The Latest

وحدت نیوز (قم)  مجلس وحدت مسلمین قم کے سابق سیکرٹری جنرل  حجۃ الاسلام آقای موسی حسینی کے استعفے کے بعد نئے سیکرٹری جنرل کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق مجلس وحدت مسلمین قم کے سابق سیکرٹری جنرل  حجۃ الاسلام آقای موسی حسینی نے ایک ہفتہ قبل اپنی تعلیمی مصروفیات کے باعث اپنی مسئولیت سے استعفیٰ دیدیا تھا ۔آج  مجلس وحدتِ قم کی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس میں ایم ڈبلیو ایم شعبہ امورِ خارجہ کے مسئول حجۃ الاسلام ڈاکٹر شفقت شیرزی نے ان کا استعفیٰ قبول کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد  مجلسِ شوریٰ نے ضروری بحث و تمحیص کے بعد اتفاقِ رائے سے سابق ڈپٹی سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام عادل علوی کو نیا سیکرٹری جنرل منتخب کیا۔ اس انتخاب کے بعد نئے سیکرٹری جنرل نے مجلسِ شوریٰ کے سامنے مختصر خطاب کیا اور جلد ہی نئی کابینہ تشکیل دینے کا عندیہ بھی دیا۔

وحدت نیوز (خیرپور)  ملک گیر یوم مردہ باد امریکہ کے حوالےسے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں منعقد ہو رہی ہیں ، خیرپور کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پرامن امریکا مخالف احتجاج میں رکاوٹ افسوس ناک عمل ہےمجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے ایس ایس پی خیرپور کی جانب سے وطن عزیز پاکستان اور امت مسلمہ کی حمایت میں ہونے والے پر امن احتجاج کی راہ میں رکاوٹ کو افسوس ناک عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیرپور پولیس کس قانون کے تحت پر امن احتجاج کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہی ہے جمہوری ملک میں پرامن عوام کا بنیادی حق ہوتا ہے خیرپور کی متعصب انتظامیہ کا رویہ ملکی آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

لبنان ، جمہوریت اور پاکستانی معاشرہ

وحدت نیوز (آرٹیکل)  مشرق وسطیٰ کے ملک لبنان میں حالیہ الیکشن کے بعد میرے حلقہ احباب میں بہت زیادہ بحث دو حوالوں سے بہت زیادہ ہورہی ہے۔ ایک گروہ جمہوریت کے نظام کو طاغوت اور ووٹ دینے کو ربوبیت سے انکار کرنا قراردینے والے سپر انقلابی نظریئے کے افراد وہاں کے شیعہ انقلابی تنظیم حزب اللہ کا فرانسیسی جمہوری نظام میں بھرپور حصہ لیکر جیتنے پر دلائل دے رہے ہیں کہ لبنان اور ہے پاکستان اور۔ یعنی لبنان میں جمہوریت جائز جبکہ پاکستان میں طاغوت اور انکار ربوبیت یعنی شرک۔ اتنا ہی نہیں بلکہ لبنان کے جمہوری نظام میں انقلابی تنظیم حزب اللہ اور اتحادیوں کی جیت پر یہی پاکستانی ماڈل کے انقلابی گروہ بہت زیادہ شاداں بھی ہیں اور اسکو ایرانی ساختہ نظام ولایت فقیہ کی جیت قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں پاکستانی جمہوریت میں حصہ لینے والے گروہ [جن کو پاکستانی ساختہ انقلابی گروہ انکار ربوبیت کے مرتکب یعنی مشرک قرار دیتے ہیں ] لبنان انتخابات اور حزب اللہ کی روش کو اپنے نظریئے کی فتح قراردیتے ہوئے پاکستان میں جمہوری عمل کا حصہ بننے کو ضروری سمجھتے ہیں۔ یہی مدلل اور حقائق کے مطابق سمجھ آنیوالی بات ہے کہ حزب اللہ کی کامیابی ایرانی انقلابی فارمولے کی یقینا جیت ہے لیکن وہ شروع دن سے اٗسی فرنچ جمہوری نظام کے اندر رہ کراور اس نظام میں بھرپور حصہ لیکر یہ جیت حاصل کرچکے۔

دوسرا گروہ اس وقت جلیلہ حیدر نامی خاتون کے ہزارہ برادری کی قتل عام کے خلاف احتجاج پر پاکستانی انقلابی عالم دین کے اعتراضات کے سامنے لبنانی عورتوں کی نیم عریاں حالت میں حزب اللہ کی سپورٹ سے موازنہ کررہے ہیں۔ یہ بات تو طے ہے کہ صرف لباس اور ظاہری حلئے سے کوئی بھی کسی پر فتویٰ نہیں لگا سکتا چاہے وہ مسلمان عورت پاکستان میں ہو یا باہر۔ اور غیر مسلم ہو یا بالفرض غیر مسلم نظریات پر ہوں تو کسی مولوی کا اس پر انگلی اٹھانا ہی نہیں بنتا۔ چہ جائیکہ وہ کوئی جلیلہ حیدر کی طرح اپنے لوگوں پر مظالم کے خلاف اٹھے یا ویسے ہی ایسے حلئے میں رہنا چاہتی ہو۔

دوسری جانب لبنان کی آبادی کو جاننے والے بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ وہاں کی چالیس سے پچاس فیصد آبادی اہل کتاب عیسائی ہیں۔ جبکہ باقی سنی اور شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہیں۔ آبادی کی اسی تناسب کے مطابق وہاں کا جمہوری سسٹم طے کیا ہوا ہے۔ سب سے بڑی آبادی سے عیسائی صدر ہوگا ، اہل سنت وزیر اعظم جبکہ شیعہ اسمبلی کا سپیکر۔ اور اس تقسیم کی وجہ سے وہاں سیاسی جماعتوں کی بجائے سیاسی اتحاد کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ جسکی مثال گزشتہ 2009 کی انتخابات اور حالیہ انتخابات سے واضح ہیں۔ گزشتہ انتخابات کے بعد رفیق حریری کا اتحاد وزیر اعظم بنانے میں کامیاب ہوا تھا جو کہ اس بار مشکل لگ رہا ہے۔ وزیر بنے گا سنی مسلمان ہی ، لیکن یہ سنی اکثریت والا اتحاد طے کریگا کہ کونسے اتحاد میں زیادہ سنی سیٹیں ہیں ۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ سنی وزیر اعظم حزب اللہ کا اتحاد بھی ہوسکتا ہے اور کسی مخالف اتحاد سے بھی۔ اسی طرح صدر سابق دور میں بھی عیسائی تھا جس کو حزب اللہ کی حمایت حاصل تھی، اور اس بار بھی واضح ہے کہ صدر حزب اللہ اتحاد سے ہی ہوگا کیونکہ حزب اللہ اتحاد میں شامل عیسائی زیادہ نشستیں حاصل کرچکے ہیں جبکہ مخالف اتحاد نے کم ۔ بالکل اسی طرح سپیکر پہلے بھی شیعہ ہی تھا، اب بھی شیعہ ہی ہوگا، جس کیلئے حزب اللہ کا اتحاد تنظیم امل کے ساتھ ہے جن کے پاس تقریبا تمام شیعہ نشستیں موجود ہیں۔ اور دوسرے اتحاد کے پاس ایک بھی نہیں۔

اب لبنان کی آبادی کے تناسب اور انتخابی اتحادی صورتحال پاکستان سے یکسر مختلف ہونے سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں کے لوگوں کی وابستگیاں بھی ویسی نہیں جیسی ہمارے ملک میں ہے۔ نہ وہاں حزب اللہ کے حامی سارے شیعہ ہیں، نہ سعد الحریری کے سارے حامی سنی ہیں اور نہ عیسائی سیاسی جماعت میں سارے صرف عیسائی۔ اسلئے حزب اللہ کے حامی عیسائی اور سنی بھی ہیں جس کے شواہد موجود ہیں، اسی طرح دوسروں کے بھی ،لھٰذا حزب اللہ کے جھنڈے کو کسی نیم برہنہ عورت کے ہاتھ میں ہونے سے اسے شیعہ کہنا حقائق کے منافی ہے۔

واضح رہے ماضی میں لبنان فرنچ کالونی رہ چکی ہے ، جیسا آزادی سے قبل پاکستان و ہندوستان برطانوی کالونی تھی۔ مشرق وسطیٰ کی ماڈرن ترین ماحول لبنان میں آج سے تیس چالیس سال پہلے سے موجود تھا، اور مغربی لوگ چھٹیاں منانے بیروت آتے۔ شہید ڈاکٹر مصطفیٰ چمران تنظیم امل اور پھر حزب اللہ کی آبیاری کرنیوالوں میں سے تھے،انکی کتاب "لبنان" کا مطالعہ لبنان کے نو آبادیاتی نظام اور وہاں کے معاشرتی و معاشی اور جغرافیائی ماحول کو سمجھنے کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس کتاب کے مطابق لبنانی شیعہ، خصوصا جنوبی لبنان کے شیعہ اکثریتی علاقے زیادہ تر غریب ہونے کی وجہ سے انکی عورتیں اسی کی دہائی میں بھی ہوٹلوں اور ہر عیاشی کے جگہوں پر کام کرنے پر مجبور تھیں۔ ہماری نسل کی پیدائش سے قبل بھی لبنان میں ماڈرن طور طریقے پاکستانیوں خصوصا گلگت بلتستان کے دیسی لبرلز کی سوچ سے بھی بہت آگے تھی۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کی آبادی مخلوط ہونے کی بنا پر شرعی امور اور نظریات میں زبردستی ہرگز ممکن نہیں تھی، اسکے باوجود حزب اللہ لبنان نے سیاست، مقاومت اور معاشرت میں وہ کام کرلیا کہ اس ماڈرن لبنان کے شیعہ انقلابی بن گئے،۔ انہوں نے طاغوت قرار دیکر کنارہ کش ہونے کی بجائے ہر شعبے میں کھل کر حصہ لیا۔ وہ زمانہ بھی دیکھا جب شیعہ تنظیم اور حزب کے اختلافات بھی عروج پر رہے۔ لیکن اختلافات کو وہ رخ نہیں دیاگیا جیسا پاکستان میں دیا جاتا ہے۔ حزب اللہ بھرپور حصہ لیکر سیاست ، معاشرت، مقاومت ہر ایک میں مثال بن گئی۔ اسرائیل کو2006 میں سبق سکھایا، اب میلی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا۔ امریکا بہادر نے دہشت گرد جماعت قراردیا، اور اس دہشت گرد جماعت نے اپنے ملک کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ شام میں بھی امریکی اتحاد کو ناکوں چنے چبوا دیا۔نتیجتا لبنان کے شیعہ اور سنی ہی نہیں بلکہ عیسائی بھی اب حزب پر فخر کرتی ہے۔

حزب اللہ ایک دم سے اپنے تمام حامیوں اور سپورٹر خواتین کو یقینا چادر نہیں اوڑھا سکتی، نہ ہی وہ ان سب کو زبردستی مسلمان بناسکتی ہے، لیکن نظریاتی طور پر اپنے آپ کو سب کیلئے مقبول عام بنانا یقینا معجزے سے کم نہیں۔ جبکہ ہمارے لوگوں کے نظریات کا یہ حال ہے کہ دیسی لبرلز ترقی کا زینہ عورتوں کی مخلوط تقاریب اور نیم عریانی کو قرار دیتے نہیں تھکتے؟ کس طرح ہم اپنی عورتوں کا مقابلہ ایسے معاشرے کے عورتوں سے کرسکیں گے جو اب سے چالیس سال پہلے بے پردگی و عریانی کی دنگل میں تھے؟ لبنانی مغربی مادر پدر آزادی کا تجربہ کرکے نظریات کی طرف آرہے ہیں، جبکہ ہمارے دیسی لبرل اسی کی دہائی سے پہلے والی لبنانیوں کو اب فالو کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ لبنانی بہت اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ فرنچ کالونی میں ذلت و رسوائی تھی، استحصال تھا، جبر وظلم تھا، بے پردگی اور عریانیت تھی، مگر عزت و شرف اگر ہے تو اسلامی اصولوں کی پاسداری، خالص نظریات، اور شجاعت و مردانگی میں ہے جو حزب اللہ نے عملا کردکھایا۔ تبھی لبرل شیعہ و سنی ہی نہیں بلکہ غیر مسلم عیسائی بھی ان کے دلدادہ ہیں۔

تحریر : شریف ولی کھرمنگی۔ بیجنگ

وحدت نیوز (ملتان)  امریکہ دنیا بھر میں دہشت گرد قوتوں کا سرپرست ہے، ملک بھر میں قائد وحدت علامہ ناصر عباس کی اپیل پرمئی کو یوم مردہ باد امریکہ منایا جائے گا۔ ملک بھر میں امریکی ناپاک عزائم کے خلاف احتجاج اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔جنوبی پنجاب بھر میں احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے کیے جائیں گے، جنوبی پنجاب کی مرکزی ریلی ملتان میں دولت گیٹ سے چوک گھنٹہ گھر تک نکالی جائے گی، ان خیالات کااظہار مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 علامہ اقتدار نقوی نے مزید کہا کہ امریکہ ہی ہے جو فلسطین میں اسرائیل کے غاصبانہ تسلط اور ناجائز ریاست اسرائیل کے جرائم کی پشت پناہی اور سرپرستی کر رہا ہے، امریکہ ہی ہے کہ جس نے پہلے افغانستان پھر عراق میں اپنے دہشتگردانہ ناپاک عزائم کو تکمیل دینے کے کئے دسیوں ہزار معصوم انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا۔امریکہ ہی ہے کہ جس نے داعش جیسی خونخوار دہشت گروہوں کو جنم دیا اور شام و عراق میں دہشت گردی کا بازار گرم کیا اب یہی امریکہ شام و عراق میں ناکام ہونے کے بعد اپنے ناپاک منصوبوں کا نشانہ پاکستان کو بنانے پر تلا ہوا ہے اور داعش جیسی دہشتگرد تنظیموں کو افغانستان میں سرپرستی کر کے خطے کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔یہ ایک الارمنگ صورت حال ہے افغانستان اور پاکستان میں گزشتہ چند ماہ میں ہونے والی ہزارہ برادری کی کلنگ کے پیچھے انہی دہشت گردوں کا ہاتھ ہے جو امریکا اور اسکے اتحادیوں نے ہی بھرتی کئے اور انہیں جہاد کے نام پر استعمال کیا۔ مختلف ممالک کے وسائل کی لوٹ مار کرنا، کٹھ پتلی حکومتیں قائم کرکے ڈکٹیٹروں ظالم موروثی حکومتوں اور شیوخ و بادشاہوں کو قوموں پر مسلط کرکے انکی آزادیوں کو سلب کرنا، یہ سب امام خمینی کے اس جملے کو بالکل سچ ثابت کرتا ہے کہ ہماری تمام ترمشکلات کا ذمے دار امریکا ہے کئی جگہ دہشت گرد امریکی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں۔دنیا بھر میں جتنی بھی بد امنی ہے اس کے پیچھے امریکہ اور اس کے حواری ہیں جو دنیا پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لئے دنیا بھر میں انسانوں کا خون بہارہے ہیں۔ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا شیطان اور دہشت گرد ہے۔

رہنماں کا کہنا تھا کہ امریکہ کا مقبوضہ یروشلم میں اپنا سفارتخانہ منتقل کر نے اورامریکی حکومت کا پاکستان کے ساتھ نازیبا رویہ قابل مذمت ہے۔13 مئی کو علامہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر ملک بھر میں یوم مردہ باد امریکہ کے عنوان سے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔اجلاس میں صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سلیم عباس صدیقی، مہر سخاوت علی، وسیم زیدی، مرزاوجاہت علی ، ثقلین نقوی اور دیگر موجود تھے۔

وحدت نیوز (سکردو)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع اسکردو کا ایک اہم اجلاس ضلعی سیکرٹریٹ میں ایم ڈبلیو ایم ضلع اسکردو کے سربراہ شیخ ذیشان علی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی اراکین کے علاوہ ضلعی اراکین نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کے مجوزہ اصلاحاتی پیکج پر غور کیا گیا اور اسے عوام دشمن پیکج قراد دیتے ہوئے مسترد کردیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس پیکج کو کسی صورت خطے کے عوام پر لاگو ہونے نہیں دیں گے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ جس طمطراق کے ساتھ صوبائی حکمران آئینی پیکج کے حوالے سے اعلانات کرتے رہے، اس سے ایسا لگ رہا تھا کہ ستر سالوں سے حقوق سے محروم خطے کے عوام کو ایسا پیکج دیں گے کہ وہ دیگر صوبوں سے بہتر نہیں تو کم از کم برابر ضرور ہوں گے، لیکن انتہائی شرمناک پیکج سامنے آیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ عوام ایک عرصے سے اختیار مانگ رہے تھے اور مطالبہ کررہے تھے کہ این ایف سی ایوارڈ سمیت دیگر مالیاتی اداروں میں نمائندگی دی جائے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ عوام کا مطالبہ تھا کہ پارلیمنٹ اور سینیٹ میں اس خطے کے عوام کو نمائندگی دی جائے، ساتھ ہی عوام یہ بھی مطالبہ کر رہے تھے کہ جی بی کو ٹیکس فری زون قرار دیا جائے تاکہ یہاں کے غریب عوام کے لئے روزگار کے مواقع ملیں۔ لیکن اس پیکج میں نہ صرف عوامی مطالبات کو تسلیم نہیں کیا گیا بلکہ عوام سے مزید اختیارات کو چھیننے، عوام پر ظالمانہ اور غیر قانونی ٹیکس کو نافذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس خطے کے عوام اور اداروں کو مستحکم کرنے کی بجائے وزیراعظم کو سیاہ و سفید کا مالک بنایا گیا ہے۔ نہایت افسوس کا مقام ہے ایک طرف صوبائی حکومت جی بی کو بااختیار کرنے کی باتیں کرتی ہیں اور دوسری طرف ان کو غلام بنانے اور عدالتوں کو پابند کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلم لیگ نون کی صوبائی حکومت خطے کی ترقی و استحکام پر وفاقی حکمرانوں کی خوشنودی کو ترجیح دیتی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس پیکج کو کسی صورت نافذ ہونے نہیں دیں گے۔

وحدت نیوز (کراچی)  امریکہ دنیا بھر میں دہشت گرد قوتوں کا سرپرست ہے، ملک بھر میں علامہ راجہ ناصر عباس کی اپیل پر 13 مئی کو یوم مردہ باد امریکہ منایا جائے گا، ملک بھر میں امریکی ناپاک عزائم کے خلاف احتجاج اور ریلیاں نکالی جائیں گی، شہر قائد میں مرکزی یوم مردہ باد امریکہ ریلی نمائش تا تبت سینٹر نکالی جائے گی، دنیا بھر میں جاری امریکہ و اسرائیلی مظالم کے خلاف آئمہ جمعہ خطبات دیں گے، آئمہ جمعہ خطبات میں 13 مئی یوم مردہ امریکہ کی حمایت اور عوام سے اجتماعات میں شرکت کی اپیل کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار علامہ احمد اقبال رضوی، علامہ مرزا یوسف حسین، علامہ باقر عباس زیدی، علامہ صادق جعفری سمیت مجلس وحدت مسلمین، ہیئت آئمہ مساجد و علماء امامیہ، مجلس علماء شیعہ پاکستان، مجلس ذاکرین امامیہ کے رہنماوں نے کراچی پریس کلب میں منعقدہ اپنی مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ رہنماوں کا کہنا تھا کہ امریکہ ہی ہے جو فلسطین میں اسرائیل کے غاصبانہ تسلط اور ناجائز ریاست اسرائیل کے جرائم کی پشت پناہی اور سرپرستی کر رہا ہے، امریکہ ہی ہے کہ جس نے پہلے افغانستان پھر عراق میں اپنے دہشتگردانہ ناپاک عزائم کو تکمیل دینے کے لئے دسیوں ہزار معصوم انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا، امریکہ ہی ہے کہ جس نے داعش جیسی خونخوار دہشت گروہوں کو جنم دیا اور شام و عراق میں دہشت گردی کا بازار گرم کیا اب یہی امریکہ شام و عراق میں ناکام ہونے کے بعد اپنے ناپاک منصوبوں کا نشانہ پاکستان کو بنانے پر تلا ہوا ہے اور داعش جیسی دہشتگرد تنظیموں کو افغانستان میں سرپرستی کر کے خطے کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔

رہنماوں نے کہا کہ یہ ایک الارمنگ صورت حال ہے افغانستان اور پاکستان میں گزشتہ چند ماہ میں ہونے والی ہزارہ برادری کی کلنگ کے پیچھے انہی دہشت گردوں کا ہاتھ ہے، جو امریکا اور اسکے اتحادیوں نے ہی بھرتی کئے اور انہیں جہاد کے نام پر استعمال کیا، مختلف ممالک کے وسائل کی لوٹ مار کرنا، کٹھ پتلی حکومتیں قائم کرکے ڈکٹیٹروں ظالم موروثی حکومتوں اور شیوخ و بادشاہوں کو قوموں پر مسلط کرکے انکی آزادیوں کو سلب کرنا، یہ سب امام خمینی کے اس جملے کو بالکل سچ ثابت کرتا ہے کہ ہماری تمام تر مشکلات کا ذمہ دار امریکا ہے، کئی جگہ دہشت گرد امریکی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں، دنیا بھر میں جتنی بھی بدامنی ہے اس کے پیچھے امریکہ اور اس کے حواری ہیں جو دنیا پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لئے دنیا بھر میں انسانوں کا خون بہا رہے ہیں، امریکہ دنیا کا سب سے بڑا شیطان اور دہشت گرد ہے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ امریکہ کا مقبوضہ یروشلم میں اپنا سفارتخانہ منتقل کر نے اورامریکی حکومت کا پاکستان کے ساتھ نازیبا رویہ قابل مذمت ہے۔

رہنماوں نے اعلان کیا کہ 13 مئی کو علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر ملک بھر میں یوم مردہ باد امریکہ کے عنوان سے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی جائیں گی جبکہ مرکزی احتجاجی ریلی کراچی میں نمائش تا تبت سینٹر نکالی جائے گی جس میں عوام کی بڑی تعداد سمیت سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین بھی شریک ہوں گے۔ رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پاکستان بھر میں 13 مئی کو یوم مردہ باد امریکہ کی مناسبت سے نکالی جانے والی احتجاجی ریلیوں میں بھرپور شرکت کرکے امریکی سامراجیت کے خلاف آواز بلند کریں۔ کانفرنس میںعلامہ علی انور جعفری، علامہ اظہر حسین نقوی، علامہ مبشر حسن، میر تقی ظفرسمیت دیگر رہنما اور صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین ملک میں بسنے والے ہر فرد کے یکساں حقوق پر یقین رکھتی ہے۔قانون کی عمل داری نہ ہونے کانتیجہ عوامی استحصال کی شکل میں سامنے آتا ہے ،ہر شعبے میں قانون شکن عناصر متوسط طبقے اور عام شہریوں کے لیے مشکلات اور اذیت کا باعث بنے ہوئے ہیں ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس  جعفری نے سینٹرل سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں کیا ان کا کہنا تھا کہ ملک کے موجودہ معاشی،سیاسی و سماجی بحرانوں کے ذمہ دار سیاسی فرعون،معاشی قارون ہیں۔یہ استحصالی طبقہ ہے جو غریب کو سر نہیں اٹھانے دیتا۔ ایم ڈبلیو ایم ملک میں بسنے والے ہر فرد کے یکساں حقوق پر یقین رکھتی ہے۔قانون کی عمل داری نہ ہونے کانتیجہ عوامی استحصال کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ملک میں قانون کے نفاذ کی بجائے قانونی شکنی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ہر شعبے میں قانون شکن عناصر متوسط طبقے اور عام شہریوں کے لیے مشکلات اور اذیت کا باعث بنے ہوئے ہیں۔جو قوتیں ارض پاک کو مسلکوں کا ملک بنانے کی متمنی ہیں انہیں اپنے ناپاک عزائم میں شکست اٹھانا پڑے گی۔ہم تعصب،تقسیم اور تفریق کی دیواروں کو گرانے کے لیے پورے عزم کے ساتھ میدان میں موجود رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنائے بغیر ملک و قوم کی ترقی ممکن نہیں۔اقربا پروری اور نا اہل افراد کی کلیدی عہدوں پر تعیناتی نے ریاستی اداروں کی کارکردگی کو شدید متاثر کیا ہے۔عام انتخابات میں باصلاحیت نوجوان قیادت کو ملک کی بھاگ دور سنبھالے کا موقعہ دیا جانا چاہیے۔سیاست میں خاندانی اجارہ داری کا خاتمہ ہونا چاہیے۔کیا پاکستان کی مائیں ایسا کوئی بچہ پیدا نہیں کر سکتیں جو وطن عزیز کی سیاسی سطح پر قیادت کرے۔ملک کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو امریکہ کے دباؤ کا عوامی امنگوں اور قومی وقار کے مطابق جواب دے سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پرعالمی پریشر بہت زیادہ ہے۔ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے خطے کی ضرورت کے مطابق پائیدارپالسیاں طے کرنا ہوں گی جو نتیجہ خیز ثابت ہوں۔ پاکستان،چین،روس، ترکی، ایران اورعراق پر مشتمل ایسا اتحاد تشکیل دیا جائے جو خطے کی سلامتی کے معاملات کا نگران ہو۔ یہ اقدامات پاکستان کو نا صرف مستحکم کرنے بلکہ خود انحصاری میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کی مشکلات کے ازالے کے لیے سرائیکی صوبے کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ملک میں نظام حکومت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی جدوجہد اور انتخابات کے علاوہ اور کوئی راستہ عوام یا ملک کے مفاد میں نہیں۔ہم ریاست میں آئینی اقدامات کی حمایت جاری رکھیں گے۔مختلف سیاسی جماعتیں الیکشن میں اتحاد کے لیے ہم سے رابطے میں ہیں تاہم اس حوالے سے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا۔

وحدت نیوز(گلگت ) 18 میگا واٹ پاور پروجیکٹ کے چینل کا بار بار پھٹ جانا ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔موسمی حالات کے پیش نظر چینل کو تعمیر کیا جاتا عوامی املاک کو نقصان پہنچنے کاخدشہ کم ہوجاتا۔گزشتہ رات چینل کے پھٹنے سے مقامی آبادی کے املاک کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔حکومت سنجیدگی کا مظاہر ہ کرے اور چینل کو مضبوط بناکر عوام کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکریٹری سیاسیات غلام عباس نے گزشتہ رات چینل ٹوٹنے سے پہنچنے والے نقصانات کا معائنہ کیا اور اس موقع پر عمائدین نلتر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے ایک طرف 18 میگا واٹ سے بجلی کی بار بار معطلی سے بدترین لوڈ شیڈنگ نے زندگی اجیرن بنادی ہے تو دوسری طرف نلتر پائین کے سو کے قریب گھرانے خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔چینل کے بار بار ٹوٹنے سے عوامی املاک کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور اگر چینل کے ٹوٹنے کا یہی سلسلہ جاری رہا تو انسانی جانوں کے ضیاع ہونے کا اندیشہ ہے۔

انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ واٹر چینل کو مضبوط بنایا جائے قبل اس کے کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی سے میگا پراجیکٹس قدرتی آفات کی زد میں ہیں ،شدید بارشوںکے دوران تودے گرنا معمول کا حصہ ہے حکومت تمام منصوبوں کا ازسرنو جائزہ لیکر عوام کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

وحدت نیوز(گلگت) نواز لیگ کے پیش کردہ استحصالی پیکج پر خاموشی قومی جرم ہوگا۔ اپوزیشن کے احتجاجی تحریک کا بھرپور ساتھ دیا جائیگا۔ حکمران جماعت کے ظالمانہ اقدام پر وفاق میں اپوزیشن جماعت کی خاموشی استحصالی پیکج پر رضامندی کے مترادف ہے۔مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ڈپٹی سیک ریٹری جنرل عارف حسین قنبری نے کہا ہے کہ حکومت ایسے اقدامات سے گریز کرے جس سے علاقے کے عوام کو تحفظات اور خدشات لاحق ہوں۔لیگی حکومت نے پانچ سال جھوٹے وعدوں پر گزاردیئے اب جاتے جاتے گلگت بلتستان کے عوام کو شخصی غلامی میں دھکیلنا چاہتی ہے جو کسی صورت قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت محض پروٹول اور مراعات کیلئے اس گمراہ کن پیکج پر خاموش نہ رہیں بلکہ اسے مسترد کرکے حق نمائندگی اداکریں ورنہ تاریخ کے مجرم کہلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک حکمران جماعت کا ظلم ہے وہاں پر اپوزیشن کا کردار اداکرنے والی پیپلز پارٹی کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن حکومت کے اس ناروا ظلم پر آواز اٹھاسکتی ہے اور سینٹ میں اکثریتی رائے کے ذریعے اس استحصالی پیکج کو مسترد کیا جاسکتا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اپوزیشن اس معاملے میں بالکل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے پیپلز پارٹی کے مقامی رہنمائوں سے کہا کہ محض اخباری بیانات کا سہارا لینے کی بجائے عملی طور پر کام کریں اور وفاق میں اپوزیشن کو متحرک کرکے اس پیکج کو پاس ہونے سے رکوائے۔اگر ایسا نہیں ہوا تو اسمبلی میں نمائندگی کرنے والی تمام وفاقی جماعتیں اس ظلم میں برابر کے شریک ٹھہریں گے۔انہوں نے کہا کہ فاٹا کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف پارلیمانی کمیٹیوں کا اجلاس بلاسکتی ہے تو گلگت بلتستان کے بارے میں خاموش رہنا عدم دلچسپی کے مترادف ہے۔

وحدت نیوز(بھکر)  مجلس وحدت مسلمین ضلع بھکر کے سیکریٹری جنرل سفیر حسین شہانی نے ایک بیان کہاکہ دنیا اس وقت دو بلاک میں تقسیم ہے ایک ظالم اور دوسرا مظلوم ۔۔۔۔ امریکہ اس وقت پوری دنیا میںدہشت گردوں کی سرپرستی کر رہا ہے شام ، فلسطین ، کشمیر، پاکستان، سمیت کئی ممالک میں انارکی اور دہشت گردی کا حقیقی ذمہ دار ہے ۔ فلسطین کی سرزمین قبلہ اول ہے یہاں اسرائیل نے اپنے مظالم کی انتہا کر دی ہے گزشتہ کئی جمعۃ المبارک پرفلسطینی فرزندان اسلام اپنے حقوق کی خاطر احتجاج کر رہے ہیں جہاں 50 افراد شہید ہوچکے ہیں ۔ امریکہ ایک جارح کی طرح اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے ۔امریکہ کی سرپرستی میں بھارت بھی مظلوم کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے۔وہ وقت دور نہیں جب مظلوم کشمیری اپنی آزادی کو حاصل کریں گے۔  امریکہ عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس سے اپنی اقدار ظاہر کررہا ہے۔ْ امریکہ کے خلاف 13 مئی کو مجلس وحدت مسلمین پورے ملک میں احتجاج کر رہی ہے ۔ 13 مئی کو پورا پاکستان مردہ باد امریکہ کے نعروں سے گونج اٹھے گا۔

Page 10 of 858

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree