The Latest

وحدت نیوز (میانوالی) مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے ضلع میانوالی کے 237 یتیم بچوں میں وظائف تقسیم کئے گئے۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم رہنماء علی رضا طوری, عدیل عباس زیدی, ضلعی رہنماء علمدار حسین ایڈووکیٹ, کیپٹن ریٹائرڈ رفیع اللہ خان اور سید مظفر نقوی موجود تھے۔ علی رضا طوری کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین ملت تشیع کو ایک مضبوط ملت کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے، ہماری خواہش ہے کہ ہماری ملت و قوم کا ایک ایک بچہ علم کے زیور سے آراستہ ہو اور وطن عزیز پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا بہترین رول ادا کرے، ضلع میانوالی کے 237 بچوں میں وظائف کی تقسیم کا مقصد بھی یہی ہے کہ یہ بچے خود کو تنہاء نہ سمجھیں بلکہ معاشرہ میں خود اعتمادی کیساتھ جیتے ہوئے اپنا مستقبل بہتر بنائیں۔.

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے ممتاز قانون دان شہید سید سیدین زیدی ایڈووکیٹ اور شہید حبدار حسین کے ایصال ثواب کے لئے امام بارگاہ جی سکس ٹو اسلام آباد میں مجلس ترحیم کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے مومنین نے بھرپور شرکت کی۔ مجلس ترحیم سے شہید سید سیدین کے فرزند ارجمند سید مزمل زیدی اور علامہ محمد امین شہیدی کے خطاب کیا۔ علامہ سید احمد اقبال رضوی مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین نے بھی اس مجلس ترحیم میں شرکت کی۔ اس موقع پر علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ ملت کا ہر شہید قوم کے مقدر کا ستارہ اور ملت کے ماتھے کا جھومر ہے اس وقت ہمارے ملک کا ہر حصہ ملت جعفریہ کے باوفا بیٹوں کے پاکیزہ خون سے رنگین ہو چکا ہے اور قبرستانوں کے شہر آباد ہو گئے ہیں لیکن آج شہادت کے درجے پہ فائز ہونے والے شہید محمد سیدین زیدی حقیقتا شوق شہادت سے سرشار اور سالہا سال سے اسی تمنا میں اپنی زندگی کے آخری سال گزار رہے تھے، بقول برادر غلام حر شبیری کے کہ: کوئی چار سال قبل میں ہیوسٹن امریکا میں مرکز اسلامی میں دینی وظائف کی ادائیگی میں مشغول تھا کہ ایک دن مجھے سیدین بھائی کا فون آیا اور وہ مجھ سے ملنا چاہتے تھے، چنانچہ دوسرے دن گیارہ بجے وہ مجھ سے ملنے میرے آفس تشریف لائے اور انہوں نے اپنا مدعا کچھ یوں بیان کیا کہ "میں پاکستان میں ایک ایڈووکیٹ کی حیثیت سے کافی عرصہ کام کر چکا ہوں اور ابھی کافی مدت سے امریکا آکر رہائش پذیر ہو گیا لیکن اب جبکہ ملک میں ملت کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے اور آئے دن وطن عزیز میں  ہونے والی شہادتوں کا سنتا ہوں تو جی چاہتا ہے اپنے ملک جا کر قوم و ملت کی خدمت کروں اور اس وقت جب مختلف علاقوں میں  تکفیری قوتوں نے ہمارے بہت سے مومنین کو جھوٹے مقدمات میں جکڑ کر ان کو جیلوں میں بند کروا دیا ہے اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔" انہوں نےمجھے سے کہا "آپ پاکستان میں قبلہ راجہ ناصر عباس صاحب سے بات کریں، تو میں جانے کے لئے تیار ہوں۔"
چنانچہ آقا صاحب سے بات کی تو انہوں اس تجویز کا استقبال کیا اور سیدین صاحب ایک ڈیڑھ ماہ کے اندر اندر وطن عزیز جانے کو تیار ہو گئے، پاکستان پہنچ کر اسلام آباد میں ان کے لئے مجلس نے ایک دفتر اور رہائش بنائی جہاں سے انہوں نے اپنی فعالیات کا آغاز کیا اور اس دوران انہوں نے ملکی سطح پہ دورے کئے اور کئی قیدیوں کی آزادی کے لئے مقدمات لڑے اور بالخصوص راولپنڈی سانحہ عاشور میں سینکڑوں بے گناہ اسیران کی قانونی مشاورت اور وکالت میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سال بھر مسلسل ملک میں گزارا اور پھر کچھ ناگزیر حالات کے باعث انہیں واپس امریکا جانا پڑا جہاں پھر سے میری ان سے ملاقات ہوئی۔ شہید علماء سے بہت انس اور محبت رکھنے والے انسان تھے چنانچہ ان کے دو بیٹوں کی شادیاں علماء ہی کے خانوادوں سے ہوئیں ان کی ایک بہو مولانا سید سرتاج زیدی صاحب کی بیٹی اور دوسری مولانا شمشاد حیدر کی صاحبزادی ہیں۔ وہ واپس جاکر بھی تمام اوقات ملک و قوم کی فکر میں مبتلا رہتے، انہوں نے وہاں بیٹھ کر کئی مومنین قیدیوں کے مقدمات کے لئے مدد فرمائی، وہ ہر آن قوم کی فکر میں رہتے، ہر سال زیارت اربعین پہ جانے والے، تہجد گذار، مومن و متقی، اجتماعی فکر کے حامل، مخلص، پیرو رہبری، باپ کی حیثیت سے بہترین باپ اور بچوں کی کچھ اس طرح تربیت کی کہ سب بچے امریکا میں رہتے ہوئے بھی انتہائی متدین اور با تقویٰ ہیں۔
ان کے ایک فرزندارجمند سید مزمل حسین اس وقت حوزہ علمیہ قُم میں زیر تعلیم ہیں، آج شہید کی دیرینہ تمنا پوری ہو گئی اور وہ زیارت اربعین کے بعد مشہد مقدس کی زیارت سے فارغ ہو کر حرم ہای اہل بیت کی زیارت سے توشہ آخرت لے کر حریم الہی کی زیارت کو لبیک کہتے ہوئے دشمنان اہل بیت کی گولیوں کا نشانہ بن کر امام بارگاہ کے باہر ایک نمازی کی حیثیت سے اپنے پروردگار سے جا ملے۔ مجلس ترحیم سے خطاب کرتے ہو ئے علامہ محمد امین شہید ی نےمزید کہا کہ شہادت ایک درجہ کمال ہے اور یہ درجہ اسی کو نصیب ہوتا جو اس کا اہل ہوتا ہے۔ شہید سید سیدین زیدی اور حبدار حسین کاانتخاب اللہ ایسے کیا کہ نماز مغربین کے بعد اور حالت وضو میں اپنے امام کا دیدار کرسکیں اور بارگاہ الہی میں حاضری دے سکیں ۔یہ مقام اور رتبہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتا ۔ اس کے لئے انسان کوباطنی پاکیزگی چاہئے ۔ اور انسان کو اندر سے ہر قسم اخلاق رذیلہ سے دوری چاہئے ۔ اور انسان جب اپنے باطن کو پاک کر لیتا ہے تو اس کے اندر دوسروں کے لئے جذبہ ایثارپیدا ہو جاتا ہے تواس وقت اللہ کی رضا اور اس کی مخلوق کے لئےکچھ کرگزرنےکے تعاقب میں لگ جاتا ہے۔ میں نے بھی ان شہداء خصوصا ً سید سیدین زیدی شہید کے اندر یہ جذبہ دیکھا اور محسوس کیا تھا ۔ انہیں جب بھی مخلوق خدا کی خدمت کرنے کے جذبے میں کوئی مشکل پیش آتی یا درد دل کرنا ہوتا تو میرے پاس آتے اور کافی دیر تک بیٹھتے اور اپنا دل کا بوجھ ہلکا کرلیتے ۔ میں کبھی بھی ان سے اپنے ملت یا کسی رہنما کے متعلق شکایت نہیں سنی ۔ہمیشہ یہی کہتے کہ میری کوتاہی ہے کہ میں ابھی تک اس مسئلے کو عوام کے لئے حل نہیں کرسکا ۔ شہید سیدین زیدی دہشت کردوں کی ہٹ لسٹ پر تھے ۔ دشمن کو معلوم تھا کہ کون کیا کررہا ہے۔ ممکن ہے ہم میں سے کوئی ایسا بھی ہو جو ان سے نا آشنا ہے ۔مگر وہ ہر وقت اور ہر لمحہ اسی فکر میں رہتے کہ کسی نہ کسی طرح میرے ہاتھ سے ملت کے ہر اس فرد کا کام ممکن ہو جائے جس کے لئے وہ دن رات مارے مارے پھر رہا ہے ۔ عدالتوں میں بنائے گئے جعلی مقدمات کو کو انہوں نے اپنی بصیرت اور توسل پروردگار اور اہلبیت ؑ کے ذریعے ایسے حل فرمایا کہ سانحہ راولپنڈی کے تمام مومنین باعزت طور پر بری کرائے گئے ۔اس کے علاوہ بھی ملک کے گوشہ کنار سے لوگ ان کے پاس آتے اور وہ ہمیشہ خندہ پیشانی سے ان کا استقبال کرتے ۔اور ان کی بات سنتے اور ان کے مسائل کو حل فرما دیتے۔

وحدت نیوز (لکھی غلام شاہ) مجلس وحدت مسلمین ڈویژن سکھر اور لاڑکانہ کے اضلاع کا مشاورتی اجلاس مدرسہ جوادیہ لکھی غلام شاہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت مجلس وحدت مسلمین سندہ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے کی جبکہ مشاورتی اجلاس میں صوبائی سیکریٹری تنظیم آغا منور جعفری، ڈپٹی سیکریٹری سیاسیات مشتاق حسین میمن کے علاوہ اضلاع کے سیکریٹری جنرلز، سیکریٹری تنظیم اور یوتھ سیکریٹریز شریک ہوئے۔ اجلاس میں صوبائی دورہ جات اور مرکزی سیکریٹری یوتھ کے چار روزہ دورہ پر مشاورت کی گئی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصودعلی ڈومکی نے بیت المقدس کو اسرائیل غاصب کا دارالحکومت قرار دینے کا امریکی فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیطان بزرگ امریکہ سے اسلام دشمنی اور انسانیت سے عداوت کے علاوہ کوئی توقع نہیں۔ دنیا بھر کے غیور مسلمان اپنی طاقت سے امریکی فیصلے کو پیروں تلے روندیں گے۔فلسطین کے مظلوم عوام خود کو تنہا نہ سمجھیں ہم جدوجہد کے ہر مرحلے پر قبلہ اول کی آزادی کے لئے آواز بلند کریں گے۔ اب وہ دن زیادہ دور نہیں جب بیت المقدس آزاد ہو۔ شیطان بزرگ امریکہ کے اس شرانگیز فیصلے کے خلاف ہم بھرپور احتجاج کریں گے۔قدس کی آزادی تک اور اسرائیل کی بربادی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین نے مظلومین عالم کے حق میں ہمیشہ آواز بلند کی ہے۔ یمن، فلسطین ، کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت اور ظالموں کی مخالفت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین نے ہمیشہ امن و امان، اتحاد بین المسلمین اور ترقی پسندی کو ترجیح دی ہے اور ہر قسم کی شدت پسندی کے خلاف رہے ہیں، بہت ہی مختصر عرصے میں مقبولیت اور عوامی نمائندگی حاصل کرلی اور ہمارے نمائندے عوام کے خدمت میںمصروف ہیں،ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ ہاشم موسوی نے تنظیمی کارکردگی اور ملکی صورت حال کا تذکرہ کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا، جس کی وجہ سے آج پورا ملک بدامنی اور انتشار کا شکار ہے۔ ملک اربوں ڈالر کا مقروض ہو چکا ہے، ملکی ترقی کے راستے میں عوام نہیں حکمرانوں کی نیت اور کردار رکاوٹ ہے، کرپشن اور حکمرانوں کی لوٹ مار نے ملک کے معیشت کو کھو کھلا کردیا ہے، بدعنوانی اور کرپشن ملک کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ ہے، بدعنوانی سے ناانصافی، غربت اور میرٹ کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں اور مستحق کو اس کا حق نہیں ملتا،ہمارے عوامی نمائندوں نے لوگوں کی آنکھوں سے پردہ ہٹایا آج شہر کے بچہ بچہ ایک عوامی نمائندے کی فنڈ سے با خبر ہے ۔

 انہوں نے کہا مجلس وحدت مسلمین اسلامی احکامات،امن و امان،ملکی اور تعلیمی میدان میں ترقی کیلئے کوشش کر رہی ہے، ہمارے اصول سب کیلئے واضح ہیں، عوام کی خدمت، انکی فلاح اور ہر میدان میں ترقی ہمارا عزم ہے، ہمارے نمائندے ان اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے عوام کے حقوق کیلئے سیاسی میدان میں جدو جہد کر رہے ہیں اور نتائج قوم خود دیکھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بے شمار پروپیگنڈوں کے باوجود عوام نے ہمارا ساتھ دے کر، ہمارے حوصلوں کو پروان چھڑا دیا۔ملکی ترقی اور عوام کو انکے حقوق دلانے میں اپنا پورا کردار ادا کریں گے،ہم نے ہمیشہ امن و امان، اتحاد بین المسلمین اور ترقی پسندی کو ترجیح دی ہے اور ہر قسم کی شدت پسندی کے خلاف رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین نے بہت ہی مختصر عرصے میں مقبولیت اور عوامی نمائندگی حاصل کرلی اور ہمارے نمائندے عوام کے خدمت میںمصروف ہیں،کوئٹہ کی گلی محلے ایم ڈبلیوایم کی عوامی خدمت کے عکاس ہیں ،  نہ صرف کوئٹہ میں بلکہ ملک کے تمام دیگر شہروں میں بھی مجلس وحدت مسلمین ایک سیاسی قوت کے علاوہ ، عوام کے دلوں کو جیتنے والی جماعت کی حثیت رکھتی ہے، ہم نے مشکلات کے دوران قوم کا ساتھ دیا ، انکے حقوق کیلئے استقامت کا سہارا لیا اور ان کیلئے ہر میدان میں جد و جہد کی۔

یروشلم یونہی رہے گا اور ہم بھی

وحدت نیوز(آرٹیکل) برطانوی وزیرِ اعظم تھریسا مے نے صدر ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا مستقل دارلحکومت تسلیم کرنے اور تل ابیب سے امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے اعلان کو افسوسناک اور عاجلانہ قرار دیا ہے۔

مجھے دنیا کے ہر ملک کی جانب سے ٹرمپ کے اعلان کی مذمت پر جتنی خوشی ہے اتنا ہی صدمہ تھریسا مے کی جانب سے اظہارِ مذمت پر بھی ہے۔ آج سے ٹھیک سو برس پہلے دو نومبر 1917 ئکو برطانوی وزیرِ خارجہ لارڈ بالفور نے برطانوی یہودیوں کے رہنما اور صیہونی نظریے کے مرکزی ستون لارڈ والٹر روتھ چائلڈ کو سڑسٹھ صفحے کا وہ تاریخی خط بھیجا جس میں تسلیم کیا گیا کہ یہودیوں کو فلسطین واپسی اور وہاں اپنی مملکت بنانے کا حق ہے۔ جس وقت یہ خط لکھا گیا فلسطین سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھا۔ گویا کسی اور کے علاقے کو (عثمانی) کسی اور نے (برطانیہ) کسی اور کو (یہودی) الاٹ کردیا۔

اس اعلان کے ٹھیک چالیس روز بعد برطانوی جنرل سر ایڈمنڈ ایلن بی بیت المقدس میں فاتحانہ داخل ہوا اور وزیرِ اعظم ڈیوڈ لائڈ جارج نے کہا ’’دنیا کے مشہور ترین شہر پر قبضے کے بعد مسیحی دنیا نے مقدس مقامات کو دوبارہ حاصل کر لیا ہے‘‘۔ امریکی اخبار نیویارک ہیرلڈ کی سرخی تھی ’’برطانیہ نے چھ سو تہتر برس کے (مسلم) اقتدار کے بعد یروشلم کو آزاد کرا لیا۔ مسیحی دنیا میں خوشی کی زبردست لہر دوڑ گئی‘‘۔

اگلے تیس برس تک فلسطین برطانیہ کے قبضے میں رہا اور یہودی یورپ سے آ آ کر یہاں آباد ہوتے رہے۔ یہ وہ تحفہ تھا جو برطانیہ نے عربوں کو سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف برطانیہ کی حمایت میں کھڑے ہونے پر دیا۔ جب یہودیوں کی تعداد اتنی ہوگئی کہ وہ ایک چھوٹی سی مملکت قائم کرنے کے قابل ہو سکیں تو برطانوی انٹیلی جینس کی ناک کے نیچے یہودی انتہا پسند تنطیموں ہگانہ اور سٹیرن گینگ نے فلسطینیوں کو ان کی اجدادی املاک سے کھدیڑنے کا کام شروع کیا۔

عین اس وقت نیا نیا اقوامِ متحدہ بیچ میں صلح صفائی کے لیے کود گیا اور اس نے قابض اور مقبوض کی تمیز کیے بغیر مئی 1947ء میں فلسطین کی تقسیم کے منصوبے کا اعلان کر دیا۔ اس منصوبے کے تحت جو علاقے جس فریق کو ملنے تھے وہ تو ملنے ہی تھے مگر ایک سفارش یہ بھی تھی کہ چونکہ بیت المقدس تین الہامی مذاہب کا مقدس شہر ہے لہذا یہ شہر کسی ایک فریق کو دینے کے بجائے بین الاقوامی انتظام کے تحت رکھا جائے تا کہ ہر مذہب کے زائرین یہاں بلا رکاوٹ آ جا سکیں۔

اسرائیلی رہنما ڈیوڈ بن گوریان نے یہ تجویز جھٹ سے مان لی کیونکہ اس وقت تک اسرائیل کو پیر ٹکانے کی جگہ نہ صرف مل چکی تھی بلکہ اقوامِ متحدہ نے بھی ان کا قانونی حق تسلیم کر لیا تھا۔ تاہم فلسطینی قیادت (مفتی اعظم امین الحسینی وغیرہ) نے اس تجویز کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ جب ہم سارا قبضہ ہی غیر قانونی مانتے ہیں تو بیت المقدس کی حیثیت کا سوال کہاں سے آ گیا۔ مگر فلسطینی قیادت یہ سمجھنے سے قاصر رہی کہ بین الاقوامی سامراجی ہوا ان کے خلاف چل رہی ہے لہذا جو بچا لو وہی غنیمت ہے۔

منظم یہودیوں نے پانچ عرب ممالک کی کاغذی فوج کو آسانی سے شکست دے دی اور بیت المقدس کا مغربی حصہ بھی ان کے قبضے میں آگیا اور انھوں نے فوری طور پر اسے اسرائیل میں ضم کر کے اپنا دارلحکومت قرار دے دیا۔ جنگ بندی ہوئی تو مغربی کنارہ اور بیت المقدس کا مشرقی حصہ اردن کے قبضے میں تھا۔

چار لاکھ اسی ہزار فلسطینی عورتوں بچوں، بوڑھوں جوانوں کو بندوق کی نوک پر کھڑے کھڑے نسل در نسل گھروں سے نکال کے اندھے مستقبل کی جانب ہنکال دیا گیا۔ ایک ایک گاؤں کا عرب نام مٹا کر عبرانی نام رکھ دیا گیا۔ فلسطینی اس المئے کو نقبہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ نقبہ کا وہی مطلب ہے جو ہولوکاسٹ کا ہے (اب یہی بے خانماں بڑھ کے چالیس لاکھ سے زائد ہو چکے ہیں اور ملکوں ملکوں بکھرے پڑے ہیں)۔

کہا جا رہا ہے کہ امریکا پہلا ملک ہے جو بیت المقدس میں اپنا سفارتخانہ منتقل کرے گا۔ مگر یہ بات درست نہیں۔ حالانکہ بیت المقدس کے کسی بھی حصے کو اسرائیل میں یکطرفہ ضم کیا جانا ہمیشہ غیر قانونی رہا مگر سن 50ء کے عشرے میں سولہ ممالک کے سفارتخانے مغربی بیت المقدس میں قائم ہو چکے تھے۔ گیارہ لاطینی ممالک (بولیویا، چلی ، کولمبیا، کوسٹاریکا، ڈومینیکن ریپبلک، ایکویڈور، گوئٹے مالا، پاناما، یوروگوئے، وینزویلا، ہیٹی) تین افریقی ممالک (آئیوری کوسٹ، زائر، کینیا) اور ایک یورپی ملک ہالینڈ۔ تعجب ہے کہ اس وقت عرب دنیا نے اس بات کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا۔

1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد غیرجانبدار ممالک کی تنظیم کے فیصلے کے تحت تینوں افریقی ممالک نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کر لیے۔ باقی تیرہ سفارت خانے بدستور مغربی بیت المقدس میں کام کرتے رہے۔ جب 1980ء میں اسرائیلی پارلیمنٹ نے ’’یروشلم کا بنیادی قانون‘‘ منظور کیا جس کے تحت متحدہ یروشلم کو اسرائیل کا مستقل دارلحکومت قرار دے دیا گیا تب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس قانون کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے قرارداد 478 منظور کی اور رکن ممالک سے مغربی بیت المقدس سے اپنے سفارت خانے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد تمام سفارتخانے تل ابیب منتقل ہوگئے (اقوامِ متحدہ کی اس قرار داد کو امریکا سمیت کسی نے ویٹو نہیں کیا)۔

مشرقی بیت المقدس پر جون 1966ء میں اسرائیل نے فوجی قبضہ کر لیا۔ اقوامِ متحدہ نے یہ قبضہ غیر قانونی اور مشرقی بیت المقدس کو ایک مقبوضہ علاقہ قرار دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ قابض طاقت حتمی تصفیہ ہونے تک مقبوضہ علاقے کی جغرافیائی، شماریاتی، سماجی و مذہبی حیثیت میں کوئی من مانی تبدیلی نہیں کر سکتی۔ مگر پچھلے پچاس برس میں مشرقی بیت المقدس کے اندر اور اردگرد درجن بھر اسرائیلی آبادکار بستیاں نمودار ہو گئیں جہاں دو لاکھ یہودی بسائے گئے اور ان کی حفاظت کا ذمے پولیس اور فوج کو سونپا گیا۔ جب کہ بیت المقدس کی ساڑھے چار لاکھ فلسطینی آبادی کو شہریت سے محروم کر کے غیر ملکی تارکینِ وطن کا درجہ دے دیا گیا۔ اب ان کے پاس اردنی پاسپورٹ ہیں جن پر شہریت نمبر درج نہیں اور اسرائیل کے جاری کردہ رہائشی پرمٹ ہیں جنھیں کسی بھی وقت منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

اردن میں کام کرنے کے لیے انھیں اردنی ورک پرمٹ کی ضرورت ہے اور اسرائیلی رہائشی پرمٹ برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک خاص مدت سے زیادہ بیت المقدس کی حدود سے باہر نہیں رہ سکتے۔ بصورتِ دیگر انھیں اپنی املاکی ملکیت، کرائے نامے یا تنخواہ کی سلپ کے ذریعے ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ واقعی بیت المقدس کے حقیقی رہائشی ہیں لہذا ان کا پرمٹ بحال کیا جائے۔ اس کے باوجود گزشتہ پچاس برس میں تقریباً چودہ ہزار فلسطینی ایسے ہیں جن کا رہائشی پرمٹ مستقل منسوخ کیا جا چکا ہے۔ اب وہ نہ اردن کے شہری ہیں نہ بیت المقدس کے رہائشی۔ عملاً وہ مغربی کنارے کی فلسطینی اتھارٹی کی حکومت میں بھی پناہ گزین ہیں۔

اب جہاں بے چارگی کا یہ عالم ہو وہاں یہ توقع کرنا کہ عالمِ اسلام ان کے حق کے لیے ہر ممکن اقدام سے گریز نہیں کرے گا ایک مضحکہ خیز توقع ہے۔ ظاہر ہے عرب لیگ کو ٹرمپ کے اقدام کی مذمت کرنی تھی سو اس نے اپنا فرض پورا کر دیا۔ ظاہر ہے اسلامی کانفرنس کی تنظیم کو یہ مطالبہ کرنا تھا کہ بیت المقدس میں جو بھی ملک اپنا سفارت خانہ منتقل کرے اس سے تنظیم کے ستاون ممالک سفارتی تعلقات ختم کر لیں سو اس نے اپنی مردانگی کے ثبوت کے طور پر مطالبہ کر دیا۔

ظاہر ہے کہ تمام عرب اور دیگر مسلمان ممالک کو ایک مذمتی بیان اور ’’یہاں سے وہاں تک آگ لگ جائے گی‘‘ وغیرہ وغیرہ کہنا تھا سو کہہ دیا۔ دو یا تین جمعے تک مذہبی سیاسی جماعتیں کراچی، لاہور اور پشاور وغیرہ میں احتجاجی جلوس نکالیں گی۔ ہو سکتا ہے کچھ منچلے اپنی ہی املاک کو نقصان بھی پہنچا دیں۔ مگر فلسطینیوں نے اگر تیسرا انتفاضہ شروع کر دیا تو ٹانگیں صرف فلسطینوں کی ہی ٹوٹیں گی۔ ہم بس ایک کورس کی شکل میں ہائے وائے کرتے رہیں گے۔

( جب اگست 1979میں آسٹریلوی یہودی مائیکل روحان نے مسجد اقصی کے منبر کو آگ لگائی تو بہاول پور کے ایک مقامی اخبار میں سرخی لگی ’’سمہ سٹہ کے عوام اسرائیل کو نیست و نابود کر کے دم لیں گے۔مقامی علما کا عزم‘‘ ۔)

آج اصل مسئلہ فلسطین پر اسرائیلی قبضہ نہیں اصل مسئلہ اسرائیل سمیت پورے مشرقِ وسطی کی ’’اعتدال پسند حکومتوں‘‘ کو ’’انتہا پسند ایران‘‘ کی شکل میں درپیش ہے۔یہ خطرہ اتنا بڑا ہے کہ اس پر سو فلسطین اور ہزار بیت المقدس قربان۔

 

 

تحریر: وسعت اللہ خان
بشکریہ :ایکسپریس نیوز

وحدت نیوز(لاڑکانہ) لاڑکانہ میں جشن میلاد کی تقریب منعقد ہوئی، اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندہ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصودعلی ڈومکی نے کہا کہ تکفیری گروہ سے عالم انسانیت کو خطرہ ہے،تکفیری گروہ کی تشکیل اور حکمت عملی میں شیطان بزرگ امریکہ سمیت شیاطین عالم کا بنیادی کردار ہے۔ جو اسلام دشمن امریکی صدر ٹرمپ کے آگے ناچتے رہے وہ میلاد النبی ﷺ کے جشن کو ناجائز سمجھتے ہیں، تعجب ہے۔  
                     
انہوں نے کہا کہ آل سعود اپنے منطقی انجام کی طرف بڑہ رہے ہیں، وہی انجام جو ہر جابر و ظالم کا مقدر ہوتا ہے۔ آل سعود کو صدام ، قذافی اور رضا شاہ پہلوی کے عبرتناک انجام سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ شہید مظلوم آیۃ اللہ باقر النمر ؒ سمیت ہزاروں بے گناہ انسانوں کا پاکیزہ خون آل سعود کی ذلت ورسوائی کا باعث ہوگا،تقریب سے مجلس وحدت مسلمین لاڑکانہ کے سیکریٹری جنرل مولانا محمد علی شر و دیگر نے خطاب کیا۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کےسیکریٹری جنرل عباس علی موسوی نے ایک بیان میں کہاکہ امریکی صدر نے بیت المقدس کو اسرائیل دارالحکومت قرار دے کر منحوس اور غاصب حکومت کو موت کے دہانے پر لاکھڑا کر دیاہے۔ گرچہ کہ اسرائیلی ظلم وستم کا شکار بیت المقدس پہلے ہی سے اسرائیل کے مکمل نرغے میں تھا لیکن ٹرمپ کے اس بیان نے مسلمانان عالم کو للکارا جسکے نتیجے میں اسلامی جزبات ایک بار پھر تازہ ہو گئے اور مسلمان متحد ہو کر قدس شریف کی آزادی کیلئے بھر پور کوشش کرینگے اور انشاء اللہ مسلمانان عالم جلد اسرائیل کی نابودی کی خبر سن لیں گے۔ بیت المقدس اور اسلامی سرزمین فلسطینی مسلمانوں کی ہے۔ غاصب اسرائیلی حکومت نے دنیا کے یہودی بھلوتروں کو مختلف علاقوں سے جمع کر کے کشت و خون کے ذریعہ فلسطین پر قابضہ کیا ہواہے۔ لیکن عالم اسلام بیدار ہوگئی ہیں اور انشاء اللہ جلد اس طاغوتی اور شیطانی طاقت کے ظلم و ستم کا خاتمہ ہوگا۔ اور انشاء اللہ آئندہ چند سالوں میں دنیا کے نقشے پر اسرائیل کا نام نشان نہ ہوگا،قدس کے مسئلہ نے مسلمانوں کو متحد بھی کیا اور ساتھ ہی انہیں بصیرت بھی دلائی ہے تاکہ وہ ان اسرائیلی اور امریکی ایجنٹوں کو بھی پہچان سکے جن کے ناپاک اشاروں سے مذہب کے نام پر دہشت گردی ہو رہی ہے اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پھیل رہا تھا۔

وحدت نیوز(مظفرآباد) مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا سید طالب حسین ہمدانی نے وحدت سیکرٹریٹ مظفرآباد سے جاری ہونیوالے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے قبلہ اول کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے اور وہاں امریکی سفارت خانہ کھولنے کا اعلان شرپسندی ہے جس کے خلاف مسلمانان ریاست آزادجموں و کشمیر میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔اور پوری ریاست ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا پایہ تخت قرار دینا امت مسلمہ کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔ امریکی صدر کا اسلام دشمن متعصبانہ رویہ عالمی امن کے لئے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔اس اقدام کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔امریکی صدر نے امت مسلمہ کے وقار پر حملہ کیا ہے۔اس پر خاموش رہنا امت مسلمہ کی توہین ہے۔ عالمی قوانین کی اس پامالی پر تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں، طلبا تنظیموں اور ریاستی اداروں کو اپنی آواز بلند کرنا ہو گی۔مسلمان ہونے کے ناطے بیت المقدس سے ہم سب کا مذہبی تعلق جڑا ہوا ہے۔امریکہ اپنی ناجائز اولاد اسرائیل کا ہمیشہ دفاع کرتا آیا ہے۔ اس حمایت کی بنیاد اسلام دشمنی کے علاوہ اور کوئی نہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ کی اسلام دشمن پالیسیوں میں اسے عرب مسلم ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے جو افسوسناک ہے۔عالم اسلام کی تنزلی عرب حکمرانوں کی خیانت کا نتیجہ ہے۔مظلوم فلسطینیوں اور بیت المقدس کے حوالے سے پاکستان کو واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہیے۔

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین سندھ کے پولیٹیکل سیکرٹری علی حسین نقوی نے کہا ہے کہ الیکشن سے قبل چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والی حکومت آج چار سال گزرنے کے بعد بھی بجلی کے بحران پر قابو نہیں پا سکی،سخت سردی میں بھی طویل دورانیےکی لوڈ شیڈنگ ظالمانہ اقدام ہے،  اپنے ایک بیان میں علی حسین نقوی نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں اپنے حصے کی بجلی سے دانستہ محروم رکھا جا رہا ہے، وفاقی حکومت پیپلز پارٹی سے سیاسی مخالفت کا غبار سندھ کے عوام پر اتارنا بند کرے، تمام محکموں کے وزرا اپنے اپنے حصے کا کام کرنے کی بجائے پاناما کیس پر نواز شریف اور ان کے خاندان کا دفاع کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی مشکلات سے کوئی آگاہ نہیں، ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر محض اخباری بیانات جاری کرنے سے توانائی کے بحران کا خاتمہ نہیں ہوگا، اس کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس ادارے کے غیر ذمہ دار افسران کے خلاف کاروائی کرے، کے الیکٹرک کا قبلہ درست کیا جائے، وگرنہ اسے حکومتی تحویل میں لیکر اس کی کارکردگی عوام کے حق میں بہتر بنائی جائے۔

وحدت نیوز (کراچی) پیت المقدس پر قبضے کی عالمی و صیہونی سازش کو کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ جان لے کہ پوری دنیا کے مسلمان بیت المقدس کی آزادی اور حرمت کے لئے ایک ہیں، حکومت پاکستان امریکی انتظامیہ سے باضابطہ طور پر سفارتی احتجا ج کرتے ہوئے امریکی سفارتی عملے کو فوراً پاکستان کی سرزمین سے بے دخل کرے، ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین ڈسٹرکٹ سینٹرل کراچی کے ترجمان و سیکریٹری اطلاعات عرفان حیدر نے ڈویژن آفس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا ۔

 عرفان حیدر کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ذہنی مریض شخص ہے جسے صدارت پر رہنے کا بھی کوئی حق نہیں، بیت القدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور اسی جگہ پر خاتم النبیین نے انبیاء علیہ السلام کی امامت فرمائی اور معراج کے سفر پر گئے تھے، ایسی مقدس جگہ پر صیہونیت کے ناپاک وجود ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں فرما دیا کہ یہود و نصاریٰ کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے، یہ صیہونی ایک عالمی سازش کے تحت ختم نبوت کے قانون اور کبھی کسی اور ایشوز پر مسلمانوں کے ایمان کو چھیڑنے کی کوشش کرتے ہیں، انہوں   نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ امریکی صدر کے اس فیصلے پر سفارتی سطح پر احتجاج کیا جائے اور امریکہ سے تجارتی و سفارتی تعلقات ختم کئے جائیں۔

Page 1 of 793

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree