The Latest

پاکستان اور امریکہ کاکڑا امتحان

وحدت نیوز(آرٹیکل) ڈونلڈ ٹرمپ نے سال 2018 کا پہلا ٹوئٹ ہی پاکستان سے متعلق کیا جس میں انہوں نے ایک بار پھر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا،ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ امریکا نے پاکستان کو گزشتہ 15 سالوں کے درمیان 33 ارب ڈالر امداد دیکر بے وقوفی کی جبکہ بدلے میں پاکستان نے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا، اور ہمارے رہنماؤں کو بے وقوف سمجھا ٹرمپ نے اپنےسوشل میڈیا پیغام میں مزید کہا کہ ہم افغانستان میں جن دہشت گردوں کو تلاش کرتے ہیں پاکستان انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے، لیکن اب مزید ایسا نہیں چلے گا۔[1]

پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان پر الزامات کے بعد امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا اور احتجاجی مراسلہ حوالے کیا ، دفتر خارجہ میں امریکی سفیر پر واضح کیا گیا کہ امریکی صدر کا اربوں ڈالر کا بیان بالکل غلط ہے ، امریکی صدر کے بیان کی وضاحت پیش کی جائے ۔

 علاوہ ازیں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے ملاقات کی جس میں ٹرمپ کے بیان پر غور کیا گیا جبکہ وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کواور قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو طلب کیاگیا جس میں ، امریکی صدر کے بیان ، سفارتی اور سیکورٹی پالیسی پر غور کیاگیا ،اس سے قبل فوجی ترجمان میجرجنرل آصف غفور نے 2017ء کی اپنی آخری پریس کانفرنس میں ایسی دھمکیوں کاذکر کرتے ہوئے کہاتھا کہ ہمیں دھمکیا ں مل رہی ہیں ہمیں ایک قومی بیانیے پر متحد ہونا ہوگا، پاکستان کے معاملے پر ہم سب ایک  ہیں ہم نے 2؍ مسلط کی گئی جنگیں لڑیں ، نومور کا کہہ چکے اور اب کسی کیلئے مزید ڈو مور نہیں ہوگا۔[2]

امریکی صدر کا ٹویٹ اور پاکستان کا شدید ردعمل اپنی جگہ جبکہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا پاکستان میں ایسے دینی مدارس موجود ہیں یا نہیں جو ماضی میں طالبان کی نرسری تھے اور آج بھی حسبِ سابق فعال ہیں۔ کیا یہ ایک حقیقت نہیں کہ پاکستان کے بعض دینی مدارس دہشت گردی کے بیس کیمپ ہیں اور بعض شخصیات بابائے طالبان کہلوانے میں فخر محسوس کرتی ہیں، اس وقت کہ جب پوری دنیا دہشت گردی کے خلاف متحد ہو چکی ہے  تو ہمارے لئے بھی ایک مناسب موقع ہے کہ ہم بھی اپنی ملکی سلامتی کے حوالے سے سابقہ شدت پسندانہ رویوں کو ترک کر کے حقیقت پسندانہ راستہ اختیار کریں۔

ابھی طالبان کو مختلف گروپوں میں تبدیل کرنے کا کھیل بھی دم توڑ چکا ہے، پنجابی طالبان، سندھی طالبان، نیلے طالبان، سرخ طالبان، الغرض یہ کہ ہمیں اپنے وطن کو ہر طرح کے طالبان  اور شدت پسندوں سے پاک کرنا چاہیے۔

شنید ہے کہ امریکہ اسامہ بن لادن کی طرز پر پاکستان میں حافظ سعید کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا متقاضی ہے، امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران حافظ سعید کے انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ترجمان محکمہ خارجہ ہیتھر نیورٹ کا کہنا تھا کہ حافظ سعید لشکر طیبہ سے تعلق رکھتے ہیں جسے امریکہ ایک دہشت گرد تنظیم تصور کرتا ہے اور ان کی گرفتاری میں معلومات کے لیے ایک کروڑ ڈالر کے انعام کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔[3]

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ بیس برس میں ہندوستان میں ہونے والے شدت پسندی کے تقریبا تمام بڑے واقعات میں حافظ محمد سعید کو مورد الزام قرار دیا گیا ہے،[4]

اب صورتحال یہ ہے کہ حافظ سعید صرف امریکہ کو ہی نہیں بلکہ بھارت کو بھی  مطلوب ہیں جبکہ دوسری طرف سوچنے اور سمجھنے کا مقام یہ ہے کہ کیا امریکہ حافظ سعید کی خاطر بھارت کو خوش کرنے کے لئے اپنے پاکستان جیسے قدیمی حلیف کے ساتھ روابط خراب کر لے گا اور یہ بھی لمحہ فکریہ ہے کہ  کیا پاکستان کی حکومت  حافظ سعید اور پاکستان میں بعض دینی مدارس کی صورت میں دہشت گردی کے  موجود مراکز کو بچانے کے لئے  پوری ملکی سلامتی کو داو پر لگا دے گی۔

بہر حال یہ وقت پاکستان اور امریکہ دونوں کے لئے ایک کڑے امتحان کا وقت ہے۔

تحریر۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز (سکردو) ٹیکس مخالف تحریک کی کامیابی کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی و انجمن تاجران کے رہنماوں کی قیادت، استقامت اور شجاعت کے تذکرے گلگت بلتستان کے چوک، چوراہوں اور محفل و مجالس کی زینت بننے لگے۔ ہر جگہ انجمن تاجران بلتستان کے سربراہ غلام حسین اطہر، ایکشن کمیٹی کے سربراہ مولانا سلطان رئیس اور مجلس وحدت مسلمین جی بی کے سربراہ آغا علی رضوی کی قربانیوں پر تبصرے ہونے لگے اور سال 2017ء کے آخر جبکہ سال 2018ء کے آغاز میں ہی عوام کے محبوب قائدین میں ان کا شمار ہونے لگے۔ ٹیکس مخالف تحریک میں حکمران جماعت کے علاوہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں، طلباء تنظیموں اور سماجی تنظیموں نے بھی کردار ادا کیا، تاہم اس تحریک کو بام عروج تک پہنچانے میں مذکورہ شخصیات کی خلوص نیت، قائدانہ صلاحیت، استقامت اور جذبہ فدا کاری کے سب معترف ہیں۔ 2014ء میں گندم سبسڈی تحریک کے دوران بھی آغا علی رضوی اور مولانا سلطان رئیس نے کلیدی کردار ادا کرکے عوام کے دل جیت لیے تھے، اب کہ بار غلام حسین اطہر نے بھی اپنی قائدانہ صلاحیت کا لوہا منوایا۔ انکی عوام میں غیر معمولی مقبولیت حکمرانوں کے لیے مشکل کا باعث بننے کے پیش نظر ان کی کردار کشی کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ نہایت اہم ذرائع کے مطابق ان تینوں شخصیات میں دوریاں پیدا کرنے، اختلافات کو جنم دینے اور عوامی مقبولیت کو کم کرنے کے لیے مختلف افراد پر ذمہ داریاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ان شخصیات کا اتحاد عوام دشمن پالیسوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوسکتی ہے، چنانچہ خطے میں من پسند قوانین نافذ کرنے کے لیے ان عوامی قیادتوں کو کمزور کر کے یا مختلف مسائل میں گھیر کر حکمران اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اب ان شخصیات کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام سازشوں کو بھانپ لیں اور ان کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی امنگوں کی حقیقی معنوں میں ترجمانی کرتے رہیں۔

وحدت نیوز (گلگت) عوام کے مسائل حل کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔کنٹیجنٹ ملازمین کو مستقل کرکے حکومت اپنا وعدہ پورا کرے۔ ٹیسٹ انٹرویو کے نام پر من پسند افراد کو نوازنے کی سازش کی گئی تو ہرگز خاموش نہیں رہیں گے۔مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے کہا ہے کہ کنٹیجنٹ ملازمین کئی دنوں سے اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دیئے بیٹھے ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔کنٹیجنٹ ملازمین کے مطالبات جائز ہیں انہیں مستقل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس، ہیلتھ اور دیگر کئی محکموں میں ٹیسٹ انٹرویو کے نام پر میرٹ کو پائمال کیا گیا اور اپنے من پسند افراد کو نوازا گیا ہے اور اب ٹیسٹ انٹرویو کا ڈھونگ رچاکر حکومت اپنے پیاروں کو نوازنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنا وعدہ نبھائے اور عارضی ملازمین کو مستقل کرے ،اس سے قبل ورکس ڈیپارٹمنٹ اور پاور میں ہزاروں عارضی ملازمین کو مستقل کیا گیا ہے جن سے کوئی ٹیسٹ اور انٹرویو نہیں لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جن ملازمین نے کئی سالوں تک مختلف پوسٹوں پر خدمات انجام دی ہیں انہیں ٹیسٹ انٹرویو کے نام پر بیروزگار کرنا انتہائی زیادتی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان دھرنے میں بیٹھے ہوئے ملازمین سے مذاکرات کرکے ان کے مسائل حل کرے اور تاکہ ہزاروں افراد کے خاندان والوں کا مستقبل محفوظ ہوجائے۔

وحدت نیوز(گلگت) مسلم لیگ نواز نے گلگت بلتستان کو آئینی تشخص نہ دینے کا اعلان کرکے اپنا حقیقی چہرہ دکھادیا ہے او ر پیپلز پارٹی نے اپنے دور اقتدار میں علاقے کی آئینی حیثیت کے ساتھ مذاق کیا اور ڈی فیکٹو صوبائی سٹیٹس دیکر عوام کو بہلانے کی کوشش کی۔مسلم لیگ نے گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی حق سے محروم رکھنے کا برملا اعلان کیا ہے ۔آئینی تشخص کے بغیر ایک پیسہ ٹیکس ادا کرنے کے حامی نہیں۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکریٹری امورسیاسیات غلام عباس نے کہا ہے کہ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان کے عوام کو بیوقوف بنانے میں کوئی کسر نہیںچھوڑی ہے۔اپنے دور اقتدار میں پاکستان پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی قرارد اد پاس کی لیکن عملی طور پر کوئی قدم نہیںاٹھایا اور صرف اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔مسلم لیگ نے آئینی حقوق کے حوالے سے انتخابات کے دوران بلند بانگ دعوے کرکے عوام سے ووٹ حاصل کئے  اور اقتدار میں دوسال مزے لوٹنے کے بعد انہیں ایک بھی وعدہ یاد نہیں رہا ہے۔اب تو وفاق پر براجمان نواز لیگ نے گلگت بلتستان کے ستر سال سے محروم عوام کے زخموںپر نمک پاشی کرتے ہوئے آئینی حقوق دینے سے مکمل انکار کردیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس جماعت کی نظر میںعلاقے کے عوام کی کوئی اہمیت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی علاقے کے عوام سے مخلص ہے تو سینٹ میں گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے متعلق بل پاس کروائے چونکہ اب بھی سینٹ میں پیپلز پارٹی کے ارکان اکثریت میں ہیں۔گلگت بلتستان کے عوام ان دونوں جماعتوں کے دوغلے پن سے مایوس ہوچکے ہیں چونکہ جب یہ اقتدار میں ہوتے ہیں علاقے کے عوام پر غیر قانونی ٹیکسز لاگو کرتے ہیں اور جب اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو عوام کے ساتھ ملکر ٹیکسز کے خلاف مظاہرے کرتے ہیں۔

وحدت نیوز (کشمور) مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصودعلی ڈومکی ایک روزہ تنظیمی دورے پرضلع کشمور پہنچے تو ضلعی سیکریٹری جنرل میر فائق علی جکھرانی کی قیادت میں مومنین اور تنظیمی ذمہ داران نے غوثپور میں ان کا استقبال کیا۔

اس موقع پر انہوں نے درگاہ سیدعبدالرحیم شاہ پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ اس موقع پرانہوں نے غوثپور اور بخشاپور میںمومنین سے خطاب کیا۔ غوثپور میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصودعلی ڈومکی نے کہا کہ عصر حاضرمیں حق اپنی صداقت کے ساتھ واضح طور پر سامنے آگیا ہے، جبکہ امریکی اسلام جس کی نمائندگی آل سعود کر رہے ہیں اپنی خیانتوں کے ساتھ آشکار ہو چکا ہے۔ انسان دشمن عالمی سامراجی قوتوں کے عزائم اورانسان دشمن استعماری منصوبے یکے بعد دیگرے برملا ہو چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ ہر گذرتے ہوئے دن کے ساتھ خمینی بت شکن ؒ کی صداقت دنیا پر آشکار ہورہی ہے۔ ہم امریکہ جیسے سفاک درندے سے تعلقات کے متاثر ہونے پر جشن منائیں گے، کیونکہ وطن عزیز پاکستان کو امریکی دوستی نے دھشت گردی ، فرقہ واریت سمیت منحوس تحفے دیئے ۔ امریکی سفارتخانے دھشت گردی کے اڈے ہیں ان اڈوں کو بند ہونا چاہئے۔ جس دن پاکستان سے سامراجی مداخلت کا خاتمہ ہوا ، اس دن بم دھماکے ، دھشت گردی، فرقہ واریت، تجزیہ طلبی جیسی آفتوں سے ہمیں نجات ملے گی۔ پاکستان کے شیعہ ،سنی آپس میں بھائی بھائی تھے اور ہیں، امریکی سازش کے باعث نفرتوں کو ہوا دی گئی بلوچستان میں جاری سانحات کے پیچھے بھی سامراجی ہاتھ ہے۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) ایم ڈبلیوایم کے ممبر بلوچستان اسمبلی آغا سید محمد رضا نے کہا کہ میں شہداء کے خانوادگان کو سلام پیش کرتا ہوں، یہ وہ مقتل ہے جہاں ہم نے اپنے شہداء کے ٹکڑوں کو اُٹھایا ہے، یہی وہ مقام جہاں پوری قوم نے سخت سردی میں استقامت کا مظاہرہ کیا، آج کا دن شہداء کے لہو سے تجدید عہد کا دن ہے، آج تک ہمارے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا گیا، پورے ملک میں ہم نے فوجیوں پر حملے نہیں کیے، ہم نے فوجیوں کے سروں کے ساتھ فٹبال نہیں کھیلے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے زیر اہتمام شہدائے سانحہ علمدار روڈ کی پانچویں برسی کے موقع پر منعقدہ  ’’یوم استقامت و یکجہتی مظلومین ‘‘ کانفرنس کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزیدکہاکہ  آج اللہ نے آپ کے نمائندے کو عزت بخشی ہے اور ہم نے ایک کرپٹ وزیراعلی کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیا، آج کے بعد اگر کوئی وزیراعلی کرپشن کرے گا تو اس کا علاج بھی یہی ہوگا، میری نواب ثناء اللہ سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں تھی، میں اپنی قوم کے لیے میدان میں کھڑا ہوں، مجھے خریدنے کی بارہا کوششیں کی گئیں لیکن میں بکا نہیں جھکا نہیں، میں نے آج تک نہ وزارت کا تقاضا کیا ہے نہ مشیر کا تقاضا کیا ہے، میں نے اپنے حلقے میں یونیورسٹی کا تقاضا کیا ہے، اپنے بیروزگار جوانوں کے لیے نوکریوں کا تقاضا کیا، ہم کوئٹہ کی آبادی کا پانچواں حصہ ہیں ، ہمارا حق کیوں پامال کیا جارہا ہے، میں نے اپنی قوم کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا تھا اور آج بھی اپنے وعدے پر قائم ہوں، میں آج جس مقام پر ہوں وہ سب آپ کی بدولت ہے، میں اسمبلی میں اور پاکستان میں آپ کا نمائندہ ہوں، اگر نوازشریف اور نواب ثناء اللہ کا مواخذہ ہوسکتا ہے تو یہاں کے چوروں کا احتساب بھی ہوگا، ہم پوری قوم کے سامنے انہیں بے نقاب کریں گے، اس حلقے کے فنڈز بلوچستان حکومت کے پاس پڑے ہوئے ہیں، انشاء اللہ مستقبل میں یہ پراجیکٹ مکمل ہوں گے، شہداء کے خانوادگان کے لیے ہاؤسنگ سکیم، نوجوانوں کے لیے یونیورسٹی کا قیام اولین ترجیح ہے۔

وحدت نیوز( کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے صوبائی سیکریٹری جنرل  علامہ برکت علی مطہری اور علامہ ولایت حسین جعفری نےمجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے زیر اہتمام شہدائے سانحہ علمدار روڈ کی پانچویں برسی کے موقع پر منعقدہ  ’’یوم استقامت و یکجہتی مظلومین ‘‘ کانفرنس کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کو یاد رکھنا اور انکی برسی کو منانا زندہ قوموں کی نشانی ہے ،ہم محب وطن پاکستانی ہے پھر بھی وطن عزیز میں ہمیں تسلسل کیساتھ ٹارگٹ بنایا ہمارے اوپر خود کش حملے کئے گئے ۔ ہم ملک میں پُرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، شہداء کے خانوادے کی عظیم قربانیاں ہیں۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) ایم ڈبلیو ایم کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ناصر عباس شیرازی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم ملک بھر میں موجود ہیں ، اور انشاء اللہ قوم کی یکجہتی اور استقامت کے لیے کردار ادا کرتے رہیں گے، ہمیں اس ملک میں نشانہ بنایا جاتا ہے، ہمیں اس ملک میں لاپتہ کیا جاتا ہے لیکن ہم نے اس ملک کے خلاف نعرے نہیں لگائے، ہم کل بھی محب وطن تھے اور آج بھی محب وطن ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے زیر اہتمام شہدائے سانحہ علمدار روڈ کی پانچویں برسی کے موقع پر منعقدہ  ’’یوم استقامت و یکجہتی مظلومین ‘‘ کانفرنس کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین اس وقت بلوچستان میں اہم سیاسی کردار ادا کررہی ہے، گلگت بلتستان میں وزیراعلی حفیظ الرحمان نے غیرآئینی ٹیکس نافذ کیا لیکن مجلس وحدت مسلمین نے وہاں کی عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا، ہم نے کبھی ملک دشمن طاقتوں سے ہاتھ نہیں ملایا، دشمن کے آلہ کار بننے والے اپنی صفائیاں پیش کریں ، انشاء اللہ ملک میں شیعہ اور سنی مل کر فیصلہ کریں گے، اب اس ملک میں خون کی ہولی نہیں کھیلنے دیں گے، اگر جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے پر خصوصی عدالتیں قائم ہوسکتی ہیں تو سانحہ علمدار ، سانحہ شکار پور، سانحہ کراچی کے لیے کیوں نہیں۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے زیراہتمام سانحہ علمدارروڈ کے شہداء کی پانچویں برسی کے سلسلے میں علمدار چوک پر ’’یوم استقامت و یکجہتی مظلومین ‘‘ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، کانفرنس میں شہداء کے خانوادگان اور لواحقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی، کانفرنس سے مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی، ممبر مرکزی شوریٰ عالی و رُکن صوبائی اسمبلی آغا سید محمد رضا، بلوچستان کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ برکت علی مطہری، علامہ ولایت حسین جعفری، کوئٹہ یکجہتی کونسل کے رہنما حاجی طاہر نظری نے خطاب کیا۔

 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے کہا کہ پاکستان ایشیا کا دل ہے، اگر پاکستان غیر مستحکم ہوجائے تو پورا ایشیاء محفوظ نہیں رہے گا، اس وقت خطے میں پاکستان کو مرکزیت حاصل ہے، عالمی استکباری قوتوں کے مقابلے میں پاکستان کا طاقتور بننا اُن کے لیے حیران کن ہے، امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی پالیسی میں چائنہ کی ترقی کو اپنے لیے خطرہ قرار دیا ہے، پاکستان کو شیعہ سنی نے مل کر بنایا ہے، قیام پاکستان میں کوئی مسلکی تقسیم نہیں تھی، لیکن آج ہمیں تقسیم کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں، ان سازشوں میں ہمارے نااہل حکمران شریک ہیں، عالمی قوتیں پاکستان کو توڑنے کے لیے شیعہ سنی کو لڑانا چاہتی ہیں، ملک میں اس کے لیے کمین گاہیں بنائی گئیں، اس وقت یورپ کو پاکستان سے شدید خطرات ہیں، امریکہ شام ، عراق کو توڑنے کے بعد پاکستان کو توڑنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

اُنہوں نے کہاکہ کوئٹہ کے شہداء نے پوری دنیا کو استقامت کا درس دیا ہے، شہیدوں کا خون اثر رکھتا ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 772مقامات پر احتجاجی دھرنے دیے ، پاکستان کے علاوہ یورپ میں لاکھوں لوگوں نے احتجاج کیا اور یہ صرف آپ کے شہداء کے خون کی پاکیزگی کا سبب ہے، آج ملک میں تکفیری منہ چھپاتے پھر رہے ہیں، آپ کی وجہ سے دنیا کے سامنے تکفیریت بے نقاب ہوئی ہے، آپ کی آواز میں طاقت ہے، آپ دنیا کے مظلومین کے لیے مثال ہیں، آپ وطن میں بیداری کا مرکز و محور ہیں، اس ملک میں بحران پیدا کیے جارہے ہیں، ہمیں اندرونی اور بیرونی بحرانوں کا سامنا ہے، اس ملک میں  نوازشریف  کی شکل میں   ایک اور مجیب الرحمن پیدا ہوچکا ہے، ہمارے شہداء کاخون عدلیہ کے ججوں سے سوال کرتا ہے کہ ہمارے قاتلوں کو مقام عبرت کیوں نہیں بنایاگیا، اُنہیں سزائیں کیوں نہیں دی گئیں؟اس ملک کو ہمارے آباؤ اجداد نے بنایا تھا اور ہم نے اس کی حفاظت کرنی ہے، پاکستان کو دہشتگردی کے بلاک سے نکلنا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ اگر پاکستان امریکی بلاک میں نہ گیا ہوتا آج ملک کی یہ صورتحال نہ ہوتی، اس وقت ملک میں متحرک ڈپلومیسی کی ضرورت ہے، ملک کو قابل اور فہم و ادراک رکھنے والے وزیر خارجہ کی ضرورت ہے، شام میں کامیابی کے پیچھے وہاں کی یکجہتی ہے، وہاں عوام، فوج اور حکومت ایک پیج پر تھی، عراق میں مرجعیت، عوام، فوج ایک صف پر تھیں لیکن پاکستان میں یہ یکسوئی نظر نہیں آرہی، اس وقت تمام ریاستی اداروں کو ایک پیج پر متحد ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان چین،روس، ترکی اور ایران کو اکٹھا ہونا چاہیے، جس کے بعد امریکی مداخلت افغانستان میں کم ہوجائے گی، عالمی دباؤ اسی صورت ختم ہوسکتا ہے، ملک کے اندر تیزی کے ساتھ تبدیلیوں کی ضرورت ہے، تمام ریاستی اداروں کو ایک پیج پر آنے کی ضرورت ہے اس میں جتنی تاخیر ہوگی ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ شہداء کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے،ہمارے مسنگ پرسنزکو رہا کیا جائے، ہمارے لاپتہ افراد بے گناہ ہیں، ان کے خاندان کرب کی حالت میں ہیں، ہم ریاست پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر ان کا کوئی جُرم ہے تو عدالتوں میں پیش کیا جائے ورنہ انہیں رہا کیا جائے۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے وحدت ہاوس میں ہونے والی ہفتہ وار تربیتی نشت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ارض پاک پر شیعہ سنی جھگڑے کا کوئی وجود نہیں۔مخصوص تکفیری گروہوں اسلام دشمن ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ملک میں تفرقہ بازی پھیلانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔کسی کے مقدسات کی توہین کی اسلام میں قطعا گنجائش نہیں۔ہمیں ایسی شر پسندی کا دانشمندی اور بصیرت سے مقابلہ کرنا ہوگا جو اسلام کے مضبوط بازوں شیعہ سنی طاقتوں کو آپس میں لڑا کر کمزور کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے ایسے پاکستان کے قیام کے لیے جدوجہد کی جس میں تمام مذاہب کو بلاتخصیص مکمل طور پر مذہبی آزادی حاصل ہو۔کسی بھی مذہبی عبادت گاہ کو نشانہ بنانا ناقابل معافی جرم ہے۔ہندووں،مسیحیوں اور ملک میں بسنے والے دیگر مذاہب کو مکمل تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔حکومت کی طر ف سے طے شدہ حکمت عملی کے تحت ملک میں تکفیری گروہوں کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ سرعام تکفیریت کے فتوی جاری کر کے ملک میں انتشار اور نفرت کو فروغ دینے والے عناصر کو سیاسی دھارے میں شامل کرکے اس تاثر کو تقویت دینے کی کوشش کی جا رہی کہ پاکستان کی اکثریت انتہا پسندی کی حامی ہے۔جو عالمی سطح پر وطن عزیز کی ساکھ کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ان ملک دشمن عناصر سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ملک کی محب وطن جماعتوں کو مل کر جدوجہد کرنا ہو گی۔مختلف دہشت گرد تنظیمیں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر وحشیانہ طرز عمل کی مرتکب ہو رہی ہیں جن کا مقصد اقوام عالم کے سامنے اسلام کے تشخص کو بدنما کر پیش کرنا ہے۔ان عناصر کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ القائدہ، طالبان داعش سمیت تمام دہشت گرد جماعتیں پیشہ وراجرتی قاتل ہیں۔ پاکستان میں موجود لشکر جھنگوی بھی انہی جماعتوں کی ایک شاخ ہے جس کی بیخ کنی کے بغیر امن و سلامتی ممکن نہیں۔ کالعدم مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے دہشت گرد ساز فیکٹریاں کھول رکھی ہیں جبکہ حکمران ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کا دعوی کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں مصروف ہیں۔

Page 7 of 811

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree