردی کی بیج بونے والا ن لیگ کے روحانی باپ جنرل ضیا ء الحق تھا،پاکستان میں بے گناہوں کے قتل عام کا ذمہ دار موجودہ حکومت ہے وزیراعظم کو فوری مستعفی ہو جانا چاہیئے،مظاہرین سے شیعہ فیڈریشن پاکستان کے رہنما سید نوبہار شاہ نے بھی خطاب کیا انہوں نے کہا ہم علامہ راجہ ناسر عباس جعفری کے اعلان احتجاج پر لبیک کہتے ہین اور انشااللہ نماز عید کے اجتماعات میں پورے ملک میں اس ظلم و بربریت کیخلاف مظاہر ہوگا،علامتی دھرنے سے رائے ناصر علی،نجم الحسن سید حسین زیدی،رانا ماجد علی سیمت دیگر رہنماوں نے بھی خطاب کیا ۔

احساس کو زندہ رکھئے!

وحدت نیوز(آرٹیکل) ماہ مبارک رمضان تھا، تہران پارلیمنٹ اور مرقد امام خمینی(رہ) پر دہشتگردانہ حملوں میں  ۱۲ روزہ دار شہید اور بیالیس  زخمی ہوگئے،  جمعۃ الوداع تھا، یعنی ماہ مبارک کا عظیم القدر اور آخری جمعہ ، اس روز  کوئٹہ کے آئی جی آفس کے سامنے شہدا چوک پر بارودی مواد سے بھری گاڑی میں زور دار دھماکے سے 6پولیس اہلکاروں سمیت 12افراد شہید 21افراد زخمی ہوگئے۔ ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ اسی مقدس دن  پارا چنار میں یکے بعد دیگرے 2 بم دھماکوں میں 45 افراد شہید اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ  کراچی میں  نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے 4 پولیس اہلکاروں کو شہید کر دیا۔

ابھی دن کے زخم ہرے ہی تھے کہ رات کو  3دہشت گرد گروپوں  نے مسجد الحرام پر حملہ کیا،2گروپوں کا تعلق مکہ جبکہ  ایک گروپ کا تعلق جدہ سے تھا۔ اگر چہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم اس حملے پر بھی   ہر باشعور اورباضمیر انسان کا دل اداس ہے۔

بدقسمتی سے عالم اسلام کی عدم توجہی اور غفلت کے باعث ،مسلمانوں میں  اب ایک ایسی دہشت گرد نسل تیار ہوچکی ہے،  کہ جس کے نزدیک ماہِ مبارک رمضان،  مسلمان کے خون کی حرمت، سرزمین  حرم کا تقدس ، ان سب چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

یہ نسل آسمان سے نہیں اتری، یہیں مسلمانوں کے  ہی بعض دینی مدارس میں  تیار کی گئی ہے۔ اس کی وارداتوں  خصوصا عورتوں، بچوں، عبادت گاہوں، سکولوں  اور بازاروں میں نہتے لوگوں پر حملوں سے ہی پتہ چلتا ہے کہ اسے مکمل اسرائیلی اور صہیونی خطوط پر پروان چڑھایا گیاہے۔

پشاور پبلک سکول کا سانحہ اس پر دلیل ہے کہ ان کے   انسانی احساسات و جذبات  کو کچل دیا گیا ہے، ان کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کو مار دیا گیا ہے، ان کے دماغوں میں صرف دو ہی  باتیں بٹھا دی گئی ہیں،  دنیا میں اپنی حکومت قائم کرو یا پھر آخرت میں حوروں سے ملو۔

جب انہیں پاکستان کے بعض دینی مدارس میں خلافت کا سبق پڑھایا جارہاتھا اور افغانستان کے تخت کے خواب دکھائے جا رہے تھے، تب تو خلیجی ممالک  اور پاکستان کو ہوش نہیں آیا ،  البتہ یہ یقینی بات ہے کہ امریکہ یہ سب کچھ سوچ کر افغانستان میں آیا تھا۔ امریکہ نے  افغانستان میں ان  گوریلوں سے بھرپورفائدہ اٹھا یا اور پھر  اس کے بعد ان سے  منہ پھیر لیا۔

اب مسئلہ صرف اکیلے امریکہ کا نہیں تھا ، امریکہ کے وعدے میں تو خلیجی ریاستیں  بھی پھنسی ہوئی تھیں۔ اگر گوریلے واپس اپنے اپنے ممالک میں جاتے  تھے تو  خود  خلیجی  ریاستوں  میں قائم بادشاہتوں کے لئے خطرہ تھے، اور اگر انہیں مناسب طریقے سے استعمال نہ کیا جاتا تو ممکن تھا  کہ کہیں اسرائیل کا ہی رخ نہ کرلیں، چنانچہ ان کا رخ  عراق اور شام  کی طرف موڑ دیا گیا۔

اگرچہ شام اور عراق کی حکومتوں نے ان کے کس بل تو نکال دئیے ہیں تاہم پاکستان چونکہ ان کا مادری وطن ہے ، یہاں ان کے بہت زیادہ نیٹ ورکس ہیں۔

یاد رہے کہ ماہِ مبارک رمضان میں حملہ اگرچہ ایران  اور سعودی عرب  میں بھی ہوا ہے ، لیکن پاکستان کی نوعیت مختلف ہے۔ ایران نے بھی چند گھنٹوں کے اندر  دہشت گردوں کو ان کے کیفرِ کردار تک پہنچا کر دم لیا اور سعودی عرب نے بھی ایسا ہی کیا لیکن پاکستان۔۔۔

پاکستان نے  دہشت گردوں کے خلاف عملا  پہلے بھی نہ کچھ کیا ہے اور نہ  آئندہ کرے گا۔  اس کی وجہ بہت واضح ہے، چونکہ خلیجی ریاستوں نے اگرچہ طالبان و القاعدہ و داعش کی ہر ممکنہ مدد کی لیکن اپنی سرزمین پر ان کے بیج نہیں بوئے ،  لیکن پاکستان کی سر زمین پر باقاعدہ دہشت گردی کی کاشتکاری کی گئی۔ ایک لمبے عرصے تک لوگوں کو یہ ذہن نشین کروایا گیا کہ  یہ گوریلے اور کمانڈو تو ہمارے ہیرو ہیں۔

جب انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کیں تو  ابتدا میں لوگ دہشت گردی کی مذمت کرنے کو بھی گناہ سمجھتے تھے ۔ لوگوں کا خیال تھا کہ  یہ مصلحین اور خلافت اسلامیہ کے علمبردار  تو  کوئی گناہ کر ہی نہیں سکتے۔

بعد ازاں  ایک لمبے عرصے تک لوگ  یہی سمجھتے تھے کہ یہ صرف ایک فرقے کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں،  لہذا ہم تو محفوظ ہیں۔ ۔ دوسری طرف  ان کمانڈوز کو  حکومت قائم کرنے کا اتنا شوق دلایا گیاتھا  اور حکومت کے قیام کے لئے ان کی ایسی برین واشنگ  کی گئی تھی  کہ انہوں نے  پاکستان پر ہی قبضہ کرنے  کی کوششیں شروع کر دیں۔

چنانچہ جب  ہر طرف بلاسٹ اور حملے ہونے لگے تو اس وقت  لوگوں کو یقین آیا کہ  یہ امریکہ کے مفاد کی تکمیل کے لئے تربیت پانے والے گوریلے اور کمانڈوز کسی کے بھی خیر خواہ نہیں ہیں۔

ہمارے ہاں فرقہ واریت کے خول سے لوگوں نے تب سر نکالا جب دہشت گردی کی جڑیں پاکستان کے اندر دور دور تک پہنچ گئیں ۔ تمام  اداروں میں دہشت گردوں کے حامی ، سرپرست اور سہولت کا ر  پھیل گئے۔ چرچ، مساجد، مدارس ، سکول ، قائد اعظم کی ریذیڈنسی، فوج و پولیس کے مراکز اور اولیائے کرام کے مزارات ۔۔۔  کچھ بھی محفوظ نہیں رہا۔

یاد رکھئے !یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد باہر سے نہیں آتے ، یہیں پر تیار کئے جاتے ہیں، اس کا ایک واضح ثبوت گزشتہ روز پارا چنار میں ہونے والے دھماکے بھی  ہیں۔

پارہ چنار کو چاروں طرف سے سیکورٹی فورسز نے گھیرے میں لیا ہوا ہے، مقامی افراد کی بھی جابجا چیکنگ اور شناخت کی جاتی ہے، اجنبی آدمی داخل ہی  نہیں ہو سکتا، خود سیکورٹی عملے کے بقول پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا، ایسے میں  دہشت گرد  بارود سمیت پارہ چنار میں  داخل ہو جاتے ہیں اور کسی بھی چیک پوسٹ پر  انہیں  روکا نہیں جاتا۔

دوسری طرف ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ہر مرتبہ دھماکوں کے بعد نہتے عوام پر سیکورٹی فورسز کی طرف سے   فائرنگ کر کے مزید لوگوں کو شہید کیا جاتا ہے۔ ہماری بحیثیت پاکستانی حکام بالا سے یہ اپیل ہے کہ پاراچنار  کے عوام کے ساتھ اگر کوئی ہمدردی نہیں کی جاسکتی تو نہ کی جائے البتہ ان کے قانونی مطالبات ضرور پورے کئے جائیں۔

حکومت کو چاہیے کہ عوام علاقہ کو اپنے اعتماد میں لے اور  سیکورٹی فورسز میں موجود  دہشت گردوں کے سہولت کار وں کی شناخت کر کے   ان کے خلاف  کارروائی کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام علاقہ کے مطالبے کے مطابق  سیکورٹی کی ذمہ دارای مقامی افراد پر مشتمل ملیشیا یا رضاکار فورسز کے حوالے کی جائے اور سیکورٹی فورسز کے جو لوگ  شہدا اور زخمیوں کے لواحقین پر گولیاں چلانے کے مرتکب ہوئے ہیں، انہیں ہر قیمت پر سزا  دی جائے۔

کاش ہمارے حکمرانوں اور سیکورٹی اداروں  کو یہ احساس ہو جائے کہ عید سے ایک دن پہلے جن گھروں سے جنازے اٹھتے ہیں ، ان   پر گولیاں نہیں برسائی جاتیں بلکہ  ان کے ساتھ تعزیت کی جاتی ہے اور ان کے غم میں شریک ہوا جاتا ہے۔

بہر حال  اگر ہمارے حکمرانوں سے  یہ احساس ختم ہو  گیا ہے تو بحیثیت قوم اس عید پر ہمیں،  وطن عزیز کے تمام  شہدا ،خصوصا  گزشتہ روز کے شہدا  کے لواحقین کو اپنی محبت  کا احساس  دلانا چاہیے۔

ان بے کسوں  کا احساس  کرنا چاہیے کہ  جن کے پیارے عید سے ایک یا دودن پہلے اس دنیا سے چلے گئے ہیں،  احساس کو زندہ رکھئے ! احساس زندگی کی علامت ہے ، اگر احساس مر جائے تو قومیں مر جایا کرتی ہیں۔

 بقول شاعر:

موت کی پہلی علامت صاحب

 یہی احساس کا مر جانا ہے


تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Page 1 of 728

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree