The Latest

jaliliشام کےمعاملے پر ایران کی طرف سے ہنگامی اجلاس 
شام میں جاری بحران کے خاتمے پر غور کے لیے ایران نے کل جمعرات کے روز ایک ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ علی اکبر صالحی کے مطابق تہران میں جمعرات نو اگست کو ہونے والے اجلاس میں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا سے درجن بھر ممالک شریک ہو رہے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے ISNA کے مطابق صدر احمدی نژاد نے امید ظاہر کی ہے کہ تہران کانفرنس اور سعودی عرب میں اگلے ہفتے اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس، شام میں فوجی جھڑپوں کے بجائے ایک سیاسی حل کی طرف بڑھنے کے نادر مواقع ہوں گے
ادھر ایران کی نیشنل سکیوریٹی کے سیکرٹری سعید جلیلی اپنے مشرق وسطی کے دورے پر آج بغداد پہنچے اس سے قبل انہوں نے دمشق اور بیروت کا دورہ کیا اور شام میں جاری حالات پر تفصیلی ملاقاتیں کیں
دمشق میں صدر بشارالاسد سے ملاقات میں اس موقف کا اعادہ کیا گیا کہ شام کے مسائل کا حل صرف گفتگو اور جمہوری انداز سے ہی ممکن ہے اس ملاقات میں شام کے صدر بشار الاسد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن امن و امان کی بحالی تک جاری رہے گا اور دہشت گردوں کا سر کچل دیا جائے گا

alimovswi

تحریر: احمد علی نوری
(جامعۃ النجف، اسکردو)

یہ واقعہ تقریباً 1926ء کا ہے کہ ایک سیدہ نے اپنے چھ مہینے کے بچے کو گود میں لے کر ایمان اور توکل سے بھرپور عزم و ارادے کے ساتھ اپنے آپ کو ایک لمبے سفر اور بامقصد ہجرت پر آمادہ کرکے رخت سفر باندھ لیا۔ یہ مختصر قافلہ سفر کی تمام سختیوں کو خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کرتے ہوئے کبھی پیدل اور کبھی کرایہ کے گھوڑوں پر راستہ طے کرتے ہوئے بلتستان سے کرگل اور کرگل سے کشمیر اور وہاں سے ہوتے ہوئے دل میں ایک آرزو، ایک خواہش اور ایک عظیم ہدف کو سامنے رکھ کر نجف اشرف یعنی باب مدینۃ العلم کے دروازے پر دستک دینے لگا۔ وہ سیدہ چاہتی تھیں کہ اپنے نومولود بچے کو علم و آگہی اور علوم آل محمدؑ سے آشنا کریں اور اسے اسلام کے لئے ایک سر بکف مبلغ تیار کریں، یوں اس عظیم ماں نے ایک عظیم بیٹے کی تربیت کی جو بعد میں آغا علی موسوی کے نام سے مشہور ہوئے۔

آپ کے والد محترم حجۃالاسلام و المسلمین آغا سید حسن موسوی بھی اپنے دور کے انتہائی بزرگ اور قابل احترام باعمل عالم دین تھے۔ حوزہ علمیہ نجف اشرف میں آپ نے اس دور کے بزرگ مجتہدین آیت اللہ ابولحسن اصفہانی، آیت اللہ سید حسین بروجردی، آیت اللہ محسن الحکیم اور دیگر اساتید سے کسب فیض کیا۔ زمانہ طالب علمی میں آپ ایک ذہین لائق اور مثالی شاگرد کے طور پر اپنے ہم جھولیوں اور استاد سے داد تحسین حاصل کرتے رہے۔ زمانہ طالب علمی میں ایسے ذہین لائق اور ممتاز دوستوں سے آپ کا واسطہ رہا جنہوں نے تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ انہی دوستوں میں سے ایک شہید نواب صفوی ہیں، جنہوں نے شہنشاہ ایران کے خلاف نہ فقط علمی اور عملی جدوجہد شروع کی بلکہ مسلح جدوجہد کے ذریعے عالمی استعمار کے ایجنڈوں کو یکے بعد دیگرے واصل جہنم کیا اور ایران اسلامی میں عالمی استعمار کے پنجوں کو کمزور کرنے اور بعد میں ایک عظیم انقلاب کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ ان کی خوش نصیبی اور خوش قسمتی تھی کہ ایسے انقلابی دوستوں کی رفاقت نے آپ کی فکری اور نظریاتی افکار کو مزید مضبوط اور استوار کیا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جب امام خمینی ( رہ ) کی قیادت میں انقلاب اسلامی کا آغاز ہوا تو ہر قسم کی مشکلات کو برداشت کرتے ہوئے پاکستان میں اس مرد جری نے امام خمینی ( رہ ) کی شخصیت اور آپ کے انقلابی ییغام یعنی خاتم المرسلین کے خالص اسلام کے پیغام کو عام کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا اور آخری وقت تک آپ امام خمینی ( رہ ) کے سچے عاشق کے طور پر پاکستانی عوام بالخصوص جوانوں کے درمیان امام کے افکار کو عام کرنے کے لیے شب و روز کوشاں رہے۔ مرحوم کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ آئی ایس او پاکستان جو کہ ایک الٰہی کاروان ہے کے بانیوں میں سے تھے اور آخری دم تک آئی ایس او پاکستان کی سرپرستی فرماتے رہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں گو ناگوں اسلامی موضوعات پر درس و دروس کا آغاز آپ ہی نے کیا تھا اور آج ہر مسجد و مدرسہ اور امام بارگاہ میں دروس کا اہتمام ہوتا ہے جہاں نوجوان، بچے، بوڑھے اور خواتیں و حضرات کی فکری اور نظریاتی تربیت ہوتی ہے۔ آغا مرحوم پاکستان میں جہاں بھی سفر کرتے وہاں مجالس و محافل کے علاوہ خصوصی طور پر جوانوں کے لیے درس دیا کرتے تھے یوں معاشرے میں محافل اور دروس کے انتظام کی ترویج کیا کرتے تھے۔ آپ جہاں بھی سفر کرتے وہاں کے جوان شمع کے پروانے کی طرح آپ کے گرد جمع ہوتے اور آپ انہیں اپنی خداداد صلاحیتوں کے ذریعے نہایت شیرین زبان میں اسلام اور اس کے آداب اور خصوصا انقلابی افکار سے روشناس کراتے اور ہر ایک کی خواہش ہوتی کہ گھنٹوں آپ تقریر کرتے رہیں اور وہ علم و معرفت سے سیراب ہوتے رہیں۔

آپ نے روایتی مجالس و محافل کو بامقصد اور زیادہ سے زیادہ مفید بنانے کے لیے نہایت اہم کردار ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیک وقت کئی خوبیوں سے نوازا تھا۔ شیرین، سلیس، معلومات سے مملو اور زمینی حقائق کے مطابق گفتگو کرنے کی آپ کو مہارت حاصل تھی۔ دینی و ملّی حالات حاضرہ پر آپ کی گرفت اتنی مضبوط رہتی تھی کہ جب آپ مسائل کا تجزیہ و تحلیل کرکے اور ان پر صحیح اسلامی اصولوں کی تطبیق فرماتے تو وہ لوگوں کی دلوں میں اتر جاتے، کیونکہ دل سے جوبات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔ مرحوم فن خطابت کے عظیم شہسوار تھے آپ جہاں بھی زیب منبر ہوئے وہاں لوگوں کا جم غفیر آپ کو سننے کے لیے جمع ہوتا، نہ فقط شیعہ بلکہ ہر مکتب فکر کے لوگ آپ کو شوق سے سنتے بلکہ آپ کو سننے کے لیے دور دور سے لوگ جمع ہوتے اور آپ اپنی مخصوص فصاحت و بلاغت کے ساتھ تعلیم اہلبیت علیہم السلام کو بیان کرتے تو لوگ نہ فقط آپ کے گرویدہ ہوجاتے بلکہ اسلام حقیقی کی شناخت کے ذریعے اپنے دلوں کو منور کرتے اور مکتب آل محمدؑ کے گرویدہ ہوتے تھے جس کے بے شمار نمونے موجود ہیں۔

علامہ مفتی جعفر مرحوم ( رہ ) کے دور سے ہی آپ تحریک جعفریہ پاکستان کی سپریم کونسل کےرکن رہے۔ شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی ( رہ ) کے شانہ بشانہ ملت جعفریہ کی ترقی کے لیے سرگرم رہے۔ 6 جولائی 1987ء میں شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی ( رہ ) نے مینار پاکستان پر قرآن وسنت کانفرنس کا انعقاد کیا وہاں آپ کی تقریر نے تو پورے مجمع کو اٹھایا اور نعرے لگانے پر مجبور کیا۔ آج بھی لوگ آپ کی اس دن کی تقریر کو یاد کرتے ہیں۔ جہاں آپ نے ملت تشیع کو صالح قیادت کے پرچم تلے اکھٹے کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا بلکہ میں یوں کہوں گا کہ پاکستان میں شہید قائد عارف حسین الحسینی ( رہ ) کو متعارف کرانے اور ان کی قیادت کو پاکستانی عوام میں مقبول کرانے میں آغا علی موسوی مرحوم نے کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ شہید قائد کے دست ِ راست تھے۔ شہید قائد جہاں بھی تشریف لے جاتے آپ ان کے ساتھ ہوتے اور اپنی انقلابی تقریروں کے ذریعے شیعہ قوم کو بیدار اور منظم کرنے اور اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ کرانے میں مرحوم نے بنیادی کردار ادا کیا۔

مرحوم نے علماء کو ہمیشہ متحد رکھنے اور انہیں اپنے زمانے سے ہم آہنگ اور صالح قیادت کے ساتھ مربوط رکھنے میں کردار ادا کیا جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ آپ کے دور میں پورے پاکستان میں جہاں بھی کوئی بڑا اجتماع ہوتا وہاں آپ کے بغیر اس اجتماع کا اختتام ممکن نہیں ہوتا۔ خلاصہ کلام یہ کہ آپ ہر محفل کی جان ہوتے جہاں آپ موجود ہوں وہاں محفل کی ایک خاص رنگت ہوتی، حسن مزاح ہو یا تقریر کی شعلہ بیانی ہو آپ کا ہر انداز منفرد ہوتا۔ آپ آل محمدؑ کے مصائب بیان کرتے تو پوری مجلس پر رقت قلب طاری ہوجاتی تھی اور نالہ و شیوہ کی آواز بلند ہوتی تھی۔ ایک ہی آن میں مجمع کو ہنسانا اور رلانا یہ وہ ہنر تھا جس میں آپ بے مثال تھے۔

اگرچہ آپ کی شہرت ایک بلند پایہ خطیب کی حیثیت سے ہوئی مگر اس حقیقت سے بہت کم لوگ واقف ہیں کہ آپ ایک بہترین شاعر بھی تھے آپ کی حاضر جوابی کی داستان اگر لکھی جائے تو ایک کتاب بن جائے۔ معاملہ فہمی میں مرحوم بے نظیر تھے آپ کے معاملہ فہمی سے مربوط واقعات کو جمع کیا جائے تو وہ ایک بہترین سبق آموز کتاب بنے گی۔ مرحوم کی دینی، معاشرتی اور فلاحی خدمات آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔ دین اسلام خصوصاً مکتب اہل بیتؑ سے آپ کا عشق ہمارے لیے بہترین نمونہ عمل ہے۔ آپ نے اپنی تمام اولاد کو دینی تعلیم سے نوازا اور آج ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ اسلام کی سربلندی اور ترویج مکتب اہل بیتؑ کے لیے شب و روز محنت میں کوشاں ہے۔ غرض مرحوم نے اپنی زندگی میں وہ کارہائے نمایاں انجام دئیے جس کی توفیق بہت کم افراد کو ہوتی ہے۔ بطور مثال حسینیہ مشن حسین آباد، ادارہ درس و عمل لاہور، آئی ایس او پاکستان کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ 1974 میں ہیئت علماء امامیہ کے نام سے بلتستان بھر کے جید علمائے کرام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جس کے آپ پہلے صدر بنے۔ بلتستان میں پہلی مرتبہ ایک ادبی مجلہ ‘‘ حبل المتین ’’ کا اجراء کیا۔ اس مجلے کی وساطت سے تبلیغ کے ساتھ ساتھ علماء، شعراء اور مذہبی و سماجی شخصیات کے تعارف اور معارف دین کی تبلیغ و ترویج کرتے رہے۔

اپنی مدد آپ کے تحت حسین آباد کے گھر گھر سڑکیں بنائی۔ پاکستان بھر میں مساجد، امام بارگاہیں اور مدارس کی تعمیر میں آپ عمر بھر کوشاں رہے۔ جامعۃ المنتظر ماڈل ٹاؤن کی تعمیر میں آپ نے علامہ صفدر حسین نجفی کے ساتھ شانہ بشانہ کام کیا۔ مدرسہ حیدریہ کھرگرونگ، مدرسہ قرآن و عترت سیالکوٹ، درسگاہ علوم اسلامی فیصل آباد نیز درسگاہ علوم اسلامی موچی دروازہ لاہور بھی آپ ہی کی کا وشوں کا نتیجہ ہے۔ مختلف فلاحی ادارے بھی آپ کے زیر سرپرستی چل رہے ہیں جن میں تنظیم آل عمران لاہور کے ماتحت چلنے والے ادارے نمایاں ہیں۔ بلتستان میں عاشورا اور اسد عاشورا کےجلوس کو ترویج دینے میں آپ نے بھرپور کردار ادا کیا۔ بلتستان میں جشن مولود کعبہؑ، یوم الحسینؑ اور عید غدیر جیسی تقریبات کو جدید طرز پر جلسے کی صورت میں انعقاد کرنے کی بنیاد بھی آپ نے ہی ڈالی ہے۔ ان تمام امور میں سب سے اہم بات معاشرے کے بے شمار لائق اور ذہین افراد کی فکری اور نظریاتی تربیت ہے جن میں سے ہر ایک آج پورے معاشرے کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں اور یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہترین نمونہ ہیں۔ مرحوم چار زبانوں عربی، فارسی، اردو اور بلتی زبان پر عبور رکھتے تھے اور ہر زبان میں فصاحت و بلاغت کے ساتھ تقریر و تحریر کے جوہر دکھاتےتھے۔

ایران عراق جنگ کے دوران ایران کے مشہور شہر اصفہان کے نماز جمعہ کے اجتماع سے آپ کے تاریخی خطاب کو وہاں کے شہری اب بھی یاد کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ آج ہم ایک مثالی عالم دین، بلند پایہ خطیب، مشہور و معروف مبلغ اور ایک عظیم روحانی باپ سے محروم ہوگئے اور یہ عظیم دانشور آج اپنی عظیم المرتبت ماں کے قدموں میں آپ کی وصیت کے مطابق ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آرام فرما رہے ہیں۔ وہی ماں جس کی مثالی تربیت نے سید علی کو آغا علی الموسوی بنایا تھا۔ الجنۃ تحت اقدام الامہات۔ اللہ تعالیٰ سے ہماری دعا ہے کہ ہمیں ان کے دکھائے ہوئے راستے پر چلنے کی توفیق جبکہ آپ کے خاندان کو صبر عظیم عنایت فرمائے

hafizجامعتہ المنتظر لاہور کے پرنسپل کا اسلام ٹائمز سے خصوصی انٹرویو میں کہنا تھا کہ شیعہ علماء کونسل اور مجلس وحدت مسلمین میں اتحاد ممکن ہے۔ اس وقت حقیقتاً دیکھا جائے تو دونوں جماعتوں میں کوئی بہت بڑی لڑائی نہیں، یعنی یہ نہیں کہ جلسہ کوئی ہو رہا ہو۔ دھواں دھار تقریریں کرکے ایک دوسرے کو رگڑا پلایا جائے، ایسا نہیں ہے۔ تھوڑا بہت تو ہوتا رہتا ہے، جیسے لطیف اشارے تو کر دیتے ہیں۔ یہ علامت ہے سیز فائر کی۔ جس قوم میں سیز فائر ہو، وہاں اتحاد بڑے آرام سے ہوسکتا ہے۔
آیت اللہ حافظ ریاض نے مزید کہا کہ مولانا شہید سید عارف حسین الحسینی کی شخصیت جاذب تھی، جوان آدمی تھے، نجف اشرف میں آئے تو ان کی مونچھیں بھی نہیں آئی تھیں۔ تو وہاں بھی متحرک رہے۔ جب میٹنگز ہوئی تھیں۔ راولپنڈی اسلام آباد میں جب کنونشن ہوا تھا۔ اس میں ان کا کردار بہت اچھا اور نمایاں تھا۔ یعنی جوان آدمی پہلی دفعہ ظاہر ہوا۔ سامنے نکلا کہ کنونشن ہونا چاہیے ہمیں جلوس نکالنا چاہیے۔

کچھ علاقے کے لوگ ایسے تھے کہ کہتے تھے کہ اگر گولی چل گئی تو کیا ہوگا۔ کون ذمے داری لے گا۔ لیکن شہید عارف الحسینی شد و مد سے کہتے رہے اور علماء کی نظر میں نمایاں ہوگئے۔ کسی کا پتہ تو نہیں ہوتا کہ کس ذہن کا ہے۔ تو بھکر کنونشن میں آواز آئی کیوں نہ علامہ عارف الحسینی کو قائد بنا دیا جائے۔ پھر قصر زینب میں ہم پانچ چھ آدمی بیٹھے تھے۔ مولانا جواد ہادی بھی ساتھ تھے۔ مولانا شیخ علی مدد مرحوم تھے۔ مولانا صفدر حسین مرحوم تھے، میں تھا، مولانا کرامت علی شاہ صاحب، وزارت حسین نقوی صاحب بھی تھے۔ بات چیت ہوئی۔

پہلے علامہ عارف الحسینی سے بات چیت ہوئی کہ آپ قیادت قبول کریں، وہ قبول نہیں کر رہے تھے۔ ہم نے کہا کہ اگر تو قبول نہیں کرتے تو آپ نائب بن جائیں۔ لیکن شیخ علی مدد نے کہا کہ نیابت وغیرہ نہیں۔ میں تو چاہتا ہوں کہ یہ قیادت مکمل قبول کریں۔ تو وہاں پانچ چھ آدمیوں نے مشورہ کیا، انہین قائل کیا اور یقین دہانی کروائی کہ ہم آپ کی حمایت کریں گے، تو پھر یہ اس وقت قائد بن گئے۔ اور یہ خیال ہمارا تھا کہ یہ آدمی کام کرسکتا ہے۔ اعتماد پیدا ہونا شروع ہوا۔ اس کنونشن سے۔ انہوں نے پورے ملک کا دورہ کیا۔ انہوں نے پورے ملک کو اکٹھا کیا۔ ذاکرین، خطباء اور واعظین جیسے مفتی جعفر حسین کے زمانے میں اکٹھے ہوئے، ان کے زمانے میں بھی اکٹھے ہوگئے تھے۔ تو انہوں نے بہترین کام کیا۔

syria

شام میں حلب شہر میں شدت پسندوں کی شکست کے بعد اب عالمی سطح پر اس خطرے کی جانب متوجہ کیا جارہا ہے کہ شدت پسند اپنی شکست کے بعد

کیمیکل اسلحہ استعمال کرسکتے ہیں
روئٹرز نیوز نے چنددن قبل ہی اپنی ایک روپورٹ میں تصاویر کے توسط سے ثا بت کیا تھا کہ شام میں شدت پسندوں کے پاس کیمیکل اسلحہ موجود ہے جو انہوں نے لیبیا سے حاصل کیا ہے 
جبکہ دیگر زرائع کے مطابق یہ کیمیکل اسلحہ امریکی ساخت کا ہے جس سے لگتا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے شدت پسندوں کودیے جانے والی خاص امداد کا حصہ ہے
اس وقت کیونکہ شدت پسند دارالحکومت دمشق سے لیکر صنعتی شہر حلب تک شکست کھا چکے ہیں تو اس بات کاخطرہ بڑھ چکا ہے کہ شدت پسند اپنے اہداف کے حصول کے لئے کیمیکل اسلحے کا استعمال کریں 
خاص کر کہ شدت پسند اب تک عام آبادی کو اپنے لئے ڈھال کے طور پر استعمال کرتے آئے ہیں اور فوج کے گھیرے میں پھنسنے کے بعد شدت پسندوں نے آبادی پر حملے کئے ہیں 

shabqader

مرکزی آفس مجلس وحدت مسلمین پاکستان میں شب قدر اور شب ضربت امیر المومنین مولا و آقا امام علی ع کی مناسبت سے مصائب پڑھے گئے اور شب 

قدر کے اعمال بجالائے گئے 
مشترکہ طور پر انجام پانے والے عمل قرآنی میں دفتر کے عملہ سمیت مدارس کے بعض طلبہ نے بھی شرکت کی جبکہ عمل قرآنی کی سعادت میڈیا منیجر کو حاصل ہوئی
روح پرور ماحول کے ساتھ مرکزی آفس کے عملے نے شب قدر کی رات کو دعا و مناجات میں گذاری اور عالم وطن عزیز کی سلامتی سمیت عالم اسلام میں بھائی چارگی اور خاص کر رہبر مسلمین کی درازی عمر کیلئے میں دعائیں مانگیں گئیں

abumarzoq

فلسطینی تنظیم حماس کے نائب صدر موسی ابومرزوق نے مصری ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شام میں جاری دہشت گردی کے بارے میں ایک بار پھر ایک ایسا بیان دیا ہے جو کم و بیش اس سے قبل حماس کے سربراہ خالد مشعل کئی بار دے چکے ہیں 
ابومرزوق کا کہنا ہے اس کے باوجود کی شام میں بے گناہوں کاخون بہایا جارہاہے حماس کی اخلاقیات موجودہ شامی نظام کے ساتھ سابقہ دوستی کی پاسداری پر مجبور کرتیں ہیں 
یعنی شام میں جاری دہشت گردوں کے خلاف شامی افواج کی کاروائیوں کو ابو مرزوق بے گناہوں کا خون بہانا کہتے ہیں اور دوسری جانب وہ حماس کی اخلاقیات کی پاسداری کی بات بھی کر رہیں صاف صاف ظاہر ہے کہ عین اس وقت کہ جب شام پر عالمی استعماری یلغار ہورہی ہے تو حماس نے دمشق کو چھوڑ دیا اور قطر اور مصر میں پناہ لی۔
ابو مرزوق سے یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ کیا ان کے اس عمل کو حماس کی اخلاقیات اچھا سمجھتیں ہیں؟
جو کچھ عالمی دہشت گردوں کی جانب سے خطے کے واحد اسرائیل مخالف ملک کے ساتھ کیا جارہا ہے کیا حماس اس کی مذمت کرتی ہے؟
کیا حماس شام میں جاری دہشت گردانہ کاروائیوں کو قطر کی طرح بیداری کی تحریک سمجھتی ہے یا پھر استعماری سازش ؟اگر ان کے خیال میں شام میں ڈکٹیٹرشب ہے تو پھر جہاں نے انہوں پناہ لی ہے یعنی قطر میں جمہوریت ہے؟
حقیقت تو یہ ہے کہ شام میں جب سے امریکہ اسرائیل اور کچھ عرب ممالک نے خطے میں تحریک مزاحمت کو کمزور کرنے کے لئے سازش شروع کی ہے حماس نے اپنا اصولی موقف اختیار کرنے کے بجائے ایک ایسا قدم اٹھایاہے جس کا فائدہ صرف شام میں موجود دہشت گردوں اور ان کے آقاووں کو ہوتا ہے 
ابومرزوق نے اپنی اسی گفتگومیں شاید حماس کی جانب سے اس وقت شام میں دفتر کھولے جانے کے اعتراض کا قبل از وقت جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس وقت ہم نے دیکھا کہ شام میں پناہ کی شکل میں جو آسانیاں تھیں وہ کسی اور عرب ملک میں نہ تھیں 

ameen

چینوٹ میں رات گئے پنجاب حکومت کے پالتو سفاک کرایے کے قاتل ملک اسحاق اور اسکے ٹولے نے شب ضربت امام علی ؑ میں آنے والے عزاداروں
 کوزودکوب کیا اور شیعہ کافر کے نعرے لگائے ان نفرت انگیزیوں کے خلاف چینوٹ کے اہل تشیع سراپا احتجاج ہوئے اور اس مسجد کے سامنے دھرنا لگا یا جس میں پنجاب حکومت کے کرایے کا قاتل بیٹھا ہواتھا اسی اثنامیں نامعلوم افرادکی جانب سے ہوائی فائرنگ کی گئی 

رات گئے مقامی پولیس اور دھرنے میں شریک عزادارو ں کے درمیان مذاکرات ہوئے شرکاء دھرنے کا مطالبہ تھا کہ شرپسندوں اور مذہب اہلبیت ع کے توہین کے مرتکبین کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے جو آخر کار مقامی پولیس نے بادل ناخواستہ ایف آئی آر کاٹی لیکن حسب عادت بیلنس کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے بے گناہ عزاداروں کے خلاف بھی ایف آئی آر کاٹی اور اس ایف آئی آر میں معروف دانشور اور عالم دین مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی صاحب کے خلاف بھی دھرنے کے شرکاء سے خطاب ،نقص امن،اور دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر کاٹی ہے 
ملک بھر میں اہل سنت اور شیعہ علماء و دانشور چینوٹ انتظامیہ کی اس انوکھی ایف آئی آر پر حیرت زدہ ہیں اور اس کی مذمت کر رہے ہیں 
یہ بات تو سب پر عیاں ہے کہ پنجاب حکومت کے قانون کس طرح قانون کو دہشت گردوں کے حق میں استعمال کرتا ہے گذشتہ دنوں زرائع ابلاغ نے اپنے ٹاک شوز میں یہ بات واضح کردی تھی کہ دہشت گردوں کو مالی سپورٹ کون کرتا ہے اور کس نے دہشت گردوں کو جیل سے آزادی دلائی ہے 

karachiiftar

ایم ڈبلیو ایم کراچی ضلع ملیرکی جانب سے قرآن کانفرنس و دعوت افطار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم کے سیاسی میدان میں وارد ہونے سے قومی سطح پر ملت تشیع اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہو رہی ہے۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن ڈسٹرکٹ ملیر کی جانب سے 5 اسٹار لان جعفر طیار سوسائٹی میں قرآن کانفرنس و دعوت افطار کے پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی شوریٰ عالی کے چیئرمین مولانا شیخ محمد حسن صلاح الدین، صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل مولانا مختار امامی اور ڈسٹرکٹ ملیر کے سیکریٹری جنرل سجاد اکبر زیدی نے خطاب کیا۔ اس موقع پر کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل محمد مہدی، ڈویژن کابینہ کے اراکین، صابر کربلائی ( ترجمان فلسطین فاؤنڈیشن )، توفیق الدین ( امیر جماعت اسلامی ضلع ملیر )، راؤ محمد اقبال ( ڈی ایس پی ملیر )، اعجاز زیدی ( صدر جعفر طیار سوسائٹی ) و دیگر مہمانان گرامی بھی موجود تھے۔

salahudin

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے قیام کے نتیجے میں ملت تشیع میں قومی، سیاسی، سماجی حوالوں سے موجود طویل جمود کا خاتمہ ممکن ہوا۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی شوریٰ عالی کے سربراہ حجتہ السلام و المسلمین مولانا شیخ محمد حسن صلاح الدین، صوبائی سیکریٹری جنرل مولانا مختار احمد امامی اور ضلعی سیکریٹری جنرل سجاد اکبر زیدی نے ایم ڈبلیو ایم ڈسٹرکٹ ملیر کیجانب سے 5 اسٹار لان جعفر طیار سوسائٹی میں منعقدہ قرآن کانفرنس و دعوت افطار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا شیخ محمد حسن صلاح الدین کا کہنا تھا کہ ایم ڈبلیو ایم کے سیاسی میدان میں وارد ہونے سے قومی سطح پر ملت تشیع اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہو رہی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے قیام کے نتیجے میں ملت تشیع میں قومی، سیاسی، سماجی حوالوں سے موجود طویل محرومیوں کا ازالہ ممکن ہوا ہے۔

مولانا مختار امامی نے کہا کہ قرآن فقط ایک کتاب نہیں بلکہ مکمل ضابطہ حیات ہے۔ مسلمان تعلیمات قرآن پر عمل پیرا ہوکر اپنی تمام اجتماعی، سیاسی، معاشرتی اور انفرادی مشکلات سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ سجاد اکبر زیدی نے تقریب میں شریک تمام مہمانان گرامی مولانا شیخ محمد حسن صلاح الدین، مولانا مختار امامی، محمد مہدی، صابر کربلائی (ترجمان فلسطین فاؤنڈیشن)، توفیق الدین (امیر جماعت اسلامی ضلع ملیر)، راؤ محمد اقبال (ڈی ایس پی ملیر)، اعجاز زیدی (صدر جعفر طیار سوسائٹی) اور تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

maqsood

فلسطین فاونڈیشن بلوچستان کے زیر اہتمام کوئٹہ میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا عنوان "فلسطین فلسطینیوں کا وطن" تھا۔ کانفرنس کی صدارت علامہ مقصود علی ڈومکی نے کی جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر کمانڈر خدائیداد خان مہمان خاص تھے۔ کانفرنس سے جمہوری وطن پارٹی نظریاتی کے
مرکزی رہنماء محمد یوسف نوتیزئی، مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماء علامہ سید ہاشم موسوی، بلوچ قوم پرست رہنما میر عبدالروف ساسولی، ممتاز عالم دین آقا مبشری نے خطاب کیا۔

کانفرنس میں مشہد حرم مطہر رضوی کے ممتاز بین الاقوامی قاری قرآن کریم جناب مہدی شجاع نے تلاوت کلام پاک کا شرف حاصل کیا۔ اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نےکہا کہ آزادی فلسطین کی منزل قریب ہے اور اقوام عالم اسرائیل غاصب کے خلاف متحد ہورہی ہیں۔ کوئٹہ کی سر زمین کے غیور فرزندان اسلام نے آزادی بیت المقدس کے لئے اپنے لہو کا نذرانہ پیش کیا۔ ان پاکیزہ صفت روزہ داروں کا خون ناحق اسرائیل کی بربادی کا باعث ہوگا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ANP کے مرکزی نائب صدر کمانڈر خدائیداد خان نے کہا کہ عرب دنیا میں برپا ہونے والے انقلاب نوید آزادی ہیں۔ ہم تحریک آزادی فلسطین کے حامی ہیں۔ اس موقعہ پر نور زہراء نےترانہ پڑھی

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree