The Latest

شام پر امریکی جارحیت

وحدت نیوز(آرٹیکل) امریکہ کہ جس کی ایک سو سالہ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے علم ہو تا ہے کہ امریکی استعمار نے دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں مختلف حیلے بہانوں سے نہ صرف جارحیت کی ہے بلکہ کئی ایک ممالک پر متعدد مرتبہ فوجی چڑھائیاں بھی کی ہیں، حالیہ صدی میں امریکی فوجی یلغار افغانستان اور عراق بڑی مثالیں موجود ہیں جبکہ امریکہ جو کہ سات سمندر پار موجود ہے لیکن پوری مسلم دنیا میں اس نے فوجی اڈے بنا رکھے ہیں ، اس کے بحری بیڑے دنیا کے تمام سمندروں میں موجود ہیں اور کسی بھی وقت کسی بھی ملک کے خلاف کوئی بھی جھوٹ پر مبنی حیلے بہانے بنا کر حملوں کا آغاز کر دیا جا تا ہے، پہلے یہی امریکہ افغانستان کے جہادیوں کے ذریعہ روس کے خلاف جہاد میں ان کی مدد کرتا رہا اور پھر یکا یک انہی جہادیوں کا دشمن بھی بن گیا اور ان کے خلاف کاروائی کا آغاز کر دیا اسی طرح عرا ق میں صدام جیسے ظالم وفاسق مجرم کے ذریعہ کبھی ایران پر حملہ کروایا تا کبھی کویت بھی عراقی جارحیت سے محفوظ نہ رہا، اور پھر اچانک امریکہ کو عراق

میں WMDs یاد آ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر عراق میں فوجیں پہنچ گئیں اور پھر عرا ق کے قدرتی ذخائر بشمول سونا و تیل پر امریکیوں نے قبضہ جما لیا۔بہر حال جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے کہ امریکی شیطان کی جارحیت اور ظلم و جبر کی داستان ایک سوسال سے بھی طویل ہے اور ا س کو بیان کرنے کے لئے سیکڑوں کتابیں بھی لکھی جائیں تو بھی کم ہیں۔حالیہ دنوں ستائیسوں رجب المرجب کی با برکت شب کو دنیا کے سب سے بڑے شیطان امریکہ نے شام پر فرانس اور برطانیہ کی مدد سے حملہ کیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ پچاس کے لگ بھگ کروز میزائل داغے گئے ہیں جبکہ یہ حملہ کرنے کے لئے جہاں میڈیٹیرین سمندر میں موجود برطانوی و فرانسیسوں افواج موجود ہیں وہاں اس حملہ میں قطر کی سرزمین بھی استعمال کی گئی ہے ۔امریکہ نے شام پر حملہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے کہ جب شام کی افواج نے دیگر اپنے اتحادیوں بشمول روس اور ایران کے ساتھ مل کر شام کے متعدد علاقوں کا کنٹرول سنبھالنا شروع کر دیا ہے اور

گذشتہ دنوں مغربی میڈیا پر جس طرح من گھڑت خبروں کا پرچار کیا جا رہاتھا اس کا منہ توڑ جواب شامی علاقوں میں دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے ہزاروں شہریوں کو با حفاظت نکال کر دیا ہے جس کی درجنوں ویڈیوز مختلف ٹی وی چینلز نے نشر کی ہیں ۔اس تمام صورتحال کا اگر کسی کو فائدہ پہنچ رہا تھا تو وہ شامی حکومت اور عوام تھے کہ جو مسلسل دہشت گردوں سے نبرد�آزما ہیں اور حالیہ دنوں بڑی کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے نجات حاصل کر رہے تھے ایسے حالات میں امریکی وبرطانوی ڈرامہ نگاروں میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا ڈرامہ ایسے ہی علاقے میں رچانے کی کوشش کی کہ جس کا کنٹرول اب شامی افواج سنبھال رہی تھیں ، بھلا ایسا کوئی کیوں کرے گا کہ جب کامیابی بھی ملے اور وہ اپنی کامیابی کو خود اپنے ہاتھ سے ضائع کر دے؟پوری دنیا اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں لگی ہوئی ہے لیکن کسی کو ابھی تک اس بات کا جواب نہیں ملا ہے کہ شامی حکومت خود ہی اپنے ماتحت علاقوں پرکیوں کیمیائی ہتھیاروں کا حملہ کرے گی؟شامی علاقہ دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق اقوام متحدہ بھی حرکت میں آگئی اور پوری دنیا میں موجود امریکی پے رول پر چلنے والے ذرائع ابلاغ اور خاص طور پر اسلامی لبادوں میں چھپے امریکی نوکر بھی سوشل میڈیا پر سرگرم ہو گئے جبکہ حقیقت میں ایسا کوئی کیمیائی حملہ دوما نامی علاقہ میں ہوا ہی نہیں، کیونکہ دوما کے مقامی اسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تا حال ان کے پاس کوئی ایک متاثرہ مریض کہ جس کو کیمیائی حملہ نے نقصان پہنچایا ہو رپورٹ نہیں ہوا ہے۔دوسری طرف اقوام متحدہ میں امریکہ،ا سرائیل ، برطانیہ اور فرانس سمیت چند ایک عرب ممالک نے خوب بڑھ چڑھ کر شامی حکومت پر الزام عائد کیا اور حملوں کی دھمکی دی اور پھر ستائیسوں شب کو حملہ کیا بھی گیا۔یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا کہ جب ایک طرف اقوام متحدہ کا کمیشن دوما کے علاقے میں تحقیقات مکمل کرنے کے بعد رپورٹ جمع کروانے ہی والا تھا لیکن اس رپورٹ کے جمع کروانے سے قبل ہی امریکہ نے اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر حملہ کر دیا ہے۔ب

ہرحال ایک بات تو بڑی واضح ہے کہ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کی طرف سے شامی حکومت پر عائد کیا جانے والا الزم جھوٹ پر مبنی ہے جس کا مقصد صرف اور صرف شام پر امریکی حملہ کا جواز پیدا کرنا ہے کیونکہ اب شام کے تقریبا تمام علاقوں میں ان تمام دہشت گرد گروہوں کا قلع قمع کیا جا رہاہے کہ جن کی مدد امریکہ، اسرائیل، برطانیہ، فرانس، قطر، ترکی، سعودی عرب، اردن اور دیگر یورپی و عربی ممالک کر رہے تھے، یکے بعد دیگر تمام دہشت گرد گروہوں کا صفایا ہو رہاہے اور تمام ماندہ علاقے شامی حکومت کے کنٹرول میں آ رہے ہیں ، ایسے اوقات میں ترکی کی عفرین نامی علاقوں میں جارحیت اور فوجی کاروائی اور اسی طرح امریکی و یورپی اتحادیوں کا شام پر حملہ دونوں ہی درا صل شام کی حکومت کو کمزور کرنے اور شام کے عوام کے حقوق کو پائمال کرنے کے مصداق ہیں۔ایک اور اہم بات تو یہ بھی ہے کہ جس طرح پاکستان اور چند ایک ممالک میں سوشل میڈیا پر موجود اسلامی لبادہ اوڑھے امریکی خدمت گار شام کے علاقہ غوطہ اور اس سے قبل حلب کا نوحہ پڑھ رہے تھے کہ جس دوران ان کے ہم خیال دہشت گردوں کے خلاف کاروائی جاری تھی لیکن اب یہی فیس بکی جہادی امریکہ کے خلاف کچھ بولنے یا لکھنے سے کیوں قاصر ہیں؟ کیا ان کی خاموشی کو اس طرح سمجھا جائے کہ امریکہ کو اختیا ر حاصل ہے کہ وہ جہاں چاہے جب چاہے حملہ کرے؟ اور اگر امریکہ ن کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا بہانہ ہی استعمال کیا ہے تو پھر پوری دنیا کو مل کر سب سے پہلے امریکہ کے خلاف حملے کرنے چاہئیں کیونکہ دنیا بھر میں کیمیائی ہتھیاروں کا فراہم کرنے اور استعمال کرنے والا امریکہ ہی ہے، جس نے پہلے ماضی میں ایر ان کے خلاف عراق کو کیمیائی ہتھیار فراہم کئے جس کا صدام نے ایران کے خلاف استعمال کیا تھا اور اسی طرح امریکہ نے ایٹم بم ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر گرا کر دنیا میں انسانی حقوق کی پائمالی اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے،اسرائیل کی غاصب جعلی ریاست امریکی سرپرستی میں دسیوں ہزار فلسطینیوں سمیت دنیا بھر میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں قتل و اغوا جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہے ،

اسی طرح ویت نام ، افغانستان، عراق، یمن، لیبیا، افغانستان، پاکستان میں جاری ڈرون حملے وغیرہ یہ سب جواز ہیں کہ دنیا امریکہ کے خلاف مشترکہ حملہ کا اعلان کرے۔خلاصہ یہ ہے کہ شام کو تقسیم کرنے کا امریکی ایجنڈا ناکام ہو چکا ہے اور اسرائیل کی سیکورٹی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں کیونکہ شام سے فرصت کے بعد شام میں امریکی، صیہونی و عربی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف سرگرم عمل قوتیں بالآخر مقبوضہ فلسطین کی آزادی اور قبلہ اول کی آزادی کی طرف بڑھیں گی، خطے کے حالات نے تمام راستے القدس کی آزادی کی طرف کھول دئیے ہیں، ایسے حالات میں اب امریکہ کا نہ صرف تنہا بلکہ یورپی بیساکھیوں کا سہارا لینا اور ناکام قسم کا حملہ کرنا اس بات کی دلیل ہے دنیا کی شیطانی طاقتیں اب زیادہ دیر تک طاقت کے مزے میں گم نہ رہیں گی بلکہ ان کا ضعف اور ناتوانی اب دنیا پر آشکار ہو چکی ہے کہ جب حالیہ شام میں ہونے والے حملوں میں شامی افواج نے پرانے قسم کے ایئر ڈیفنس سے امریکی جدید ترین میزائلوں کا رخ بدل ڈالا اور نشانہ لگا کر متعدد میزائلوں کو ہوا میں ہی تباہ کر دیا۔اس ساری صورتحال میں امریکہ و اسرائیل کی پریشانی مزید بڑھ رہی ہے اور امریکہ کو یہ یقین ہو چکا ہے کہ شام سمیت پورے مشرق وسطیٰ میں امریکی شیطانی سیاست ناکام ہو چکی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکی و یورپی ممالک کے ساتھ گٹھ جوڑ کئے ہوئے چند ایک عرب خائن بادشاہوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور افغانستان کے جہادیوں اور عرا ق و لیبیا کے ڈکٹیٹروں کے ساتھ امریکیوں کا برتاؤ یاد رکھتے ہوئے اپنے انجام کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئیے اگر ان عرب حکمرانوں نے اسی طرح حسنی مبارک، قذافی، صدام یا افغانستان کے جہادیوں جیسا تعلق و رویہ رکھا تو پھر مسلم امہ ان کی پشت پر کھڑی نہ ہو گی اور اگر بہادر اور دلیر ی دکھائی اور بشار الاسد کی طرح شیطانی امریکی و صیہونی قوتوں کے مد مقابل قیام کیا تو یقیناًدنیا کا ہر مسلمان ان کے ساتھ ہو گا۔

تحریر: صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

جس کی لاٹھی اس کی بھینس

وحدت نیوز(آرٹیکل)  کہنے کو تو ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں جس میں آزادی، جمہوریت اور مساوات جیسےخوبصورت اور دل فریب نعرے بلند کیے جاتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو یہ سب دکھاوا ہے۔ عملی میدان میں صرف طاقت کی زبان چلتی ہے۔ جس کے پاس طاقت ہو وہ اپنے آپ کو حق، اپنے آپ کو سچ اورmاپنے آپ کو غالب اور باقی سب کو محکوم، مغلوب اور کیڑے مکوڑے سمجھنے لگتے ہیں۔اس کی تازہ مثال امریکہ، برطانیہ اور فرانس ٹرائیکا کا شام پر حملہ ہے۔ اس حملے میں 100سے زیادہ میزائل شام کے مختلف فوجی اور غیر فوجی مقامات پر فائر کئے گئے۔ روس کی طرف سے فراہم دفاعی سسٹم کے ذریعے شامی فضائیہ اکثر میزائل روکنےمیں کامیاب رہی۔ دمشق کے باسیوں پر کل رات بہت باری گزری۔ بچے، بوڑھے ، خواتین میزائلوں کے بھاری آوازوں میں سہمے رہے۔

 لیکن صبح ہوتے ہی شامی عوام، حکومت اور فوج کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے اور ان کے حق میں نعرے بلند کرتے رہے اور ساتھ ہی ساتھ شامی فضائیہ کی کارکردگی کو سراہتے رہے۔اقوام متحدہ ، سیکیورٹی کونسل اور  عالمی رائے عامہ  یہ سب مغربی ممالک کے نزدیک محض ڈرامہ ہیں۔امریکہ اور اس کے حواریوں نے سیکیورٹی کونسل سے شام پر حملے کی قرارداد پاس کرنے میں ناکامی کے باوجود تمام تر بین الاقوامی قوانین کو روندتے ہوئے ایک خود مختار اور آزاد اسلامی ملک پر حملہ کیا ہے۔ اور پھر بہانہ کیا ہے؟ شام کے پاس کیمیائی ہتھیار ہیں۔امریکہ میں موجود روسی سفیر نے نہایت اچھی بات کی ہے: جس امریکہ کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ کیمیائی اسلحہ ہے اس کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں کہ وہ کسی اور ملک کو کیمیائی اسلحے سے منع کرے۔اس سے پہلے عراق پر بھی اس بہانے سے حملہ کیا تھا کہ اس کے پاس ایٹمی ہتھیار  ہیں۔

 لیکن سب کچھ جھوٹ نکلا۔ جو خود سب سے زیادہ ایٹمی اور کیمیائی  اسلحہ رکھتا ہو وہ دوسروں کو ایٹمی اور کیمیائی  اسلحے سے منع کرتا نظر آتا ہے۔ یہ وہی طاقت اور بدمعاشی کی زبان نہیں تو اور کیا ہے؟بنیادی سوال یہاں یہ ہے: اسلامی ممالک کہاں ہے؟ سوائے ایران کے کسی اور ملک کا رسمی طور پر کوئی بیان ابھی تک سننے کو نہیں ملا۔ کہاں ہے او آئی سی؟ کہاں ہیں عرب ممالک؟  کیا تمام اسلامی ممالک کو شرم کے مارے ڈوب نہیں مرنا چاہیے؟ ایک اسلامی ملک پر دشمن آکر حملہ کر کے چلا جاتا ہے اور تمام اسلامی ممالک خاموش ہیں ۔ مذمت کے دولفظ اور احتجاج کے دو بول تک بولنے کو آمادہ نہیں۔ یہ شاید سمجھتے ہیں آج شام ہے۔  ان کی باری نہیں آئے گی۔ یہ ان کی بھول ہے۔ کل عراق اور افغانستان کو تباہ کیا ہے تو آج لیبیا اور شام کو ۔ لہذا دوسرے اسلامی ممالک کی باری آنے میں دیر نہیں لگے گی۔کچھ اطلاعات کے مطابق سعودی ولی عہد نے مغربی طاقتوں کو شام پر حملے کے لیے اکسایا تھا اور تمام تر خرچہ اٹھانے کی ذمہ داری اٹھائی تھی۔ سعودی عرب کو اس بات کا غم کھائے جارہاہے کہ اس کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کو شامی فوج نے  دوما شہر سے انتہائی ذلیل اور رسوا کر کے نکال باہر کیا ہے۔ سعودی عرب سات سال کے دوران اربوں ڈالرز خرچ کرنے کے باوجود بشار الاسد کو گرانے میں ناکام رہا ہے۔

 اب یہ آخری کوشش ہے کہ کسی طرح برارہ راست حملہ کروا  کر  بشار اسد کو جھکنے کو مجبور کیا جائے۔ لیکن یہ ان کی بھول ہے۔ رات کے حملے کے باوجود بشار اسد صبح معمول کے مطابق اپنے آفس "قصر جمہوری" پہنچے ہیں اور شیڈول کے مطابق اپنے کام میں مصروف ہوگئے ہیں۔ شامی عوام بھی اپنے معمول کی مصروفیات میں مشغول ہیں۔امریکہ شاید اپنی دھاک اور ہیبت بٹھانہ چاہتا تھا۔ اتنی ساری دھمکیوں کے باوجود کچھ میزائل نہ مارتا  تو اسے خفت کا سامنا ہوتا ۔ لہذا اس نے ایک تیر سے کئی شکار کئے ہیں۔ ایک تو اپنی خفت مٹانے کی کوشش کی ہے، اور دوسرا یہ کہ اسی بہانے سعودی عرب سے  خوب ڈالرز بطور خرچہ وہ لے گا۔مقاومتی بلاک روز بروز طاقتور کے ہونے سامنے آرہا ہے۔ جس طرح سے عراق اور افغانستان میں  امریکہ ذلیل اور رسوا ہوا ہے اسی طرح شام سے بھی رسوا اور بے آبروہو کر نکلے گا۔ دنیا بھر کے ۴۰ سے زیادہ ملکوں سے دہشت گرد جمع کرنے کے بعد ان کو تمام تر جدید اسلحے اور تربیت فراہم کرنے کے باوجود  اور سات سال کی مسلسل دہشت گردی کے ذریعے شام کو جھکانے میں ناکام رہے۔ اب یہ ان کی بھول ہے کہ چند میزائل مارنے سے شام جھک جائے گا۔


تحریر۔۔۔۔سید عباس  حسینی
(مدرستہ الولایہ مقیم قم )

وحدت نیوز(جیکب آباد) مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندہ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصودعلی ڈومکی نے کہا ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے مسلم ملک سیریا پر حملہ کرکے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے، شب معراج اور عید مبعث رسول اللہ ص کی سحر کو شام پر اسلام دشمن قوتوں کا حملہ ناقابل معافی جرم ہے۔ عرب غداراور آستین کے سانپ آل سعود اور بن شیطان نے امت مسلمہ اور عرب عوام کے خلاف جارحیت کے لئے دشمن کی مدد کرکے خود کو رسوا کیا ہے۔ محور مقاومت پہلے سے زیادہ مضبوط ہے، جو اب ناقابل شکست قوت میں تبدیل ہوچکا ہے۔ امریکن حملے کے باوجود شام ایک آزاد ملک کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کو متحد ہوکر عالمی دھشت گرد امریکہ سے مسلم ممالک کے خلاف جارحیت کا حساب لینا چاہئے، افغانستان، عراق میں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کے بعد بھی امریکہ اپنے جارحانہ کردار سے باز نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے غیور مسلمان نام نہاد خادم حرمین سے دنیا بھر میں اسلام دشمن کردار پر جواب طلبی کریں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک مسلمان ملک شام پر اغیار کی جارحیت کی کھل کر مذمت کرے، ہم فلسطین، کشمیر سمیت دنیائے اسلام کے مظلوموں کے حامی ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ شیطان بزرگ امریکہ افغانستان و عراق کی سرزمین سے نکل جائے۔

وحدت نیوز(لاہور)  لاہور میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئےمجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ سید مبارک علی موسوی کا کہنا تھا کہ بلی تھیلے سے باہر آگئی، جب ججز دھمکیوں کے باوجود ثابت قدم رہے تو اب معاملہ قاتلانہ حملے تک آگیا ہے ۔ اعلیٰ عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کے لیےایسے ہتھکنڈےکسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابل قبول ہیںمجلس وحدت مسلمین عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فائرنگ کے اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جانے چاہیے اور معاملے کی شفاف انکوائری کرائی جائے۔ اگر آج مجرموں کو آزاد چھوڑ دیا گیا تو خدانخواستہ ان مجرموں کا اگلا ہدف کوئی اور جج یا سیاستان ہو سکتا ہے۔ علامہ مبارک علی موسوی کا مزید کہنا تھا کہ عدلیہ شفاف طریقے سے اپنا کام کرے ملک کی باوقار سیاسی جماعتیں اور عوام عدلیہ پر تمام حملوں کو مل کر ناکام بنائیں گے ۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ فائرنگ کے مجرموں کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔طاقت اوراختیارات کے نشے میں چور حکمرانوں نے احتجاج کا آئینی حق استعمال کرنے والوں پر گولیاں برسا ئیں او متعدد مرد و خواتین کو موت کے گھاٹ اتار کریہ ثابت کیس کہ انہوں عوام کے جان و مال سے زیادہ اپنا تخت و تاج عزیز ہے۔ اقتدار کو بچانے کے لیے انسانی جانوں کے ساتھ جو وحشیانہ کھیل کھیلا گیادنیا کی جمہوری تاریخ میں اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا سپریم کورٹ کی جانب سے ماڈل ٹاؤن کیس کی روزانہ سماعت کا حکم اس سانحہ کے شہداء کے لواحقین سے ہمدردی کا تقاضہ ہے۔اس اندوہناک واقعہ میں شہید ہونے والوں کے خاندان تاحال انصاف کے منتظر ہیں۔سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث تمام کرداروں کو نشان عبرت بنا کر غمزدہ خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے اس امر کے عکاس ہیں کہ قانون و انصاف کی عملداری میں کسی طاقت ور کو رکاوٹ نہیں بننے دیا جا رہا ۔

انہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی ان قوتوں کے لیے تکلیف دہ بنی ہونی ہے جو قانون کو آج تک گھر کی لونڈی سمجھتے آئے ہیں تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے عوامی امنگوں کے عکاس اور پاکستان کے بیس کروڑ عوام کے لیے طمانیت کا باعث ہیں۔باقر نجفی رپورٹ کو ماڈل ٹاؤن کیس کا حصہ بنانے اور انسداد دہشت گردی کی عدالت کو مذکورہ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کے حکم سے ذمہ داران کے خلاف گھیرا مزید تنگ ہو گا اور شہدا کے خاندانوں کو یقیناانصاف ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں اپنے چہرے سے نقاب ہٹا دیا ہے۔عوام جمہوریت کے ان جھوٹوں دعویداروں کو پہچان چکے ہیں۔گزشتہ پانچ سالوں میں ملک کو کرپشن ، دہشت گردی ،بدامنی، لاقانونیت ،عدم تحفظ اور بے روزگاری کے سوا انہوں نے قوم کو کچھ نہیں دیا۔مقتدر قوتوں کی نا انصافیوں کا جواب عوام انتخابات میں اپنے ووٹ کی طاقت سے دیں گے۔ مایوس کن حکومتی کارکردگی کے باعث آئندہ قومی انتخابات میں بدترین شکست ان کا مقدر ہو گی۔ پاکستان کے باشعور عوام موقعہ پرست اور کرپٹ سیاستدانوں کواقتدار میں نہیں آنے دیں گے۔

وحدت نیوز(مظفرآباد) امریکہ،برطانیہ اور فرانس مجرم ہیں۔ان خیالات کا اظہا ر سید غفران علی کاظمی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین ضلع مظفرآباد نے وحدت سیکرٹریٹ مظفرآباد سے جاری ہونیوالے بیان میں کیا۔انہوں نے شام پر ہونے والے میزائل حملوں کی شدید مذمت اور امریکی صدر کے داعش کے خاتمے کے دعوی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات واضح جھوٹ اور مضحکہ خیز ہے۔ چونکہ امریکیوں نے خا ئن ممالک کے پیسوں سے ایسی خبیث موجودات کو عراق اور شام میں تیار کیا اور جہاں بھی ضرورت محسوس کی ان دہشت گردوں کی مدد بھی کی۔ جب داعش کے اصلی افراد محاصرے میں تھے تو انہوں نے ان کو نجات دی۔ امریکہ اور اس کے ایجنٹوں کی بھرپور مدد کے باوجود مقاومتی محاذ نے شام اور عراق کو آزاد کروایا۔ انہوں نے  امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے شام پر کئے جانے والے میزائل حملے کو جرم قرار دیا اور مذید کہا  اب اس بات میں کوئی شک باقی نہیں رہا کہ امریکی صدر، فرانس کا صدر اور برطانیہ کا وزیراعظم مجرم ہیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔طاقت اوراختیارات کے نشے میں چور حکمرانوں نے احتجاج کا آئینی حق استعمال کرنے والوں پر گولیاں برسا ئیں او متعدد مرد و خواتین کو موت کے گھاٹ اتار کریہ ثابت کیس کہ انہوں عوام کے جان و مال سے زیادہ اپنا تخت و تاج عزیز ہے۔ اقتدار کو بچانے کے لیے انسانی جانوں کے ساتھ جو وحشیانہ کھیل کھیلا گیادنیا کی جمہوری تاریخ میں اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔انہوں نے کہا سپریم کورٹ کی جانب سے ماڈل ٹاؤن کیس کی روزانہ سماعت کا حکم اس سانحہ کے شہداء کے لواحقین سے ہمدردی کا تقاضہ ہے۔اس اندوہناک واقعہ میں شہید ہونے والوں کے خاندان تاحال انصاف کے منتظر ہیں۔سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث تمام کرداروں کو نشان عبرت بنا کر غمزدہ خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے اس امر کے عکاس ہیں کہ قانون و انصاف کی عملداری میں کسی طاقت ور کو رکاوٹ نہیں بننے دیا جا رہا۔انہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی ان قوتوں کے لیے تکلیف دہ بنی ہونی ہے جو قانون کو آج تک گھر کی لونڈی سمجھتے آئے ہیں تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے عوامی امنگوں کے عکاس اور پاکستان کے بیس کروڑ عوام کے لیے طمانیت کا باعث ہیں۔باقر نجفی رپورٹ کو ماڈل ٹاؤن کیس کا حصہ بنانے اور انسداد دہشت گردی کی عدالت کو مذکورہ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کے حکم سے ذمہ داران کے خلاف گھیرا مزید تنگ ہو گا اور شہدا کے خاندانوں کو یقیناانصاف ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں اپنے چہرے سے نقاب ہٹا دیا ہے۔عوام جمہوریت کے ان جھوٹوں دعویداروں کو پہچان چکے ہیں۔گزشتہ پانچ سالوں میں ملک کو کرپشن ، دہشت گردی ،بدامنی، لاقانونیت ،عدم تحفظ اور بے روزگاری کے سوا انہوں نے قوم کو کچھ نہیں دیا۔مقتدر قوتوں کی نا انصافیوں کا جواب عوام انتخابات میں اپنے ووٹ کی طاقت سے دیں گے۔ مایوس کن حکومتی کارکردگی کے باعث آئندہ قومی انتخابات میں بدترین شکست ان کا مقدر ہو گی۔ پاکستان کے باشعور عوام موقعہ پرست اور کرپٹ سیاستدانوں کواقتدار میں نہیں آنے دیں گے۔

اُنہوں نے لاہور میں جسٹس اعجاز الحسن کے گھر پر فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی فوری تحقیقات کی جائے اور جو بھی اس کے زمہ دار اور ان کے سہولت کار ہیں اُن کو انصاف کے کٹھرے میں لایا جائے اور تمام معزز جسٹس کی سیکورٹی ریجنر کے حوالے کی جائے سپریم کورٹ پہلے ہی سیاسی دہشتگردی کے نشانے پر ہے اب ججوں کے گھروں پر حملے شروع ہو گئے ہیں یہ ملکی سا لمیت کے بہت بڑا خطرہ ہے

وحدت نیوز (اسلام آباد) ووٹ دینا ہر پاکستانی کا آئینی حق ہے ۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو انتخابی عمل میں شریک کرنے کی حمایت کرتے ہیں ۔ای ووٹنگ کی شفافیت کے حوالے سے اعتراضات کو دور کرنا ہوگا ان خیالات کااظہار سیکرٹری سیاسیات ایم ڈبلیو ایم سید اسد نقوی نے پولیٹکل ایورنیس کے ایک سیمینار میں خطاب کرتےہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ میں منعقد اورسیز پاکستانیوں کے انتخابات میں ووٹ دینے کے حوالے سے بلائی جانے کانفرنس میں بھی شرکت کی اور اپنا موقف پیش کیا علاوہ جناب جسٹس ثاقب نثار سے لابی میں ہونے والی ملاقات میں بھی ہم نے اس حوالے سے اپناواضع موقف پیش کیا کہ ہم اورسیز پاکستانیوں کے انتخابی عمل میں شریک ہونے کی حمایت کرتے ہیں اس وقت اسی لاکھ سے زیادہ پاکستانی بیرون ملک مقیم ہیں اورسیز پاکستانی محب وطن ہیں وہ سالانہ اربوں روپے اپنے خون پسینے کی کمائی کو پاکستان بھجتے ہیں اور اس طرح ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ ای ووٹنگ میں ہیکنگ اور سکریسی جیسے مسائل کو دور کئے بغیر ای ووٹنگ سسٹم کا اجرا کرنا انتخابی عمل کو مشکوک کردے گا ہمار ے سامنے کئی ممالک کی مثالیں موجود ہیں جہاں ای ووٹنگ سسٹم کو ہیک کرلیا گیا اور الیکشن نتائج کو متاثر کیا گا۔ مگر کچھ ممالک میں یہ کامیاب بھی رہا ۔ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہالیکشن کی شفافیت متاثر ہو اور انتخابی عمل پر انگلیاں اٹھائی جائیں اور ملک میں افراتفری کی فضا پیدا ہو مگر بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا بھی ضروری ہے بیرون ملک موجود پاکستانی ایمبسیوں کوالیکشن کے حوالے سے فعال کیا جاسکتا ہے اور اگرای ووٹنگ کو پاکستانی سفارت خانے اپنی نگرانی میں کروایں تو الیکشن شفافیت سے متعلق کئی مسائل سے نمٹا جاسکتا ہے ۔

وحدت نیوز(گلگت)  چیف سیکرٹری اپنے اختیارات کو استعمال کرے تو حکومت کو من مانیوں کا موقع نہیں ملے گا ۔میرٹ کو قائم رکھنے کیلئے اچھے کردار کے حامل آفیسران کی کمیٹی تشکیل دی جائے اور کرپشن اور اقربا پروری کو روکنے کیلئے ہرممکن ذرائع کو بروئے کار لایا جائے،مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما شیخ نیئرعباس مصطفوی نے اپنے ایک بیان میں چیف سیکرٹری گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری ملازمتوں کی بھرتیوںمیں ہونے والی بے ضابطگیوںکو روکنے اور سیاسی دبائو کو بے اثر کرنے کیلئے باہمت اور نیک کردار کے حامل آفیسران کی کمیٹی تشکیل دیںاور اس کمیٹی کی نگرانی میںٹیسٹ انٹرویوز لئے جائیں۔پچھلے دوسال میں سرکاری ملازمتوں کی بھرتیوںمیںبڑ ے پیمانے پربے ضابطگیاںہوئیں اور میرٹ کو پائمال کیا گیا ہے جس سے قوم کے ہونہار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں مایوسی پھیل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو انصاف فراہم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داریوں میں سے ہے ،بد قسمتی سے گلگت بلتستان میں میرٹ کو قائم کرنے کی بجائے بیلنس پالیسی کو اپنایا گیا ہے جس سے علاقے میں تفرقہ اور تعصب کو فروغ مل رہا ہے ۔حکومت کی بیلنس پالیسی کی وجہ سے فرقہ واریت کے علاوہ لسانیت اور علاقائیت بھی پروان چڑھ رہی ہے جس سے ریاست کی بقا کو خطرات لاحق ہونگے۔انہوں نے عوامی زمینوںپر سرکاری قبضے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لینڈ ریفارمز کی آڑ میں عوامی زمینوں پر قبضے کرنے کی حکومتی سازش کو ناکام بنادینگے۔چھلمس د اس نومل پر عوام کا حق تسلیم کرتے ہوئے حکومت فوری طور پر اس کی آباد کاری پر توجہ دے۔نومل کے عوام چھلمس داس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہونگے اوراگر حکومت نے زور زبردستی سے زمین ہتھیانے کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج ٓبرآمد ہونگے۔

وحدت نیوز (ملتان)  مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی نے کرپٹ عناصر کی تاحیات نااہلی کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے آئین اور قانون کی بالادستی قائم ہوگی، شریف خاندان ملک سے فرار ہوسکتا ہے لہذا ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔ اراکین پارلیمنٹ پوری قوم کے نمائندے ہوتے ہیں انہیں صادق اور امین ہونا چاہیے، بہت جلد وہ وقت بھی آنے والا ہے کہ کرپٹ شریف خاندان جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوگا، حکمران ناکام ہوچکے ہیں اس وقت پوری قوم کی نظریں سپریم کورٹ کی جانب لگی ہوئی ہیں، علامہ اقتدار نقوی نے کہا کہ اگر حکمران اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے اور پورے ملک کو لوٹ کا مال سمجھ کر کرپشن نہ کرتے تو سپریم کورٹ کو کبھی بھی اتنے سخت فیصلے کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی، پوری قوم سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑی ہے۔

Page 4 of 842

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree