The Latest

وحدت نیوز(گلگت ) اتحاد کمیٹی گلگت کے چھلمس داس پر دعویٰ کی کوئی حقیقت نہیں ، اگر وہ اپنے دعوے میںسچے ہیں تو عدالت میں اپنا حق ثابت کریں۔اخباری بیانات سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوسکتے ،چھلمس داس پر اہالیان نومل کا حق ثابت شدہ ہے،مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکرٹری اطلاعات علی حیدر نے کہا ہے اتحاد کمیٹی چھلمس داس پر دعویٰ کرنے سے قبل گلگت شہر سے متصل کونوداس میں اپنا حق ثابت کریں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت  نے چھلمس داس کو نومل کی ملکیت قرار دیا ہے جبکہ حکومت کالا قانون ناتوڑ رول سے استفادہ کرکے نومل کے عوام پر زیادتی کررہی ہے۔ٹیکنیکل کالج کیلئے نومل کے عوام نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مفت زمین فراہم کی اور قراقرم یونیورسٹی کیلئے بھی 2004 میں زمین فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ،اس کے باوجود حکومت نے درپردہ چھلمس داس کو مختلف اداروں کے نام الاٹمنٹ کی جو کہ صریحاً عوام دشمنی ہے۔

انہوں نے کہا نواز لیگ کی حکومت چھلمس داس میں الاٹمنٹ کا ملبہ سابقہ حکومت پر ڈال کر خود دھود کا دھلا ہوا ثابت کرنے کی کوشش نہ کرے،اگر سابقہ حکومت نے الاٹمنٹ کی ہے تو عوام کے مفاد میں ان تمام الاٹمنٹس کو کینسل کرے وگر سابقہ حکومت اور موجودہ حکومت کی عوام دشمنی میں کوئی فرق نہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت کے رہنما حق ملکیت کے جعلی نعرے سے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں جبکہ عوام ان کی اصلیت جان چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نومل کے عوام جان دے سکتے ہیں لیکن چھلمس داس سے ہرگز دستبردار نہیں ہونگے۔حکومت ہماری شرافت کو کمزوری نہ سمجھے اور جبری طور پر چھلمس داس پر قابض ہونے کا خیال دل سے نکال دے۔

وحدت نیوز (آرٹیکل)  کائنات میں اس عصر میں تین ایسی کتابیں ہیں جن کی کوئی مثل نہیں اور جن کا کوئی دوسرا مقابلہ نہیں کر سکتا اور ان میں سے ایک قرآن کریم دوسرا صحیفہ سجادیہ اور تیسرا نہج البلاغہ ہے جو مدینۃ العلم کے ان خطبات و مکتوبات اور حکمت کے گوہر پاروں پر مشتمل ہے جسے سید رضی نے فصاحت و بلاغت کے شہ پارے اور صراط مستقیم کے طور پر انتخاب کیا ہے ۔اسی لئے ہر عصر اور ہر دور کے نامور ادیب اور عالم کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ یہ مخلوق کے کلام سے بالاتر اور خالق کے کلام سے کمتر ہیں ۔کیوں نہ ہو چونکہ یہ ایک ہستی کا کلام ہے جس نے ببانگ دھل یہ اعلان کر دیا جو پوچھنا ہو پوچھ لو  علی ان سب کا جواب دینے کے لئے تیار ہے ۔

اہل بیت پیغمبرعلیہم السلام سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا تعارف آیت تطہیر اور پیغمبر اسلا م صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث میں آیاہے اور جنہیں ہر قسم کی خطاوٴں اور جملہ گناہوں سے پاک قرار دیاگیاہے ۔

ہم یہاں حضرت علی علیہ السلام کے فرامین اور افکار سے آشنا ہوتے ہیں جو در علم نبی اور حق و باطل کی شناخت کا معیار ہے۔آپؑ اہل بیت علیہم السلام کے مقام و منزلت کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:{ہم عیش العلم و موت الجہل.. ...لا یخالفون الحق ولا یختلفون فیہ ہم دعائم الاسلام و ولائج الاعتصام ، بہم عاد الحق فی نصابہ و انزح الباطل عن مقامہ .......}1یہ لوگ علم کی زندگی اور جہالت کی موت ہیں ۔ یہ نہ حق کی مخالفت کرتے ہیں اور نہ حق کے بارے میں کوئی اختلاف کرتے ہیں ۔یہ اسلام کے ستون اور حفاظت کے مراکز ہیں۔انہی کے ذریعے حق اپنے مرکز کی طرف واپس آیا ہے اور باطل اپنی جگہ سے اکھڑ گیا ہے۔۔انہوں نے دین کو اس طرح پہچانا ہے جو سمجھ اور نگرانی کا نتیجہ ہے۔یہ صرف سننے اور روایت کا نتیجہ نہیں ہے اس لئے کہ علم کی روایت کرنے والے بہت ہیں اور اس کا خیال رکھنے والے بہت کم ہیں۔2

ایک اور مقام پر آپ ؑفرماتے ہیں :{ فاین یتاہ بکم و کیف تعمہون و بینکم عترۃ نبیکم وہم ه أزمۃ الحق و اعلام الدین وألسنۃ الصدق فانزلوہم باحسن منازل القرآن وردوہم ورود الہیم العطاش} 3

تمہیں بھٹکایا جا رہا ہے اور تم بھٹکتے جا رہے ہو ۔دیکھو تمہارے درمیان تمہارے نبی کی عترت موجود ہے ۔یہ سب حق کے زمام دار ،دین کے پرچم اور صداقت کے ترجمان ہیں۔انہیں قرآن کریم کی بہترین منازل پر جگہ دو اور ان کے پاس اس طرح سے وارد ہو جس طرح سے پیاسے اونٹ چشمے پر وارد ہوتے ہیں ۔4

ابن ابی الحدید حضرت علی علیہ السلام کےکلام کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : اگر کہا جائے کہ امام کا یہ کلام اہل بیت علیہم السلام کی عصمت پر دلالت کرتاہے تو آپ کی اس بارے میں کیا راےٴ ہے ؟ اس کے بعدجواب دیتے ہیں کہ ابو محمد بن متوبہ نے الکفایۃ میں صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام معصوم ہیں اگرچہ ہم امام کی حیثیت سے ان کی عصمت کو واجب نہیں سمجھتے کیونکہ عصمت امامت کی شرائط میں شامل نہیں ہےجبکہ نصوص آپ ؑ کے معصوم ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔اصحاب پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلےمیں یہ صفت آپ ؑکی ذاتی خصوصیت شمار ہوتی ہے ۔5

اسی طرح ایک اور مقام پرآپؑ ا رشاد فرماتے ہیں :{انْظُرُوا أَہْلَ بَیْتِ نَبِیِّکُمْ فَالْزَمُوا سَمْتَہُمْ وَ اتَّبِعُوا أَثَرَہُمْ فَلَنْ یُخْرِجُوکُمْ مِنْ ہُدًی وَ لَنْ یُعِیدُوکُمْ فِی رَدًی، فاِنْ لَبَدُوا فَالْبُدُوا وَ إِنْ نَہَضُوا فَانْہَضُوا وَ لَا تَسْبِقُوہُمْ فَتَضِلُّوا وَ لَاتتاَخَّرُوا عَنْہُمْ فَتہْلِکُوا.} 6اہل بیت پیغمبرعلیہم السلام  پرنگاہ مرکوزرکھو اور ان  کے راستےکو اختیار کرو۔ان کے نقش قدم پر چلتے رہو کہ وہ نہ تمہیں ہدایت سے باہر لے جائیں گے اور نہ ہلاکت میں پلٹ کر جانے دیں گے۔ وہ ٹھہر جائیں توٹھہر جاوٴ اوراٹھ کھڑے ہوں تو کھڑے ہو جاوٴ ۔خبردار ان سے آگے نہ نکل جانا کہ گمراہ ہو جاوٴ گے اور ان سےپیچھے بھی نہ رہ جانا کہ ہلاک ہو جاوٴگے۔

امام علی علیہ السلام  ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:{آل النبي عليہ الصلاۃ و السلام ہُمْ مَوْضِعُ سِرِّہِ وَلجاُ أَمْرِہِ وَ عَيْبۃُ عِلْمِہِ وَ مَوْئِلُ حکْمِہِ وَ کُہُوفُ کُتُبِہِ وَ جِبَالُ دِينِہِ بِہِمْ أَقَامَ انْحِنَاءَ ظَہْرِہِ وَ أَذہَبَ ارْتِعَادَ فَرَائِصہِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لَا یُقَاسُ بِآلِ مُحَمَّدٍ(ص) مِنْ ہَذِہِ الاْأُمَّۃِ أَحَدٌ وَ لَا یُسَوَّی بِہِمْ مَنْ جَرَتْ نِعْمَتُہُمْ عَلَیْہِ أَبَدا،ہُمْ أَسَاسُ الدِّینِ وَ عِمَادُ الْیَقِینِ، إِلَیْہِمْ یَفِیءُ الْغَالِی وَ بِہِمْ یُلْحَقُ التَّالِی وَ لہُمْ خَصَائِصُ حَقِّ الْوِلَایَۃِ وَ فِیہِمُ الْوَصِیَّۃُ وَ الْوِرَاثَۃُ، الْآنَ إِذْ رَجَعَ الْحَقُّ إِلَی أَہْلِہِ وَ نُقِلَ إِلَی مُنْتَقَلِہِ}7   وہ سر خداکے امین اوراس دین کے پناہ ہیں علم الٰہی کے محزن اورحکمتوں کے مرجع ہیں ،کتب آسمانی کی گھاٹیاں اوردین کے پہاڑ ہیں،انہی کے ذریعہ اللہ نے اس کی پشت کا خم سیدھا کیا اوراس کے پہلووں سے ضعف کی گھبراہٹ کو دورکی۔۔۔اس امت میں کسی کو آل محمدؐپر قیاس نہیں کیاجاسکتا،جن لوگوں پر ان کے احسانات ہمیشہ جاری رہے ہیں وہ ان کے برابرنہیں ہوسکتے ۔وہ دین کی بنیاداوریقین کے ستون ہیں آگے بڑ ھ جانے والے کوان کی طرف پلٹ کر آنا ہے اورپیچھے رہ جانے والےکو ان سے آکر ملنا ہے۔حق ولایت کی خصوصیات انہی کیلئے ہیں اورانہیں کے بارےمیں پیغمبرؐکی وصیت اورانہی کےلئے نبی کی وراثت ہے۔

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :{بِنَا اہْتَدَيْتُمْ فِي الظَّلْمَاءِ وَ تَسَنَّمْتُمْ ذُرْوَۃَ الْعَلْيَاءِ وَ بِنَا أَفْجَرْتُمْ عَنِ السِّرَارِ}  8ہماری وجہ سے تم نے گمراہی کی تیرگیوں میں ہدایت کی روشنی پائی ،اوررفعت وبلندی کی چوٹیوں پر قدم رکھااورہمارےسبب سےاندھیری راتوں کی اندھیاریوں سے صبح (ہدایت )کے اجالوں میں آگئے ۔

وحی الہی اس گھرانے میں نازل ہوئی  اور انہوں نے دین کی تعلیمات خود پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حاصل کی ہیں۔ اسی لئے اہل بیت علیہم السلام دین کی بنیاد اور علم و حکمت کا دروازہ ہے۔ امام علی علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:{تَاللّہ ِ لَقَدْ عُلِّمْتُ تَبْلِيغَ الرِّساَلاتِ وَ إِتْمَامَ الْعِدَاتِ وَ تَمَامَ الْکلِمَاتِ وَ عِنْدَنَا أَہْلَ الْبَيْتِ أَبْوَابُ الْحُکمِ وَ ضِيَاء  ُ الاْمْرِ } 9 خدا کی قسم مجھے پیغاموں کے پہنچانے، وعدوں کے پورا کرنے اور آیتوں کی صحیح تاویل بیان کرنے کا خوب علم ہے اور ہم اہل بیت{نبوت} کے پاس علم و معرفت کے دروازے اورشریعت کی روشن راہیں ہیں۔

اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام تمام لغزشوں سے پاک و منزہ اور فتنوں سے دور ہیں ۔اس بارے میں امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: {نَحْنُ أَہْلَ الْبَیْتِ مِنْہَا بِمَنْجَاۃٍ وَ لَسْنَا فِیھَا بِدُعَاۃٍ} 10 ہم {اہل بیت رسول} ان فتنہ انگیزیوں کے {گناہ} سے بچے ہوں گے اور ان کی طرف لوگوں کو بلانے میں ہمارا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

ایک اورمقام پر اہلبیت علیہم السلام کو علم کا معدن اورحکمت کا سر چشمہ قراردیتے ہوئے فرماتے ہیں :{نَحْنُ شَجَرَۃُ النُّبُوَّۃِ وَ مَحَطُّ الرِّسَالَۃ وَ مُخْتَلَفُ الْمَلَائِکَۃِ وَ مَعَادِنُ الْعِلْمِ وَ يَنَابِيعُ الْحُکْمِ نَاصِرُنَا وَ مُحِبُّنَا يَنْتَظِرُ الرَّحْمۃَ وَ عَدُوُّنَا وَ مُبْغِضُنَا يَنْتَظِرُ السَّطْوَۃ}11  ہم نبوت کاشجرہ،رسالت کی منزل ،ملائکہ کی فرودگاہ ،علم کا معدن اورحکمت کاسرچشمہ ہیں۔ہماری نصرت کرنے والااورہم سے محبت کرنے والارحمت کے لئے چشم براہ ہے۔اورہم سے دشمنی وعنادرکھنے والے کو قہرالٰہی کامنتظررہناچاہیے۔

اہل بیت علیہ السلام علم کی زندگی اورجہالت کی موت ہیں۔اس بارے میں آپ فرماتے ہیں:{۔۔۔۔۔فانہم عيش العلم ، وموت الجہل ،ہم الذين يُخبرکم حُکمُہم عن علمہم ، وصَمتُہم عن منطقہم ، وظاہرہُم عن باطنہم ، لا يخالفون الدين ، ولا يختلفون فيہ ، فہو بينہم شاہدُ صادق ، وصامت ناطق}12جوہدایت والے ہیں انہی(اہل بیت علیہ السلام )سے ہدایت طلب کرو وہی علم کی زندگی اورجہالت کی موت ہیں وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کا{دیا ہوا} ہرحکم ان کے علم کا اوران کی خاموشی ان کی گویائی کاپتہ دےگی اوران کا ظاہر ان کے باطن کاآئینہ دارہے وہ نہ دین کی مخالفت کرتے ہیں اورنہ اس کے بارے میں باہم اختلاف رکھتے ہیں دین ان کے سامنے ایک سچاگواہ ہے اورایک ایسابے زبان ہے جوبول رہاہے۔

اہل بیت علیہم السلام آسمان امامت و ولایت کے درخشان ستارے ہیں جن کی عالمانہ وحکیمانہ رہنمائی اورہدایت کی وجہ سے ہی انسان دنیا و آخرت دونوں میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔امام علی علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:{أَلَا إِنَّ مَثَلَ آلِ مُحَمَّدٍ (صلی الله علیہ وآلہ) کَمَثَلِ نجومِ السَّمَاءِ، إِذَا خَوَی نَجْمٌ طَلَعَ نَجْمٌ، فکا َنَّکُمْ قَدْ تَکَامَلَتْ مِنَ اللہ ِ فِيکُمُ الصَّنَائِعُ وَ أَرَاکُمْ مَا ْتامُلُون}13تمہیں معلوم ہونا چائیے کہ آل محمد ع آسمان کے ستاروں کے مانند ہیں جب ایک ڈوبتا ہے تو دوسرا ابھر آتا ہے۔گویا تم پر اللہ کی نعمتیں مکمل ہو گئی ہیں اور جس کی تم آس لگائے بیٹھے تھے وہ اللہ نے تمہیں دکھا دیا ہے۔

اہل بیت علیہم السلام کے بارے میں ہی قرآن کی نفیس آیتیں نازل ہوئی ہیں۔اس بارے میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں:{نَحْنُ الشِّعَارُ وَ الاصْحَابُ وَ الْخَزَنَہُ وَ الابوَابُ وَ لا تُؤْتَی الْبُیُوتُ إِلّا مِنْ أَبْوَابہَا فَمَنْ أَتَاہَا مِنْ غَیْرِ أَبْوَابہَا سُمِّیَ سَارِقاً فِیہمْ کَرَائِمُ الْقُرْآنِ وَ ہُمْ کُنُوزُ الرَّحْمَنِ إِنْ نَطَقُوا صَدَقُوا وَ إِنْ صَمَتُوا لَمْ یُسْبَقُوا} 14ہم قریبی تعلق رکھنے والے اورخاص ساتھی اور خزانہ دار اوردروازے ہیں اورگھروں میں دروازوں ہی سے آیا جاتا ہے اور جو دروازوں کو چھور کر کسی اورطرف سے آئے اس کانام چور ہوتا ہے۔{آل محمد ع} انہیں کے بارے میں قرآن کی نفیس آیتیں اتری ہیں اور وہ اللہ کے خزینے ہیں۔اگر بولتے ہیں تو سچ بولتے ہیں اوراگرخاموش رہتے ہیں تو کسی کو بات میں پہل کا حق نہیں ۔

ائمہ اہلبیت علیہم السلام راسخون فی العلم ہیں ۔ہدایت کی طلب اور گمراہی سے نجات کی خواہش صرف انہیں سے ہی کی جاسکتی ہے۔ امامت ان کے علاوہ کسی اور کو زیب نہیں دیتا اور نہ  ہی ان کے علاوہ کوئی اس عظیم منصب کا  اہل ہو سکتا ہے۔ امام علی علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں :{اَیْنَ الَّذِینَ زَعَمُوا اَنَّہُمُ الرّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ دُونَنا کَذِباً وَ بَغْیاً عَلَیْنا، اَنْرَفَعَنَا اللہ ُ وَ وَضَعَہُمْ وَ اَعْطانا وَ حَرَمَہمْ وَ اَدْخَلَنا وَ اَخْرَجَہُمْ، بِنا یُسْتَعْطَی الْہُدی وَ یُسْتَجْلَی الْعَمی، اِنَّ الاَئِمَّۃَ مِنْ قُرَیْش غُرِسُوا فِی هذَا الْبَطْنِ مِن ہاشِم، لا تَصْلُحُ عَلی سِواہُمْ وَ لا تَصْلُحُ الْوُلاہُ مِنْ غَیْرہِمْ}15 کہاں ہے وہ لوگ کہ جو جھوٹ بولتے ہوئے اورہم پر ستم روا رکھتے ہوئے یہ ادعا کرتے ہیں کہ وہ راسخون فی العلم ہیں نہ ہم۔چونکہ اللہ نے ہم کو بلند کیا ہے اورانہیں گرایا ہے اورہمیں منصب امامت دیا ہے اور انہیں محروم رکھا ہے اورہمیں {منزل علم میں}داخل کیا ہے اورانہیں دور کر دیا ہے ہم ہی سے ہدایت کی طلب اور گمراہی کی تاریکیوں کو چھانٹنے کی خواہش کی جاسکتی ہے۔بلا شبہ امام قریش  میں سے ہوں گے جو اسی قبیلہ کی ایک شاخ بنی ہاشم کی کشت زار سے ابھریں گے۔نہ امامت کسی اور کو زیب دیتی ہے اور نہ ان کے علاوہ اس کا  اہل ہو سکتا ہے۔
کائنات  میں امام کی مثال جسم کے لئے قلب و دل کی مثال جیسی ہے۔اہل بیت علیہم السلام میں سے ایک فرد قیامت تک اس زمین پر حجت الہی ہیں اور زمین ابتدائے خلقت سےقیامت تک کبھی بھی حجت  الہی سے خالی نہیں ہو گی اوراگر زمین حجت خدا سے خالی ہو جائے تو وہ تمام اہل زمین کو اپنے اندردھنسا لے گی۔اس بارے میں امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: {اَللّہُمَ بَلي لاتَخْلُو الاَرْضُ مِنْ قائِمٍ لللہ بِحُجَہٍ ، اِمّا ظاہِراً مَشْہوراً وَ اِمّا خائِفاً مَغْمُوراً ، لِئَلاً تَبْطُلَ حُجَجُ اللّہ ِ وَ بَيِناتُہُ}16ہاں مگر زمین ایسے فرد سے خالی نہیں رہتی کہ جو خدا کی حجت کو برقرار رکھتا ہے چاہے وہ ظاہر وہ مشہور یاخائف وہ پنہان تاکہ اللہ کی دلیلیں اور نشان مٹنے نہ پائیں۔

ائمہ اہل بیت علیہم السلام حقیقت میں قرآن کریم اور سنت نبوی کے ترجمان تھے۔ انہوں نے جوکچھ فرمایا ہےوہ قرآن و سنت کی تفسیر ہے۔ جیساکہ قرآن و سنت کے بارے میں ذکر ہواہے کہ کوئی چیز ایسی نہیں جس کا ذکر قرآن کریم اور سنت نبوی میں موجود نہ ہو۔قرآن کریم اور سنت نبوی میں موجود علوم اور دینی احکام کو راسخون  فی العلم اور پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علوم کے وارثوں کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا جیساکہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :{ذلک القرآن فاستنطقوہ،و لن ینطق و لکن اخبرکم عنہ ،الا ان فیہ علم ما یاتی والحدیث عن الماضی ودواء دائکم، و نظم ما بینکم}17اور وہ یہی قرآن ہے۔اسے بلوا کر دیکھو۔ یہ خود نہیں بولے گالیکن میں اس کی ترجمانی کروں گا {یعنی حقایق اور معارف کو بیان کروں گا}یاد رکھو کہ اس میں مستقبل کا علم ہے اور ماضی کی داستان ہے۔تمہارے درد کی دوا اور تمہارے امور کی تنظیم کا سامان ہے ۔اسی طرح امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں:{کتاب الله،فیہ نبا ما قبلکم و خبرمابعدکم و فصل ما بینکم و نحن نعلمہ}18           کتاب خدا میں تم سے پہلے اور جو تم سے بعد کی باتیں مذکور ہیں۔اس میں تمہارے باہمی نزاعات کا فیصلہ بھی ہےاور ہم ان سب باتوں کو جانتے ہیں ۔اسی طرح ایک اورمقام پرآپ ؑفرماتےہیں:{نحن راسخون فی العلم و نحن نعلم تاویلہ}19  ہم ہی راسخون فی العلم اور ہم ہی تاویل قرآن کےجاننے والے ہیں۔نیز آپ ؑفرماتےہیں:{والله انی لاعلم کتاب الله من اولہ الی آخرہ کانہ فی کفی فیہ خبر السماء و خبر الارض،و خبر ما کان و خبر ما هو کائن قال الله عزوجل :فیہ تبیان کل شی}  20میں کتاب خدا کا اول سے آخر تک جاننے والا ہوں۔ گویا وہ میری مٹھی میں ہے۔ اس میں آسمان وزمین کی خبر ہے۔ جوکچھ ہو چکا ہے اور جو ہونے والا ہے وہ اس میں مذکورہیں خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے :اس میں ہر شئے کا بیان ہے ،اس بارےمیں ائمہ اطہار علیہم السلام سےاور بھی بے شماراحادیث نقل ہوئی ہیں۔

تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حوالہ جات:
1۔نہج البلاغۃ،خطبہ 239،ص825۔
2۔ ترجمہ نہج البلاغۃ ،علامہ ذیشان حیدر جوادی ۔
3۔نہج البلاغۃ ،خطبہ، 87۔
4۔ترجمہ نہج البلاغۃ ،علامہ ذیشان حیدر جوادی۔
5۔شرح نہج البلاغۃ ،ابن ابی الحدید، ج4 ،ص 131۔
6۔نہج البلاغۃ،97۔
7۔ نہج البلاغۃ ،خطبہ، 2۔
8۔ نہج البلاغۃ ،خطبہ، 4۔
9۔ نہج البلاغۃ ،خطبہ 120۔
10۔ نہج البلاغۃ ،خطبہ،93۔
11۔ نہج البلاغۃ ،خطبہ،108۔
12۔ نہج البلاغۃ ،خطبہ،145۔
13۔ نہج البلاغۃ ،خطبہ،98۔
14۔ایضا ً،خطبہ 157۔
15۔ نہج البلاغۃ ،خطبہ،142۔
16۔ نہج البلاغۃ ،حکمت،147۔
17۔ نہج البلاغۃ ،خطبہ،152۔
18۔اصول کافی ،ج1،باب الرد الی الکتاب و السنۃ ،حدیث 9۔
19۔ایضا ً،کتاب الحجۃ ،باب راسخین فی العلم ،حدیث4،ص 178۔
20۔ایضا ً،باب ، انہم علمون الکتاب علم الکتاب کلہ،حدیث4،ص178۔

وحدت نیوز (کراچی) صوبائی سیکرٹریٹ مجلس وحدت مسلمین سندھ و دعا کمیٹی کے تحت ھفتہ وار دعائے توسل کا انعقاد محفل شاہ خراسان روڈ سولجربازار پر کیا گیا ,جس میں ایم ڈبلیو ایم جامشورو کے ڈپٹی سکریٹری جنرل مولانا عرفان محسنی ، علامہ سجاد شبیر رضوی ، مولانا رحمت علی حجتی اور مومنین و مومنات نے شرکت کی ,بردار آغا شیراز الحسن نے دعا کی تلاوت کا شرف حاصل کیا اور ولادت باسعادت حضرت بی بی زینبؑ کی مناسبت کے حوالے سے انکی زندگی پر روشنی ڈالی اور علامہ ڈاکٹر کلب صادق کی جلد صحت کیلئے خصوصی دعا کی گئی ,اس موقع پر ناصر الحسینی نے امریکہ ، برطانیہ ، فرانس کی جانب سے شام کے مظلوم عوام پر بمباری کی شدید مزمت کرتے ھوئے تمام مذہبی و سیاسی تنظیموں سے اپیل کی کہ 13 مئی کو قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے حکم پر ملک بھر میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرے کئے جائیں۔

وحدت نیوز (اسلام آباد)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان 13مئی بروز اتوارامریکہ اور اس کے حواریوں کے ظلم کے خلاف ملک گیر یوم مردہ امریکہ منائے گی، ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے مرکزی سیکریٹریٹ سے ملک بھر کے تنظیمی عہدیداران کے نام جاری اپنے خصوصی پیغام میں کیا۔

علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کا کہناتھاکہ شیطان بزرگ امریکہ اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف اپنے اتحادیوں کے ہمراہ صف آراءہے، افغانستان اور عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کے جھوٹے اور بے بنیاد پروپگینڈے کے سہارے بےگناہ مسلمانوں کا کشت وخون کرچکاہے اور اب یہی کچھ وہ شام کی سرزمین پر دھرانا چاہتاہے ، حال ہی میں امریکہ ، فرانس اور برطانیہ کی اتحادی افواج نے شام کی سرزمین پر رات کی تاریکی میں شدید بم باری کی جس کے نتیجے میں شام کے مختلف علاقے کھنڈر میں تبدیل ہوگئے، جبکہ متعدد شامی مسلمان درجہ شہادت پر فائز ہوئے ۔

انہوں نے کہاکہ ملت پاکستان کی امریکہ کے مظالم کے خلاف جدوجہد تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے درج ہے، اس وطن عزیز میں شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی ؒاور شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ؒ نے عوام کو عالمی استعمار کے مظالم سے آگاہ کیا اور انہیں امریکی سامراج کے مقابل سینہ سپر ہونے کا حوصلہ دیا ، انشاءاللہ شہدائے راہ حق کے معنوی فرزند 13 مئی کوبھر پور قوت اور استقامت کے ساتھ امریکہ اور اس ےاتحادیوں کے خلاف میدان میں نکلیں گے اور شام، یمن، فلسطین ،بحرین ، افغانستان، عراق ودیگر ممالک میں جاری استکباری مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں ۔

وحدت نیوز (اسلام آباد)  کشمیر کی موجودہ صورتحال نہایت تشویش ناک ہے،کشمیری عوام روزانہ اپنے لہوسے تحریک آزادی کی داستان لکھ رہی ہے،ہم نہتے کشمیری عوام کی استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں کشمیر کا مسئلہ قومی مسئلہ ہے اور ہم مظلوم کشمیریوں کی حمایت کرتے رہیں گئے،پاکستانی عوام اپنے مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ ہیں ان خیالات کا اظہار سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے میڈیا سیل سے جاری بیان میں کیا۔

 ان کا کہنا تھا کہ ہندستان کی ظالم اور قابض فوج جتنا چاہئے ظلم کرلے کشمیر ی عوام کی جدوجہد ضرور رنگ لائے گی۔خدا ظالموں کا کبھی ساتھ نہیں دیتا ہمیشہ فتح مظلوموں کی ہوتی ہے۔مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی بربریت اور انسانیت سوز مظالم پر عالمی خاموشی مجرمانہ ہے،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو اجاگرکر نے اور عالمی بے حسی کو توڑنے کے لئے میڈیاکو مسلسل تحریک چلانے کی ضرورت ہے،استعماری قوتوں نے اسلامی ممالک کو آپس میں الجھ دیا ہے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ کشمیر کے حوالے سے ماسوائے چند اسلامی ممالک کے کوئی ملک آواز نہیں اٹھاتا،اس کی ایک اہم وجہ کشمیر کاز پر ہماری کمزور پالیسی بھی ہے،کشمیرایشو پر وزارت خارجہ بیان جاری کر کے سمجھتی ہے کہ اس نے بڑا کام کر لیا ہے،ہمارے ملک میں ایک کشمیر کمیٹی بنی ہوئی ہے جس کی سربراہی پر خود ممبران کو کوئی اعتراض نہیں جب کہ سب جانتے ہیں کہ کشمیر کمیٹی کی غیر فعالیت میں سب سے اہم کردار خود چیئرمین کمیٹی کا ہے، اس کمیٹی کو فعال کرنے کے لئے اس کی سربراہی کسی محب وطن پاکستانی کو دی جانی چاہئے تاکہ یہ کمیٹی صیح معنوں میں کام کرئے۔

وحدت نیوز (کوئٹہ)  بلوچستان کے صوبائی دار الحکومت کوئٹہ میں تکفیری دہشت گردوں نے ایک بار پھر خون کی ہولی کھیلی ہے، عبدالستار روڈ پرتکفیری دہشت گردوں کی فائرنگ سے حاجی محمد آصف ولد محمد ناصرشہید ہوگئے جبکہ مجلس وحدت مسلمین کا کارکن ان کا بیٹا عباس علی شدید زخمی ہوگئے ہیں ، تفصیلات کے آج الصبح عبدالستار روڈ پر واقع اسپیئرپارٹس کی دکان پر ملک دشمن کالعدم تکفیری جماعت کے دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے دکان مالک  حاجی محمد آصف کو شہید کردیا جبکہ ان کا جواں سال بیٹا عباس علی شدید زخمی ہوگیا،دونوں باپ بیٹے کو شدید زخمی حالت میں سول اسپتال منتقل کیا گیاجہاں حاجی محمد آصف زخموں کی طاب نالاتے ہوئے درجہ شہادت پر فائز ہوگئے جبکہ ڈاکٹرز عباس علی کی جان بچانے میں مصروف ہیں،واضح رہے کہ عباس علی ایم ڈبلیوایم کوئٹہ ڈویژن کے اہم ذمہ دارہیں ۔

واقعہ کی خبر ملتے ہی ایم ڈبلیوایم کے عہدیدران اور کارکنان کی بڑی تعداد سول اسپتال پہنچ گئی، ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما علامہ راجہ ناصرعباس جعفری، علامہ سید ہاشم موسوی، صوبائی وزیر قانون آغا سید محمد رضا،کوئٹہ ڈویژن کے سیکریٹری جنرل کربلائی رجب علی نے واقعے پر شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کیاہے، رہنمائوں نے کہاکہ مٹھی بھر تکفیری دہشت گردوں نے پورے شہر کا امن تباہ کررکھا ہے، شیعہ شہریوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہاہے، شہر میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ تشویش ناک ہے، انہوںنے سیکورٹی حکام بلخصوص آئی جی پولیس ، آئی جی ایف سی ، وزیر اعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث دہشت گردوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔

جنگ کی دستک کا جواب

وحدت نیوز (آرٹیکل)  امن اور تہذیب لازم و ملزوم ہیں، انسان کی تہذیب کا پیمانہ اس کی امن پسندی ہے، کوئی شخص جتنا شدت پسند ہوتا ہے اتنا ہی غیر مہذب بھی ہوتا۔ غیر مہذب لوگ امن پسندی کی جدوجہد کو بزدلی اور شدت پسندی کو بہادری سمجھتے ہیں، دنیا میں اپنے آپ کو سپر پاور کہنے والا امریکہ کس قدر مہذب ہے اس کا اندازہ عراق، افغانستان اور شام کے کھنڈرات سے لگایا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ہم لوگ بحیثیت پاکستانی کتنے مہذب ہیں اس کا بخوبی اندازہ، قبرستانوں میں بے گناہوں کی قبروں سے کیا جا سکتا ہے اور بحیثیت قوم ، مسلمان اس وقت تہذیب و تمدن کے کس درجے کو چھو رہے ہیں اس کا پتہ  ۱۴ اپریل ۲۰۱۸ کی شب سے لگایا جا سکتا ہے۔

گزشتہ ہفتے کی شب کو شام کے مقامی وقت کے مطابق تین بج کر پچپن منٹ پر امریکہ فرانس اور برطانیہ کی جانب سے  مسلمان ممالک کی پشت پناہی کے سبب شام پر110 میزائیل حملے کیے گئے۔

ان حملوں کے لئے شام کے بشار الاسد پر وہی الزام لگایا گیا جو عراق کے صدام پر لگایا گیا تھا یعنی کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا الزام۔الزام لگانے والے اتنی عجلت اور جلدی میں تھے کہ انہوں نے  کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی عالمی تنظیم او پی سی ڈبلیو کے نمائندوں کو اپنی تحقیقات بھی مکمل کرنے کی مہلت نہیں دی۔ان کی تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی حملہ کردیا گیا۔کچھ لوگ اس حملے پر افسردہ ہیں کہ یہ حملہ ایک بڑی جنگ کی دستک ہے اور کچھ اس پر خوش ہیں کہ یہ حملہ ناکام رہا جبکہ ایک طبقے کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ کامیاب رہا۔

اگرچہ ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ حملہ ناکام ہی رہا ہے تاہم اس حملے میں عالمِ بشریت کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں ہے، چونکہ حملہ بالآخر حملہ ہی ہے اور جنگ پھولوں کی مالا نہیں بلکہ آگ کا شعلہ ہوا کرتی ہے۔

اس جنگ کے آغاز پر بغلیں بجانے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ امریکہ و روس صرف اپنے مادی مفادات کے حصول کے لئے اس   جنگ کے پارٹنر ہیں، اگر جنگ کے شعلے بھڑکتے ہیں اور امریکی و روسی مفادات  کو زِک پہنچتی ہے تو کبھی بھی دوسروں کی خاطر امریکہ و روس اپنے ممالک کو جنگ میں نہیں دھکیلیں گے اور اس کا سارا خمیازہ مسلمان ریاستوں کو ہی بھگتنا پڑے گا۔

سعودی عرب اپنے اتحادیوں کے ساتھ یمن اور بحرین میں جس آگ کو اپنے دامن کی ہوا دے رہا ہے وہ آگ ایک طرف اور اسرائیل کو مضبوط کر کے اپنے لئے جو شکنجہ تیار کررہاہے یہ دوسری سے طرف سعودی عرب کےمستقبل کے لئے بڑا خطرہ ہے۔

اس خطرے کا اندازہ اس سے بھی  لگا لیجئے کہ ۱۴ مئی ۱۹۴۸ کو  جیسے ہی تل ابیب ریڈیو سے اسرائیلی رہنما بن گوریان نے اسرائیل کی آزادی کا اعلان نشر کیا تھا تو  فوراً بلا فاصلہ سب سے پہلے  امریکہ نے اسے آزاد ملک کے طور پر تسلیم کیا تھا۔

بعد ازاں ایک صحافی نے امریکی صدر ہیری ٹرومین سے سوال کیا کہ ہمیں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی اتنی جلدی کیا تھی کہ ہم نے یہ بھی نہیں سوچا کہ  اس سے دس کروڑ عرب ہم سے ناراض ہوجائیں گے!

امریکی صدر نے برجستہ جواب دیا کہ  میرے حلقہ انتخاب میں عرب نہیں بستے یعنی مجھے  ۶۰ لاکھ یہودیوں نے ووٹ دے کر صدر بنایا ہے دس کروڑ عربوں نے نہیں۔

یہ بڑی طاقتوں کی مشترکہ نفسیات ہے، انہیں اکثریت و اقلیت، جمہوریت اور انسانی حقوق وغیرہ کے بجائے صرف اپنے مفادات عزیز  ہوتےہیں۔

یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے کہ اسرائیل تقریبا چار مرتبہ عرب ممالک کو شکست دے چکا ہے لیکن یہ بھی پتھر پر لکیر ہے کہ خود اسرائیل  وقت آنے پر ایران اور شام سے ایک شکست بھی افوررڈ نہیں کر سکتا اور اس وقت سعودی عرب جو وہابی ازم کے بعد لبرل ازم کے ذریعے اسرائیل اور یورپ کا سہارا لینا چاہتا ہے اسے یہ نوشتہ دیوار ابھی سے پڑھ لینا چاہیے کہ روس اگر اپنے مفادات کے پیشِ نظر شام سے نکل بھی جائے تو ایران کبھی بھی  شام کو میدانِ جنگ میں  تنہا نہیں چھوڑے گا جبکہ  امریکہ و اسرائیل کبھی بھی مشکل وقت میں سعودی عرب کے کام نہیں آئیں گے۔

سعودی عرب پہلے بھی اس تلخ حقیقت کو چکھ چکا ہے کہ امریکہ اور یورپ نے  وہابی مدارس ،داعش، القائدہ اور طالبان کو صرف اپنے مفاد کے لئے استعمال کیا ہے اور بے شک آج شام پر ایک سو دس میزائل داغے گئے ہیں لیکن  اگر  ایران اور شام کی طرف سے جنگ کی اس دستک کا جواب دیا گیا تو پھر سعودی عرب یاد رکھے کہ امریکہ کبھی بھی نقصان کے سودے میں حصہ دار نہیں بنتا۔


 تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز (گلگت)  لینڈ ریفارمز کمیشن کی شفارشات مرتب ہونے تک چھلمس داس نومل میں کسی قسم کی تعمیرات سے حکومت باز رہے۔طاقت کے استعمال کے ذریعے عوامی زمینیں ہتھیانے کی حکومت کی کوششیں قا بل مذمت ہیں۔ حکومت نے معاہدے کی خلاف ورزی کرے نقص امن کے مسائل پیدا کئے ہیں۔مجلس وحدت مسلمین نومل کے عوام کے مطالبات کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے چھلمس داس نومل میں عمائدین کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ لینڈ ریفارمز کمیشن تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر شفارشات مرتب کرے۔چھلمس داس کے حوالے سے 2004 میں حکومت کی اراکین اسمبلی پر مشتمل کمیشن کی رپورٹ پر عملدارآمد کیا جائے۔نومل کے عوام اور حکومتی قائم کردہ کمیشن نے اتفاق رائے سے یونیورسٹی کیلئے زمین مختص کی لیکن حکومت نے طاقت کے استعمال کے ذریعے اپنی ہی قائم کردہ کمیشن کی رپورٹ کو ردی کی ٹوکری کی نذر کردی۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی ایک انچ زمین بھی خالصہ سرکار نہیں اور حکومت ان زمینوں کو آباد کرنے سے روک کر انتہائی زیادتی کررہی ہے جس کی وجہ سے علاقے مین غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ آئے دن گندم پر دی جانیوالی سبسڈیکو بھی ختم کرنے کی باتیں ہورہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چھلمس داس کے دھرنے پر بیٹھے ہوئے مظاہرین کے مطالبات جائز ہیںحکومت فوری تسلیم کرکے نقص امن کے خطے کو ختم کرے ۔

انہوں نے کہا کہ چھلمس داس میں بنائی گئی پولی ٹیکنیکل کالج کو این ایل سی(NLC) کو دینا عوام کیساتھ کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی ہے جبکہ نومل کے عوام نے یہاں کے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے یہ زمین مفت فراہم کی تھی ۔انہوں نے کہا کہ ایک تعلیمی ادارے کو این ایل سی کے حوالے کرنا تعلیم کیساتھ دشمنی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ بلڈنگ کو فوری طور پر NLC کے قبضے سے خالی کرواکر کلاسوں کا اجراء کیا جائے۔

وحدت نیوز (لاہور)  مجلس وحدت مسلمین لاہور کابینہ کا اجلاس پنجاب سیکریٹریٹ میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی اور صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ مبارک موسوی کی سربراہی میں منعقد ہوا، سید احمد اقبال رضوی نے اراکین کابینہ سے اپنی گفتگو کے دوران کہا خدا کا نام لے کر صدق دل سے ہمت کرکے کمر بند کس کر میدان میں اتر جائیں انشاءاللہ خدا تنہا چھوڑنے والا نہیں ہے اجلاس میں صوبہ پنجاب کے عہدے داران سید حسین زیدی اور سید علمدار زیدی نے بھی شرکت کی جبکہ لاہور کابینہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل برادر نجم خان نے تنظیمی کارکردگی رپورٹ مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل کو پیش کی، ضلع لاہور کو درپیش مسائل پر سیکرٹری جنرل لاہور علامہ حسن ہمدانی نے گفتگو کی دوسری طرف آئندہ کی حکمت عملی اور فعالیت کے موضوعات پر کابینہ کے مختلف اراکین نے گفتگو کی،۔

سیکرٹری یوتھ سجاد نقوی نے جوانوں کی تربیت کے فقدان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں وہی تحریکیں اور قومیں کامیاب ہیں جن کے جوان فعال اور تربیت یافتہ ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ جوانوں کی فعالیت کو سراہا جائے اور انکی تربیت کیلئے خاطر خواہ اقدامات کئے جائیں.سال 2017 مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مختلف اضلاع کو کارکردگی رپورٹ کے مطابق مختلف شیلڈز دی گئی تھیں جبکہ مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے سیکرٹری جنرل لاہور علامہ حسن رضا ہمدانی کو حسن کارکردگی شیلڈ پیش کی. اجلاس کے اختتامی مراحل میں سیکرٹری جنرل علامہ مبارک علی موسوی نے ملت کے وقار اور پاکستان کی سالمیت کیلئے خصوصی دعا کی اور دعائے امام زمانہ کے ساتھ اجلاس کا اختتام کیا گیا.

وحدت نیوز (کراچی)  مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصودڈومکی نے معروف قانون دان ، ایم ڈبلیوایم کے سابق صوبائی قانونی مشیرسید جعفرشاہ ایڈووکیٹ اور ان کے ساتھی عمران پٹھان ایڈووکیٹ کے دن دھاڑے اغواءکی پرروز الفاظ میں مذمت کی ہے، انہوں نے کہاکہ کراچی سے سکھرواپسی پر کنڈیاروکے مقام پر انہیں نامعلوم افراد نے اغواءکیا اور ان کی گاڑی کوقریبی سی این جی پمپ پرچھوڑ کر فرار ہو گئے، علامہ مقصودڈومکی نے سید جعفرشاہ ایڈووکیٹ کے اغواء کو ریاستی اداروں کی اہلی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

 انہوں نے کہاکہ سندھ بھر میں کالعدم تکفیری جماعتوں کے دہشت گرد ریاستی سرپرستی میں دھندناتے پھر رہے ہیں ، جبکہ محب وطن شہری لاپتہ کیئے جارہے ہیں،  خیر پور کے معزز گھرانے سے تعلق رکھنے والےجعفرشاہ ایڈوکیٹ، سابق صدر خیرپور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ، سابق ڈویژنل صدر آئی ایس او اور سابق قانونی مشیر ایم ڈبلیوایم سندھ رہے ہیں،ان کا اس طرح دن دھاڑے اغواء بنیادی شہری حقوق کی خلاف ورزی ہے، انہوں نے کہاکہ پاکستان کے طول وعرض سے سینکڑوں شیعہ علماء، جوان، قانون دان، بانیان مجالس بلاجوازاغواء کیئے گئے ہیں جن کا تاحال کچھ معلوم نہیں کے وہ کس حال میں ہیں، چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے اپیل کرتے ہیں کے وہ ملک بھر سے جبری طورپر لاپتہ شیعہ جوانوں کی فوری بازیابی کیلئے اقدامات کریں ۔

Page 3 of 842

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree